پيار عشق اور محبت

پيار عشق اور محبت Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from پيار عشق اور محبت, Professional Service, lahore, Lahore.

22/07/2022

کاش لے جاتے کبھی مانگ کے آنکھیں میری
یہ مصور تری تصویر بنانے والے

11/04/2022

گزشتہ شام پی ٹی آئی ورکرز نے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ ان مظاہروں میں کارکنوں کی اچھی خاصی تعداد شریک ہوئی۔ ان مظاہروں پر کوئی حیرت نہیں۔ حیرت تب ہوتی اگر یہ نہ ہوتے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان مظاہروں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔ سیاسی سرگرمیاں ہر حال میں جاری رہنی چاہئیں۔ دن اتوار کا تھا اور اقتدار سے محرومی کے بعد پہلا دن بھی تھا سو جوش و خروش قابل فہم بھی تھا۔ اب کل سے ورکنگ ڈیز شروع ہوں گے اور ظاہر ہے بہت سا "ورک" ہوگا۔ بہت کچھ باہر آئے گا اور بہت کچھ اندر ہوگا۔ بہت سی "مثبت رپورٹنگ" ہوگی اور پتہ چلتا چلا جائے گا کہ میڈیا کا گلا گھونٹ کر کیا کچھ چھپایا جاتا رہا ہے۔ کسی بھی پارٹی کے ورکرز میں ایک بڑی تعداد ان ورکرز کی ہوتی ہے جو کسی مقامی لیڈر کی وفادار ہوتی ہے۔ اس جماعت کی تو لیڈر شپ بھی خیر سے ساری کی ساری فون کالز پر قبلے بدلنے والی ہے۔ سو اگلے الیکشن سے قبل کئی قبلے بدلیں گے۔ یہ بدلتے قبلے اس جماعت کا کیا حال کرتے ہیں یہ بھی دیکھنے والی بات ہوگی۔ اور سب سے اہم چیز فارن فنڈنگ کیس ہے۔ جو واضح کردے گا کہ "غیرملکی سازش" کس چڑیا کو کہتے ہیں۔ اور ہاں ! اگر نوبت کسی پر تشدد مظاہرےکی آئی تو پہلی بار پی ٹی آئی کی ممی ڈیڈی کلاس کو یہ بھی پتہ چلتا چلا جائے گا کہ موسم گرما میں پاکستانی جیلیں "تبدیلی کا کیڑا" مارنے کے لئے ایک دم موزوں ہیں !

04/04/2021

جے ڈی سی کی حقیقت، مدارس کیساتھ زیادتی اور اہل کراچی کی ذمہ داری*
تحریر نوفل ربانی
---------------------------
کراچی والو....!
روافض جنکے عقائد کفریہ ہوں( مثلا عقیدہ امامت، عقیدہ بداء، تحریف قرآن، تہمت صدیقہ کے قایلین وغیرہ ) کو زکواۃ دینا جائز نہیں اگر دی تو اتنی زکواۃ ادا نہیں ہوگی
یہ تو شرعی مسئلہ ہے جو فتاوی جات میں بے غبار لکھا ہے....
لہذا کوئی بھی شیعہ رافضی این جی او ہو اسکو زکواۃ ادا کرنے سے گریز کیا جائے...!
بالخصوص جب این جی او بدنام زمانہ رسوائے دہر تبرائی ذاکر عمران نیازی کے کار خاص ملعون شہنشاہ نقوی کی این جی او" جے ڈی سی" ہو جسکا سامنے کا چہرہ ظفر عباس ہے کو تو بلکل بھی نا دی جائے...
ایک تو شرعی مسئلہ ہے اور ایک مسلمان کے لئے شریعت ہی اول آخر وجہ ہے کہ جس سے شریعت روک دے رک جائے جس کے کرنے کا کہے تو کرگذرے...
دوسرا یہ کہ جے ڈی سی کو زکواۃ دینا جہاں شرعا منع ہے وہاں قومی سلامتی کے حوالے سے بھی خطرناک ہے. ۔
تیسرا یہ مدارس دینیہ جو کہ اس دور پر آشوب میں اسلام کے قلعے اور تہذیب اسلامی کی آخری پناہ گاہیں ہیں کا بھی حق مارنا ہے.
مدارس دینیہ سارا سال 24 لاکھ مسافر بچوں کو کھانا، پینا، علاج معالجہ، رہائش، کتابیں، تعلیم بلکل مفت بلا تعطل مہیاء کرتے ہیں ۔ یہ سارا نظم آپکی زکواۃ عطیات سے چلتا ہے اسکے علاوہ کہیں سے کوئی فنڈ مدارس کو نہیں ملتا پوری دنیا کفر آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف عالمی ساہو کار کارپوریشنیں وغیرہ تو آئے روز مدارس کا ناطقہ عمران نیازی کی فاشسٹ حکومت کی مدد سے بند کررہی ہیں ایسے میں مدارس کا واحد سہارا آپکی زکواۃ عطیات ہیں اگر یہ بھی غیروں کو دے دیں گے تو سوچیں تہذیبی جنگ میں آپ اسلامی مورچہ کمزور کردیں گے. ان این جی اوز کو تو پوری دنیا کی لابیاں فنڈ کرتی ہیں انکو مدد دیتی ہیں لیکن مدارس پر قدغنیں لگاتی ہیں .

