Al-Hasseeb Law and corporates associates

Al-Hasseeb Law and corporates associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Hasseeb Law and corporates associates, Chambers 35 Bashir Khan Block District Court Multan. , Office. 119Bilal Block Bodla Town Chowk Qazafi Multan, Multan.

We are All Citizen Of Pakistani Be aware about Constitution of Pakistan in which Fundamental right be discuss .So we will try to discuss Basic Law and Constitution for awarness .

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کا خواتین کے جائیدادوں میں وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے ملکی عدالتی تاریخ کا پہل...
18/06/2026

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کا خواتین کے جائیدادوں میں وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے ملکی عدالتی تاریخ کا پہلا اور شاندار فیصلہ۔۔۔۔۔

وفاقی آئینی عدالت نے بی بی امینہ وغیرہ کیس میں خواتین کے وراثتی تنازعات میں راضی نامہ /تحریری مفاہمت کیلئے 13سخت قانونی اصول جاری کر دیئے

آئندہ تمام ملکی عدالتیں، ریونیو حکام خواتین کے وراثتی تنازعات میں درج ذیل اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرینگے

پہلا حکم:تمام عدالتیں اورریونیو حکام خواتین کے وراثتی تنازعات کی دستاویزات پراعلی درجے کی احتیاط اور توجہ دیںگے

دوسرا حکم:کسی تحریری راضی نامہ والی دستاویز کی بنیاد پر انتقال وغیرہ (چاہے تصدیق شدہ ہی کیوں نہ ہو)تب تک درست تصور نہیں کیا جائیگا جب تک اس راضی نامہ کی رضامندی کا آزادانہ ثبوت نہ ہو اور راضی نامہ کے تمام اجزا بارے مکمل آگاہی نہ ہو۔

تیسرا حکم:وراثتی تنازعات میں خواتین کی تحریری مفاہمت /راضی نامہ کے آزادانہ ماحول میں ہونےکو ثابت کرنے کا بوجھ اس فریق پر ہوگا جو اس راضی نامے سے فائندہ لینے والا ہوگا۔

چوتھا حکم: تمام عدالتیں اس بات کو یقینی بنائیںگی کہ کیا ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ خواتین کے وراثتی تنازعات میں راضی نامہ یا وراثت سے دست برداری کی بابت کو خواتین کو مکمل آگاہی اور علم تھا۔

پانچواں حکم: یہ لازمی ثابت ہونا چاہیےکہ وراثتی تنازعات میں راضی نامہ لکھنے والی یا دستبرداری لکھنے والی خواتین کو تحریر سے قبل وراثتی حقوق اور تحریر کی بابت آزادانہ مکمل قانونی رہنمائی دستیاب تھی ۔

چھٹا حکم:وراثتی تنازعات کی مفاہمت کی جانچ پڑتال ایسے کی جائیگی کہ اس میں کسی قسم کا کوئی دبائو، سماجی برتری، فراڈ، غلط بیانی یا دبائو کا عنصر تو شامل نہیں تھا۔

ساتواں حکم:جہاں کہیں معاوضہ کا عنصر شامل ہو تو اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ یہ معاوضہ خواتین قانونی طریقے سے واقعی ہی ملا ہے اور معاوضہ مناسب اور حقیقی ہے کہ نہیں۔

آٹھواں حکم:جو بھی دستاویز لکھی جائیگی، اس دستاویز کے تمام عناصر یا اجزا عام فہم زبان بالخصوص اس زبان میں ہوگی جو خواتین کیلئے آسانی سے سمجھ آنے والی ہو۔

نواں حکم:عدالتی اس امر کی تصدیق کرینگی کہ راضی نامہ یا مفاہمت لکھنے والی خواتین کوجلد بازی یا دبائو کے بغیرمشاورت کا مناسب موقع فراہم کیا گیا ہے۔

دسواں حکم :ہر اس ٹرانزیکشن کو سختی سے مسترد کیا جائیگا جو شعوری نہ ہو، غیرمناسب ہو اور خاتون وارث کے حق متاثر کرتی ہے، تاوقت یہ کہ اس کیخلاف ٹھوس شہادت نہ آ جائے۔

گیارہواں حکم:خواتین کے وراثتی تنازع کے اردگرد کے تمام مشکوک حالات و اقعات کو فائدہ لینے والا قابل اطمینان وضاحت کرے گاورنہ وہ مشکوک حالات اور واقعات فائدہ لینے والے کیخلاف پڑھے جائیں گے۔

بارہواں حکم:خواتین کے وراثتی تنازعات میں انہیں وراثتی حقوق سے مفاہت کے ذریعے دستبربرداری کی بابت فیصلہ دینے سے پہلے عدالتیں لازمی طور پر خواتین کی رضامندی اور آگاہ شدہ آگاہی کی بابت اپنی مثبت فائنڈنگ ریکارڈ کرینگی۔

تیرہواں حکم: تمام ریونیو حکم وراثتی انتقالات درج کرنے سے پہلے آئینی عدالت کے ان12احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گی۔

