27/08/2025
بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
الســـلام علیکم وَرَحمَۃُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُہٗ
صباح الدُّعَاء لَکُم جَمِیعًا دَائِما اَبَدًا لِلصِّحَةِ وَالعَافِیَةِ وَالحَیَاةِ عَلیَ الاِسلَامِ وَالمَمَاةِ عَلَی الاِیمَانِ ۔
آمین ۔ یارب العالمین۔ بجاہِ سیدِ النبی الامین ﷺ
اپنی صبح کا آغاز ہمیشہ نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن پاک سے کریں
12 بھادوں 2082 بکرمی ۔ 2 ربیع الاوَّل 1447 ہجری - 27 اگست 2025 ۔ بدھ ۔ سلسلۀ ترجمہ و تفسیر قرآن مجید و فرقانِ حمید سورة بنی اسرائیل ۔ پارہ ۔15 - آیت ۔ 5 تا 6
اَعُوذُ بِااللّٰهِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ
بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا (5) ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا (6)
ترجمۂ کنز الایمان :
پھر جب ان میں پہلی بار کا وعدہ آیا ہم نے تم پر اپنے کچھ بندے بھیجے سخت لڑائی والے تو وہ شہروں کے اندر تمہاری تلاش کو گھسے اور یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہونا۔
پھر ہم نے تمہارا غلبہ ان پر لوٹا دیا اور تم کو مالوں اور بیٹوں سے مدد دی اور تمہاری تعداد بڑھا دی۔
تفسیر صراط الجنان :
{وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا : ان دو مرتبہ میں سے پہلی بار کا وعدہ۔}
اس آیت میں گزشتہ آیت کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے کہ جب دو مرتبہ کے فساد میں سے پہلی مرتبہ کے فساد کا وقت آیا تو فساد کی صورت یہ بنی کہ انہوں نے توریت کے احکام کی مخالفت کی اور گناہ کے کاموں میں پڑ گئے اور حرام چیزوں کے مُرتکب ہونے لگے حتّٰی کہ انہوں نے اللّٰه رب العالمین عَزَّوَجَلَّ کے نبی حضرت شعیاء عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ایک قول کے مطابق حضرت ارمیاء عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کیا اور جب بنی اسرائیل نے یہ فساد کیا تو اللّٰه رب العالمین عَزَّوَجَلَّ نے ان پر بہت زور و قوت والے لشکروں کو مُسَلَّط کر دیا تاکہ وہ انہیں لوٹیں اور انہیں قتل کریں ، قید کریں (اور ذلیل و رسوا کریں ۔) چنانچہ ان مسلط کئے جانے والے لشکروں نے
بنی اسرائیل کے علماء کو قتل کیا،
توریت کو جلایا،
مسجد اقصیٰ کو ویران کیا اور
ستر ہزار افراد کو گرفتار کیا۔
( بیضاوی، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: ۴-۵، ۳ / ۴۳۲، خازن، الاسراء، تحت الایۃ: ۵، ۳ / ۱۶۲، مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۵، ص۶۱۶، جلالین، الاسراء، تحت الآیۃ: ۵، ص۲۳۰)
یہ مسلط کئے جانے والے لشکر کون سے تھے
اس بارے میں مختلف اَقوال ہیں
البتہ ان میں سے جس نے بنی اسرائیل کو بدترین طریقے سے ہزیمت سے دوچار کیا وہ بخت نصر تھا جس نے انہیں تہس نہس کر کے چھوڑا اور یوں وعدۂِ الٰہی پورا ہوا۔
بدعملی کا دُنْیَوی انجام:
اس سے معلوم ہوا کہ بد عملی کی وجہ سے ظالم بادشاہ مسلط کر دئیے جاتے ہیں ، کیونکہ ظالم بادشاہ بھی عذابِ الٰہی ہوتا ہے۔
نیز بد عملی کے مزید دنیوی نقصانات ملاحظہ ہوں
حضرت عبد اللّٰه بن عمر رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ،
رسولِ کریم صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہماری طرف توجہ فرمائی اور ارشاد فرمایا
" اے مہاجرین! جب تم پانچ کاموں میں مبتلا کر دئیے جاؤ (تو تمہارا کیا حال ہو گا) اور میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان کاموں میں مبتلا ہو جاؤ،
(1) جب کسی قوم میں بے حیائی کے کام اِعلانیہ ہونے لگ جائیں تو ان میں طاعون اور وہ بیماریاں عام ہو جاتی ہیں جو پہلے کبھی ظاہر نہ ہوئی تھیں ۔
(2) جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو ان پر قحط اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں اور بادشاہ ان پر ظلم کرتے ہیں ۔
(3) جب لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی چھوڑ دیتے ہیں تو اللّٰه تعالیٰ بارش کو روک دیتا ہے،
اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔
(4) جب لوگ اللّٰه تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں تو اللّٰه تعالیٰ ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیتا ہے اور وہ ان کا مال وغیرہ سب کچھ چھین لیتے ہیں ۔
(5) جب مسلمان حکمران اللّٰه تعالیٰ کے قانون کو چھوڑ کر دوسرا قانون نافذ کرتے ہیں اور اللّٰه تعالیٰ کے احکام میں سے کچھ پر عمل کرتے اور کچھ کو چھوڑ دیتے ہیں تو اللّٰه تعالیٰ ان کے درمیان اختلاف پیدا فرما دیتا ہے۔
( ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب العقوبات، ۴ / ۳۶۷، الحدیث: ۴۰۱۹)
{ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ : پھر ہم نے تمہارا غلبہ ان پر لوٹا دیا۔}
اس آیت میں بنی اسرائیل کی بربادی کے بعد دوبارہ سنبھلنے کی داستان بیان کی جارہی ہے کہ گناہوں اور نافرمانیوں کے نتیجے میں تباہ و برباد ہونے کے بعد جب تم نے توبہ کی اور تکبر و فساد سے باز آئے تو ہم نے تمہیں دولت دی اور تمہیں اتنی قوت و طاقت عطا فرمائی کہ تم دوبارہ مقابلہ کرنے کے قابل ہوئے
چنانچہ تمہیں اُن لوگوں پر غلبہ عطا فرما دیا گیا جو تم پر مسلط ہو چکے تھے۔
( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶، ۳ / ۱۶۲، ملتقطاً)
افرادی اور مالی قوت کی اہمیت:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ افرادی اور مالی قوت کی بھی بڑی اہمیت ہے اور طاقت کے میدان میں ان کا بڑا عمل دخل ہے اور اگر ان کا صحیح استعمال ہو تو یہ اللّٰه رب العالمین عَزَّوَجَلَّ کی بہت بڑی نعمت ہیں ۔