کچھ تو خیال کریں ۔۔!

قومی سلامتی کا مسئلہ تو اسطرح ہے کہ ایران دنیا بھر سے شیعہ نوجوانوں کو اپنے ولایت فقیہ کے ڈھونگ نظام کی توسیع کی اندھی مسلح جنگ کے لئے بھرتی کرتا ہے.امریکی سکیورٹی کنسلٹنٹ فرم سوفان گروپ کے مطابق 2016 تک شام میں 81 ممالک کی شدت پسند شیعہ تنظیمیں موجود تھیں۔
پاکستانی شیعہ کو وہ لواء زینبیوں کے نام سے دہشت گرد ملیشیاء میں بھرتی کرکے شام، عراق، یمن، بحرین وغیرہ میں جنگ کا ایندھن بناتا ہے. ایسے کئی ہلاک شدگان کی لاشیں پاکستان واپس لائی گئی ہیں ۔۔
انڈیپینڈٹ اردو کے مطابق 2013 میں بی بی زینب سلام اللہ علیھا کے مقبرے پر حملے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کے تحت" لواء زینبیون" بنائی گئی جس میں پاکستانی شیعہ نوجوانوں کو ماہانہ 300 امریکی ڈالر کے عوض بھرتی کیا جاتا اور بہت سوں کو مذہبی طور پر جذباتی بلیک میل کرکے رضاکارانہ طور پر لے جایاجاتاہے ۔۔
اب ان جنگی عسکری رضاکاروں کی مالی معاونت اور انکے گھروں کی کفالت کے لئے شہنشاہ نقوی کی سربراہی میں جعفریہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ یعنی " جے ڈی سی" بنائی گئی ہے. جو بظاہر کراچی کی سنی عوام سے زکواۃ خیرات لے کر غرباء کی معاونت کا ڈھونگ رچاتی ہے لیکن دراصل وہ ایرانی پراکسی وار کے مفت کے قاتل رضاکاروں کی معاونت وکفالت کا فریضہ سرانجام دیتی ہے...
یہ غیر قانونی طور پر پڑوسی ملک میں نوجوان ایک اندھی جنگ کے دلدل میں جب اتارے جاتے ہیں تو بسا اوقات یہ جذباتی کم فہم نوجوان والدین کی مشاورت واجازت کے بغیر چلے جاتے ہیں جنکے والدین عزیز واقارب کراچی کوئیٹہ وغیرہ میں دھرنے دے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہمارے پیارے سیکورٹی ایجنسیزز نے غائب کردئیے جبکہ انکے وہ "پیارے" مشرق وسطی میں ایرانی پراکسی وار میں قتل وغارت گری کا بازار گرم کئے ہوتے ہیں.
اس طرح سے یہ لوگ ایک تیر سے دو شکار کرتے ہیں ملکی ایجنسیوں کو بدنام کرتے ہیں اور مظلوم بنتے ہیں جبکہ یہ ظالم اور قاتل ملک کے سہولت کار ہیں ۔
ان میں سے جو نوجوان واپس آتے ہیں تو وہ پاکستان میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری جیسے جرائم کرتے ہیں عزیر بلوچ اور دیگر کئی دہشت گرد اس پار سے آتے جاتے رہے ہیں عزیر بلوچ سے تو پڑوسی ملک کا پاسپورٹ بھی برآمد ہوا تھا
سی ٹی ڈی نے ابھی حال ہی میں کراچی سے لواء زینبیوں کے بھرتی کار عباس جعفری کو گرفتار کیا سی ٹی ڈی کے ایس پی آپریشنز عارف عزیز کے مطابق عباس جعفری ریڈ بک میں انتہائی مطلوب شدت پسند یاور عباس کا دست راست ہے اور 2014 میں پڑوسی ملک سے عسکری تربیت حاصل کی۔
عارف عزیز کے مطابق ملزم میڈیکل ایڈ سرویلنس اور خود کار ہتھیاروں میں مہارت رکھنے کے ساتھ متعدد نوجوانوں کوعسکری ٹریننگ کے لیے پڑوسی ملک لے جا چکا ہے جنہیں کراچی میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ملزم نے شہرمیں کئی اہم وارداتوں میں ریکی بھی کی۔
جے ڈی سی ان دہشتگردوں کی سہولت کار تنظیم ہے.
انکو چندہ دینا دین اسلام، مذہب، تہذیب، ملک وملت کے خلاف دینے مترادف ہے

