Asim Electronics

Asim Electronics Electronic's & Mobiles Repairing Shop

ایک لیڈ ایسڈ بیٹری کی نارمل لائف 3 سے 5 سال ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ کی بیٹری دو اڑھائی سال میں ہی بیک اپ ڈراپ کر گئ...
22/04/2025

ایک لیڈ ایسڈ بیٹری کی نارمل لائف 3 سے 5 سال ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ کی بیٹری دو اڑھائی سال میں ہی بیک اپ ڈراپ کر گئی ہے تو اس کی کچھ وجوہات ہیں اور حل بھی۔

ویسے تو بیک اپ کم ہونے کے کئی اسباب ہیں لیکن پاکستان میں جلد خراب ہونے والی 80 فیصد سے زائد بیٹریوں کی ذمہ دار سلفیشن ہے۔ اگر آپ سلفیشن کا میکانزم سمجھ لیں تو بیٹری کو بچانا آسان ہو جائے گا۔

سلفیشن بیٹری کی پلیٹوں پر لیڈ سلفیٹ کی تہہ جمنے کے عمل کو کہتے ہیں۔ یہ بیٹری کا ایک روٹین پراسس ہوتا ہے۔ جب بیٹری ڈسچارج ہوتی ہے تو لیڈ سلفیٹ پلیٹوں پر چپک جاتا ہے۔ واپس چارج ہونے پر یہی لیڈ سلفیٹ دوبارہ تیزاب میں حل ہو جاتا ہے۔

مسئلہ تب ہے جب لیڈ سلفیٹ کی تہہ پلیٹوں پر جم کر سخت ہو جائے، اور پلیٹوں اور تیزاب کے درمیان کرنٹ گزرنے کی رفتار سست کر دے۔ تب پلیٹیں کرنٹ نہیں پکڑتیں اور بیٹری مکمل چارج نہیں ہو پاتی۔ جب بیٹری پوری طرح چارج نہیں ہو گی تو بیک اپ بھی پورا نہیں دے گی۔

اُس وقت ہم کہتے ہیں کہ بیٹری کی لائف ختم ہو گئی۔ لیکن حقیقت میں پلیٹیں تندرست ہوتی ہیں۔ صرف اُن پر لیڈ سلفیٹ کی ایک تہہ جمی ہوتی ہے۔ اگر یہ تہہ اتار دی جائے تو بیٹری کا بیک اپ ری سٹور ہونے لگتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ سلفیشن ہوئی کیوں۔ اس کی 4 بڑی وجوہات ہیں۔

1. زیرو TDS کی بجائے عام پانی کا استعمال

لوگ اکثر بیٹری میں عام نل والا پانی ڈال دیتے ہیں۔ اِس پانی میں نمکیات موجود ہوتے ہیں جو سلفیشن کے عمل کو تیز کر دیتے ہیں۔ لیڈ سلفیٹ پلیٹوں پر جمتا زیادہ ہے اور اُترتا کم ہے۔ یوں بیٹری ایک دو سالوں میں ہی بیک اپ ڈراپ کر جاتی ہے۔

بیٹری میں ہمیشہ کسی اچھی کمپنی کا بیٹری واٹر ڈالیں جو ڈسٹلڈ اور زیرو TDS ہو۔ کوشش کریں کہ کسی بیٹری بنانے والی کمپنی مثلا AGS وغیرہ کا پانی استعمال کریں۔ یہ میسر نہ ہو تو اے سی سے نکلنے والا پانی ڈال لیں لیکن وہ بھی تقریباً 40 TDS ہوتا ہے۔

2. بیٹری مکمل چارج نہ کرنا یا شدید ڈسچارج کرنا

مکمل ڈسچارج کے بعد اگر آپ بیٹری کو پوری طرح چارج نہیں کریں گے تو پلیٹوں پر لیڈ سلفیٹ کی تہہ جمی رہ جائے گی اور وقت کے ساتھ ساتھ سخت ہو کر بیک اپ کم کر دے گی۔ یہ مسئلہ عموما کار یا سولر کی بیٹریوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ کار کبھی زیادہ چلتی ہے کبھی کم۔ اِسی طرح سورج کی تپش بھی موسم کے حساب سے بدلتی رہتی ہے۔ سردیوں میں کئی دفعہ دو دو مہینے بیٹری مکمل چارج ہی نہیں ہو پاتی اور لیڈ سلفیٹ کو سخت ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔

اِس سے بچنے کے لیے دو کام کریں۔ ایک تو بیٹری کو 20 فیصد سے کم ڈسچارج نہ کریں۔ دوسرا، ہر دو ہفتے بعد یا کم از کم مہینے میں ایک دفعہ بیٹری کو فل چارج ضرور کریں۔

3. بیٹری کو زیادہ درجہ حرارت پر سٹور کرنا

بیٹری کو ہمیشہ روم ٹمپریچر یعنی 25 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم پر ہی سٹور کریں۔ اگر آپ کے گھر بیٹری والی جگہ کا درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے لگ بھگ ہے تو بیٹری کا سیلف ڈسچارج ڈبل ہو جائے گا اور سلفیشن انتہائی تیز ہو جائے گی۔

4. بیٹری کا پانی وقت پر چیک نہ کرنا

جب بیٹری میں تیزاب کا لیول کم ہو جائے تو پلیٹیں ننگی ہو کر خشک ہونے لگتی ہیں۔ جہاں جہاں لیڈ سلفیٹ کی تہہ جمی رہ جائے وہ مزید سخت ہونے لگتی ہے۔ پلیٹوں کو زنگ کھانے لگتا ہے۔ الیکٹرولائٹ گاڑھا ہو جانے کی وجہ سے بیٹری گرم ہونے لگتی ہے اور بعض اوقات پھٹ بھی سکتی ہے۔ اِس لیے بیٹری کے پانی کو ہر گز نظر انداز نہ کریں۔

گرم علاقوں کے لوگ بیٹری کا پانی ہر پندرہ دن بعد اور ٹھنڈے علاقوں کے لوگ ہر مہینے بعد چیک ضرور کریں۔ اور یاد رہے، نل والا پانی ہر گز نہیں ڈالنا۔ ورنہ ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔

یہ تو ہیں سلفیشن کی سب سے اہم وجوہات۔ لیکن بد قسمتی سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں بیٹریوں میں سلفیشن پہلے سے ہی ہو چکی ہے۔ ممکن ہے آپ کی بیٹری بھی انہی میں شامل ہو۔ ویسے تو کم بیک اپ بھی سلفیشن کا ہی نتیجہ ہے لیکن آپ ملٹی میٹر کے ذریعے سلفیشن چیک کر یا کروا سکتے ہیں۔

اگر آپ کی لیڈ ایسڈ سٹارٹر بیٹری (عام یو پی ایس، سولر یا کار بیٹری) 3 سال سے پرانی نہیں اور اس کی وولٹیج 12.4 وولٹ سے کم ہے تو بیٹری انڈر چارجڈ ہے۔ یہ سلفیشن کی علامت ہے۔

اس مسئلے کو دو تین طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔ اگر سلفیشن ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا تو بیٹری کو کسی اچھے کاریگر سے سلو چارجر پر فل چارج کروائیں۔ اس سے لیڈ سلفیٹ کرسٹلز تیزاب میں حل ہو جائیں گے۔

دوسرا، مارکیٹ میں ڈی سلفیٹر یا بیٹری کنڈیشنر مل جاتے ہیں۔ یہ پلیٹوں کی صفائی کر دیتے ہیں۔ آپ وہ خرید کر بیٹری میں ڈال لیں۔ یہ ایک آسان اور اچھا طریقہ ہے۔

اگر سلفیشن بہت زیادہ ہو چکی ہے تو بیٹری بنوانی یا ایک مخصوص چارجر سے چارج کروانی پڑے گی۔ یہ چارجر بیٹری میں ایک خاص قسم کی کرنٹ پلس بھیجتا ہے جس سے کرسٹلز ٹوٹ جاتے ہیں۔ البتہ بیک اپ پوری طرح ری سٹور نہیں ہو پاتا۔

