Zee Kaay

Zee Kaay Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zee Kaay, Professional Service, 5, Multan.

20/11/2023

رات ہم سردی کی کھوج میں چھت پر کھڑے دور بین سے چاروں طرف نظر دوڑا رہے تھے کہ ہمارے کانوں سے آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کی آواز ٹکرائی ۔۔۔۔۔۔

"ہڈیاں توڑنے میں وہ مزا کہاں جو ایک کروڑ تیس لاکھ تماشائیوں کو چپ کروانے میں ہے "

ہم اس آواز کے منبع ، مطلب ٹی لاونج میں بھاگ کر اس آس پر پہنچ گئے کہ آسڑیلیا کی جیت پر عرفان پٹھان کا پیٹ کمنز کے ساتھ والہانہ ڈانس دیکھنے کو ملے گا لیکن اسکرین پر تو سائلنٹ موڈ پر لگے ماتمی شکلوں والے حاضرین اسٹیڈیم ہی نظر آرہے تھے ۔۔۔۔۔

ہم سوچ میں پڑ گئے کہ ۔۔۔۔۔

اسکرپٹ رائٹر کے مطابق تو انڈیا کی فتح یقینی تھی پر آخر ایسا کیا ہوا کہ

"وقت بدل گیا حالات بدل گئے "

تحقیقات پر معلوم ہوا کہ آسٹریلوی کپتان نے سب سے پہلے تو انڈین رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لیے فائنل سے ایک دن قبل گراؤنڈ میں جاکر انڈین کپتان کی منتخب کردہ پچ کی تصویر بنانے کے ساتھ ساتھ گراؤنڈ اسٹاف کو کان پکڑوا کر واضح الفاظ میں وارننگ بھی دی تھی کہ کل فائنل میں یہی وکٹ ہونی چاہیے ورنہ

"میں تہاڈے ٹبر کھا جاواں گا تے ڈکار وی نہیں لوواں گا "

گراؤنڈ اسٹاف کی طرف سے رحم کی اپیل پر وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا

"جب میں ایک بار کمٹمنٹ کرلیتا ہوں تو پھر اپنے آپ کی بھی نہیں سنتا "

اس نے صرف اتنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عرفان پٹھان کو نگرانی پلس جیت رقص کے لیے پانچ سو ایڈوانس دے کر ایک چارپائی سمیت پوری رات وکٹ کے پاس بٹھا دیا ۔۔۔۔۔۔

گراؤنڈ سٹاف سے فارغ ہو کر وہ میچ ریفری کے پاس پہنچا اور اسے بھی چتاونی دی کہ ٹاس کا سکہ وکٹ پر ہم دونوں کپتانوں کے قریب گرنا چاہیے انڈیا کے پہلے دس میچوں کی طرح ایسا نہ ہو کہ 25 گز کے دائرے سے باہر سکہ پھینک کر واپسی پر بیشرمی سے انڈیا کے ٹاس جیتنے کا اعلان کردو ۔۔۔۔۔اور ہاں

"اگر کسی قسم کی فنکاری دکھائی تو میں تجھے ایسی جگہ لے جا کر ماروں گا جہاں تجھے نہ پانی ملے گا نا آکسیجن "

یہ کہہ کر واپس چلا اور چند قدم چلنے کے بعد رک کر بولا

"جو میں کہتا ہوں وہ میں کرتا ہوں اور جو نہیں کہتا وہ ڈیفینٹلی کرتا ہوں "

انہی حفاظتی اقدامات کی وجہ سے آسٹریلوی ٹیم نے انڈیا کو اتنا دھویا جتنا دھویا جاسکتا تھا

کیا سوا لاکھ تماشائیوں کے سامنے اس سے زیادہ دھویا جاسکتا تھا ۔۔۔۔؟؟؟؟؟

#بیبرس

16/08/2023

یوم آزادی مبارک

یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے

اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر ذرہ آفتاب تم سے ہے
یہ فضا تمہاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں
کہکشاں کے یہ جالے، رہ گزر تمہارے ہیں۔۔۔۔۔