کیا آپکو نہیں نظر آتا؟

کہ میڈیاء انکو کیوں اتنا پرموٹ کرتا ہے میڈیاء پر کس مسلک کی اجارہ داری ہے وہ اجارہ داری فطری ہے کیونکہ متعہ کے ذیل میں میڈیاء کے کنجر کنجریاں طوائفیں اکثریت اسی طبقے سے ہیں.
کیوں میڈیا مدارس کو پرموٹ نہیں کرتا بلکہ مدارس کی کردار کشی کا کوئی موقع فروگزاشت نہیں کرتا جبکہ شہنشاہ نقوی کی جعفریہ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کو پرموٹ کرتا ہے.
سوچیں، سمجھیں ،ہوشیار رہیں دشمن کی مدد سے رکیں
نوفل ربانی

15/10/2020

ایک پروفیسر نے اپنے طلبا میں ٹیسٹ کیلئے پیپر بانٹے. طلباء سے کہا پیپر کھولو. طلبا نے جب پیپر چیک کیا تو سفید کاغذ کے عین درمیان ایک کالا نقطہ تھا. پروفیسر نے کہا اب لکھو جو دل میں آتا ہے. ساری کلاس نے اسی کالے نقطے کو مختلف انداز میں بیان و رقم کیا. پروفیسر نے طلباء سے پوچھا اس ایک نقطے کے آس پاس اتنا سفید خالی کاغذ تھا. تم لوگوں کو بس یہ کالا نقطہ ہی نظر آیا؟

میرا آپ سے ایک سوال ہے.؟ پچھلے سال اس دن اس وقت زندگی کا وہ کونسا کالا نقطہ تھا جس نے آپکا فوکس چرا کر خود میں مگن کیا تھا.؟ وہ کونسی کیفیت تھی جس نے زندگی کی خالی شیٹ میں نئے رنگ بھرنے کی بجائے آپ کا وہ دن اپنے بیان میں چرا لیا تھا.؟

