Mahad traders-Sayban zrai markaz

Mahad traders-Sayban zrai markaz Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mahad traders-Sayban zrai markaz, Lalian.

18/08/2025
18/08/2025

**Zinc*
🌱 یہ دراصل ایک **مائیکرو نیوٹرینٹ (Micronutrient) کھاد ہے۔
🌿 پودوں میں Zinc (زنک) کی اہمیت:

1. نشوونما اور بڑھوتری:
زنک پودوں کی انزائمز (enzymes) کو فعال کرتا ہے اور نئے پتے، ٹہنیاں اور جڑیں بنانے میں مدد کرتا ہے۔

2. پتوں کی سبزاہٹ (کلوروفل کی تیاری)
یہ کلوروفل بنانے میں ضروری ہے، جس سے پتے ہرے رہتے ہیں اور فوٹو سنتھیسز بہتر ہوتی ہے۔

3. پھول اور پھل:
زنک پودوں کے پھول آنے اور پھل جمنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ زنک کی کمی سے پھل کم لگتے ہیں۔

4. ہارمون کی تیاری:
زنک پودوں میں آکسین (Auxin) نامی ہارمون بناتا ہے جو بڑھوتری کے لیے ضروری ہے۔
🔗 آرڈر اور معلومات کے لیے
رابطہ کریں:

📍
03008965895

‏ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے دُور سے ایک انسان آتا دیکھائی دیا۔چڑی نے چڑے سے کہا کہ اُڑ جاتے ہیں یہ ھمیں مار دے گا۔...
18/09/2024

‏ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے
دُور سے ایک انسان آتا دیکھائی دیا۔
چڑی نے چڑے سے کہا کہ اُڑ جاتے ہیں یہ ھمیں مار دے گا۔
چڑا کہنے لگا کہ بھلی لوک دیکھو ذرا اسکی دستار پہناؤا شکل سے شرافت ٹپک رھی ھے یہ ھمیں کیوں مارے گا۔
جب وہ قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا مار دیا‏چڑی فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ھو گئی۔ شکاری کو طلب کیا گیا۔ شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔
بادشاہ نے چڑی کو سزا کا اختیار دیا کہ جو چایے سزا دے۔
چڑی نے کہا کہ اسکو بول دیا جاۓ کہ!!
اگر یہ شکاری ھے تو لباس شکاریوں والا پہنے۔
شرافت کا لبادہ اتار دے۔🖤🍂

17/09/2024

*اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیَّدِی یَارَسُوْلَ اللّٰهِﷺ♥️

04/08/2024

مدینہ میں کوئی نہ رہے حتیٰ کہ جـنگل کے درندے آئیں اور ابوبکر کو گھسیٹ کر لے جائیں ۔۔۔ یہ حکم صادر ھوا خلیفہ اوّل کی طرف سے۔۔۔

مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی ان میں 600 صحابہ کرام ایسے بھی تھے جوکامل حافظ قرآن تھے.
اور اس جنگ میں 27000 کفار وصل جہنم ہوئے .
اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں
یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"
بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے
درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"
صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ
سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ
خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔

13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو
اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی
نہ کبھی بعد میں لڑی"
اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد
خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259
صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے
ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔

اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔
انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی
جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم
میں مشہور تھے
اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:
اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں
اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"

چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب
وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم
پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر
و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔
عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوںبمیں آخری خطبہ دیا:

والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے
بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست
نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"
اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت" کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی
دیواریں مثل قلعہ کے تھیں
کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا
لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:
*"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے
اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں
تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"

اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر
منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار
کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں
چھلانگ لگا دی
قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا
یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!

ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا
ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور
پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ
کو کاٹ کر رکھ دیا
*اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ
تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر
رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی
ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔
کاش تمہیں یا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم
کہتے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک
مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک
پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔
اور اسی جنگ میں وحشی ابن حرب نے مسیلمہ کذاب کو جہنم واصل کیا۔ اسی جنگ کے بعد وہ کہتے تھے کہ شائد حمزہ رضی اللہ کا کفارہ ادا ھو سکے۔۔
تب کے مسلمانوں نے اپنا سب کچھ ختم نبوت پر قربان کر دیا اور خلیفہ اوّل امیر المومنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق اکیلے مدینہ منورہ میں رہے۔ کہتے ہیں کہ وہ اتنے بے چین تھے کہ معلوم ھوتا تھا انگاروں پر پاؤں دھرے ہیں۔

اے مسلمانوں، تحفظ ختم +نبوتؓ کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو
آخر میں میری آپ تمام دوستوں سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو
آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا کردار ادا کیجئے.

26/03/2024

40 طرح کا صدقہ👇🏻
Syed Mohsin Ali Gillani

1. دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بچنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

2. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

3. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

4. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

5. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

6. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

7. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

8. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]

9. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]

10. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

11. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

12. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

13. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

14. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

15. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

16. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

17. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]

18. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

19. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]

20. اچھی بات کہنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2589]

21. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

22. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

23. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

24. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

25. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

26. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

27. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]

28. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]

29. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]

30. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]

31. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]

32. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]

33. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]

34. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367]

35. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]

36. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]

37. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]

38. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]

39. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

40. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]

صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ یہ تحریر صدقہ جاریہ ہے ، شیئر کرکے باقی احباب تک پہنچائیے

منجانب:_ #سگِ_درِ_رسول_اللہ

23/03/2024

سلفر

سلفر کا دو قسم کا کردار ہوتا ہیں
1- پودے کے اندر
2- زمین کے اندر

پہلے اگر ہم بات کرلیں پودے کے اندر کس طرح سلفر کام کرتا ہے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ "سلفر پودے میں ڈیفینس سسٹم کا نام ہے"
1- سلفر خوراک بنانے(Photosynthesis) میں اہم کردار ادا کرتا ہے
2- پودے کے اجزائے تالیف کے عمل میں امائنو ایسڈ کا حصہ بن کر پروٹین بناتا ہے۔
3- زیادہ پرٹین کی وجہ سے پودا مضبوط ہوتا ہے اور مضر حالات وائرس کے حملے اور موسمی تبدیلیوں میں قوت مدافیت دیتا ہے۔

سلفر کے زمین میں کردار۔
زمین کی Ph کو کنٹرول کرتا ہے

1- سوڈیم کے منفی اثرات کو کم کرتا ہے۔

2- سلفر کی موجودگی سے زمین نرم اور بھربھری ہوتی ہے جس سے جڑوں کی افزائش اچھی ہوتی ہے
3- زمین کے مسام کو کھولتا ہے، زمین کو ہوادار بناتا ہے اور زرخیزی کو بڑھاتا ہے

4- جڑیں دور دور سے خوراک بآسانی لے سکتی ہیں
5- سلفر زمین میں موجود بیکٹیریا کی خوراک ہے
5- ہوا دار زمین میں بیکٹیریل فنکشن ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے
6- ہوا کی غیر موجدگی میں جو بیکٹیریا زمین میں کام کرتے ہیں سلفر ان بیکٹیریا کی افزائش کا سبسب بنتا ہے اور ہر حالت میں پودے کو خوراک کی فراہمی یقینی بناتا ہے
7- یہی بیکٹیریا دیگر کھادوں کو پودے کے استعمال کے قابل بناتی ہیں۔

فنگس کی بات کریں تو سلفر فنگس کے خلاف بھی کام کرتا ہے
رسٹ اور پوڈری ملڈیو کے خلاف قوت مدافیت پیدا کرتا ہے
مائٹس تھرپس اور سکیل کے خلاف موثر ہے۔
موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے یا زیادہ نمی کی وجہ سے پود گلنے اور گرنے لگتے ہیں جس پر سلفر بہت اہم کردار ادا کرتا ہے اور پودے کا سہارا بنتاہے 03004773605