اہم قانونی نکات 🫠1.معاہدہ بیع سے ملکیت نہیں بنتی: صرف معاہدہ بیع ہ (Agreement to Sell) کی بنیاد پر کوئی شخص حقداری (Titl...
17/06/2026

اہم قانونی نکات 🫠
1.معاہدہ بیع سے ملکیت نہیں بنتی: صرف معاہدہ بیع ہ (Agreement to Sell) کی بنیاد پر کوئی شخص حقداری (Title) یا قانونی حیثیت ثابت نہیں کر سکتا۔ ملکیت کے لیے منتقلی (Transfer) ضروری ہے۔ اگر فروخت کنندہ انکار کرے تو الگ سے مخصوص کارکردگی (Specific Performance) کا مقدمہ کیا جا سکتا ہے، محض حقیت کا مقدمہ حل نہیں ہے۔
· حوالہ: (2023 SCMR 815)
2. " (Stepping into Shoes) کا اصول: کوئی شخص اس سے بہتر ملکیت نہیں دیتا جو خود اس کے پاس ہو۔ اگر منتقل کنندہ (Transferor) خود مالک نہیں تھا تو منتقل الیہ (Transferee) بھی مالک نہیں بن سکتا۔ محض قبضہ اور وقت گزرنے سے ملکیت بہتر نہیں ہو جاتی۔
· حوالہ: (PLD 2008 SC 140)
3. حقیت کا مقدمہ صرف پہلے سے موجود حق کے لیے: قانون (سپاسیفک ریلیف ایکٹ 1877 کی دفعہ 42) کے تحت حقیت کا ڈیکری صرف اس حق کے لیے لیا جا سکتا ہے جو پہلے سے موجود ہو۔ نیا حق تخلیق نہیں کیا جا سکتا۔
· حوالہ: (2022 SCMR 348)
4. براہ راست معاہدے کا فقدان: درخواست گزار کا میونسپل کمیٹی (اصل مالک) سے کوئی براہ راست معاہدہ نہیں تھا، اس لیے مقدمہ قابلِ سماعت نہیں تھا

14/06/2026

کی ترامیم کے بعد اس قانون کے تحت مکمل طریقہ کار (Step by Step Process) درج ذیل ہے:
1۔ شکایت دائر کرنا (Section 7)
قانونی مالک (Lawful Owner) متعلقہ ضلع کے Punjab Property Tribunal میں شکایت دائر کرے گا۔
شکایت کے ساتھ:
جائیداد کی مکمل تفصیل
قبضہ یا جرم کے حقائق
ملکیت کے کاغذات
ملزم/قابض کی تفصیلات
منسلک کی جائیں گی۔ �
Qanooni Dastak +1
2۔ ٹربیونل کا سکروٹنی کمیٹی کو ریفرنس (Section 7(3))
شکایت وصول ہونے کے 3 دن کے اندر ٹربیونل مقدمہ سکروٹنی کمیٹی کو بھیجے گا۔ �
Qanooni Dastak +1
3۔ سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی (Section 8)
کمیٹی میں شامل ہوں گے:
Deputy Commissioner
DPO
ADC Revenue
AC
SDPO
Circle Revenue Officer
SHO
کمیٹی:
✔ ریکارڈ چیک کرے گی۔
✔ فریقین کو سنے گی۔
✔ بیانات ریکارڈ کرے گی۔
✔ سرکاری ریکارڈ طلب کرے گی۔
✔ صلح کی کوشش کرے گی۔ �
Qanooni Dastak +1
4۔ کمیٹی کی رپورٹ (Section 8(4))
کمیٹی 30 دن کے اندر اپنی رپورٹ اور ریکارڈ ٹربیونل کو جمع کروائے گی۔ �
Qanooni Dastak +1
5۔ اگر صلح ہو جائے (Section 8(5))
اگر فریقین میں سمجھوتہ ہو جائے:
تحریری صلح نامہ تیار ہوگا۔
ٹربیونل منظوری دے گا۔
فیصلہ اور ڈگری جاری ہوگی۔
قبضہ مالک کو واپس دلایا جا سکتا ہے۔
6۔ عبوری حکم (Section 10)
کیس کے دوران ٹربیونل:
Status quo
قبضہ برقرار رکھنے
قبضہ تبدیل کرنے
پولیس مدد
کے احکامات دے سکتا ہے۔
7۔ ٹربیونل میں باقاعدہ ٹرائل (Section 16)
رپورٹ آنے کے بعد ٹربیونل:
مقدمہ چلے گا۔
گواہان پیش ہوں گے۔
جرح ہوگی۔
دستاویزات ثابت ہوں گی۔
اہم بات:
اب ٹربیونل صرف قبضہ نہیں بلکہ Title اور Ownership کا فیصلہ بھی کرے گا۔ �
Qanooni Dastak +1
8۔ گرفتاری کا اختیار (Section 16(9))
کسی بھی مرحلے پر ٹربیونل:
ملزم کی گرفتاری کا حکم دے سکتا ہے۔
پولیس اس پر عمل کرے گی۔
9۔ ضمانت (Section 16(10))
گرفتاری کے بعد:
ماتحت عدالت
سیشن عدالت
ٹربیونل
ضمانت نہیں دے سکتے۔
صرف لاہور ہائی کورٹ ضمانت دے سکتی ہے۔
10۔ روزانہ سماعت (Section 16(6))
روزانہ بنیاد پر کیس چلے گا۔
غیر ضروری التواء نہیں ہوگا۔
ایک التواء 7 دن سے زیادہ نہیں ہوگی۔
11۔ حتمی فیصلہ (Section 16)
ٹربیونل فیصلہ کرے گا:
اگر قبضہ ثابت ہو جائے:
5 تا 10 سال قید
1 کروڑ تک جرمانہ
معاوضہ
منافع کی واپسی
اگر شکایت جھوٹی ہو:
1 تا 5 سال قید
5 لاکھ تک جرمانہ
12۔ قبضہ کی واپسی (Section 18)
فیصلہ کے بعد:
SHO
پولیس
سرکاری ادارے
مالک کو قبضہ واپس دلائیں گے۔
13۔ اپیل (Section 19)
صرف حتمی فیصلہ یا ڈگری کے خلاف:
30 دن کے اندر
لاہور ہائی کورٹ میں اپیل
ہو سکتی ہے۔
اہم:
عبوری احکامات (Interim Orders) کے خلاف:
نہ اپیل
نہ ریویژن
قابلِ سماعت ہوگی۔
خلاصہ
شکایت → 3 دن میں کمیٹی → 30 دن میں رپورٹ → ٹربیونل ٹرائل → گرفتاری/عبوری حکم → 30 دن میں فیصلہ → قبضہ واپسی → لاہور ہائی کورٹ اپیل

