28/10/2019
🚫ہوشیار فراڈ سے بچیں🚫
السلام و علیکم
آجکل ایک فراڈ عام ہے مارکیٹ میں پرانے ٹیوبوں (والو) والے ٹی ویز, ریڈیوز، کی خریداری کے لیے کچھ سرگرم افراد کی طرف سے بھاری رقوم کی آفر جاری ہے۔میرے پاس بھی پچھلے دو ماہ کے دوران پندرہ کے لگ بھر افراد پوچھنے کے لیے آئے، ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کسی کے کہنے پر پرانے ٹی وی ریڈیو ڈھونڈ رہے تھے ابھی کل ہی کی بات ہے میرا دوست اپنا پرانا فلپس ٹی لے کر مرمت کے لیے آیا چیک کرنے کے بعد ایک اہم پرزہ فلائی بیک خراب نکلا جو شاپ پر نہ ہونے کی وجہ سے ٹی وی مالک کو خود لانے کا کہہ دیا، وہ صاحب فلائی بیک لینے پھالیہ چلے گئے انہوں نے وہاں جا کر فون کیا کہ فلائی بیک تو نہیں ملا مگر ایک دوکاندار کہہ رہے ہیں وہ آپ کا پرانا ٹی وی دیکھنے کے بعد اگر اس میں سرخ پانی (ریڈ مرکری) والی ٹیوب ہوئی تو ہم آپ کا ٹی وی خراب حالت میں لے کر اس کے بدلے آپ کو آپ کی چوائس کے مطابق مارکیٹ سے LED TV خرید دیں گے۔ اس دوران ٹی وی مالک نے فون پر مجھے اس صورت حال سے آگاہ کیا اور میری اس دوکاندار سے بات کروائی جو پرانے خراب ٹی وی کے بدلے من پسند LED آفر کر رہا تھا اس نے مجھ سے پوچھا کہ اس پرانے فلپس ٹی وی میں کوئی راڈ یا ٹیوب ایسی ہے جس میں سرخ رنگ کا پانی ہو۔ میں نے بھی صورت حال بھانپتے ہوئے جھٹ کہہ دیا کہ ٹی وی میں ایک نہیں ایک بڑی اور دو چھوٹے راڈ ہیں جن میں سرخ رنگ کا پانی ہے بس پھر کیا شام کے قریب وقت ہونے پر بھی اصرار کرنے لگا کہ میں ابھی آپ کے پاس پہنچ کر ٹی وی خریدنا چاہتا ہوں اور منہ مانگی رقم دینے کو بھی تیار ہوں خیر میرے پاس تو ایسا کوئی ٹی وی نہ تھا نہ کوئی ایسی ٹیوب سو میں نے معذرت کی لیکن وہ متواتر بضد تھا سو مجبورا اسے کسی بہانے دو دن کے لیے ٹال دیا۔ یقیناً آپ بھی بہت حیران ہوں گے۔ میں نے فورا ہی اس معاملے پر غور و خوض کے بعد تحقیق شروع کر دی کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ اور مختلف ذریعہ سے جو معلومات حاصل ہوئیں وہ آپ کے گوش گزار ہیں!
یہ وہی ہے جیسا پہلے فراڈ آیا تھا کہ بادلوں والے سکے، ایک روپے والا سکہ اور پچھلے دنوں چمگادڑوں کا گھونسلہ۔
دراصل کچھ ذہین لوگ منظم پلان کے مطابق ایسی افواہیں پھیلا کر ناکارہ چیز کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور بھاؤ بڑھا کر اپنا کباڑ لاکھوں میں سیل کرتے جاتے ہیں، اس فراڈ کو اچھے طریقے سے سمجھنے کے لیے پہلے ایک واقعہ حاضر خدمت ہے
کہیں جنگل کے پاس ایک گاؤں تھا وہاں بندر بھی بہت زیادہ رہتے تھے جو مختلف نسل کے بندر تھے اور گاؤں والوں کے ساتھ ہی گھومتے پھرتے تھے۔
وہاں ایک بار دو بندے باہر سے گئے اچھا لباس پہنے اور اچھی گاڑی پر روپے پیسے والے تھے۔ انہوں نے گاؤں والوں کو اکٹھا کیا کہ یہاں بندر کا ریٹ کیا ہے۔
گاؤں والوں نے کہا کہ انکا ریٹ کیا ہونا ویسے پھرتے ہیں یہاں تو ان بندوں نے گاؤں والوں کو کہا کہ ہمیں آپ 20 بندر ایسے پکڑ کے دے دیں جنکے بدن پر کالے دھبے ہوں تو ہم آپکو ایک بندر کا 20000 دیں گے گاؤں کے لوگ پہلے تو حیران ہوئے کہ ان بندروں کا بھلا کون 20 ہزار دے گا خیر انہوں نے جیسے تیسے کر کے 2 دنوں میں بندر دے دیئے اور 20 ہزار کے حساب سے پیسے لے لئے۔
ایسا ہی سلسلہ چلتا رہا کچھ عرصے بعد وہ آتے اور بندر لے جاتے اور بندروں کی قیمت 50 ہزار تک کر دی۔
پھر جب سارے کالے دھبے والے بندر ختم ہو گئے تو وہ لوگ چلے گئے۔
کچھ عرصے بعد وہ لوگ واپس آئے اور گاؤں والوں کو کہا کہ ہمیں ویسے ہی بندر چاہیئں وہ ہمارے باس نے منگوائے ہیں اور کسی خاص مقاصد کیلۓ لے کر جا رہے ہیں اب ایک بندر کے آپکو 1 کروڑ دیں گے اور ہم 1 مہینے بعد آئیں گے۔
گاؤں کے لوگوں نے کالے دھبے والے بندروں کی تلاش جاری رکھی مگر ناکام رہے۔