شاعر ....مسرور انور
نغمہ سرائی ...زی کے

20/05/2023

اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
مجھ کو بھی محمد کا دیوانہ بنا جانا

جس خواب میں ہوجائے دیدارِ نبی حاصل
اے عشق کبھی مجھ کو نیند ایسی سُلا جانا

ریاض الدین سہروردی

28/04/2023

اٹھائیس اپریل دو ہزار تیئیس دوپہر ایک بجکر انسٹھ منٹ کا ذکر ہے جب آسمان پر مکمل آب و تاب سے چمکتے سورج کی ناقابل برداشت تپش ایڑی سے چوٹی تک پسینہ نکالتے ہوئے ابرآلود سرد موسم کی افادیت میں اضافہ کررہی تھی جس کے نتیجہ میں انسانی رگوں میں دوڑتا خون منجمند ہوتا محسوس ہورہا تھا بوجہ گندم کٹائی سیزن آندھیوں کا موسم عروج پر تھا لہذا دھول مٹی کا ایک طوفان روئی کے نرم گالوں جیسی برف باری کے اجلے پن کو میلا کرنے میں اپنا ثانوی کردار ادا کررہا تھا ۔۔۔۔۔

پیارے بھائی وسیم اشعر اس سہانے موسم کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے

"لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم "

ٹائپ بالوں کو سنوار کر سفید کاٹن کے کلف زدہ لباس میں ملبوس ہوکر "مس نزیراں اقرار"سے فائنل قول و قرار کی خاطر گھر سے نکل پڑے شومئی قسمت ان کے گھر سے جائے ملاقات کی راہ میں کوئی کہکشاں تو نہ تھی البتہ تھریشر جا بجا ضرور چل رہے تھے اور تھریشر مالکان نے عوام دوستی کے قومی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر ان کا رخ انور سڑک کی طرف پھیر رکھا تھا جس کی وجہ سے اڑتی گرد سے راہ گیر مفت میں لطف اندوز ہو رہے تھے

راہ گیر تو ہمارے پیارے بھائی بھی تھے پھر وہ کیسے اس تبرک سے محفوظ رہ سکتے تھے لہذا در یار تک پہنچتے پہنچتے وہ دربار کے مست ملنگ کا روپ دھار چکے تھے

ملاقات کے احوال و انجام پر تو راوی خاموش ہے پر کسی کسی وقت جذب سے مغلوب ہوکر وہ ایک نعرہ مستانہ بلند کرکے یہ ضرور بڑبڑاتا ہے کہ

" ان شاءاللہ میں "مس نزیراں اقرار " کے سسرالی گاؤں میں ٹھیکہ پر زمین لیکر گندم کاشت کروں گا اور اس کی بیوفائی کے انتقام میں تھریشر کا رخ اس کے گھر کی طرف کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

مکس فروٹ

زی کے ™
جو نام ہے اعتماد کا ©

01/02/2023

سویرے جو آج آنکھ ہماری کھلی تو ہمسایہ گروپ میں سنجے دت اور پوجا بھٹ کی مشہور زمانہ فلم" سڑک" کے پاکستان میں احوال کا موضوع ہمیں حیرت کا شکار کرگیا کہ آخر ایک بھارتی فلم کے پاکستان میں نمائش کے احوال سے کیا مراد ہوسکتی ہے ؟؟؟؟

