Pakpattan Chamber of Commerce & Industry

Pakpattan Chamber of Commerce & Industry Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pakpattan Chamber of Commerce & Industry, Business service, Ganj Shakar Road Near Shell Petrol Pump, Sahiwal Road, Pakpattan.

Pakpattan Chamber of Commerce & Industry (PCCI) is committed to promoting local businesses, empowering entrepreneurs, supporting SMEs, and fostering economic growth through advocacy, networking, trade events, and industry collaboration.

07/01/2026
07/01/2026
01/12/2025

: "قانون… جہاں ریاست کا وقار اور عوام کا اعتماد ملتے ہیں"

تحریر: دیوان عظمت محمود چشتی

قانون کی اصل جگہ سنگین دفعات کی کتابیں نہیں، بلکہ عوام کے دل ہوتے ہیں۔ جس دن کوئی قوم اپنے دلوں میں قانون کے لیے احترام پیدا کر لے، اسی دن اس کے سفر کی سمت بھی بدل جاتی ہے اور اس کے شہروں کی سڑکیں بھی۔ لیکن احترام دباؤ سے نہیں بنتا، یہ احساس سے جنم لیتا ہے۔ نرمی، سہولت اور عدل—یہ وہ تین ستون ہیں جن پر قانون کا وقار قائم ہوتا ہے۔

آج ہمارے ملک میں ٹریفک قوانین کے حوالے سے سختی اپنی جگہ درست ہے۔ سڑکوں پر بڑھتی حد سے زیادہ رفتار، بے احتیاطی اور لاپرواہی کسی بھی civilized society کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف سختی وہ واحد چابی ہے جو اس نظام کو درست کر سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سختی خوف پیدا کر سکتی ہے، نظم نہیں۔ نظم ہمیشہ شعور، اصلاح اور سہولت کے امتزاج سے جنم لیتا ہے۔

ہیلمٹ—محض جرمانہ نہیں، زندگی کی حفاظت کا پیغام

بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے والا یقینی طور پر غلطی پر ہے، لیکن اگر اس غلطی کی سزا صرف چالان بن جائے تو وہ لمحہ اس کے لیے ایک تکلیف ہے، تربیت نہیں۔ اگر اسی چالان کی رقم سے موقع پر ہی ایک معیاری ہیلمٹ فراہم کر دیا جائے تو یہی جزا اصلاح میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
یہ طریقہ شہری کو احساس دلاتا ہے کہ ریاست اس کی جان کی دشمن نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں اس کی خیرخواہ ہے۔

لائسنس—سزا سے زیادہ تربیت کی ضرورت

بغیر لائسنس گاڑی چلانا قابلِ گرفت ہے، مگر اس مسئلے کی تہہ سزا نہیں، سہولت ہے۔ جب تک لائسنس بنوانے کا عمل مشکل، سست اور پیچیدہ رہے گا، لوگ شارٹ کٹ ہی ڈھونڈتے رہیں گے۔ اگر موقع پر بائیومیٹرک، ڈیٹا اندراج، اور لائسنس کی ابتدائی کارروائی شروع کی جائے، اور جرمانہ فیس میں ایڈجسٹ کر دیا جائے، تو یہ قدم صرف ایک شخص کو قانون کے دائرے میں نہیں لاتا، بلکہ پورے نظام میں شفافیت اور آسانی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

پولیس—ریاست کا چہرہ، لہذا نرم ہونا لازم

قانون کی نرمی کمزور ہونے کی علامت نہیں، بلکہ مضبوط ہونے کی دلیل ہے۔ پولیس کا نرم لہجہ، باوقار رویّہ اور مختصر مگر جامع رہنمائی شہری کو باور کراتی ہے کہ قانون اس پر مسلط نہیں—قانون اس کی حفاظت کا ضامن ہے۔
کسی بھی ریاست کا چہرہ اس کی پولیس ہوتی ہے۔ اگر یہ چہرہ مسکراتا ہو، وقار سے بات کرتا ہو، اور عزتِ نفس کو مجروح نہ کرے، تو شہری دل سے قانون کا احترام کرتا ہے۔

آگاہی—وہ روشنی جو سڑکوں پر بھی جگمگاتی ہے اور ذہنوں میں بھی

قانون کا سب سے طاقتور پہلو شعور ہے۔ اگر بڑے چوراہوں، مارکیٹوں، تعلیمی اداروں اور ورکشاپس میں ٹریفک آگاہی کے مراکز بنا دیے جائیں، تو یہ اصلاح وہ فائدہ دے سکتی ہے جو سو جرمانوں سے بھی نہیں ملتا۔
قومیں کیمرے لگا کر نہیں بدلیں، شعور جگا کر بدلی ہیں۔

قانون کی کامیابی—جب شہری اسے سزا نہیں، سہولت سمجھیں

دنیا کے بہترین معاشرے وہی ہیں جہاں قانون عوام کو سزا دینے سے پہلے انہیں سہولت دیتا ہے۔ جہاں جرم کرنے والا یہ نہیں سوچتا کہ میں پکڑا نہ جاؤں، بلکہ یہ سوچتا ہے کہ میں غلط نہ کروں۔

ہمیں اپنے ٹریفک نظام کو بھی یہی سوچ دینا ہوگی۔ قانون کو خوف کی علامت نہیں، اعتماد اور آسودگی کی علامت بنانا ہوگا۔ جب شہری محسوس کرے گا کہ قانون اس کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ہے، تب وہ اس پر بغیر دباؤ کے بھی عمل کرے گا۔

آخر میں…

ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ قانون کی سختی سے نہیں بڑھتا، قانون کی بے روحی سے بڑھتا ہے۔ ہمیں اپنے قوانین کو روح دینا ہوگی—عدل کی، نرمی کی، اور سہولت کی روح۔ یہی وہ راستہ ہے جو سڑکوں کو بھی محفوظ کرے گا اور قوم کو بھی مہذب۔

Address

Ganj Shakar Road Near Shell Petrol Pump, Sahiwal Road
Pakpattan
57400

Opening Hours

Monday 08:00 - 17:00
Tuesday 08:00 - 17:00
Wednesday 08:00 - 17:00
Thursday 08:00 - 17:00
Friday 08:00 - 17:00
Saturday 08:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakpattan Chamber of Commerce & Industry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share