Grace Tour's & Rent A Car

Grace Tour's & Rent A Car Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Grace Tour's & Rent A Car, Professional Service, 12D A1(*Al-Imran Store)Punjab Society Collage Road Town Ship LHR, Lahore.

27/08/2025

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
الســـلام علیکم وَرَحمَۃُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُہٗ
صباح الدُّعَاء لَکُم جَمِیعًا دَائِما اَبَدًا لِلصِّحَةِ وَالعَافِیَةِ وَالحَیَاةِ عَلیَ الاِسلَامِ وَالمَمَاةِ عَلَی الاِیمَانِ ۔
آمین ۔ یارب العالمین۔ بجاہِ سیدِ النبی الامین ﷺ
اپنی صبح کا آغاز ہمیشہ نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن پاک سے کریں
12 بھادوں 2082 بکرمی ۔ 2 ربیع الاوَّل 1447 ہجری - 27 اگست 2025 ۔ بدھ ۔ سلسلۀ ترجمہ و تفسیر قرآن مجید و فرقانِ حمید سورة بنی اسرائیل ۔ پارہ ۔15 - آیت ۔ 5 تا 6
اَعُوذُ بِااللّٰهِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ
بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا (5) ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا (6)

ترجمۂ کنز الایمان :
پھر جب ان میں پہلی بار کا وعدہ آیا ہم نے تم پر اپنے کچھ بندے بھیجے سخت لڑائی والے تو وہ شہروں کے اندر تمہاری تلاش کو گھسے اور یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہونا۔
پھر ہم نے تمہارا غلبہ ان پر لوٹا دیا اور تم کو مالوں اور بیٹوں سے مدد دی اور تمہاری تعداد بڑھا دی۔

تفسیر صراط الجنان :
{وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا : ان دو مرتبہ میں سے پہلی بار کا وعدہ۔}
اس آیت میں گزشتہ آیت کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے کہ جب دو مرتبہ کے فساد میں سے پہلی مرتبہ کے فساد کا وقت آیا تو فساد کی صورت یہ بنی کہ انہوں نے توریت کے احکام کی مخالفت کی اور گناہ کے کاموں میں پڑ گئے اور حرام چیزوں کے مُرتکب ہونے لگے حتّٰی کہ انہوں نے اللّٰه رب العالمین عَزَّوَجَلَّ کے نبی حضرت شعیاء عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ایک قول کے مطابق حضرت ارمیاء عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کیا اور جب بنی اسرائیل نے یہ فساد کیا تو اللّٰه رب العالمین عَزَّوَجَلَّ نے ان پر بہت زور و قوت والے لشکروں کو مُسَلَّط کر دیا تاکہ وہ انہیں لوٹیں اور انہیں قتل کریں ، قید کریں (اور ذلیل و رسوا کریں ۔) چنانچہ ان مسلط کئے جانے والے لشکروں نے
بنی اسرائیل کے علماء کو قتل کیا،
توریت کو جلایا،
مسجد اقصیٰ کو ویران کیا اور
ستر ہزار افراد کو گرفتار کیا۔
( بیضاوی، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: ۴-۵، ۳ / ۴۳۲، خازن، الاسراء، تحت الایۃ: ۵، ۳ / ۱۶۲، مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۵، ص۶۱۶، جلالین، الاسراء، تحت الآیۃ: ۵، ص۲۳۰)
یہ مسلط کئے جانے والے لشکر کون سے تھے
اس بارے میں مختلف اَقوال ہیں
البتہ ان میں سے جس نے بنی اسرائیل کو بدترین طریقے سے ہزیمت سے دوچار کیا وہ بخت نصر تھا جس نے انہیں تہس نہس کر کے چھوڑا اور یوں وعدۂِ الٰہی پورا ہوا۔

