Muneeb Ahmad & Co. Financial , Management and Tax Consultants

Muneeb Ahmad & Co. Financial , Management and Tax Consultants Certified Public Accountants, QuickBooks Resellers, QSP
Financial, Management & Tax Consultants

Proposed not yet final1% will creat problem.
09/06/2026

Proposed not yet final
1% will creat problem.

۔CPR سیکشن کوڈ کی غلطی کے باوجود ودہولڈنگ ٹیکس کریڈٹ سے انکار غیر قانونی قرار۔اسلام آباد: اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو (...
08/06/2026

۔CPR سیکشن کوڈ کی غلطی کے باوجود ودہولڈنگ ٹیکس کریڈٹ سے انکار غیر قانونی قرار۔

اسلام آباد: اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو (ATIR) اسلام آباد نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی ٹیکس دہندہ کو صرف اس بنیاد پر ودہولڈنگ ٹیکس (WHT) کا کریڈٹ دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ودہولڈنگ ایجنٹ نے کمپیوٹرائزڈ پیمنٹ رسید (CPR) پر غلط سیکشن کوڈ درج کر دیا ہو۔

ٹربیونل کے مطابق CPR میں غلط سیکشن کوڈ کا اندراج محض ایک انتظامی یا طریقہ کار کی غلطی ہے، جو ٹیکس کی اصل نوعیت، کٹوتی یا ٹیکس دہندہ کے قانونی حق کو متاثر نہیں کرتا۔ ایسے حالات میں ٹیکس کریڈٹ روکنا غیر قانونی ہے اور ٹیکس دہندہ کے جائز حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

یہ مقدمہ ایک غیر ملکی کمپنی سے متعلق تھا جس نے اپنے سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے میں 81.45 ملین روپے کے ودہولڈنگ ٹیکس کریڈٹ کا دعویٰ کیا تھا۔

محکمہ نے IRIS ریکارڈ کے مطابق 80.688 ملین روپے کی تصدیق کے باوجود صرف 28.5 ملین روپے کے کریڈٹ کی اجازت دی جبکہ 52 ملین روپے سے زائد رقم صرف سیکشن کوڈ کی عدم مطابقت کی بنیاد پر مسترد کر دی گئی۔

ٹیکس دہندہ کے وکیل وحید شہزاد بٹ کے مطابق ودہولڈنگ ایجنٹس نے ٹیکس جمع کراتے وقت غلط سیکشنز کا انتخاب کر لیا تھا، حالانکہ اصل ٹیکس کٹوتی درست تھی اور تمام رقوم قابلِ تصدیق تھیں۔ ٹیکس دہندہ نے اپنے گوشوارے میں تمام رقوم کو درست قانونی شق یعنی سیکشن 152(2A)(c) کے تحت کلیم کیا تھا۔

۔ATIR نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سیکشن 168 کے تحت قابلِ تصدیق ودہولڈنگ ٹیکس کا کریڈٹ ٹیکس دہندہ کا قانونی حق ہے، جسے محض طریقہ کار کی خامیوں یا انتظامی غلطیوں کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

ٹربیونل نے یہ بھی قرار دیا کہ ودہولڈنگ ایجنٹ کی غلطی کا بوجھ ٹیکس دہندہ پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے ودہولڈنگ ٹیکس نظام میں روزانہ ہزاروں ٹرانزیکشنز پروسیس ہوتی ہیں، اس لیے معمولی کوڈنگ غلطیوں کو بنیاد بنا کر حقیقی ٹیکس کریڈٹس روکنا انصاف اور قانون دونوں کے منافی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اسی معاملے میں ٹیکس دہندہ پہلے ATIR سے کامیاب فیصلہ حاصل کر چکا تھا جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔ بعد ازاں ریفنڈ میں غیر ضروری تاخیر پر وفاقی ٹیکس محتسب (FTO) نے محکمہ ٹیکس کے رویے کو بدانتظامی قرار دیا تھا۔