1. باقاعدہ انکوائری (Regular Inquiry) کے بغیر برطرفی غیر قانونی قرار عدالت نے قرار دیا کہ جب الزامات متنازعہ حقائق (disp...
09/06/2026

1. باقاعدہ انکوائری (Regular Inquiry) کے بغیر برطرفی غیر قانونی قرار عدالت نے قرار دیا کہ جب الزامات متنازعہ حقائق (disputed questions of fact) پر مبنی ہوں اور ان کے تعین کے لیے شہادت، جرح اور دفاع کا موقع درکار ہو تو باقاعدہ انکوائری ناگزیر ہوتی ہے۔

2. انکوائری ختم کرنے کی وجوہات تحریری طور پر دینا ضروری PEEDA Act, 2006 کی دفعہ 5(b)(ii) کے تحت انکوائری صرف اسی صورت میں ختم کی جا سکتی ہے جب مجاز اتھارٹی معقول اور تحریری وجوہات ریکارڈ کرے۔ محض اختیار کا استعمال کافی نہیں۔

3. ابتدائی (Fact-Finding) انکوائری، Regular Inquiry کا متبادل نہیں عدالت نے قرار دیا کہ داخلی یا ابتدائی انکوائری صرف الزامات کی ابتدائی جانچ کے لیے ہوتی ہے، اسے قانونی تقاضوں کے مطابق ہونے والی باقاعدہ انکوائری کا نعم البدل نہیں بنایا جا سکتا۔

4. شوکاز نوٹس میں صرف Minor Penalties تجویز کی گئی تھیں ملازم کو صرف معمولی سزاؤں (Minor Penalties) سے متعلق نوٹس دیا گیا تھا، لیکن بعد میں بغیر پیشگی اطلاع کے Dismissal from Service جیسی بڑی سزا (Major Penalty) دے دی گئی۔

5. بڑی سزا دینے سے قبل واضح نوٹس ضروری اگر اتھارٹی بڑی سزا دینا چاہتی ہے تو ملازم کو اس مجوزہ سزا سے واضح طور پر آگاہ کرنا لازم ہے تاکہ وہ مؤثر دفاع پیش کر سکے۔ ایسا نہ کرنا اصولِ انصاف (Natural Justice) کے خلاف ہے۔

6. اپیلیٹ اتھارٹی کی خامی اپیلیٹ اتھارٹی نے ان بنیادی قانونی نقائص کا جائزہ نہیں لیا، اس لیے اس کے احکامات بھی برقرار نہیں رہ سکتے۔

فیصلہ

برطرفی کا حکم اور بعد کے تمام اپیلیٹ احکامات کالعدم قرار دے دیے گئے۔

درخواست گزار کو ملازمت پر بحال (Reinstated) کرنے کا حکم دیا گیا۔

بیک بینیفٹس (Back Benefits) کے بارے میں متعلقہ اتھارٹی قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔

محکمہ کو ضرورت پڑنے پر de novo proceedings (ازسرِنو کارروائی) شروع کرنے کی اجازت دی گئی۔