بدعملی کا دُنْیَوی انجام:
اس سے معلوم ہوا کہ بد عملی کی وجہ سے ظالم بادشاہ مسلط کر دئیے جاتے ہیں ، کیونکہ ظالم بادشاہ بھی عذابِ الٰہی ہوتا ہے۔
نیز بد عملی کے مزید دنیوی نقصانات ملاحظہ ہوں
حضرت عبد اللّٰه بن عمر رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ،
رسولِ کریم صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہماری طرف توجہ فرمائی اور ارشاد فرمایا
" اے مہاجرین! جب تم پانچ کاموں میں مبتلا کر دئیے جاؤ (تو تمہارا کیا حال ہو گا) اور میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان کاموں میں مبتلا ہو جاؤ،
(1) جب کسی قوم میں بے حیائی کے کام اِعلانیہ ہونے لگ جائیں تو ان میں طاعون اور وہ بیماریاں عام ہو جاتی ہیں جو پہلے کبھی ظاہر نہ ہوئی تھیں ۔
(2) جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو ان پر قحط اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں اور بادشاہ ان پر ظلم کرتے ہیں ۔
(3) جب لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی چھوڑ دیتے ہیں تو اللّٰه تعالیٰ بارش کو روک دیتا ہے،
اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔
(4) جب لوگ اللّٰه تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں تو اللّٰه تعالیٰ ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیتا ہے اور وہ ان کا مال وغیرہ سب کچھ چھین لیتے ہیں ۔
(5) جب مسلمان حکمران اللّٰه تعالیٰ کے قانون کو چھوڑ کر دوسرا قانون نافذ کرتے ہیں اور اللّٰه تعالیٰ کے احکام میں سے کچھ پر عمل کرتے اور کچھ کو چھوڑ دیتے ہیں تو اللّٰه تعالیٰ ان کے درمیان اختلاف پیدا فرما دیتا ہے۔
( ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب العقوبات، ۴ / ۳۶۷، الحدیث: ۴۰۱۹)

{ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ : پھر ہم نے تمہارا غلبہ ان پر لوٹا دیا۔}
اس آیت میں بنی اسرائیل کی بربادی کے بعد دوبارہ سنبھلنے کی داستان بیان کی جارہی ہے کہ گناہوں اور نافرمانیوں کے نتیجے میں تباہ و برباد ہونے کے بعد جب تم نے توبہ کی اور تکبر و فساد سے باز آئے تو ہم نے تمہیں دولت دی اور تمہیں اتنی قوت و طاقت عطا فرمائی کہ تم دوبارہ مقابلہ کرنے کے قابل ہوئے
چنانچہ تمہیں اُن لوگوں پر غلبہ عطا فرما دیا گیا جو تم پر مسلط ہو چکے تھے۔
( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶، ۳ / ۱۶۲، ملتقطاً)

افرادی اور مالی قوت کی اہمیت:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ افرادی اور مالی قوت کی بھی بڑی اہمیت ہے اور طاقت کے میدان میں ان کا بڑا عمل دخل ہے اور اگر ان کا صحیح استعمال ہو تو یہ اللّٰه رب العالمین عَزَّوَجَلَّ کی بہت بڑی نعمت ہیں ۔

26/08/2025

*DHA Margalla Enclave Project*
* *Earth/Filling work around 3 to 4 Billion Above*
* No limit profile,
* DHA Enlistment Must Require Islamabad Rawalpindi,
* CA Company
* DHA Enlistment Req
* Direct Award,
* Consultancy 8 %
* (3% on work order and 5% on Billing)
* Cash & Security Checks required
* Work Order within 5 days
* 100% Guaranteed work
* Technically and Financially sound party required.
* After the MoU - Agreement with DHA will be signed...!!!

26/08/2025

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
الســـلام علیکم وَرَحمَۃُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُہٗ
صباح الدُّعَاء لَکُم جَمِیعًا دَائِما اَبَدًا لِلصِّحَةِ وَالعَافِیَةِ وَالحَیَاةِ عَلیَ الاِسلَامِ وَالمَمَاةِ عَلَی الاِیمَانِ ۔
آمین ۔ یارب العالمین۔ بجاہِ سیدِ النبی الامین ﷺ
اپنی صبح کا آغاز ہمیشہ نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن پاک سے کریں
11 بھادوں 2082 بکرمی ۔ یکم ربیع الاوَّل 1447 ہجری - 26 اگست 2025 ۔ منگل ۔ سلسلۀ ترجمہ و تفسیر قرآن مجید و فرقانِ حمید سورة بنی اسرائیل ۔ پارہ ۔15 - آیت ۔ 2 تا 4
اَعُوذُ بِااللّٰهِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ
بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

وَاٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًا (2)
ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍؕ- اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا (3) وَقَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا (4)

ترجمۂ کنز الایمان :
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہراؤ۔
اے ان کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا ہے بیشک وہ بڑا شکر گزار بندہ تھا۔
اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں وحی بھیجی کہ ضرور تم زمین میں دوبار فساد مچاؤ گے اور ضرور بڑا غرور کرو گے۔