فیصلے کے اہم قانونی نکات: • CPR پر غلط سیکشن کوڈ ٹیکس کریڈٹ کے حق کو ختم نہیں کرتا۔

• سیکشن 168 کے تحت قابلِ تصدیق ٹیکس کا کریڈٹ قانونی استحقاق ہے۔

• ٹیکس قوانین میں مادہ (Substance) کو شکل (Form) پر فوقیت حاصل ہے۔

• ودہولڈنگ ایجنٹ کی غلطی کا بوجھ ٹیکس دہندہ پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

• ریفنڈ میں غیر ضروری تاخیر بدانتظامی کے زمرے میں آتی ہے۔

08/06/2026

“Can we challenge a show-cause notice in the High Court?”
2020 SLD 2008 2020 PTD 1683 (2021) 123 TAX 239

It is well settled that ordinarily the High Court, in exercise of jurisdiction under Article 199 of the Constitution, ought not to entertain a challenge to a show-cause notice. It is only when proceedings pursuant to a show-cause notice culminate in an order that the person aggrieved by such an order may challenge it in writ jurisdiction provided there is no alternative remedy provided by law. However, there are certain exceptions where the High Court can entertain a challenge to the legality of a show cause notice in its Constitutional jurisdiction. This Court, in the judgment reported as Pakistan Oilfields Limited v. Federation of Pakistan (2020 PTD 110), after referring to a catena of case law, has enumerated the exceptions where a writ petition against a show cause notice is maintainable. These exceptions are as follows:-

"(A) Where the impugned notice is without jurisdiction/lawful authority;

(B) Where the impugned notice is non est in the eye of law;

(C) Where the impugned notice is patently illegal;

(D) Where the impugned notice is issued with premeditation or without application of mind for extraneous reasons;

(E) Where the aggrieved person does not have adequate and efficacious remedy;

(F) Where the issuance of a show cause notice violate any fundamental rights of the aggrieved person.

Muneeb Ahmad & Co. Financial , Management and Tax ConsultantsThe Nowshera Tax Bar AssociationMuneeb Ahmad 03333043020

05/06/2026
03/06/2026

Tax exemptions for FATA PATA likely to be withdrawn
2026

Invest meaningful moments with your parents, nurturing a deeper connection that fosters love, understanding, and lasting...
03/06/2026

Invest meaningful moments with your parents, nurturing a deeper connection that fosters love, understanding, and lasting memories.

Withholding under Section 161: A Step-by-Step Procedure Explained.MM Akram's decision on withholding,  . Based on this j...
03/06/2026

Withholding under Section 161: A Step-by-Step Procedure Explained.

MM Akram's decision on withholding, . Based on this judgment, the Federal Board of Revenue has directed all Chief Commissioners to follow the procedure outlined in the decision when issuing withholding notices.

175C ROLE OF FBR AND ACTION BY FTO - TAX COLLECTION VS TAX ROBBERY
01/06/2026

175C ROLE OF FBR AND ACTION BY FTO - TAX COLLECTION VS TAX ROBBERY

.*محکمہ ٹیکس بمقابلہ ہاؤسنگ اسکیم: ڈبل ٹیکسیشن پر بڑا فیصلہ!**کیا سڑکیں اور پارکس بنانا "سروس" ہے؟*پنجاب ریونیو اتھارٹی ...
01/06/2026