وافر مقدار میں دستیاب فرصت کے لمحات سے چند گھڑیاں نقد لیکر یہی سوچنے میں وقف کیں کہ پہلے تو یہ سرچ کیا جائے کہ آیا یہ فلم پاکستان میں کب ریلیز ہوئی تھی اور فلم بینوں میں اس کی مقبولیت کا کیا نتیجہ رہا تھا پھر یہ مثبت سوچ ترک کرکے اپنی ہاف کک اسٹارٹ بائیک گھر سے باہر نکالی اور دس ماہ قبل بنی فریش "سیمی مین روڈ" پر اسپیڈ بریکر فری رائیڈ انجوائے کرتے ہوئے قریب ہی موجود ایک چکن شاپ کے پاس پہنچے جو سڑک کو اپنے پرکھوں کے دشمنوں کی جاگیر سمجھ کر پانی کے چھڑکاؤ کی مدد سے تباہ کرنے کے مشن پر گامزن تھا اس جہالت کے قطب مینار کے علم میں شائد نہیں تھا کہ تارکول اور پانی کا ایک دوسرے سے اینٹ کتے کا بیر ہے اور پانی چند ہی دنوں میں سڑک کے اس ٹکڑے کا ایسے قلع قمع کردے گا جیسے غربت کے خاتمہ کی آڑ میں غریب کا صفایا ہورہا ہے ۔۔۔۔۔

خیر اس چکن شاپ اونر کے اس عمل پر بطور انعام اس پر تسلی سے تین حرف بھیجنے کے بعد سڑک پر موجود ویلی مصروف عوام کے پیدا کردہ ٹریفک کے بے ہنگم طوفان کو اگنور کرتے ہوئے ہمارا واسطہ ایک ایسے نازک موڑ سے پڑا جس سے پاکستان پچھلے پچھتر سال سے گزر رہا ہے اور گزرے ہی جا رہا ہے خیر ہم اس موڑ کو پار کرکے اپنے ایریا کی مین روڈ پر پہنچ گئے وہاں پہنچ کر ہمیں یاد آیا کہ "سڑک" فلم 1991 میں اپنی منفرد کہانی اور رومانٹگ گانوں جیسا کہ

"تمہیں اپنا بنانے کی قسم کھائی ہے"
"ہم تیرے بن کہیں رہ نہیں پاتے "
"جب جب پیار پہ پہرا ہوا ہے"

وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے لوگوں کو آج بھی ایسے یاد ہے جیسے ہمیں یاد ہے کہ ہمارے گھر کے مضافات میں دستیاب ملتان کی مرکزی شاہراہ بوسن روڈ ہمارے پاکستانی "ڈنگر انجینیئرز "کی ارفع مہارت کا اعلی شاہکار ہے کیونکہ سڑک انتہائی اعلی درجہ کی کارپیٹڈ ہے پر ہر چند فٹ کے فاصلے پر واقع پی ٹی سی ایل وغیرہ کے مین ہولز کے ڈھکن یا تو سڑک سے چھ انچ اونچے ہیں یا چھ انچ نیچے ۔۔۔

جس کی وجہ سے مسافر پاکستانی معیشت کی طرح اچھل کود کا شکار رہتا ہے سڑک پر موجود مین ہولز لیول پر نہ بنا پانے والے عطائی انجینئرز کا بھی اخیر لیول ہے بھئ۔۔۔

لیول تو ہماری عوام اور سرکاری محکموں کا بھی ہے جن کے اندر کا چنگیز خان صدیوں بعد منتوں مرادوں سے بننے والی سڑک کی بو پاتے ہی انگڑائی لے کر جاگ اٹھتا ہے اور نئی سڑک کو بغداد سمجھ کر سیوریج ،گیس اور پی ٹی سی ایل وغیرہ کی لائنز کھودنے کی آڑ میں تخت وتاراج کر دیا جاتا ہے ۔۔۔

سنجے دت اور پوجا بھٹ کی لازوال محبت آج بھی لوگوں کو یاد ہے بلکہ اس فلم نے1991 میں ریکارڈ کمائی کرکے سال کی دوسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم کا اعزاز بھی اپنے نام کیا تھا پر ہم لوگوں کو یہ یاد نہیں رہتا کہ جس سڑک کو ہم نے دنوں ہی دنوں میں تباہ کرکے رکھ دیا ہے یہ ایک غریب ملک کی غریب عوام سے نچوڑے گئے ٹیکسز سے بنائی گئی سڑک ہے

القصہ مختصر۔۔۔۔۔
ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا بتائیں ۔۔