19/05/2026

PLD 2026 SC 177
سپریم کورٹ پاکستان کے پانچ رکنی لارجر بینچ کا ایک اہم فیصلہ

ضابطۂ دیوانی (Code of Civil Procedure) کے آرڈر XXIII رول 1 کے تحت دعویٰ واپس لینے (Withdrawal of Suit) کے معاملے کی تشریح کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے قرار دیا:

(الف) دعویٰ واپس لینے کا یکطرفہ حق

مدعی کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ عدالت سے اجازت لیے بغیر اپنا دعویٰ، یا اس کے کسی حصے کو، واپس لے یا ترک کر دے۔ تاہم، جب کوئی دعویٰ یا اس کا کوئی حصہ واپس لے لیا جائے یا ترک کر دیا جائے تو اسی سببِ دعویٰ (Cause of Action) پر نیا دعویٰ دائر کرنا ممنوع ہوگا۔

عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ مدعی ایک طرف دعویٰ واپس لے اور دوسری طرف اسی سببِ دعویٰ پر نیا مقدمہ دائر کرنے کا حق محفوظ رکھے، ایسا ممکن نہیں۔ اسی طرح مدعا علیہ بھی مدعی کو مقدمہ جاری رکھنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔

(ب) آرڈر XXIII رول 1(2) CPC کے تحت استثنا

آرڈر XXIII رول 1(2) CPC کے تحت عدالت بعض غیر معمولی حالات میں مدعی کو یہ اجازت دے سکتی ہے کہ وہ دعویٰ واپس لے کر اسی سببِ دعویٰ پر نیا دعویٰ دائر کرے۔ ایسی اجازت مدعی کو آرڈر II رول 2 CPC اور دفعہ 11 CPC (اصولِ سابقہ فیصلہ / Res Judicata) کے نتائج سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

عدالت نے زور دے کر کہا کہ آرڈر XXIII رول 1 CPC، عمومی اصولِ عدمِ سماعت (Principle of Non-Suit) سے ایک استثنا ہے۔

رول 1(1) کے تحت دعویٰ واپس لینا مدعی کا یکطرفہ حق ہے، جبکہ رول 1(2) کے تحت نیا دعویٰ دائر کرنے کی اجازت ایک خصوصی رعایت (Special Concession) ہے، جس کے لیے مضبوط اور قوی وجوہات کا ہونا ضروری ہے۔

اجازت دینے کے لیے عدالتی معیار

رول 1(2) کے تحت اجازت دینے سے قبل عدالت پر لازم ہے کہ وہ بغور جائزہ لے کہ آیا:

دعویٰ کسی رسمی یا قانونی نقص (Formal or Legal Defect) کی وجہ سے لازماً ناکام ہو جائے گا؛ یا

ایسے کافی اور مضبوط اسباب موجود ہیں جو نئے دعویٰ کے قیام کو جائز قرار دیتے ہوں۔

اپیلیٹ مرحلے پر دعویٰ واپس لینا

سپریم کورٹ نے خبردار کیا کہ اپیل یا دوسری اپیل کے مرحلے پر دعویٰ واپس لینے کی اجازت دیتے وقت عدالتوں کو زیادہ احتیاط اور چوکسی سے کام لینا چاہیے، کیونکہ:

اس سے ناکام فریق کو منفی عدالتی نتائج سے بچنے کا موقع مل سکتا ہے؛

اس سے مدعا علیہ اُن فوائد سے محروم ہو سکتا ہے جو اسے سابقہ فیصلوں کے ذریعے حاصل ہو چکے ہوں؛

اس سے تیسرے فریقوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں؛ اور

پہلے سے موجود عدالتی مقدمات کے بوجھ کے تناظر میں یہ عدالتی وقت اور وسائل کے غیر ضروری ضیاع کا سبب بنتا ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ جہاں دعویٰ واپس لینے کے ساتھ نیا دعویٰ دائر کرنے کی اجازت دی جائے، وہاں قانونی طور پر فریقین کو اسی حالت میں تصور کیا جائے گا جیسے اصل دعویٰ کبھی دائر ہی نہ کیا گیا ہو۔

درخواست میں ترمیم (آرڈر VI رول 17 CPC)

عدالت نے مزید وضاحت کی کہ:

ایسی ترامیم قابلِ اجازت نہیں ہوں گی جو اصل دعویٰ کی نوعیت یا بنیاد کو تبدیل کر دیں؛

اسی طرح تحریری جواب (Written Statement) میں ایسی ترامیم بھی منظور نہیں کی جا سکتیں جو دفاع کے پورے ڈھانچے کو مکمل طور پر بدل دیں۔

PLD 2026 SC 177

A Significant Judgment by a Five-Member Larger Bench of the Supreme Court of Pakistan

While interpreting Order XXIII Rule 1 of the Code of Civil Procedure (CPC) concerning withdrawal of suits, the Supreme Court held:

(A) Unilateral Right to Withdraw a Suit

A plaintiff possesses the fundamental right to withdraw a suit, or abandon any part thereof, without seeking the court’s permission. However, once a suit or any portion of it is withdrawn or abandoned, a fresh suit on the same cause of action is barred.