نوٹ: اگر آپ کی بیٹری کی پلیٹیں ٹوٹ چکی ہیں، سیل ڈیڈ ہو چکے ہیں، یا بیٹری 5 سال سے پرانی ہو چکی ہے تو یہ حل زیادہ فائدہ نہیں دیں گے۔ پلیٹیں چیک کرنے کے لیے بیٹری کے سارے ڈھکن احتیاط سے کھولیں۔ اگر تہہ میں براؤن یا سیاہ کچرا نظر آئے تو بیٹری کی پلیٹیں ٹوٹ چکی ہیں۔ اس صورت میں بیٹری بدلنی پڑے گی۔

ایجادات میں جو ظلم وی سی آر کے ساتھ ہوا ایسا کسی اور کے ساتھ نہیں ہوا اس آلہ پر اتنی محنت اور ٹیکنالوجی استعمال ہوئی کسی...
02/03/2025

ایجادات میں جو ظلم وی سی آر کے ساتھ ہوا ایسا کسی اور کے ساتھ نہیں ہوا اس آلہ پر اتنی محنت اور ٹیکنالوجی استعمال ہوئی کسی اور چیز میں نہیں ہوئی ایک کیسٹ کو اندر باہر کرنے کے لئے پچاس پچاس پرزے کام کرتے تھے مگر اس کے ساتھ ظلم یہ ہوا یہ ابھی ہر شخص کی پہنچ تک نہیں آیا تھا کے مارکیٹ میں ڈی وی ڈی نے اس کی کمر توڑ کر رکھ دی

وی سی آر ایک ایسا آلہ تھا جسے گھروں میں فلمیں دیکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ ایک بڑا سا ڈبہ ہوتا تھا جس میں کیسٹیں ڈال کر فلمیں چلائی جاتی تھیں۔ وی سی آر کا دور 80 کی دہائی میں بہت مشہور تھا لیکن بعد میں ڈی وی ڈی اور اسٹریمنگ سروسز کے آ جانے سے اس کی مقبولیت کم ہو گئی اور اب اسے بہت کم گھروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔۔۔۔☆

وی سی آر میں فلمیں کیسٹوں میں آتی تھیں جو بڑے سائز کی ہوتی تھیں
فلمیں ریکارڈ کرنا: وی سی آر کی مدد سے ٹی وی پروگرامز کو بھی ریکارڈ کیا جاتا تھا
وی سی آر نے گھروں میں سینما کا تجربہ فراہم کیا کیونکہ اس پر فلم سب گھر والے ساتھ بیٹھ کر دیکھتے تھے اس لئے کہ اس پر فلم چلتے وقت یا آگے پیچھے کرنے سے اس کے ہیڈ ڈرم پر کچرا آ جایا کرتا تھا جسے نئے نکور کرنسی سے صاف کیا جاتا رہا۔
بہت سے لوگوں کے لیے وی سی آر کیسٹیں ان کی قیمتی یادوں کا خزانہ ہیں۔
آج کل کے دور میں وی سی آر کو قدیم چیزوں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن یہ اپنی نوعیت کا ایک اہم آلہ تھا جس نے تفریح کے انداز کو بدل دیا تھا.

After the diode, the transistor is a basic semiconductor.  An example to understand that.
06/12/2022

After the diode, the transistor is a basic semiconductor. An example to understand that.

250 لیمووں سے 217 وولٹ ڈی سی با آسانی پیدا کئے جا سکتے ہیں۔
15/05/2022

250 لیمووں سے 217 وولٹ ڈی سی با آسانی پیدا کئے جا سکتے ہیں۔

Imported switch mode Adapteravailable at Asim Electronics Shop.Input: 100-240V AC Auto Control.Output: 12V DC 1.5A/2.0A/...
12/05/2022

Imported switch mode Adapter
available at Asim Electronics Shop.
Input: 100-240V AC Auto Control.
Output: 12V DC 1.5A/2.0A/2.5A/3.0A.

30/04/2022
Correct or Not Correct?
18/04/2021

Correct or Not Correct?