15/03/2024

تڑپا دینے والا واقعہ
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی کوئی خواہش نہیں کی
ایک دن مچھلی کھانے کو دل چاہا تو اپنے غلام یرکا سے اظہار فرمایا۔۔
یرکا آپ کا بڑا وفادار غلام تھا ایک دن آپ نے فرمایا یرکا آج مچھلی کھانے کو دل کرتا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے آٹھ میل دور جانا پڑے گا دریا کے پاس مچھلی لینے اور آٹھ میل واپس آنا پڑے گا مچھلی لے کے ۔۔
پھر آپ نے فرمایا رہنے دو کھاتے ہی نہیں ایک چھوٹی سی خواہش کیلئے اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالنا اچھا نہیں لگتا کہ اٹھ میل جانا اور اٹھ میل واپس آنا صرف میری مچھلی کے لئے؟
چھوڑو یرکا۔۔۔۔۔۔۔ اگر قریب سے ملتی تو اور بات تھی۔
غلام کہتا ہے میں کئی سالوں سے آپ کا خادم تھا لیکن کبھی آپ نے کوئی خواہش کی ہی نہیں تھی پر آج جب خواہش کی ہے
تو میں نے دل میں خیال کیا کہ حضرت عمر فاروق نے پہلی مرتبہ خواہش کی ہے اور میں پوری نہ کروں۔؟
ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔
غلام کہتے ہیں جناب عمرؓ ظہر کی نماز پڑھنے گئے تو مجھے معلوم تھا ان کے پاس کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں عصر انکی وہیں ہوجائے گی۔
غلام کہتا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور دو رکعت سنت نماز پڑھ کرمیں گھوڑے پر بیٹھا عربی نسل کا گھوڑہ تھا دوڑا کر میں دریا پر پہنچ گیا..
عربی نسل کے گھوڑے کو آٹھ میل کیا کہتے ؟؟
وہاں پہنچ کر میں نے ایک ٹوکرا مچھلی کا خریدا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عصر کی نماز ہونے سے پہلے میں واپس بھی آگیا اور گھوڑے کو میں نے ٹھنڈی چھاؤں میں باندھ دیا تاکہ اس کا جو پسینہ آیا ہوا ہے وہ خشک ہو جائے اور کہیں حضرت عمر فاروق دیکھ نا لیں

غلام کہتا ہے کے کہ گھوڑے کا پسینہ تو خشک ہوگیا پر پسینے کی وجہ سے گردوغبار گھوڑے پر جم گیا تھا جو واضح نظر آرہا تھا کہ گھوڑا کہیں سفر پہ گیا تھا پھر میں نے سوچا کہ حضرت عمرؓ فاروق دیکھ نہ لیں ۔۔
پھر میں جلدی سے گھوڑے کو کنویں پر لے گیا اور اسے جلدی سے غسل کرایا اور اسے لا کر چھاؤں میں باندھ دیا۔۔ (جب ہماری خواہشات ہوتی ہیں تو کیا حال ہوتا ہے لیکن یہ خواہش پوری کر کے ڈر رہے ہیں کیونکہ ضمیر زندہ ہے)
فرماتے ہیں جب عصر کی نماز پڑھ کر حضرت عمر فاروق آئے میں نے بھی نماز ان کے پیچھے پڑھی تھی۔