The Court clarified that a plaintiff cannot withdraw a suit while simultaneously reserving the right to institute a fresh suit on the same cause of action. Likewise, a defendant cannot compel the plaintiff to continue litigation.

(B) Exception under Order XXIII Rule 1(2) CPC

Under Order XXIII Rule 1(2) CPC, the court may, in certain exceptional circumstances, grant permission to withdraw a suit with liberty to file a fresh suit on the same cause of action. Such permission protects the plaintiff from the consequences of Order II Rule 2 CPC and Section 11 CPC (Res Judicata).

The Court emphasized that Order XXIII Rule 1 CPC constitutes an exception to the general principle of non-suit.

Withdrawal under Rule 1(1) is a unilateral right, whereas permission under Rule 1(2) to file a fresh suit is a special concession, which requires strong and compelling reasons.

Judicial Test for Grant of Permission

Before granting permission under Rule 1(2), the court must carefully examine whether:

The suit is bound to fail due to a formal or legal defect; or

Sufficient and compelling grounds exist justifying the institution of a fresh suit.

Withdrawal at Appellate Stage

The Supreme Court cautioned that courts must exercise greater vigilance when allowing withdrawal at the appellate or second appellate stage because:

It may enable an unsuccessful party to evade adverse findings;

It may deprive the defendant of accrued benefits from prior judgments;

It may adversely affect rights of third parties; and

It leads to unnecessary wastage of judicial time and resources, especially in view of heavy case backlogs.

Where permission is granted to withdraw with liberty to file a fresh suit, the parties are legally placed in the same position as if the original suit had never been filed.

Amendment of Pleadings (Order VI Rule 17 CPC)

The Court further clarified:

Amendments that change the nature or foundation of the original suit are not permissible.

Similarly, amendments in the written statement that completely alter the structure of the defence cannot be allowed.


لاہور ہائی کورٹ نے دیوانی مقدمہ میں ماتحت دونوں عدالتوں کے فیصلوں Concurrent Findings کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سائلین کے...
18/05/2026

لاہور ہائی کورٹ نے دیوانی مقدمہ میں ماتحت دونوں عدالتوں کے فیصلوں Concurrent Findings کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سائلین کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

ذیل میں ماتحت عدالتوں کا موقف اور ہائی کورٹ کی طرف سے اس کی تردید (Rebuttal) کی تفصیل دی جا رہی ہے:

کیس کے بنیادی حقائق Brief Facts درج ذیل ہیں:

​۱۔ متنازع جائیداد اور اس کی اصل ملکیت
​جائیداد کی تفصیل: تنازع کی بنیاد 02 کنال 14 مرلہ اراضی تھی، جو موضع بنسریاں، تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات میں واقع ہے۔
​اصل مالکان: یہ زمین بنیادی طور پر مدعا علیہان نمبر 2 اور 3 (Respondents No. 2 & 3) کی ملکیت تھی۔

​۲۔ مدعی (منور حسین) کا موقف اور دعویٰ
​مدعی (منور حسین/Respondent No.1) نے سول کورٹ میں استقرارِ حق (Suit for Declaration) کا دعویٰ دائر کیا، جس میں اس نے درج ذیل بنیادی باتیں موقف کے طور پر اپنائیں:

​زبانی خرید و فروخت کا دعویٰ:
مدعی کا کہنا تھا کہ اس نے یہ پوری 02 کنال 14 مرلہ زمین اصل مالکان سے ایک "زبانی سودے" کے تحت خریدی تھی۔

​رقم کی ادائیگی اور قبضہ:
مدعی نے موقف اختیار کیا کہ اس نے سودے کی پوری رقم (Sale Consideration) ادا کر دی تھی، جس کے بعد زمین کا قبضہ اسے سونپ دیا گیا تھا۔ قبضہ ملنے کے بعد اس نے زمین پر چاردیواری اور ایک کمرہ تعمیر کیا، اور وہاں بجلی کا میٹر اور واٹر پمپ بھی لگوایا۔
​انتقالِ اراضی میں رکاوٹ: مدعی کے مطابق، کل رقبے میں سے 13 مرلہ زمین کا انتقال (Mutation) اس وقت منظور نہیں ہو سکا تھا، کیونکہ اصل مالکان میں سے کچھ وہاں موجود نہیں تھے۔

​مبینہ فراڈ کا الزام:
مدعی نے الزام لگایا کہ مدعا علیہ نمبر 4 (بشیر احمد)، جو کہ اصل مالکان کا مبینہ مختارِ عام (Attorney) تھا، نے سائلین کے مورثِ اعلیٰ (سردار خان) کے ساتھ ساز باز اور ملی بھگت کی۔ اس نے مدعی کے حقوق کو نقصان پہنچانے کے لیے اسی 13 مرلہ زمین کا تبادلہ (Exchange) سردار خان کے نام کر دیا، جس کا باقاعدہ انتقال ریونیو ریکارڈ میں انتقال نمبر 3264 اور 3265 (مورخہ 27.07.2004) کے ذریعے درج کروا دیا گیا۔

