29/12/2025
ارب ڈالر کا نیا قرضہ — لیکن حقیقی معیشت تباہی کے دہانے پر
جولائی سے نومبر تک کے اعداد و شمار ایک خوفناک تصویر پیش کر رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف حکومت زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے اربوں ڈالر کا قرضہ لے رہی ہے، وہیں دوسری طرف ملکی صنعت (Real Economy) تیزی سے دم توڑ رہی ہے۔
یہ "اسٹیبلائزیشن" کا وہ دھوکہ ہے جہاں ہم قرض لے کر خود کو زندہ تو دکھا رہے ہیں، لیکن پیداواری صلاحیت ختم کر رہے ہیں۔
1. قرضوں کی تفصیلات: پیسہ کہاں سے آیا؟
جولائی تا نومبر، پاکستان نے مجموعی طور پر 3.03 ارب ڈالر (تقریباً 850 ارب روپے سے زائد) کا غیر ملکی قرضہ حاصل کیا:
📉 1.25 ارب ڈالر: بین الاقوامی مالیاتی اداروں (IFIs) سے موصول ہوئے۔
🤝 807.6 ملین ڈالر: دو طرفہ ذرائع (Bilateral sources) سے ملے۔
💰 965.9 ملین ڈالر: نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (NPCs) کے ذریعے آئے (جو کہ مہنگا قرضہ ہے)۔
اس کے علاوہ، 531 ارب روپے غیر منصوبہ بند امداد (Unplanned Aid) کی مد میں آئے، جس میں 273 ارب روپے براہ راست بجٹ سپورٹ شامل ہے۔
2. زمینی حقائق: انڈسٹری بند، خسارہ بے قابو
اتنے بڑے پیمانے پر فنڈنگ ملنے کے باوجود، معاشی اعشاریے (Economic Indicators) منفی سمت میں جا رہے ہیں:
🏭 144 ٹیکسٹائل ملیں بند: پاکستان کی ایکسپورٹ کا سب سے بڑا ذریعہ ٹیکسٹائل ہے، اور اس کا بند ہونا خطرے کی گھنٹی ہے۔
📉 ایکسپورٹس میں کمی: برآمدات میں 6.4 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے (کیونکہ جب ملیں بند ہوں گی تو ایکسپورٹ کیا ہوگا؟)۔
📈 امپورٹس میں اضافہ: اس کے برعکس درآمدات میں 13 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہم ادھار کے پیسوں سے غیر ملکی سامان خرید رہے ہیں۔
💸 تجارتی خسارہ: ان پانچ مہینوں میں تجارتی خسارہ (Trade Deficit) بڑھ کر 15.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
نتیجہ: قرضہ حل نہیں ہے
توانائی کی ہوشربا قیمتیں اور ٹیکسوں کا ناجائز بوجھ ملک میں ڈی انڈسٹریلائزیشن (De-industrialization) کا سبب بن رہا ہے۔
حکومت قرضے لے کر "ڈیفالٹ" سے تو بچ سکتی ہے، لیکن "بے روزگاری" اور "صنعتوں کی بندش" سے نہیں۔ قرضے معیشت کو نہیں بچا سکتے، صرف "اسٹرکچرل ریفارمز" (Structural Reforms) ہی نوکریاں اور انڈسٹری بچا سکتی ہیں۔
#معیشت #پاکستان #مہنگائی