22/09/2026
سیلز ٹیکس میں Limitation کی خلاف ورزی: ٹربیونل نے تینوں Assessment Orders ختم کر دیے
2026 SLD 4018 — ٹربیونل کراچی کا اہم فیصلہ
کیس: M/s New Ghani Sons Karachi بنام Deputy Commissioner Inland Revenue، کراچی.
اس کیس میں ٹیکس پیئر کے خلاف تین مختلف ٹیکس ادوار کے لیے سیلز ٹیکس اسیسمنٹ آرڈرز جاری کیے گئے۔ محکمہ نے مبینہ طور پر کم ظاہر کردہ سیلز پر سیلز ٹیکس، جرمانہ اور ڈیفالٹ سرچارج عائد کیا۔
ٹیکس پیئر نے مؤقف اختیار کیا کہ:
مبینہ Suppressed Sales کو مناسب تفصیلات اور ثبوت کے ساتھ Confront نہیں کیا گیا۔
بعض ٹیکس ادوار کے لیے شوکاز نوٹس ہی ریکارڈ پر موجود نہیں تھا۔
اسیسمنٹ آرڈرز Section 11(5) میں مقررہ مدت گزرنے کے بعد جاری کیے گئے۔
کمشنر اپیلز نے معاملہ دوبارہ کارروائی کے لیے افسر کو واپس بھیج کر اپنے قانونی اختیار سے تجاوز کیا۔
1۔ کمشنر اپیلز معاملہ دوبارہ کارروائی کے لیے واپس نہیں بھیج سکتے
ٹربیونل نے قرار دیا کہ Section 45B(3) of the Sales Tax Act, 1990 کے تحت کمشنر اپیلز کو معاملہ ازسرِنو اسیسمنٹ کے لیے واپس بھیجنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
اگر کمشنر اپیلز افسر کو یہ ہدایت دے کہ:
مبینہ Suppressed Sales کو مخصوص تفصیلات کے ساتھ دوبارہ Confront کیا جائے؛
ریکارڈ فراہم کیا جائے؛
ٹیکس پیئر سے نیا جواب لیا جائے؛
اور معاملہ دوبارہ طے کیا جائے؛
تو ایسی ہدایت اپنی اصل نوعیت میں Remand ہی ہوگی، چاہے اسے کسی دوسرے نام سے بیان کیا گیا ہو۔
ٹربیونل نے اس حوالے سے M/s Seven Star Sugar Mills (2026 SCMR 69) اور دیگر عدالتی فیصلوں کے اصولوں کو مدِنظر رکھا۔
2۔ Section 11(5) کے تحت Limitation لازمی ہے
ٹربیونل نے واضح کیا کہ Section 11(5) کے تحت دو الگ مدتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
پہلی مدت: متعلقہ مالی سال کے اختتام سے پانچ سال کے اندر شوکاز نوٹس جاری ہونا چاہیے۔
دوسری مدت: شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد اسیسمنٹ آرڈر 120 دن کے اندر جاری ہونا چاہیے۔
اس مدت میں زیادہ سے زیادہ 90 دن کی توسیع صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب:
کمشنر کی طرف سے قانونی اختیار استعمال کیا جائے؛
توسیع کی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کی جائیں؛
اور قانون میں دی گئی شرائط پوری ہوں۔
صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ معاملہ ٹیکس فراڈ سے متعلق ہے۔
3۔ پہلے ٹیکس ادوار میں نوٹس ہی وقت گزرنے کے بعد جاری نہیں ہو سکتا تھا
ٹیکس پیئر کے ریکارڈ 11 دسمبر 2023 کو قبضے میں لیے گئے، جبکہ محکمہ کا مؤقف تھا کہ اسی ریکارڈ سے مبینہ خلاف ورزی کا علم ہوا۔
ٹربیونل نے قرار دیا کہ جس معلومات کی بنیاد پر کارروائی شروع کی گئی، وہ خود شوکاز نوٹس کے ممکنہ اجرا کے بعد حاصل ہوئی۔ اس لیے متعلقہ ٹیکس ادوار کے لیے قانونی مدت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔
چنانچہ بعد میں جاری ہونے والی کارروائی Limitation کی پابندی سے بچ نہیں سکتی تھی۔
4۔ باقی ٹیکس ادوار میں بھی 120 دن کی مدت پوری نہیں ہوئی
دیگر ٹیکس ادوار کے لیے شوکاز نوٹس 10 جنوری 2024 کو جاری کیے گئے، جبکہ اسیسمنٹ آرڈرز 13 اگست 2024 کو جاری ہوئے۔
اس طرح تقریباً 216 دن گزر گئے۔
محکمہ کی جانب سے کوئی ایسا مؤثر توسیعی آرڈر ریکارڈ پر پیش نہیں کیا گیا جس کے ذریعے 120 دن کی قانونی مدت میں اضافہ کیا گیا ہو۔
ٹربیونل نے قرار دیا کہ اضافی 90 دن خودبخود دستیاب نہیں ہوتے۔ اس کے لیے قانون کے مطابق باقاعدہ توسیع اور تحریری وجوہات ضروری ہیں۔
5۔ Tax Fraud کا الزام Limitation ختم نہیں کرتا
محکمہ نے Tax Fraud کی بنیاد پر Limitation کے اعتراض کا جواب دینے کی کوشش کی، لیکن ٹربیونل نے واضح کیا کہ صرف کسی کارروائی کو Tax Fraud کا نام دے دینے سے قانونی مدت ختم نہیں ہو جاتی۔
اگر Limitation میں توسیع کے لیے قانون کے مطابق کوئی درست آرڈر موجود نہ ہو تو اسیسمنٹ آرڈر مقررہ مدت سے باہر ہونے کی صورت میں قانونی تحفظ حاصل نہیں کر سکتا۔
ٹربیونل کا فیصلہ
ٹربیونل نے تینوں اسیسمنٹ آرڈرز کو Limitation کی وجہ سے غیر مؤثر اور کالعدم قرار دے کر ختم کر دیا۔
چونکہ بنیادی اسیسمنٹ آرڈرز ختم ہو گئے، اس لیے ان کے نتیجے میں عائد کیے گئے:
Section 33(13) کے تحت جرمانے؛
Section 34 کے تحت ڈیفالٹ سرچارج؛
بھی ختم کر دیے گئے۔
ٹربیونل نے مبینہ Suppressed Sales کے میرٹ پر حتمی فیصلہ نہیں دیا، کیونکہ Limitation کے معاملے پر ہی اپیلیں نمٹا دی گئی تھیں۔ تاہم، فیصلے میں یہ مشاہدہ بھی موجود ہے کہ مبینہ Suppressed Sales کو مناسب تفصیلات اور ثبوت کے ساتھ Confront نہیں کیا گیا تھا۔
اہم قانونی سبق
سیلز ٹیکس کی کارروائی میں صرف Tax Demand پیدا کرنا کافی نہیں۔ محکمہ کو:
قانونی مدت کے اندر شوکاز نوٹس جاری کرنا ہوگا؛
مقررہ مدت میں اسیسمنٹ مکمل کرنا ہوگی؛
توسیع کی صورت میں قانونی شرائط پوری کرنا ہوں گی؛
ٹیکس پیئر کو مخصوص الزامات اور متعلقہ مواد سے مناسب طور پر آگاہ کرنا ہوگا۔
Limitation قانون کی لازمی شرط ہے، محض رسمی کارروائی نہیں۔
حوالہ: M/s New Ghani Sons Karachi v. Deputy Commissioner Inland Revenue — 2026 SLD 4018, Appellate Tribunal Inland Revenue, Karachi Bench-IV.