​ریلیف کی استدعا:
مدعی نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ زمین کا مالک قابض ہے، اس لیے سردار خان کے نام ہونے والے تبادلے کے ان دونوں انتقالات کو فراڈ، غیر قانونی اور کالعدم (Void) قرار دے کر منسوخ کیا جائے۔

​۳۔ سائلین (سردار خان کے ورثاء) کا جوابِ دعویٰ
​سردار خان (جو دورانِ مقدمہ وفات پا گئے اور ان کے قانونی ورثاء/Petitioners کیس کا حصہ بنے) نے مدعی کے دعوے کو سخت چیلنج کیا اور درج ذیل حقائق سامنے لائے:
​قانونی منتقلی کا تحفظ: سائلین کا موقف تھا کہ متنازع 13 مرلہ زمین اصل مالکان نے باقاعدہ قانونی طریقے سے، منظور شدہ سرکاری انتقالات (تبادلہ) کے ذریعے سردار خان کو منتقل کی تھی۔ چونکہ یہ سرکاری ریونیو ریکارڈ کا حصہ ہے، اس لیے قانوناً اسے سچا تسلیم کیا جانا چاہیے۔

​زبانی معاہدے کی تردید:
انہوں نے مدعی کے زبانی سودے اور رقم کی ادائیگی کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی سودا کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔

​اختیارِ سماعت کا فقدان (Lack of Lawful Authority): سائلین نے یہ اہم نکتہ اٹھایا کہ جس وقت مدعی اصل مالکان کے مبینہ مختار (بشیر احمد) کے ساتھ زبانی سودے کا دعویٰ کر رہا ہے، اس وقت بشیر احمد کے پاس اصل مالکان کی طرف سے زمین بیچنے کا کوئی قانونی مختارنامہ (Power of Attorney) موجود ہی نہیں تھا۔ لہٰذا، ایک ایسا شخص جس کے پاس کوئی قانونی اختیار نہ ہو، وہ کسی دوسرے کو زمین کیسے بیچ سکتا ہے؟

​ناقص دعویٰ:
سائلین نے اعتراض اٹھایا کہ مدعی نے اپنے دعوے میں زبانی سودے کی ضروری تفصیلات (جیسے سودے کی تاریخ، وقت، جگہ، طے شدہ رقم اور گواہوں کے نام) کا کوئی ذکر نہیں کیا، جو کہ قانون کی نظر میں لازمی ہے۔

​۴۔ تنازع کا نچوڑ
​مختصر یہ کہ کیس کا بنیادی تنازع ایک طرف مدعی کے مبینہ زبانی سودے، بلا اختیار مختارِ عام سے لین دین اور زمین پر مادی قبضے کے گرد گھوم رہا تھا، جبکہ دوسری طرف سائلین کے حق میں ریونیو ریکارڈ میں درج باقاعدہ سرکاری انتقالات (Mutations) موجود تھے، جنہیں ہائی کورٹ نے آخر کار قانون کے مطابق درست اور بحال تسلیم کیا۔

5۔ ماتحت عدالتوں (Trial Court & Appellate Court) کے فیصلوں کی وجوہات

سول جج فرسٹ کلاس کھاریاں نے (15.12.2008) کو مدعی کے حق میں ڈگری جاری کی، اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کھاریاں نے (22.06.2010) کو اس فیصلے کے خلاف اپیل خارج کر دی۔ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کی بنیادی وجوہات درج ذیل تھیں:

گواہ (DW-1) کے بیان پر انحصار:
ٹرائل کورٹ نے بشیر احمد (DW-1) کے بیان کے کچھ حصوں پر انحصار کیا جس میں اس نے رقم کی وصولی اور مدعی کے قبضے کا تذکرہ کیا تھا۔

بارِ ثبوت کی منتقلی (Shifting of Burden of Proof): ماتحت عدالتوں نے یہ سمجھا کہ چونکہ مدعی زمین پر قابض ہے اور ریونیو انتقالات کو چیلنج کر رہا ہے، اس لیے اب یہ سائلین (Defendants) کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے انتقالات کی قانونی حیثیت اور شفافیت کو ثابت کریں۔

دعویٰ کی نوعیت:
عدالتوں نے مدعی کے دعوٰی برائے استقرارِ حق (Suit for Declaration) کو ہی تسلیم کر کے انتقالات کو منسوخ کر دیا۔

۳۔ ہائی کورٹ کی طرف سے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کی تردید (Rebuttal by High Court)
لاہور ہائی کورٹ نے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو قانون اور شہادتوں کی غلط تشریح (Misreading and Non-reading of Evidence) قرار دے کر مسترد کر دیا، جس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