پھر چند دن بعد ان 2 بندوں کا تیسرا پارٹنر اسی گاؤں آیا جہاں لوگوں سے اس نے اس بارے میں سنا کہ کالے دھبے والے بندر ڈھونڈ رہے ہیں جو ایک کروڑ کے خریدیں گے ہم سے لوگ۔
اس بندے نے کہا ان سے کہ اگر میں آپنے گاؤں سے آپکو لا کر دوں تو مجھے کتنے پیسے دو گے۔
اوپر نیچے کمی پیشی چلتی رہی اور بات 20 لاکھ فی بندر پر ڈن ہوئی۔
گاؤں والوں نے زیورات بیچے، زمینیں بیچیں خیر پیسے اکٹھے کر لئے۔
اور اسی بندے سے 20 لاکھ کے حساب سے فی بندر خرید لئے، وہ بندہ گاؤں میں بندر پہنچا کر چلا گیا۔
گاؤں والے بندر لئے انتظار کرتے رہے مگر نہ کوئی آیا اور نا کسی نے آنا تھا۔
جو بندر انہوں نے 20 لاکھ کے خریدے وہی پہلے 20 ہزار کے بیچے تھے انہوں نے۔
چونا لگ گیا گاؤں والوں کو
آجکل 1960 سے 1980 ،تک کے ٹی وی پرانی الیکٹرونک اشیاء سلائی مشینیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ان میں ریڈ مرکری لیکویڈ کی ٹیوب ہے جسی مالیت لاکھوں میں ہے۔
اگر ریڈ مرکری دھات نایاب ترین دھات تھی اور جرمنی، فرانس کا دماغ خراب تھا وہ ٹی وی میں مرکری استعمال کرتے۔
یہ اس وقت کی والو یا ٹیوب ٹیکنولوجی تھی اس کے بعد جرمینیم ٹرانزسٹر پھر جدید سلیکان ٹرانزیسٹرز ان کی جگہ استعمال ہوئے، اور اب اس دور میں آئی سیز اور مائیکرو پروسیسر تک بن چکے ہیں اور الیکٹرانک اشیاء کی کارکردگی پہلے سے کہیں زیادہ اور حجم کم ہو رہا ہے۔
کچھ کا کہنا ہے کہ ایٹم بم میں یہ مرکری استعمال ہوتا ہے
اگر ایسا ہوتا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان اربوں روپے لگا کر ایٹم بم کیوں بناتے بلکہ کہیں آسان تھا ٹی وی خرید کر کسی مکینک کی دکان پر ایٹم بم بنا لیتے۔
ریڈ مرکری کا وجود ہے یا نہیں تحقیق کر لیں فراڈ اور افواہوں کے ضمن میں اس کا نام سننے کو ملے گا عالمی سطح پر ریڈ مرکری کو مہنگا ترین اور یورینیم سے بھی مہلک اور خرید و فروخت پر مخصوص حالات میں محض پروپگینڈا کے ذریعے فراڈ سے کئی اہداف پورے کئے گئے، جس کی بعد میں قلعی کھل گئی، سسپنس سائینس فکشن ہالی وڈ فلمیں میں بھی اس افسانوی فرسودہ مفروضے کو بنیاد بنا کر شائقین کی توجہ و دلچسپی حاصل کر کے ریکارڈ بزنس کیا۔ آپ کو یاد ہوگا پارے سے بنایا ہوا ایک کردار جب بم بلاسٹ سے پگھل کر زمین پہ پارے کی طرح بہتے ہوئے دوبارہ سمٹ کر اپنی پہلی حالت میں واپس آ جاتا ہے اور بعض ہولو مین کا روپ دھارے لوگوں کو دکھائی نہیں دیتے حالانکہ وہ لوگوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ دلچسپی اور گہرے اثرات سے لوگوں نے کئی توہمات ایجاد کر لیں۔ مثلآ ریڈ مرکری جادوئی پرسرار جاودوئی اثرات رکھتا ہے، مختلف بیماریوں کا حیرت انگیز علاج ہے کسی نے کہا ایٹم بم سے بھی مہلک ہے، کسی نے کہا لہسن کی پوتھی سے مقناطیس کی ہم سمتوں کی طرح دور بھاگتا ہے، ریڈ مرکری سے دھاتوں کو سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے وغیرہ وغیرہ
پھر پھرا کر یہ ریڈ مرکری نامی عالمی پلندا پاکستان میں بھی زور پکڑ چکا ہے یہ کئی لوگوں کی زندگی تو شاید بدل دے لیکن بہت سارے لوگوں کی جمع پونجی اڑا لے جائے گا، ہنسے کی بات ہے ڈھونڈنے والے ریڈ مرکری کو سن 70،60 کی دہائی میں بننے والے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ریڈیو کے پارٹس میں تلاش کر رہے ہیں کچھ خدا کا خوف نہیں اتنے پرانے کمیاب پارٹس کی ڈیمانڈ لاکھوں کروڑوں تک بڑھا کر آپ کو پری پلان کے مطابق پرانے بلیک اینڈ وائٹ بیکار ٹی وی ہزاروں لاکھوں میں بیج دیں گے وہ آپ انتظار کرتے رہیں گے کہ آپ کے خریدے گئے ایک لاکھ کے ٹی وی کو کوئی دس لاکھ میں لے جائے مگر کوئی نہیں آئے گا اور کباڑیہ شاید سو پچاس روپے دے جائے۔
لالچ بری بلا ہے ایسے فراڈ سے بچیں، جو روزی روٹی جہاں سے جتنی مل رہی ہے اسی پر ہی خدا کا شکر ادا کریں
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں
(شبیر عدنان کھوکھر عاصم الیکٹرونکس پاہڑیانوالی)