03/04/2021

کرونا ۱۹ قوالی ۔۔۔۔ ماہی وے ہتھ دھو کے آویں۔😍
ایک بار ضرور سنیں 😁

🚫ہوشیار فراڈ سے بچیں🚫السلام و علیکم آجکل ایک فراڈ عام  ہے مارکیٹ میں پرانے ٹیوبوں (والو) والے ٹی ویز, ریڈیوز، کی خریداری...
28/10/2019

🚫ہوشیار فراڈ سے بچیں🚫
السلام و علیکم
آجکل ایک فراڈ عام ہے مارکیٹ میں پرانے ٹیوبوں (والو) والے ٹی ویز, ریڈیوز، کی خریداری کے لیے کچھ سرگرم افراد کی طرف سے بھاری رقوم کی آفر جاری ہے۔میرے پاس بھی پچھلے دو ماہ کے دوران پندرہ کے لگ بھر افراد پوچھنے کے لیے آئے، ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کسی کے کہنے پر پرانے ٹی وی ریڈیو ڈھونڈ رہے تھے ابھی کل ہی کی بات ہے میرا دوست اپنا پرانا فلپس ٹی لے کر مرمت کے لیے آیا چیک کرنے کے بعد ایک اہم پرزہ فلائی بیک خراب نکلا جو شاپ پر نہ ہونے کی وجہ سے ٹی وی مالک کو خود لانے کا کہہ دیا، وہ صاحب فلائی بیک لینے پھالیہ چلے گئے انہوں نے وہاں جا کر فون کیا کہ فلائی بیک تو نہیں ملا مگر ایک دوکاندار کہہ رہے ہیں وہ آپ کا پرانا ٹی وی دیکھنے کے بعد اگر اس میں سرخ پانی (ریڈ مرکری) والی ٹیوب ہوئی تو ہم آپ کا ٹی وی خراب حالت میں لے کر اس کے بدلے آپ کو آپ کی چوائس کے مطابق مارکیٹ سے LED TV خرید دیں گے۔ اس دوران ٹی وی مالک نے فون پر مجھے اس صورت حال سے آگاہ کیا اور میری اس دوکاندار سے بات کروائی جو پرانے خراب ٹی وی کے بدلے من پسند LED آفر کر رہا تھا اس نے مجھ سے پوچھا کہ اس پرانے فلپس ٹی وی میں کوئی راڈ یا ٹیوب ایسی ہے جس میں سرخ رنگ کا پانی ہو۔ میں نے بھی صورت حال بھانپتے ہوئے جھٹ کہہ دیا کہ ٹی وی میں ایک نہیں ایک بڑی اور دو چھوٹے راڈ ہیں جن میں سرخ رنگ کا پانی ہے بس پھر کیا شام کے قریب وقت ہونے پر بھی اصرار کرنے لگا کہ میں ابھی آپ کے پاس پہنچ کر ٹی وی خریدنا چاہتا ہوں اور منہ مانگی رقم دینے کو بھی تیار ہوں خیر میرے پاس تو ایسا کوئی ٹی وی نہ تھا نہ کوئی ایسی ٹیوب سو میں نے معذرت کی لیکن وہ متواتر بضد تھا سو مجبورا اسے کسی بہانے دو دن کے لیے ٹال دیا۔ یقیناً آپ بھی بہت حیران ہوں گے۔ میں نے فورا ہی اس معاملے پر غور و خوض کے بعد تحقیق شروع کر دی کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ اور مختلف ذریعہ سے جو معلومات حاصل ہوئیں وہ آپ کے گوش گزار ہیں!
یہ وہی ہے جیسا پہلے فراڈ آیا تھا کہ بادلوں والے سکے، ایک روپے والا سکہ اور پچھلے دنوں چمگادڑوں کا گھونسلہ۔
دراصل کچھ ذہین لوگ منظم پلان کے مطابق ایسی افواہیں پھیلا کر ناکارہ چیز کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور بھاؤ بڑھا کر اپنا کباڑ لاکھوں میں سیل کرتے جاتے ہیں، اس فراڈ کو اچھے طریقے سے سمجھنے کے لیے پہلے ایک واقعہ حاضر خدمت ہے