"سڑک" فلم اپنے وقت کی شاہکار فلم تھی پر ہماری سڑکوں پر ٹریفک سینس کی کمی اور سڑکوں کو باپ کی جاگیر سمجھنے کا رویہ ہر خاص و عام کے لیے توجہ کا متقاضی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

ضروری نوٹ :سڑک فلم پاکستان کے سینماؤں میں نمائش کے لیے پیش نہیں کی گئی تھی ۔۔۔

زی کے ™
جو نام ہے اعتماد کا ©

24/01/2023

‏زندگی کو خوبصورت اور آسان ترین بنانےکے لیے "اہل مغرب" کی کل جد و جہد کا نچوڑ پیش خدمت ہے
Personality Development.
پرسنیلٹی ڈیولیپمنٹ کی فیلڈ میں ایک کانسپٹ بہت ہی معروف ہے جسے Minimalism،
کہا جاتا ہے یہ بڑا ہی دلچسپ ہے اس کا معانی و مقصد یہ ہے کہ انسان روز مرہ ‏زندگی میں کم سے کم سامان حیات کے ساتھ جینے کی skill حاصل کرے،
*ماہرین کے مطابق ہر کامیاب انسان ذاتی زندگی میں Minimalist approach کے ساتھ ہی کوئی بڑا ہدف یا کارنامہ سرانجام دے سکتا ہے،
کپڑوں کے دس دس جوڑوں کے بجائے دو سے چار جوڑوں پر اکتفا کرنا،
رہائش کے لئے سادہ رہائش گاہ میں ‏قیام کرنا
سفر و حضر میں عام سی سواری کو ترجیح دینا وغیرہ

ماہرین کے نزدیک با مقصد انسان کے لیے لگژری لائف ایک بہت بڑا بوجھ ہے جس کو Maintain یا برقرار رکھنے میں پیسہ اور وقت برباد کرنا صرف اس قیمت پر ہوتا ہے کہ وہ کسی برتر مقصد سے خود کو دور کر لے،مزید یہ کہ انسان اپنی ذات پر ‏سے غیر ضروری بوجھ کو جتنا زیادہ ہٹائے گا وہ اتنا ہی زیادہ مطمئن اور خوش رہے گا،

پھر فوائد کی ایک طویل فہرست ہے جو Minimalist انسان کو حاصل ہوتی ہے مثلاً
1- پروڈکٹیویٹی (نفع بخشی)
2- فریڈم
3-مور اسپییس فار یورسیلف
4-بہتر پلاننگ
5- آسان زندگی
6- کم ذہنی دباؤ
7-برتر مقصد کے لیے خود کو وقف کرنا
8- وقت کا بہترین استعمال کر پانا
وغیرہ وغیرہ

آپ کسی مغربی اسپیکر / مصنف کی TED TALK یا کتاب میں یہ تمام باتیں پڑھیں یا سنیں تو بظاہر محسوس ہوگا کہ کوئی بہت ہی جدید concept ہے جس کی تعلیم دی جارہی ہے، اور ذہن Mind فوراً لفظ Minimalist کے فوائد پر قائل ہونا شروع ‏ہو جائے گا، حالانکہ تھوڑا سا بھی غور کریں تو ذہن میں جو اردو لفظ Minimalism کے متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے وہ "قناعت"ہے،

ہم اور آپ جس دین کی تعلیم بچپن سے سنتے سنتے بڑے ہوئے ہیں اس میں قناعت سب سے بنیادی تصور ہے جو ایک مومن کی زندگی کی عملی تصویر ہے، آپ کسی مسلمان کو ‏Minimalism پر لمبا چوڑا لیکچر دینے کے بجائے صرف ایک لفظ"قناعت" Contentment کہہ دیں تو یہ لفظ اتنا جامع اور مکمّل ہے کہ اس کے بعد مزید کسی تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی،
اب یہی بات بعض لوگ کسی انگریز اسپیکر سے اسٹائلش انگلش میں سننے کے لیے شیرٹن ہوٹل چلے جائیں گے اور سیشن کے لیے ‏موٹی رقم بھی دے دیں گے، باہر آ کر ایک لمبی سانس لے کر ساتھیوں سے کہیں گے

guys you must be Minimalist to be successful you know

جبکہ یہی بات جب مسجد کے مولوی صاحب سادہ سے دیسی لہجے میں کہہ دیں کہ بھائی قناعت اختیار کرو تو منہ بنائیں گے کہ مولوی تو دنیاوی ترقی کے دشمن ہیں ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا بھی گلا گھونٹنا چاہتے ہیں