اکثریت کو یاد نہیں ہوگا. چلیں دوسرا سوال ہے. اگلے سال اس دن اس وقت کا وہ کالا نقطہ کیا ہوگا.؟ دنیا میں لیکن کوئی بھی یہ جواب نہیں دے سکتا. کیونکہ مستقبل بس ایک اُمید ہے کوئی طے منزل نہیں. ہمارا دماغ یادداشت میں اپنی سہولت دیکھتا ہے. جیسے درد کی ساری یادیں ایک ساتھ ہوں گی. بچپن میں کھلونا ٹوٹ جانے کا درد ہو یا ماسٹر سے ڈنڈے کھانے کا درد نوجوانی کی محبت کا درد ہو یا کسی کے رد کرنے کا درد. یہ سب ایک ہی ڈھیر میں ہوگا. اس لئے آج کے معمولی سے درد کو بھی جب آپ دماغ میں لے کر اس سے کھیلیں گے تو ماضی کے سارے درد مل کر اس قوالی کے ہمنوا بن جاتے ہیں.

دوستو اپنے دستیاب لمحوں میں جینا سیکھیں. اسے اس وقت کے کسی ایک کالے نقطے کی بھینٹ نہ چڑھائیں. کسی ایک مسئلہ کو سر پر اتنا سوار نہ کریں آپ کے روز و شب امتحان کی خالی شیٹس میں روزانہ ایک نقطے کے بیان میں ضائع ہو جائیں.

07/09/2020

لاپاز بولیویا میں جادوگرنیوں کی بھی مارکیٹ ہے. کیرو کمبرے کی چٹان کے دامن میں آباد اس مارکیٹ میں آپ کو لاما کی سوکھی ہڈیاں سوکھے ہوئے مینڈک اور بے شمار دوسری روایتی جادوئی چیزیں اور ان کو غیر معمولی داستانیں سُنا کر بیچنے والے جادوگر دکاندار ملیں گے. بولیویا میں جب کوئی نیا گھر بناتا ہے تو آرکیٹیکٹ یا ٹھیکیدار سے پہلے یہاں آتا ہے اور بنیاد میں رکھنے کیلئے ہڈیاں خریدتا ہے.

یہ مارکیٹیں ساری دُنیا میں ہیں. ہندوستان میں یہ سادھو لوگوں کے کنٹرول میں ہے تو ہمارے ملک میں یہ عامل کامل چرب زبان دکانداروں کے پاس ہے. یہ مارکیٹیں کیوں آباد ہیں.؟ کیونکہ ہم خواب دیکھنے اور ان کی تعبیر کی محنت کی بجائے خریدنا آسان سمجھتے ہیں. موقع پرست اس ڈیمانڈ کو دیکھ کر سپلائی کیلئے بہروپ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں.

تصوف کبھی ایک عملی تربیتی میدان تھا. پانچ نمازیں چھوڑ کر ایک وظیفے میں کروڑوں نیکیاں کمانے کے ہمارے شوق نے اسے جاہلیت کی مارکیٹ بنا دیا. کبھی ایک دور تھا تربیت نفس کیلئے ایک طالب علم کسی استاد کے پاس جاتا وہ اسے ایک دائرے یا حصار میں بیٹھ کر وظائف کرنے کی ترتیب دیتا. دائرے کی ترتیب یا مقصود ہوتا کہ سائل دنیا اور نفس سے منسلک مسائل کو دائرے کے باہر کرے. دائرے میں وہ اور اس کا اللہ پر ارتکاز ہی رہیں. یہ circles of pure concentration ہوتے تھے.

سائل فوکس سیکھ کر نکلتا تھا. اور یہی فوکس کرشمے دکھاتا تھا. آج ہم دائرے کے باہر نفس کے تابع کرشمے ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں. کچھ لوگوں کی چاندنی ہو جاتی ہے. ہمارے ہاتھ نہ کچھ اتا ہے نہ کچھ بچتا ہے.