گھر آئے تو میں نے کہا حضور اللہ نے آپ کی خواہش پوری کردی ہے۔
مچھلی کا بندوبست ہوگیا ہےاور بس تھوڑی دیر میں مچھلی پکا کے پیش کرتا ہوں۔
کہتا ہے میں نے یہ لفظ کہے تو جناب عمر فاروق اٹھے اور گھوڑے کے پاس چلے گئے گھوڑے کی پشت پہ ہاتھ پھیرا،
اس کی ٹانگوں پہ ہاتھ پھیرا اور پھر اس کے کانوں کے پاس گئے اور گھوڑے کا پھر ایک کان اٹھایا اور کہنے لگے یرکا تو نے سارا گھوڑا تو دھو دیا لیکن کانوں کے پیچھے سے پسینہ صاف کرنا تجھے یاد ہی نہیں رہا۔۔
اور یہاں تو پانی ڈالنا بھول گیا۔۔
حضرت عمرؓ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے
"اوہ یار یرکا ادھر آ تیری وفا میں مجھے کوئی شک نہیں ہے
اور میں کوئی زیادہ نیک آدمی بھی نہیں ہوں،
کوئی پرہیز گار بھی نہیں ہوں ،
میں تو دعائیں مانگتا ہوں
اے اللہ میری نیکیاں اور برائیاں برابر کرکے مجھے معاف فرما دے۔۔
میں نے کوئی زیادہ تقوی اختیار نہیں کیا اور بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمانے لگے یار اک بات تو بتا اگر یہ گھوڑا قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرے کہ یا اللہ عمر نے مجھے اپنی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے 16 میل کا سفر طے کرایا
اے اللہ میں جانور تھا،
بےزبان تھا
16 میل کا سفر ایک خواہش پوری کرنے کیلئے
تو پھر یرکا تو بتا میرے جیسا وجود کا کمزور آدمی مالک کے حضور گھوڑے کے سوال کا جواب کیسے دے گا؟"
یرکا کہتا ہے میں اپنے باپ کے فوت ہونے پر اتنا نہیں رویا تھا جتنا آج رویا میں تڑپ اٹھا کے حضور یہ والی سوچ (یہاں تولوگ اپنے ملازم کو نیچا دکھا کر اپنا افسر ہونا ظاہر کرتے ہیں)غلام رونے لگا حضرت عمرؓ فاروق کہنے لگے اب اس طرح کر گھوڑے کو تھوڑا چارہ اضافی ڈال دے اور یہ جو مچھلی لے کے آئے ہو اسے مدینے کے غریب گھروں میں تقسیم کر دو اور انہیں یہ مچھلی دے کر کہنا کے تیری بخشش کی بھی دعا کریں اور عمر کی معافی کی بھی دعا کریں۔

11/03/2024

دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں

ڈھنگ کی بات کہے کوئی، تو بولوں میں بھی
مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں

بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں

غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں
محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں

یہی مسلک ہے مرا اور یہی میرا مقام
آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں

عمرکرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں
جب سے وہ روٹھ گئے، تب سے الگ بیٹھا ہوں

میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا
سب میں شامل ہوں، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں
پیر نصیر الدین نصیر

09/03/2024

جنگ یمامہ✅
مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی
اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔

خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں
یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"
بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے
درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"

صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ
سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ
خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔

13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو
اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی
نہ کبھی بعد میں لڑی"
اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد
خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259
صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے
ساتھ مقتل میں پڑے تھے
اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی
جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم
میں مشہور تھے
اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:
اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں
اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"
چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب
وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم
پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر
و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔

عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں
صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوں
میں آخری خطبہ دیا:
والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے
بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست
نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"

اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت" کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی
دیواریں مثل قلعہ کے تھیں
کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا
لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:
"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے
اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں
تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"
اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر
منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار
کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں
چھلانگ لگا دی
قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا
یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!
ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا
ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور
پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ
کو کاٹ کر رکھ دیا

اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ
تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر
رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی
ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔

کاش تمہیں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم
کے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک
مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک
پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔

قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے
پس ہر صاحب ایمان کے ذمے ہے کہ وہ
اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو.
اے مسلمانوں، تحفظ ختم نبوتؓ کے جہاد میں
اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو. آخر میں میری آپ سب سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں
کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو
آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا اپنا کردار ادا کیجئے۔
انشااللہ تعالی
حضور ﷺ خاتم النبین
کی عزت حرمت اور آبرو کی خاطر جاگتے رھیں کیونکہ
اسی میں نجات ھے

کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ھم تیرے ھیں
یہ جہاں چیز ھے کیا لوح و قلم تیرے ھیں.

#سگِ بارگاہِ یارسول اللہ

04/03/2024

:::::مال کا چور ہوں عقیدے کا چور نہیں::::::