حاصل مطالعہ

20/11/2022

محبت کی چاشنی سے لبریز اور عشق کی مہک سے آراستہ محبت نامہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

بے عمل و بے کار ،جان سے پیارے عاشق محترم مجنوں صحرائی!

سلام محبت سے پہلے زرا یہ بتائیں میں نے آپ کو کہا تھا کہ میرے نام کا محبت بھرا گانا بنوا کر مجھے بھیجیں میں نے واٹس ایپ اسٹیٹس لگانا ہے آپ نے اپنے برائلر ککڑ کے منہ والے کزن ٹونی ککڑ سے اتنے بیہودہ انداز کا سانگ بنوا کر بھجوا دیا

"ناچ میری لیلی لیلی ناچ میری لیلی ۔۔۔"

شرم نہیں آتی آپ کو اتنی میری بے عزتی کروا دی میری قریبی سہیلیوں صغری ٹڈی ،پروین لمبی اور چھیمو موٹی سے ۔۔اچھا چھوڑیں آپ کو کونسا شرم اجانی ہے۔۔۔۔۔

سکون قلب و جاں ! کل دوپہر دل میں ایسے آپ کی یاد آئی جیسے ویرانے میں چپکے سےبہار آجائے بس پھر میں آپ کے شربت دیدار کو بیقرار بدتمیز دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر جینز کے اوپر حجاب اوڑھے گھر سے باہر نکلی کیونکہ آپ کہتے ہیں

"کس نے جینز کری ممنوع
پہنو اچھی لگتی ہو "

تو بانس جیسی ٹانگوں پر جینز منڈھ کر باہر نکلتے ہی حسب روایت قریبی چوک پر آپ کو بھرے مجمع میں ازلی ڈھٹائی کے تقاضوں کے عین مطابق پتھر کھاتے اور گندے دانت نکال کر ہنستے ہوئے پایا آپ کا پسندیدہ یہ مشغلہ دیکھ کر مجھ سے برداشت نہ ہوا اور میں افسردگی میں ایک زنگر اور ایک شوراما خرید کر گھر واپس آگئی اور پیار کا ساٹھواں خط لکھنے واسطے فٹافٹ ملازمہ کے ہاتھوں کاغذ قلم دوات منگوا لیا ۔۔۔

اے میرے جان سے پیارے ڈھیٹ و بیشرم دلبر ! اگر زمانہ آپ کو ستانے سے باز نہیں آرہا تو آپ ہی سستی سی غیرت کھا کر کم سے کم میرا ہی خیال کرلیں کیونکہ فیس بک عاشقی فوفو شونا مونا 3.0 کے نئے قوانین کے تحت نوکیلے پتھر آپ کو پڑتے ہیں مگر چوٹ مجھے لگتی ہے مجھ پر ترس کھائیں آخر میں کب تک آپ کی خاطر دل ہی دل میں

"کوئی پتھر سے نہ مارے ، میرے دیوانے کو"

گاتی رہوں گی پہلے ہی ایک بار باآواز بلند یہ گانا گا کر میں بدنامیوں کے ساتویں آسمان اور رسوائیوں کے آٹھویں پاتال کو چھو چکی ہوں چاہے اس گانے کے پیچھے چھپے فلسفہ کی زمانے کو سمجھ نہیں آتی ویسے مجھے بھی نہیں آتی پر کسی انجانے احساس کے ساتھ گاتی چلی جارہی ہوں