سوال ہوتا ہے اعتماد کیسے حاصل کیا جائے.؟ آپ پوچھتے ہیں اعتماد کس میں نہیں.؟ جھجکتے ہوئے بتایا جاتا ہے مجھ میں اعتماد کی ...
06/09/2020

سوال ہوتا ہے اعتماد کیسے حاصل کیا جائے.؟ آپ پوچھتے ہیں اعتماد کس میں نہیں.؟ جھجکتے ہوئے بتایا جاتا ہے مجھ میں اعتماد کی کمی ہے. آپ اس چلتے پھرتے صحتمند نوجوان کو دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں اس نے اعتماد کہاں گُم کر دیا ہوگا..؟

ہمارے جسم کا اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا سب کچھ muscles پر ہے. اعتماد بھی ایک پٹھا ہی ہے. جب ہم بچے ہوتے ہیں تو بیٹھ بھی نہیں سکتے. بتدریج ہم بیٹھنا سیکھتے ہیں. پھر ہاتھوں گھٹنوں کے بل چلنا شروع کرتے ہیں. پھر ایک دن کھڑا ہونا سیکھ لیتے ہیں اور پھر قدم قدم چلنا. کتنی بار ہم گرے ہوں گے کتنی بار کسی نے سہارا دیا ہوگا. آج آپ کو یہ تو یاد نہیں لیکن چلنا کیا دوڑنا بھی اب روزمرہ کا کام ہے.

اسے ہی اعتماد کہا جاتا ہے. آپ کا نتائج کیلئے ڈٹ جانا آپکا اعتماد بنتا ہے. فرض کیا ایک بچہ ایک بار گر کر گرنے کے خوف میں دوبارہ کھڑا نہ ہو.؟ جب آپ کہتے ہیں مجھ میں اعتماد کی کمی ہے تو آپ وہی بچہ بن چکے ہوتے ہیں. مسئلہ اعتماد میں نہیں گرنے کے خوف میں ہوتا ہے. آپ گرنے کیلئے ذہنی طور پر راضی ہو جائیں تو چلنا کیا مشکل.؟ آپ ناکامی کیلئے تیار ہوں، آپ دوسروں کی اس ہنسی کیلئے آمادہ ہوں جو آپ کی ناکامی پر وہ ہنسیں گے تو عمل کرنا کیا مُشکل.؟

مسئلہ اعتماد کا نہیں دوستو اکثر اس خوف کا ہوتا ہے. یہ خوف نکال دیں اعتماد خود جگہ بنا لے گا.

04/09/2020

برازیل کے ارب پتی چیکونو سکارپا نے اعلان کیا کہ وہ اپنی ایک ملین ڈالر کی بینٹلے کار کو دفن کرنا چاہتا ہے. میڈیا دوڑا دوڑا چیکونو کے پاس گیا اور پوچھا وہ کیوں..؟ برازیلین ارب پتی نے کہا مرنے کے بعد یہ گاڑی میرے کام آئے گی. میں اس میں گھوموں گا سیر کروں گا. میں اس وقت بے کار نہیں رہنا چاہتا.

تاریخ طے ہوگئی. سننے والا ہر ایک غصہ میں تھا. چیکونو آخر ایسی احمقانہ حرکت کیوں کر رہا ہے. وقت مقرر ایک بڑے کھڈے کے پاس چیکونو نے بینٹلے کھڑی کی اور رپورٹرز اور تماشائیوں کی طرف دیکھا. سب اسے منع کر رہے تھے. سمجھا رہے تھے یہ بے وقوفی ہے.

چیکونو نے کہا مجھے پتہ ہے یہ احمقانہ سوچ ہے. مرنے کے بعد مجھے یہ بینٹلے نہیں ملنی. لیکن تم لوگ پھر زندہ انسانوں کیلئے اپنے جسمانی اعضاء وصیت کر کے کیوں نہیں جاتے.؟ مرنے کے بعد تمہاری آنکھیں گردے یا دل کسی بیمار کی زندگی بن سکتے ہیں. تم لوگ اپنی حماقت پر کیوں نہیں سوچتے.؟

ہم انسان زندگی جیتے ہوئے مرنا یاد نہیں رکھتے. اعضاء ڈونیٹ کرنا تو چلو بڑی عظمت کا مقام ہے. مرنا یاد ہو تو کم از کم ایک دوسرے کا دل ہی نہ توڑیں، کسی کی آنکھ اشکبار نہ کریں، کسی کے حصے کی سانسوں کو گھٹن نہ دیں، خود بھی جینا سیکھیں اور دوسروں کو بھی جینے کا حق ہی دے دیں.