.
*محکمہ ٹیکس بمقابلہ ہاؤسنگ اسکیم: ڈبل ٹیکسیشن پر بڑا فیصلہ!*

*کیا سڑکیں اور پارکس بنانا "سروس" ہے؟*

پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کے اپیلٹ ٹربیونل میں آنے والا یہ مقدمہ صرف ایک ہاؤسنگ اسکیم کا کیس نہیں تھا، بلکہ یہ اس بنیادی سوال کی جنگ تھی کہ آخر “سروس” کیا ہوتی ہے… اور حکومت کسی کاروباری سرگرمی کو کب ٹیکس کے دائرے میں لا سکتی ہے؟
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سرگودھا کے علاقے بھلوال میں قائم میسرز لائف سٹی ہاؤسنگ اسکیم اور لائف سٹی فیز-II نے اپنی ذاتی اراضی کو ایک جدید رہائشی منصوبے میں تبدیل کیا۔ زمین پر سڑکیں بنیں، سیوریج ڈالا گیا، پانی اور بجلی کی سہولیات فراہم کی گئیں، پارکس بنائے گئے، اور پھر یہ تیار شدہ پلاٹس خریداروں کو فروخت کر دیے گئے۔ بظاہر یہ ایک عام رئیل اسٹیٹ کاروبار تھا، لیکن پنجاب ریونیو اتھارٹی نے اسے ایک “ٹیکسیبل سروس” قرار دے دیا۔
اکتوبر 2020 میں PRA نے ہاؤسنگ اسکیم کو زبردستی رجسٹرڈ کیا اور بعد ازاں مئی 2023 میں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ قانون کے شیڈول میں “Property Developers” شامل ہیں، اس لیے اسکیم کو فی مربع گز کے حساب سے لاکھوں روپے سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ محکمہ کے مطابق، خریداروں کو صرف زمین نہیں ملی بلکہ ایک “ویلیو ایڈڈ” پراڈکٹ ملی جس میں سڑکیں، پارکس اور دیگر سہولیات شامل تھیں، لہٰذا یہ ایک سروس تھی۔
لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا۔
ہاؤسنگ اسکیم کے وکلاء نے ٹربیونل کے سامنے ایک نہایت اہم قانونی نکتہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص اپنی ذاتی زمین خود ڈیویلپ کر کے فروخت کرتا ہے تو وہ کسی دوسرے شخص کو “سروس” فراہم نہیں کر رہا ہوتا۔ وہ صرف اپنی جائیداد بہتر بنا کر بیچ رہا ہوتا ہے۔ خریدار اصل میں سروس نہیں بلکہ غیر منقولہ جائیداد (Immovable Property) خرید رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی ٹرانزیکشن پر پہلے ہی اسٹیمپ ڈیوٹی، رجسٹریشن فیس اور کیپیٹل ویلیو ٹیکس جیسے مختلف ٹیکس ادا کیے جا چکے تھے۔ وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک ہی معاشی سرگرمی پر دوبارہ سیلز ٹیکس لگانا دراصل “Double Taxation” ہے، جو قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
ٹربیونل نے اپنے تفصیلی فیصلے میں سب سے پہلے اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کیا کہ
کیا واقعی ایسی سرگرمی “سروس” کے دائرے میں آتی ہے؟
معزز بینچ، جس میں چیئرپرسن مسٹر بخت فخر بہزاد اور اکاؤنٹنٹ ممبر محترمہ کوکب نذیر شامل تھیں، نے واضح الفاظ میں کہا کہ سیلز ٹیکس صرف اسی صورت لگ سکتا ہے جب قانون کے مطابق کوئی “Taxable Service” موجود ہو۔ اگر بنیادی قانون کے تحت کوئی سرگرمی سروس ہی نہیں بنتی، تو محض شیڈول میں اس کا نام شامل کر دینے سے اسے ٹیکسیبل نہیں بنایا جا سکتا۔
یہ فیصلہ دراصل پورے کیس کا turning point ثابت ہوا۔
ٹربیونل نے کہا کہ جب ڈویلپر خود زمین کا مالک ہو، ترقیاتی اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرے اور کاروباری خطرہ بھی خود اٹھائے، تو وہ کسی تیسرے شخص کو سروس فراہم نہیں کر رہا ہوتا۔ سڑکیں، پارکس اور سیوریج جیسی سہولیات جائیداد کا حصہ بن جاتی ہیں، الگ سے کوئی “Service Component” نہیں بنتیں۔ خریدار اصل میں ایک بہتر اور قیمتی جائیداد خریدتا ہے، نہ کہ کوئی علیحدہ سروس۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ وہ تھا جہاں ٹربیونل نے 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات پر بات کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے تحت صوبوں کو صرف “Services” پر ٹیکس لگانے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ غیر منقولہ جائیداد اور اس کی منتقلی کے معاملات الگ قانونی دائرہ رکھتے ہیں۔ لہٰذا کوئی صوبائی اتھارٹی جائیداد کی فروخت کو مصنوعی انداز میں “سروس” قرار دے کر اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز نہیں کر سکتی۔
ٹربیونل نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اگر ایک پلاٹ کی خرید و فروخت پر پہلے ہی مختلف سرکاری ٹیکس ادا کیے جا چکے ہیں، تو اسی ٹرانزیکشن پر دوبارہ سروسز ٹیکس عائد کرنا انصاف اور آئینی اصولوں کے منافی ہوگا۔ عدالت کے مطابق، ٹیکس قوانین کی تشریح ہمیشہ سخت انداز میں کی جاتی ہے، اور جہاں قانون واضح نہ ہو وہاں شہری کو فائدہ دیا جاتا ہے، نہ کہ محکمہ کو۔
بالآخر اپیلٹ ٹربیونل نے دونوں ہاؤسنگ اسکیموں کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے PRA کے تمام ٹیکس مطالبات، ڈیفالٹ سرچارجز اور جرمانے کالعدم قرار دے دیے۔ کمشنر اپیلز اور ایڈیشنل کمشنر کے احکامات کو بھی مکمل طور پر set aside کر دیا گیا۔
یہ فیصلہ صرف ایک ہاؤسنگ اسکیم کی کامیابی نہیں، بلکہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں “سروس” اور “جائیداد کی فروخت” کے درمیان قانونی فرق کو سمجھنے کے لیے ایک اہم نظیر بن چکا ہے۔ مستقبل میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق کئی مقدمات میں اس فیصلے کا حوالہ دیا جانا بعید نہیں۔