کہیں جنگل کے پاس ایک گاؤں تھا وہاں بندر بھی بہت زیادہ رہتے تھے جو مختلف نسل کے بندر تھے اور گاؤں والوں کے ساتھ ہی گھومتے پھرتے تھے۔
وہاں ایک بار دو بندے باہر سے گئے اچھا لباس پہنے اور اچھی گاڑی پر روپے پیسے والے تھے۔ انہوں نے گاؤں والوں کو اکٹھا کیا کہ یہاں بندر کا ریٹ کیا ہے۔
گاؤں والوں نے کہا کہ انکا ریٹ کیا ہونا ویسے پھرتے ہیں یہاں تو ان بندوں نے گاؤں والوں کو کہا کہ ہمیں آپ 20 بندر ایسے پکڑ کے دے دیں جنکے بدن پر کالے دھبے ہوں تو ہم آپکو ایک بندر کا 20000 دیں گے گاؤں کے لوگ پہلے تو حیران ہوئے کہ ان بندروں کا بھلا کون 20 ہزار دے گا خیر انہوں نے جیسے تیسے کر کے 2 دنوں میں بندر دے دیئے اور 20 ہزار کے حساب سے پیسے لے لئے۔
ایسا ہی سلسلہ چلتا رہا کچھ عرصے بعد وہ آتے اور بندر لے جاتے اور بندروں کی قیمت 50 ہزار تک کر دی۔
پھر جب سارے کالے دھبے والے بندر ختم ہو گئے تو وہ لوگ چلے گئے۔
کچھ عرصے بعد وہ لوگ واپس آئے اور گاؤں والوں کو کہا کہ ہمیں ویسے ہی بندر چاہیئں وہ ہمارے باس نے منگوائے ہیں اور کسی خاص مقاصد کیلۓ لے کر جا رہے ہیں اب ایک بندر کے آپکو 1 کروڑ دیں گے اور ہم 1 مہینے بعد آئیں گے۔
گاؤں کے لوگوں نے کالے دھبے والے بندروں کی تلاش جاری رکھی مگر ناکام رہے۔
پھر چند دن بعد ان 2 بندوں کا تیسرا پارٹنر اسی گاؤں آیا جہاں لوگوں سے اس نے اس بارے میں سنا کہ کالے دھبے والے بندر ڈھونڈ رہے ہیں جو ایک کروڑ کے خریدیں گے ہم سے لوگ۔
اس بندے نے کہا ان سے کہ اگر میں آپنے گاؤں سے آپکو لا کر دوں تو مجھے کتنے پیسے دو گے۔
اوپر نیچے کمی پیشی چلتی رہی اور بات 20 لاکھ فی بندر پر ڈن ہوئی۔
گاؤں والوں نے زیورات بیچے، زمینیں بیچیں خیر پیسے اکٹھے کر لئے۔
اور اسی بندے سے 20 لاکھ کے حساب سے فی بندر خرید لئے، وہ بندہ گاؤں میں بندر پہنچا کر چلا گیا۔
گاؤں والے بندر لئے انتظار کرتے رہے مگر نہ کوئی آیا اور نا کسی نے آنا تھا۔
جو بندر انہوں نے 20 لاکھ کے خریدے وہی پہلے 20 ہزار کے بیچے تھے انہوں نے۔
چونا لگ گیا گاؤں والوں کو
آجکل 1960 سے 1980 ،تک کے ٹی وی پرانی الیکٹرونک اشیاء سلائی مشینیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ان میں ریڈ مرکری لیکویڈ کی ٹیوب ہے جسی مالیت لاکھوں میں ہے۔
اگر ریڈ مرکری دھات نایاب ترین دھات تھی اور جرمنی، فرانس کا دماغ خراب تھا وہ ٹی وی میں مرکری استعمال کرتے۔
یہ اس وقت کی والو یا ٹیوب ٹیکنولوجی تھی اس کے بعد جرمینیم ٹرانزسٹر پھر جدید سلیکان ٹرانزیسٹرز ان کی جگہ استعمال ہوئے، اور اب اس دور میں آئی سیز اور مائیکرو پروسیسر تک بن چکے ہیں اور الیکٹرانک اشیاء کی کارکردگی پہلے سے کہیں زیادہ اور حجم کم ہو رہا ہے۔
کچھ کا کہنا ہے کہ ایٹم بم میں یہ مرکری استعمال ہوتا ہے