13/07/2020
27/05/2020

یہ سٹیٹس ساری عورتوں کے لئے نہیں ہے جن کے لئے یے بس انہی کے لئے یے

بھابیاں شادی شدہ نندوں کو ذلیل کرتی ہیں کنواری نندیں بھابیوں کی زندگی اجیرن کئے رکھتی ہیں، وہ ساس ڈھونڈنا جو بہو سے خوش ہو چاند پر پانی تلاش کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے اور وہ بہو تلاش کرنا جو ساس سے ایماندار ہو کسی پولیس والے کے ایماندار نکلنے سے زیادہ مشکل امر ہے

عورتیں ساری عمر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ذلیل کرنے کی پر عزم جدوجہد کرتے گزار دیتی ہیں اور جب ان سے پوچھا جائے تو کہتی ہیں مرد بہت ظالم ہیں اور معاشرہ مردانہ ہے

الو کی پٹھیاں

23/05/2020

اہل وطن کو عید الفطر کی مبارک ہو

16/05/2020

ڈاکٹر بٹ صاحب روزے میں کم خوراکی کا مینو تجویز فرما رہے ہیں

اکثر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ افطار کے وقت روزہ کھلتے ہی سب کچھ اوپر نیچے ٹھونس لیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ایک تو وہ صحیح طریقے سے کھا نہیں پاتے دوجا ان کو بوجھل محسوس الگ ہونے لگتا ہے۔

اس ضمن میں بہتر یہ ہے کہ صرف پانچ سے سات کھجوروں سے روزہ کھول کر ، پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئیے چار پانچ گلاس شربت پی لیا جاۓ اور ساتھ میں ایک ایک دو دو پلیٹ فروٹ چاٹ، دہی بھلے، چنا چاٹ وغیرہ کی لے لی جاۓ۔ سموسے پکوڑے وغیرہ بھی حسب توفیق کھا لیں لیکن کھانا ساتھ ہی مت کھائیں۔

ایک آدھ گھنٹہ گزر جاۓ تو دو پلیٹ پلاؤ یا بریانی کی لے لیں۔ کھانا تراویح کے بعد کھائیں.

کھانے میں آپ سالن کی ایک یا دو پلیٹ کے ساتھ تین چار چپاتی کھا لیں لیکن میٹھا اس ہی وقت ایک ساتھ ہر گز مت کھائیں۔

تقریبا کھانے کے ایک گھنٹہ بعد میٹھا کھا کر کچھ دیر چہل قدمی کر لیں جس کے بعد آدھ پون گھنٹے کا وقفہ دے کر دو تین گلاس ملک شیک پی لیں۔

سحری کے وقت سحری کرنے سے پہلے میٹھی لسّی کا ایک جگ پی لیں تو بہتر ہے ورنہ دہی کا ایک بڑا پیالہ چینی ملا کر کھا لیں۔
سحری بہت ہلکی پھلکی سی کریں جس میں آپ دو انڈوں کے ساتھ تین چار سلائیس یا دو پراٹھے کھا کر چاۓ پی لیں۔ اور اذان سے قبل چار گلاس پانی پی کر روزے کی نیت کر لیں۔

انشاء اللہ ایسا کرنے سے طبیعت بوجھل محسوس نہیں ہو گی ۔ یاد رکھیں ہلکی غذا ، شفا ہی شفا۔

09/05/2020

روزہ مشکل نہیں ہوتا !! ہو بهی نہیں سکتا !!
محبوب کے لئے اتنا تو کیا جا سکتا ہے نا !!

Address

Lahore
Lahore
JJHSK

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پيار عشق اور محبت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share