الف۔ زبانی معاہدے میں ضروری تفصیلات کا غائب ہونا (Defective Pleadings)
ماتحت عدالتوں کی غلطی: نیچے کی عدالتوں نے اس بات کو نظر انداز کیا کہ مدعی کا پورا کیس ایک مبینہ "زبانی معاہدے" پر قائم تھا۔

ہائی کورٹ کا اصول:
قانون (Order VI Rules 2 & 4 CPC) کے تحت اگر کوئی دعویٰ زبانی سودے پر مبنی ہو، تو اس میں سودے کی تاریخ، وقت، جگہ، گواہان کے نام اور طے شدہ رقم کی تفصیلی وضاحت لازمی ہے۔ مدعی کے دعوے (Plaint) میں یہ بنیادی تفصیلات مکمل طور پر غائب تھیں، جو کہ کیس کے لیے مہلک (Fatal) ہے۔

ب۔ مختارِ عام کے پاس قانونی اختیار کا نہ ہونا (Lack of Lawful Authority)
ماتحت عدالتوں کی غلطی: نیچے کی عدالتوں نے بشیر احمد کے بیان کو ادھورا پڑھا۔
ہائی کورٹ کا اصول: ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ جس وقت بشیر احمد نے مدعی کے ساتھ مبینہ زبانی سودا کیا، اس وقت اس کے پاس اصل مالکان کی طرف سے کوئی "مختارنامہ" (Power of Attorney) موجود ہی نہیں تھا۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ قانون کا مسلمہ اصول ہے: "کوئی بھی شخص اپنی ملکیت اور اختیار سے بڑھ کر کسی کو حقوق منتقل نہیں کر سکتا"۔ بعد میں (سنہ 2004 میں) ملنے والا مختارنامہ ماضی کے کسی مبینہ زبانی سودے کو قانونی تحفظ نہیں دے سکتا۔

ج۔ بارِ ثبوت کا غلط منتقل کیا جانا (Wrong Burden of Proof)
ماتحت عدالتوں کی غلطی: عدالتوں نے بارِ ثبوت غلط طور پر مدعا علیہان (Petitioners) پر ڈال دیا کہ وہ اپنے انتقالات کو سچا ثابت کریں۔
ہائی کورٹ کا اصول: قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 117 اور 118 کے تحت، جو شخص عدالت سے ریلیف مانگتا ہے اور کسی معاہدے کا دعویٰ کرتا ہے، اسے ہی سب سے پہلے اپنا کیس ثابت کرنا ہوتا ہے۔ مدعی زبانی معاہدے کو ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہا، اس لیے سائلین پر یہ ذمہ داری عائد ہی نہیں ہوتی تھی کہ وہ اس کے جھوٹے دعوے کو غلط ثابت کرتے۔

د۔ ریونیو ریکارڈ کو قانونی تحفظ (Presumption of Correctness)
ماتحت عدالتوں کی غلطی: نیچے کی عدالتوں نے سائلین کے حق میں منظور شدہ سرکاری انتقالات (Mutation Nos. 3264 & 3265) کو بلاوجہ منسوخ کیا۔
ہائی کورٹ کا اصول: سرکاری ریونیو ریکارڈ میں درج انتقالات کے ساتھ قانوناً سچائی کا گمان وابستہ ہوتا ہے۔ جب تک مدعی انتہائی ٹھوس، ناقابلِ تردید اور مضبوط شہادتوں کے ذریعے اسے جھوٹا ثابت نہ کر دے (جو وہ نہیں کر سکا)، محض قبضے یا مبہم باتوں کی بنیاد پر سرکاری ریکارڈ منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔

ہ۔ دعوے کی نوعیت میں تضاد (Suit for Specific Performance vs. Declaration)
ہائی کورٹ کا اصول: مدعی کا مناسب علاج زبانی معاہدے کی تکمیلِ تعمیل (Suit for Specific Performance) کا دعویٰ دائر کرنا تھا، نہ کہ استقرارِ حق (Declaration) کا۔ ماتحت عدالتیں دعوے کی اس بنیادی اور فاؤنڈیشنل خامی کو خود سے درست کر کے کیس ازسرِنو تیار نہیں کر سکتی تھیں۔

6۔ ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ (Final Outcome)
لاہور ہائی کورٹ نے ان تمام قانونی نکات کی روشنی میں قرار دیا کہ:
ماتحت عدالتوں کے فیصلے قانون کی نظر میں پائیدار نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے شہادتوں کو پڑھنے میں سنگین غلطیاں کیں اور طے شدہ قانونی اصولوں کا غلط اطلاق کیا۔
یہ سول ریوائزن (Civil Revision) منظور (Allowed) کی جاتی ہے۔
ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلوں اور ڈگریوں کو کالعدم (Set Aside) قرار دیا جاتا ہے۔
مدعی (منور حسین) کا دعویٰ خارج (Dismissed) کیا جاتا ہے۔
سائلین کے حق میں کیے گئے تبادلے کے انتقالات نمبر 3264 اور 3265 بحال (Restored) کیے جاتے ہیں۔
اس فیصلے کو "Approved for Reporting" (نظیر کے طور پر شائع کرنے کی منظوری) قرار دیا گیا۔

“لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ تاریخی فیصلے کے مطابق اوورسیز پاکستانی ایکٹ کا دائرہ کار صرف جائیداد پر قبضہ کے معاملات تک محد...
15/05/2026

“لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ تاریخی فیصلے کے مطابق اوورسیز پاکستانی ایکٹ کا دائرہ کار صرف جائیداد پر قبضہ کے معاملات تک محدود نہیں، بلکہ اوورسیز پاکستانیوں کے ہر جائز اور قانونی حق کے تحفظ کے لیے مقدمات اوورسیز پاکستانی اسپیشل کورٹ میں قابلِ سماعت ہوں گے۔”

صرف جیل جانا نوکری ختم ہونے کی وجہ نہیں بن سکتا — سپریم کورٹ نے بڑا اصول طے کر دیا!سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک نہایت اہ...
04/05/2026

صرف جیل جانا نوکری ختم ہونے کی وجہ نہیں بن سکتا — سپریم کورٹ نے بڑا اصول طے کر دیا!
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک نہایت اہم فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہر قسم کی قید کو “جرم کی سزا” نہیں سمجھا جا سکتا، خاص طور پر جب قید کسی سول معاملے کی وجہ سے ہو۔

عدالت کے سامنے ایک ایسے پولیس ملازم کا معاملہ آیا جسے سول کیس میں قید ہونے پر نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ محکمہ کا مؤقف تھا کہ جیل جانا ملازمت کے لیے نامناسب عمل ہے، جبکہ ملازم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ کوئی فوجداری سزا نہیں بلکہ سول ڈگری پر عملدرآمد (Ex*****on Proceedings) کا حصہ تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سول قید اور فوجداری سزا میں بڑا فرق ہے۔ اگر کسی شخص کو قرض، ڈگری یا کسی سول معاملے میں قانونی کارروائی کے تحت جیل بھیجا جائے تو اسے “مجرم” قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس بنیاد پر سرکاری ملازم کو نوکری سے نکالنا قانون کے مطابق نہیں۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ محکمانہ کارروائی میں متعلقہ قانون، قواعد اور الزامات کی واضح بنیاد دینا ضروری ہے، ورنہ ایسی کارروائی مشکوک اور غیر قانونی سمجھی جا سکتی ہے۔

یہ فیصلہ خاص طور پر سرکاری ملازمین کے لیے اہم ہے کیونکہ اب محکمے صرف سول قید کو بنیاد بنا کر کسی ملازم کو ملازمت سے فارغ نہیں کر سکیں گے۔

یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ ہر جیل جانا جرم نہیں ہوتا، اور کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف کارروائی قانون کے دائرے میں رہ کر ہی کی جا سکتی ہے۔

شناخت سے محرومی ختم — پشاور ہائی کورٹ کا جراتمندانہ فیصلہ، نادرا کو خاتون کا CNIC جاری کرنے کا حکم! پشاور ہائی کورٹ نے ا...
01/05/2026

شناخت سے محرومی ختم — پشاور ہائی کورٹ کا جراتمندانہ فیصلہ، نادرا کو خاتون کا CNIC جاری کرنے کا حکم!

پشاور ہائی کورٹ نے ایک مظلوم خاتون کے حق میں نہایت اصولی اور قانون کے مطابق فیصلہ صادر فرمایا۔

درخواست گزار ایک شادی شدہ خاتون تھیں جن کے والد کا شناختی کارڈ ریکارڈ پر موجود تھا، والد کی وفات ہو چکی تھی اور باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی فراہم کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ خاتون کے پاس مستند برتھ سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا۔ اس کے باوجود نادرا حکام نہ صرف ان کی درخواست وصول کرنے سے گریزاں تھے بلکہ شناختی کارڈ کے حصول کے لیے ٹوکن جاری کرنے سے بھی مسلسل انکار کر رہے تھے، جو کہ بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

معزز عدالت عالیہ نے ریکارڈ کا مکمل جائزہ لینے کے بعد نادرا کو واضح ہدایات جاری کیں کہ درخواست گزار کی درخواست فوری طور پر پراسیس کی جائے اور انہیں شناختی کارڈ کے اجرا کے لیے ٹوکن فراہم کیا جائے۔

یہ فیصلہ نہ صرف ایک فرد کی کامیابی ہے بلکہ ان تمام شہریوں کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے جو نادرا یا دیگر اداروں کی غیر ضروری رکاوٹوں کا شکار ہوتے ہیں۔ قانون اور عدالت ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو بھی اسی نوعیت کا مسئلہ درپیش ہے تو قانونی چارہ جوئی آپ کا حق ہے۔

30/04/2026

Address

Chambers 35 Bashir Khan Block District Court Multan. , Office. 119Bilal Block Bodla Town Chowk Qazafi Multan
Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Hasseeb Law and corporates associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share