ِ_تربیت

قدیم زمانے میں چوروں کی جماعت نے ایک گھر پر چوری کی تو جب سامان کھولا اس میں ایک کاغذ نکلا جس پر لکھا تھا
یا الله میرے مال کی چوروں سے حفاظت فرما
چوروں کے سردار نے کہا سامان واپس رکھ دو
چوروں نے تعجب سے پوچھا کیوں؟
سردار نے کہا میں مال کا چور ہوں لوگوں کے عقائد کا چور نہیں ہوں.
یعنی ان کا عقیدہ ہے دعاء قبول ہوگی اور میں عقیدے میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا
پچھلے زمانے کے چوروں کے اخلاق آج کل کے ڈاکٹروں وکیلوں ججوں سرکاری افسروں سے کئی زیادہ اچھے تھے
وہ مال چراتے تھے لوگوں کی امیدیں نہیں چراتے تھے
وہ مال چراتے تھے لوگوں کے عقیدے نہیں چراتے تھے
وہ مال چراتے تھے لوگوں کا ایمان نہیں چراتے تھے
وہ مال چراتے تھے لوگوں کے ارمان نہیں چراتے تھے
وہ مال چراتے تھے لوگوں کی عزت و شان نہیں چراتے تھے
❗ قابلِ غور بات ❗
پہلے زمانے کے چوروں کے اخلاق آج کے حکمرانوں سے اتنے اچھے تھے کہ علماء کرام نے باقاعدہ چوروں کے اخلاق پر کتابیں لکھیں ہیں
ان کے اخلاق میں سے تھا
بیوہ کی چوری نہیں کرنی
یتیم کی چوری نہیں کرنی
کل مال نہیں لینا آدھا لینا ہے
خواتین کی عزت کی حفاظت کرنی ہے
دینی طبقہ کی چوری نہیں کرنی وغیرہ
مگر آج کل سوٹڈ بوٹڈ چور چوری نہیں ہر غریب و فقیر پر ڈاکہ زنی کرتے ہیں
ان کا بنک بیلنس بھرنا چاہے خواہ غریب کا چولہا نہ جلے
اور بڑے چور سیاست دان ہیں جو غریب کے ارمان و خواب تک چرا لیتے ہیں
اور عوام احمق کہ پھر ان کے لیئے باہم گدھے کتوں کی طرح لڑتی ہے!

29/02/2024

*اچھرہ میں خاتون پر لگنے والے گستاخی کے الزام کے واقعے کے پیچھے چھپے کچھ حقائق*

حال ہی میں لاہور کے اچھرہ بازار میں ایک واقعہ پیش آیا جس کو بنیاد بنا کر مذہبی طبقے کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

آئیے اس واقعے کے حقائق ماضی کے کچھ ایسے ہی واقعات سے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

محترم قارئین!

2017 میں عبدالولی خان یونیورسٹی (AWKU) میں ایک واقعہ پیش آیا جو کچھ یوں تھا کہ یونیورسٹی کے ایک طالب علم مشال خان کو توہین رسالت کے الزام میں مذہبی نعرے لگاتے ایک مشتعل ہجوم نے قتل کر دیا اور اس کا الزام مذہبی طبقے پر لگا دیا گیا اور یوں مذہبی طبقے کو مذہبی جنونی اور مذہبی شدت پسندوں جیسے القابات سے نوازا گیا لیکن تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ مشال خان کا قتل مذہبی طبقے نے نہیں کیا بلکہ پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF) کے صدر صابر مایار اور عبدالولی خان یونیورسٹی کے ملازمین کے صدر اجمل کے مبینہ منصوبے کے تحت کیا گیا اور مشتعل ہجوم کا تعلق مذہبی طبقے سے نہیں تھا بلکہ عبد الولی خان یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس نے ایک ہجوم کی صورت میں مشال خان کو قتل کر کے مذہبی نعروں کا کاندھا استعمال کر کے یہ الزام مذہبی طبقے پر تھوپنے کی کوشش کی۔

اس کے بعد 2020 میں ایک اور واقعہ پیش آیا جو کچھ یوں تھا کہ خوشاب قائد آباد میں ایک احمد نواز نامی سیکیورٹی گارڈ نے مذہبی نعرے لگاتے ہوئے بینک منیجر عمران حنیف کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کر دیا اور اس کا مورد الزام مذہبی طبقے کو ٹھہرا دیا گیا اور ایک بار پھر مذہبی طبقے کو تنقید کا نشانہ بنا کر مذہبی جنونی اور مذہبی شدت پسندوں جیسے القابات سے نوازا گیا لیکن تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ بینک منیجر کے قاتل سیکیورٹی گارڈ نے سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت بینک منیجر کو قتل کیا اور پھر ایک پلانٹڈ ہجوم کو اکٹھا کر کے مذہبی نعروں کا کاندھا استعمال کر کے یہ الزام مذہبی طبقے پر تھوپنے کی کوشش کی۔

