25/12/2022
ٹوئن ٹاورز والے واقعے کو 22 سال ہونے کو آئے۔ دنیا کب کی اس واقعے پر دھول ڈال کر آگے نکل گئی پر پاکستان کے مقدر میں کوئی بھلائی نہیں
اتنے سال بیت گئے پر ہماری مغربی بارڈرز آج بھی سلگ رہی ہیں۔ ہماری پشتون بیلٹ آج بھی محفوظ نہیں
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ہماری، اور ہم امریکہ کی جان چھوڑنے کو تیار نہیں
آگ پھر سے بھڑکائی جارہی ہے۔ اسٹیج پھر سے تیار ہے
دنیا تعلیم، معشیت، ٹیکنالوجی میں ایکسل کرے گی، اسٹارٹ اپس ڈسکس ہوں گے
جبکہ پاکستان ایک بار پھر دہشتگردی، جنگ اور آپریشنز کے لیے اوزار تیز کرے گا
زیادہ کھل کر لکھنا نہیں چاہتا پر آج کا سلیم صافی کا کالم پڑھ لیجیے
موصوف کو پھر سے امریکی ڈرونز کی یاد ستارہی ہے۔ امریکہ سے پھر سے ملٹری تعاون کے غم میں گھل رہے ہیں
رجیم چینج چھوٹا موٹا نہیں، بہت لمبا گیم ہے
عمران خان کا کسی بھی جنگ کا ایندھن بننے اور اڈے نہ دینے کا بیان رینڈم نہیں تھا۔ اس پر زبردست پریشر تھا۔ آنے والے حالات سے بچنے کی کوشش تھی۔ اس کی اسی ضد کی وجہ سے اس کی حکومت کو یوں بے رحمی سے کچلا گیا اور اس امریکی بھکاری ٹولے کو مسلط کیا جس کا پہلا بیان ہی یہ تھا کہ beggars can't be choosers
عمران خان یا شہباز شریف بچے نہیں۔ ملک کے وزیراعظم رہے ہیں۔ انھیں آنے والی ہواؤں کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ ان کا ہر اسٹیٹمنٹ ملک کی آئندہ اپنائی جانے والی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے
تو اب،
شہباز شریف سے "بلوائی" گئی پالیسی پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے
میں کھل کر نہیں بول سکتا
اشاروں کنایوں میں بات سمجھا دیتا ہوں۔ سمجھدار سمجھ جائیں گے
آپ کے ہاں پانی آرہا ہو تو آپ کبھی اضافی پیسے دے کر ٹینکر نہیں ڈلوائیں گے
ٹینکر مافیا اس حقیقت کو جانتا ہے
وہ "ڈیمانڈ" پیدا کرنے کے لیے آپ کی لائن کا پانی ہی بند کروادے گا
اب آپ کے اچھے بھی ٹینکر ڈلوائیں گے
آپ کا پانی بند کیا جانے والا ہے تاکہ آپ خود چل کر ٹینکر مافیا کے پاس جائیں
آنے والے وقتوں میں، میں ایسی زبردستی کی پیدا کی جانے والی "ڈیمانڈ" سے ڈرتا ہوں
اللّٰہ اس ملک پر رحم فرمائے۔۔۔۔۔۔۔
میری دلی خواہش ہے کہ میرے یہ تمام خدشات بے بنیاد اور لغو ثابت ہوں اور حافج جی پاکستان کو دوبارہ کسی پرائی جنگ میں ملوث نہ کریں۔