تفسیر صراط الجنان :
{وَاٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ : اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عطا فرمائی ۔}
اس سے پہلی آیت میں اللّٰه تعالیٰ نے اپنے اس اکرام کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فرمایا اور اس آیت میں وہ اپنے اس اکرام کا ذکر فرما رہا ہے جو اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فرمایا چنانچہ ارشاد فرمایا کہ
ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کتاب تورات عطا فرمائی اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنا دیا کہ وہ اس کتاب کے ذریعے انہیں جہالت اور کفر کے اندھیروں سے علم اور دین کے نور کی طرف نکالتے ہیں تاکہ اے بنی اسرائیل ! تم میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ۔
( تفسیرکبیر، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲، ۷ / ۲۹۷)

{ذُرِّیَّةَ مَنْ : اے ان لوگوں کی اولاد۔}
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ
اے ان لوگوں کی اولاد! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا اور طوفانِ نوح سے محفوظ فرمایا ،
تم بھی تمام حالات میں اللّٰه تعالیٰ کے عبادت گزار اور شکر گزار بندے بن جاؤ جیسے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تھے کہ وہ ہر حال میں اللّٰه رب العالمین عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرنے والے تھے۔
( جلالین مع صاوی، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳، ۳ / ۱۱۱۳)

حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شکر گزاری:

حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بطورِ خاص شکر گزار بندہ فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب کوئی چیز کھاتے ، پیتے یا لباس پہنتے تو اللّٰه تعالیٰ کی حمد کرتے اور ا س کا شکر بجا لاتے تھے۔
( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳، ۳ / ۱۶۱)

تاجدارِ رسالت ماٰب صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شکر گزاری :

سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذاتِ اقدس میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ وصف انتہائی اعلیٰ طریقے سے پایا جاتا تھا اور آپ صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللّٰه تعالیٰ کے سب سے زیادہ شکر گزار بندے تھے،
حضور پُر نور صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب کھانا تَناوُل فرماتے اور پانی پیتے،
جب بیتُ الخلا سے باہر تشریف لاتے،
جب نیا لباس زیبِ تن فرماتے ،
جب آئینہ دیکھتے،
جب بستر پر تشریف لاتے،
جب نیند سے بیدار ہوتے،
جب سواری پر سوار ہوتے ،
جب کوئی مسلمان ہوتا ،
جب کوئی خوشی کی خبر ملتی،
جب کوئی پسندیدہ چیز دیکھتے اور
جب کسی مصیبت زدہ کو دیکھتے تو خود کو عافیت ملنے پر اللّٰه تعالیٰ کی حمد بجا لاتے اور اس کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں :
رسول کریم صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نماز میں اس قدر قیام فرماتے کہ آپ کے مبارک پاؤں سوج جاتے ۔
(ایک دن) حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْہا نے عرض کی :
یا رسولَ اللّٰه!صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،
آپ ایسا کر رہے ہیں حالانکہ اللّٰه تعالیٰ نے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ بخش دئیے ہیں !
حضور پُر نور صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا
" اے عائشہ!(رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْہا)،
" اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا "
کیا میں(اللّٰه تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔
( مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب اکثار الاعمال والاجتہاد فی العبادۃ، ص۱۵۱۵، الحدیث: ۸۱(۲۸۲۰))

حضرت عروہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ دعا مانگا کرتے تھے
" اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ "
اے اللّٰه رب العالمین! عَزَّوَجَلَّ، تو اپنے ذکر ، اپنے شکر اور اپنی عبادت اچھی طرح کرنے پر میری مدد فرما
(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، امر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عمر بن الخطاب ان یدعوا بہ، ۷ / ۱۳۴، الحدیث: ۲)۔

{فِی الْكِتٰبِ : کتاب میں ۔}
اس آیت میں بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کیا گیا کہ اللّٰه رب العالمین عَزَّوَجَلَّ نے انہیں تورات میں یہ غیب کی خبر دی تھی کہ تم زمین میں یعنی سرزمینِ شام میں دو مرتبہ فساد کرو گے ۔
یہ غیب کی خبر پوری ہوئی اور جس طرح اللّٰه رب العالمین عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا تھا ویسے ہی وقوع میں آیا کہ
بنی اسرائیل نے فساد کیا،
ظلم و بغاوت پر اترے اور اس کا انجام دیکھنے کے بعد پھر سنبھلے لیکن پھر دوبارہ فساد میں مبتلا ہو گئے اور ہر مرتبہ فساد کے نتیجے میں ذلیل و رسوا ہوئے ۔