اس کے بعد 2021 میں ایک اور واقعہ پیش آیا جو کچھ یوں تھا کہ سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں ایک مشتعل ہجوم نے مذہبی نعرے لگاتے ہوئے فیکٹری منیجر سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو جلا دیا اور اس کا مورد الزام مذہبی طبقے کو ٹھہرا دیا گیا اور یوں مذہبی طبقے کو ایک بار پھر مذہبی جنونی اور مذہبی شدت پسندوں جیسے القابات سے نوازا گیا لیکن تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ فیکٹری منیجر کو قتل کرنے والا مذہبی طبقہ نہیں تھا بلکہ فیکٹری کے ملازمین تھے جنہوں نے سوچی سمجھی سازش کے تحت فیکٹری منیجر کو قتل کر کے ایک ہجوم بنا کر مذہبی نعرے لگانے شروع کر دیے تاکہ مذہبی نعروں کا کاندھا استعمال کر کے اس قتل کا الزام مذہبی طبقے پر تھوپ دیا جائے۔

اس کے بعد 2024 میں لاہور کے اچھرہ بازار کے ایک ہوٹل میں ایک خاتون نے عربی کیلی گرافی کے ڈیزائن کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا جس نے عوام کو تجسس میں ڈال دیا کہ آیا یہ قرآنی الفاظ ہیں یا کچھ اور ۔

عوام کا ہجوم اس بات کو گستاخی سے منسوب کر رہا تھا ۔اس موقع پر امن کمیٹی کے ذمہ داران اور پولیس کی بروقت کاروائی سے خاتون کو بحفاظت بازار سے نکالا گیا اور خاتون کو پولیس کی گاڑی میں بٹھا کر متعلقہ تھانے میں لے جایا گیا اور فوراً امن کمیٹی کے ممبر مذہبی تنظیمات سے وابستہ علماء کی مکمل تحقیق کے بعد خاتون کو ساتھ بٹھا کر ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ خاتون نے کسی قسم کی قرآن مجید کی گستاخی نہیں کی اور خاتون نے جو لباس زیب تن کیا ہوا ہے وہ صرف عربی کیلی گرافی کا ڈیزائن ہے نہ کہ قرآن مجید کی آیات ہیں۔

اس کے بعد ماضی کی طرح مذہبی طبقے کو شدید تنقید کا نشانہ بنا کر مذہبی جنونی اور مذہبی شدت پسندوں جیسے القابات سے نوازا جا رہا ہے لیکن حقائق کو نہیں دیکھا جا رہا کہ مذہبی افراد نے در حقیقت اس عورت کی حفاظت کی اور معاملات کو پر امن طریقے سے حل کیا۔

توہین مذہب جیسے گھناؤنے الزام اور مذہنی نعروں کا کاندھا استعمال کر کے مسلسل مذہبی طبقے کو بدنام کیا جا رہا ہے ۔ہو سکتا ہے کہ مزید بھی ایسے پلانٹڈ واقعات کروا کر توہین مذہب اور مذہبی نعروں کا کاندھا استعمال کر کے مذہبی طبقے کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ اگر حقیقت میں کہیں کوئی شخص توہین مذہب کا مرتکب ٹھہرے تو عوام اس کو نظر انداز کر دے
ان تمام واقعات کو کروانے کا مقصد یہ ہے کہ آئین پاکستان میں موجود توہین رسالت ، توہین مذہب ، توہین قرآن مجید اور قادیانیت جیسے فتنے پر پابندی کے قوانین کو ختم کر کے قادیانیت اور دیگر الحادی فتنوں کی راہ ہموار کی جائے اور مذہبی طبقہ اس کے خلاف احتجاج کرے تو ریاست اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے مذہبی طبقے کو کچل ڈالے لیکن عوام کے کانوں پر جوں تک نہ رینگے۔

*تھوڑا نہیں زیادہ سوچئے*

Address

Lalian

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mahad traders-Sayban zrai markaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mahad traders-Sayban zrai markaz:

Share