اگر ایسا ہوتا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان اربوں روپے لگا کر ایٹم بم کیوں بناتے بلکہ کہیں آسان تھا ٹی وی خرید کر کسی مکینک کی دکان پر ایٹم بم بنا لیتے۔
ریڈ مرکری کا وجود ہے یا نہیں تحقیق کر لیں فراڈ اور افواہوں کے ضمن میں اس کا نام سننے کو ملے گا عالمی سطح پر ریڈ مرکری کو مہنگا ترین اور یورینیم سے بھی مہلک اور خرید و فروخت پر مخصوص حالات میں محض پروپگینڈا کے ذریعے فراڈ سے کئی اہداف پورے کئے گئے، جس کی بعد میں قلعی کھل گئی، سسپنس سائینس فکشن ہالی وڈ فلمیں میں بھی اس افسانوی فرسودہ مفروضے کو بنیاد بنا کر شائقین کی توجہ و دلچسپی حاصل کر کے ریکارڈ بزنس کیا۔ آپ کو یاد ہوگا پارے سے بنایا ہوا ایک کردار جب بم بلاسٹ سے پگھل کر زمین پہ پارے کی طرح بہتے ہوئے دوبارہ سمٹ کر اپنی پہلی حالت میں واپس آ جاتا ہے اور بعض ہولو مین کا روپ دھارے لوگوں کو دکھائی نہیں دیتے حالانکہ وہ لوگوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ دلچسپی اور گہرے اثرات سے لوگوں نے کئی توہمات ایجاد کر لیں۔ مثلآ ریڈ مرکری جادوئی پرسرار جاودوئی اثرات رکھتا ہے، مختلف بیماریوں کا حیرت انگیز علاج ہے کسی نے کہا ایٹم بم سے بھی مہلک ہے، کسی نے کہا لہسن کی پوتھی سے مقناطیس کی ہم سمتوں کی طرح دور بھاگتا ہے، ریڈ مرکری سے دھاتوں کو سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے وغیرہ وغیرہ
پھر پھرا کر یہ ریڈ مرکری نامی عالمی پلندا پاکستان میں بھی زور پکڑ چکا ہے یہ کئی لوگوں کی زندگی تو شاید بدل دے لیکن بہت سارے لوگوں کی جمع پونجی اڑا لے جائے گا، ہنسے کی بات ہے ڈھونڈنے والے ریڈ مرکری کو سن 70،60 کی دہائی میں بننے والے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ریڈیو کے پارٹس میں تلاش کر رہے ہیں کچھ خدا کا خوف نہیں اتنے پرانے کمیاب پارٹس کی ڈیمانڈ لاکھوں کروڑوں تک بڑھا کر آپ کو پری پلان کے مطابق پرانے بلیک اینڈ وائٹ بیکار ٹی وی ہزاروں لاکھوں میں بیج دیں گے وہ آپ انتظار کرتے رہیں گے کہ آپ کے خریدے گئے ایک لاکھ کے ٹی وی کو کوئی دس لاکھ میں لے جائے مگر کوئی نہیں آئے گا اور کباڑیہ شاید سو پچاس روپے دے جائے۔
لالچ بری بلا ہے ایسے فراڈ سے بچیں، جو روزی روٹی جہاں سے جتنی مل رہی ہے اسی پر ہی خدا کا شکر ادا کریں
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں
(شبیر عدنان کھوکھر عاصم الیکٹرونکس پاہڑیانوالی)

Address

Pahrianwali
50300

Opening Hours

Monday 10:00 - 21:30
Tuesday 10:00 - 21:30
Wednesday 10:00 - 21:30
Thursday 10:00 - 21:30
Friday 10:00 - 21:30
Saturday 10:00 - 21:30
Sunday 10:00 - 21:30

Telephone

00923015001950

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asim Electronics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Asim Electronics:

Share