05/06/2023
"تم کر سکتے ہو!" کا سستا نشہ
"میرے انٹر میں چالیس فیصد نمبر ہیں۔۔
میٹرک میں پچاس فیصد تھے ۔۔
مجھے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لینا ہے۔۔۔
آپ بتائیں کیسے ہو گا؟"
"اس پرسنٹیج پر تو نہیں ہوتا۔
اور وہاں بہت پڑھنا پڑتا ہے۔۔۔"
"میں پڑھ لوں گی۔۔
مجھے پتہ ہے میں پڑھ سکتی ہوں۔
آپ بس مجھے یہ بتا دیں کہ ایڈمیشن کیسے ہوگا۔۔۔"
" آپ دوبارہ انٹر کر لیں۔۔
88 فیصد نمبر لے آئیں۔۔
ایم ڈی کیٹ میں اچھا سکور کر لیں۔۔
اس کے بعد ایڈمیشن ہو جائے گا۔۔۔"
"یہ تو بہت مشکل ہے۔۔
آپ مجھے ایڈمیشن کا طریقہ بتا دیں۔۔
ایک مرتبہ ایڈمیشن ہو جائے گا تو میں کر لوں گی۔۔
مجھے پتہ ہے میں کر سکتی ہوں۔۔۔"
یہ کچھ سال پہلے ہونے والا ایک مکالمہ ہے۔۔
بہت سارے نوجوان اس "تم کر سکتے ہو ۔۔" کے نشے میں ڈوب کر کچھ نہیں کر پاتے۔۔
ہم کبھی بھی "سب کچھ" نہیں کر سکتے۔۔
ہمیں اپنی خواہشات کو "آپٹمزم" اور "ریئل ازم" کے درمیان میں کہیں رکھنا چاہیے۔۔
گول مشکل ہو۔۔
مگر ناممکن نہیں۔۔
میں اس ادھیڑ عمر کے عالم میں اگر فائٹر پائلٹ بننا چاہوں تو ممکن نہیں۔۔
مارشل آرٹس میں بلیک بیلٹ لینا چاہوں تو بہت مشکل ہے۔۔
سکواش یا ٹینس چیمپئن بننے نکل کھڑا ہوں تو ممکن ہے اس سے پہلے ہی ٹریننگ کی تاب نہ لاتے ہوئے بستر پر پڑ جاوں۔۔۔
"کچھ" کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ آج کہاں کھڑے ہیں۔۔
جہاں تک پہنچنا چاہتے ہیں وہ گول کتنا حقیقت کے قریب ہے؟
وہاں تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟
جو لوگ وہاں کھڑے ہیں وہ کن خصوصیات کے حامل ہیں؟
وہ خصوصیات کیسے پیدا کی جا سکتی ہیں؟
ان کا ہنر کیسے سیکھا جا سکتا ہے؟
جو قربانی راستہ آپ سے مانگتا ہے وہ آپ دینے کو تیار ہیں یا نہیں؟
ورنہ "تم کر سکتے ہو" بس سستا نشہ ہے۔۔
یہ کانوں کو اچھا لگتا ہے۔۔
مگر جب عمل کرنے جائیں تو انہی کانوں سے دھواں نکل جاتا ہے۔۔
اس نشے کو کم کم استعمال کریں تو اچھا ہے۔۔
#محور
محمد یحیی'نوری