‏ بلاجواز اور زبانی طور پر ایئرپورٹس سے آف لوڈ کرنے کی بابت لاہور ہائیکورٹ کا شاندار فیصلہ 👇👇👇👇لاہور ہائیکورٹ نے ایف ائی...
30/05/2026

‏ بلاجواز اور زبانی طور پر ایئرپورٹس سے آف لوڈ کرنے کی بابت لاہور ہائیکورٹ کا شاندار فیصلہ 👇👇
👇👇
لاہور ہائیکورٹ نے ایف ائی اے کو بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کو اف لوڈ کرنے کے حوالے سے گائیڈ لائز جاری کردیں

کسی مسافر کو آف لوڈنگ کرتے وقت افسران کو تفصیلی اور بامعنی وجوہات تحریر کرنا ہوں گی، فیصلہ

مسافر سے پوچھے گئے سوالات اور دیے گئے جوابات بھی ریکارڈ کیے جائیں عدالت

جہاں ممکن ہو انٹرویو یا گفتگو کو الیکٹرانک طور پر محفوظ کیا جائے، عدالت

آف لوڈنگ آرڈر یا پروفارما کی کاپی متاثرہ مسافر کو فراہم کی جائے،فیصلہ

عدالت نے درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات رکھنے والے شہری کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار دے دیا

عدالت نے شہری کو نائجیریا جانے سے روکنے کا ایف آئی اے اقدام کالعدم قرار دے دیا

صرف خدشات، یا مبہم وجوہات پر شہری کو بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا، فیصلہ

جسٹس راحیل کامران نے شہری محمد عباس کی درخواست پر نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

Address

Office # 10, 1st Floor, Al-Jamil City Center, Nowshera Cantt, Kpk
Nowshera
24100

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 08:00 - 15:00
Saturday 09:00 - 01:00

Telephone

+923333043020

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muneeb Ahmad & Co. Financial , Management and Tax Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muneeb Ahmad & Co. Financial , Management and Tax Consultants:

Share