اور ہاں راحت جاں ! یہ آپ کیسا اول جلول حلیہ بنا کے سارا دن پھرتے رہتے ہیں چلو مان لیا دن بھر آپ پتھر خوری کا پیدائشی شوق فرماتے ہیں پر شام میں تو عوام تھک ہار کر گھر چلی جاتی ہے اور ان کے ہاتھوں پتھر کھانے کی سہولت تقریباً ختم ہوجاتی ہے تھوڑا سا وقت نکال کر رات میں کبھی شیو ہی کروا لیا کریں ہر وقت پھٹے پرانے کپڑے پہن کر ابتر حالت میں صحرائی اونٹ بن کر رہنا لازم تو نہیں آپ سے بہتر تو صاحباں والے مرزا ماموں تھے جو ہر وقت لش پش رہا کرتے تھے بیشک وہ غیر قانونی ممانی کے بھائیوں کے ہاتھوں تیر کھا کر حرام موت مر گئے پر صاف ستھرے تو رہتے تھے ۔۔۔

اور ہاں میرے دل کے چین !خود تو ذلیل ہوتے ہی ہیں میرے قیمتی کتے کو بھی اپنی صحبت سے آوارہ بنا ڈالا ہے ہر وقت صحرا میں سے ساتھ لیے پھرتے ہیں اتنا بھی احساس نہیں کرتے کہ بھوکا رہ رہ کر اس معصوم کی پسلیاں نکل آئی ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے تو اسے چاچو مہینوال کی طرح اپنی ران کے وہ کباب ہی کھلا دیا کریں جو وہ کچے گھڑے پر دریا پار کرتے وقت ڈوب مرنے والی کسی اور کی بیوی سوہنی کو کھلاتے تھے ۔۔۔

روح من !ایک سوال کا جواب تو دیں یہ کیسا آپ کا تھرڈ کلاس عشق ہے یہ کیسی آپ کی محبت ہے کام کے نا کاج کے دشمن اناج کے بن کر یا تو ویرانوں میں لور لور پھرتے ہیں یا چوک پر مجمع کے ہاتھوں ذلیل ہوتے ہیں اتنا ہی اگر عشق کا دعوٰی ہے ، تو مجھے کچھ کرکے تو دکھائیں، ساری عمر انٹی ہیر والے ہڈ حرام رانجھا کی طرح ویلے رہ کر گزارنی ہے کیا ؟؟؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں شادی شدہ ہیر کی طرح اپنے شوہر کی بجائے آپ کو دیسی گھی کی چوریاں کھلاؤں گی تو یہ آپ کی بھول ہے میں کڑی ہوں زرا وکھری ٹائپ کی ۔۔۔

قرار من ! کوئی نوکری کوئی کاروبار اور کچھ نہیں تو فوڈ پانڈا پر اپنا اونٹ رجسٹر کروا کر ڈیلیوری بوائے ہی بن جائیں یا اوبر ، کریم ،پر اپنا اونٹ لگا کر سواریاں ڈھونا شروع کردیں آوارہ گردی سے سارے صحرا کی سڑکیں تو ویسے بھی ناپتے رہتے ہیں

میری اکھیوں کے قرار ! ابھی بھی وقت ہے کہ سستی چھوڑ کر سُدھر جائیں اگر زندگی گزارنی ہے تو ڈھنگ سے جینا سیکھیں ورنہ بہتر ہے پہلی فرصت میں ہی کسی زہریلے صحرائی سانپ یا بچھو سے خود کو ڈسوا کر راہ عدم کے مسافر ہو جائیں تاکہ دھرتی کا ایک بوجھ تو کم ہوجائے۔۔۔

بس اب میں خوشبوؤں میں بسے اس گلہائے عقیدت الفت نامہ کا اختتام کرتی ہوں امید ہے کہ تھوڑا کہے کو کافی جانیں گے

فقط آپ کے درشن کی پیاسی
آپ کی داسی

لیلی میں لیلی ایسی میں لیلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زی کے ™
جو نام ہے اعتماد کا ©

Address

5
Multan
60700

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zee Kaay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share