15/06/2024
*حج کیا ہںے ؟؟؟؟*
کتابی جملے
رٹے ہںوۓ الفاظ۔۔۔۔۔
ہم کب باہر نکلیں گے
ان *تحریروں* سے جو *مقصد* ہی کھو چکی ہیں۔۔۔
حج وہ واحد عبادت ہںے
جس میں *استطاعت* لازم ہںے۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ استطاعت واضح ہںوجانا
حج کا *واضح* ہںوجانا ہںے۔۔۔۔۔
نماز استطاعت پر فرض نہیں
استطاعت کم ہںونے پر طریقہ بدل جاتا ہںے
نماز ترک نہیں ہںوتی ۔۔۔۔۔۔
روزے کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہںے۔۔۔
*استطاعت*
ہمیں یہ لفظ زادِ راہ اور صحت میں نظر آتا ہںے ۔۔۔۔۔۔۔
اس لیے ہمیں حج سمجھ نہیں آتا ۔۔۔۔۔
دوسری بات
*ابراہیم کی یاد*
ذہن میں آتی ہںے
سوچیں! ابراہیم کی یاد ہی مقصد ہںوتی تو
قربانی یہاں کیوں ہںوتی ؟؟؟؟
ناخن اور بالوں کا نہ کاٹنا یہاں کیوں کہا جاتا؟؟؟۔
کیا آپ کو پتا ہںے
حج *فرضِ کفایہ* ہںے
*فرضِ عین* نہیں۔۔۔۔۔۔
اب میں چند الفاظ لکھتی ہںوں انہیں ملاںٔیں اور *استطاعت* کو سمجھیں
*حج* ، *فتح مکہ ، رسول اللہ کا حج فتح مکہ کے ایک سال بعد۔۔۔۔۔۔۔*
*لبیک اللہم لبیک*
کے الفاظ کی گردان،
عرفہ کے دن کی خاص دعا
اس میں موجود الفاظ
*وحدہ لاشریک لہ*
*لہ المک*
سمجھ آںٔی !
یہ استطاعت کیا ہںے؟
یہی وہ استطاعت تھی
کہ رسول اللہ فتح مکہ کے *بعد* حج کرتے ہیں۔۔۔
یہی وہ استطاعت تھی کہ۔۔۔۔
صلاح الدین ایوبی
سلطانِ مملکت ہںونے کے باوجود ۔۔۔۔۔۔
پوری زندگی حج نہ کرسکے ۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کی زمین پر ظلم ہںورہا ہںو
تو وقت کے حاکم کی استطاعت ہی نہیں کہ
وہ اللہ کےگھر میں قدم رکھ کر کہہ سکے
*لبیک اللہم لبیک*
*حاضر ہںوں اللہ میں حاضر ہںوں*
اس کی یہ استطاعت ہی نہیں
*وحدہ لا شریک لہ*
*لہ المک*
اس کا کوںٔی شریک نہیں اسی کے لیے بادشاہت ہںے
کے الفاظ اپنی جھوٹی زبان سے ادا کرسکے ۔۔۔۔۔۔
آپ کےخاندان میں اسلام ہررسم ہررواج پر زمین میں روند دیا جاتاہںو۔ ۔۔۔۔
اور آپ جاکر اللہ کے دربار میں کہیں
*لبیک اللہم لبیک*
میں حاضر ہںوں اللہ میں حاضر ہںوں
کیونکہ
یہ جانے کا دن نہیں
دربار میں *حاضر ہںونے* کا دن ہںے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*پیشی* لگتی ہںے اس دن۔۔۔۔
حج *فتح* کے بعد ہںوتا ہںے
*اسلام کی فتح*
وہ فتح آپ کی ذات میں اسلام کی سربلندی ہںے
وہ فتح آپ کے خاندان میں اسلام کی سر بلندی ہںے
وہ فتح آپ کے ملک میں اسلام کی سربلندی ہںے
وہ فتح اس پوری دنیا میں اسلام کی سربلندی ہںے ۔۔۔۔۔۔
اگر آپ یہ نہیں کرسکے
تو آپ کی *استطاعت* ہی نہیں کہ اللہ کے گھر میں قدم رکھ کر اسے بتا سکیں
*میں نے کام مکمل کرلیا اب میں حاضر ہںوں ۔۔۔*
*مجھے اجرت دے دے*
ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا تھا
اللہ کی زمین پر
*اس کا نظام*
قاںٔم نہ ہںو
تو آپ کا حج آپ کے منہ پر دے مارا جاتا ہںے ۔۔۔۔
قتل وہ بھی ناحق قتل
اس دنیا کا پہلا اور سب سے بڑا *ظلم* ہںے
بلکہ جانتے ہیں یہ *شرک* ہںے۔۔۔۔۔۔
اور اس سے بھی بڑا یہ *طاغوت* ہںے ۔۔۔۔
زندگی اور موت اللہ کا اختیار ہںے
کوںٔی اس سے یہ اختیار چھین کر کہے
*میری مرضی میں جسے زندہ رکھوں جسے مار دوں*
کیا یہ اللہ کی ذات میں شرک نہیں ؟؟
سوچیں !
کیا یہ طاغوت نہیں
اس بات کا دعویٰ نہیں کہ میں خدا ہںوں
زندگی اور موت میرے اختیار میں ہںے ۔۔۔۔۔۔۔
کوںٔی ایسا دعویٰ کرے
*آپ اسے روکیں بھی نہیں*
اور اللہ کے دربار میں حاضر ہںوکر اسے بتاںٔیں
*تیرا کوںٔی شریک نہیں*
*تیرے لیے ہی بادشاہت ہںے ۔۔۔۔۔۔*
اس وقت دنیا کا کوںٔی حکمران نہیں جس کی استطاعت ہںو وہ حج کے لیے حاضر ہںوسکے
اس وقت دنیا کے کسی *مرد* کی استطاعت نہیں
کہ وہ بڑے دربار میں حاضری دے سکے ۔
رہںے۔۔۔۔۔۔۔
بچے ، بوڑھے اور عورتیں
تو بس ابھی صرف یہ لوگ ہی جاسکتے ہیں۔۔۔۔۔
جو *آدمی* بھی اس وقت وہاں حاضر ہںو۔۔۔۔
وہ خود کو صرف انہی کیٹیگری میں شمار کرے ۔۔۔
حج فرضِ کفایہ ہںے
ابھی یہ فرض ، عورتیں اور بوڑھے اور ان کے ساتھ بچے ادا کردیں گے ۔۔۔۔۔۔
کسی *مرد* کی استطاعت نہیں کہ وہ حاضری دے سکے ۔۔۔۔
*اب سمجھ* آیا
یہ *استطاعت* ہںے کیا۔۔۔۔
یہ حج کا لازمی حصہ کیوں ہںے ۔۔۔۔۔؟
اسی لیے جو یہ کام کرکے جاتا ہںے
ظالم اور باطل کو للکار کر اس کی قوت توڑ کر جاتا ہںے
اس کے پچھلے تمام ذاتی گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