19/08/2025

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
الســـلام علیکم وَرَحمَۃُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُہٗ
صباح الدُّعَاء لَکُم جَمِیعًا دَائِما اَبَدًا لِلصِّحَةِ وَالعَافِیَةِ وَالحَیَاةِ عَلیَ الاِسلَامِ وَالمَمَاةِ عَلَی الاِیمَانِ ۔
آمین ۔ یارب العالمین۔ بجاہِ سیدِ النبی الامین ﷺ
اپنی صبح کا آغاز ہمیشہ نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن پاک سے کریں
4 بھادوں 2082 بکرمی ۔ 24 صفر المظفر 1447 ہجری - 19 اگست 2025 ۔ منگل ۔ سلسلۀ ترجمہ و تفسیر قرآن مجید و فرقانِ حمید سورة النَّحل ۔ پارہ ۔14 - آیت ۔ 113 - 115
اَعُوذُ بِااللّٰهِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ
بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

وَلَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ (113) فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪- وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ (114) اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ
وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (115)

ترجمۂ کنز الایمان :
اور بیشک ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول تشریف لایا تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں عذاب نے پکڑا اور وہ بے انصاف تھے۔
تو اللّٰه تعالیٰ کی دی ہوئی روزی حلال پاکیزہ کھاؤ اور اللّٰه تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔
تم پر تو یہی حرام کیا ہے مُردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام پکارا گیا پھر جو لاچار ہو نہ خواہش کرتا اور نہ حد سے بڑھتا تو بیشک اللّٰه تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر صراط الجنان :
{وَلَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ : اور بیشک ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول تشریف لایا۔}
یعنی اہلِ مکہ کے پاس انہیں کی جنس سے ایک عظیم رسول یعنی انبیاء کے سردار محمد مصطفٰی صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے ،
اہلِ مکہ نے انہیں جھٹلایا تو اللّٰه تعالیٰ نے اہلِ مکہ کو بھوک اور خوف کے عذاب میں مبتلا کر دیا اور ان کا حال یہ تھا کہ وہ کفر کرنے والے تھے۔
( جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۳ / ۱۰۹۸)

{فَكُلُوْا : تو کھاؤ !}
جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں مسلمانوں سے خطاب ہے ،
چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ
اے ایمان والو! تم لوٹ، غصب اور خبیث پیشوں سے حاصل کئے ہوئے جوحرام اور خبیث مال کھایا کرتے تھے ان کی بجائے حلال اور پاکیزہ رزق کھاؤ اور اللّٰه رب العالمین عَزَّوَجَلَّ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔
( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۳ / ۱۴۸، مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ص۶۱۲، ملتقطاً)

{ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ : تم پر تو یہی حرام کیا ہے۔}
آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اللّٰه تعالیٰ نے صرف یہ چیزیں حرام کی ہیں جن کا بیان اس آیت میں ہوا نہ کہ بحیرہ سائبہ وغیرہ جانور جنہیں کفار اپنے گمان کے مطابق حرام سمجھتے تھے۔
نیز جو شخص آیت میں مذکور حرام چیزوں میں سے کچھ کھانے پر مجبور ہو جائے تو وہ ضرورت کے مطابق ان میں سے کھا سکتا ہے۔
( ابو سعود، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ۳ / ۲۹۹، ملخصاً)

دینِ اسلام کی خصوصیت:

اس آیت سے معلوم ہوا کہ دینِ اسلام انتہائی پاکیزہ دین ہے اور اس دین کو اللّٰه تعالیٰ نے ہر گندی اور خبیث چیز سے پاک فرمایا ہے اور اس دین میں مسلمانوں کو طہارت و پاکیزگی کی اعلیٰ تعلیمات دی گئی ہیں ۔
حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :
بے شک اسلام پاکیزہ دین ہے ،
اللّٰه تعالیٰ نے اسے ہر بری چیز سے پاک فرمایا ہے اور
اے انسان! اللّٰه تعالیٰ نے تیرے لئے اس دین میں وسعت بھی رکھی ہے ( کہ) جب تو اس آیت میں بیان کی گئی چیزوں میں سے کسی چیز کو کھانے پر مجبور ہو جائے( تو اسے ضرورت کے مطابق کھا سکتا ہے)
( در منثور، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ۵ / ۱۷۴)

03/08/2025
Purity, power, perfection.  🤍
02/08/2025

Purity, power, perfection. 🤍

Aston Martin.
02/08/2025

Aston Martin.

Bugatti evolution.
01/08/2025

Bugatti evolution.

Address

12D A1(*Al-Imran Store)Punjab Society Collage Road Town Ship LHR
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Grace Tour's & Rent A Car posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share