Wealth Bridge Consultancy

Wealth Bridge Consultancy Tax,Audit and Consultancy Services

12/06/2021
17/01/2021
14/12/2020

One of the leading bank required CV's for Audit office peshawar ( req ,, MBA,M.Com with banking experience ACCA will be prfr )please forward your CV on [email protected]

10/12/2020

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وضاحت جاری کی ہے کہ ٹیکس گزاروں کو توسیع شدہ تاریخ گزرنے کے بعد بھی قانون کے مطابق سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کی اجازت ہے۔ ٹیکس گزاروں کی بہتری کے لئے ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ وہ جتنا جلد ممکن ہو اپنے ٹیکس گوشوارے داخل کر لیں کیونکہ دیر سے گوشوارے فائل کرنے والے پرقانونا'' جرمانہ بھی اسی حساب سے عائد ہو گا۔ واضح رہے کہ ایف بی آر نے ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے 8 دسمبر کے بعد بھی بغیر جرمانہ انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کی اجازت دی تھی جس کے لئے آن لائن یا مینوئل طریقہ سے متعلقہ فیلڈ دفتر کو تاریخ میں توسیع حاصل کرنےکے لئے 8 دسمبر تک درخواست جمع کرانا ضروری تھا۔ فیلڈ دفاتر کوخصوصی ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ ٹیکس گزاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ٹیکس گزار بر وقت اپنے ٹیکس گوشوارے داخل کر سکیں۔ مزید برآں ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کے اہل ہونے کے باوجود گوشوارے داخل نہ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق جلد کاروائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔

06/12/2020

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے مخصوص اشیاء جیسے تمباکو، سیمنٹ، چینی اور کھادکی انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے تحت الیکٹرانک مانیٹرنگ کے پانچ سالہ لائیسینس کے اجراء کے لئے پری بڈنگ کانفرس کا اہتمام کیا۔ پری بڈنگ کانفرس کا انعقاد ایف بی آر ہیڈ کوارٹر میں کیا گیا جس میں پچیس شرکاء نے شرکت کی۔ مزید پندرہ شرکاء زوم zoom میٹنگ کے ذریعے شامل ہوئے۔ کانفرس کی صدارت ممبر آئی آر آپریشنز ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے کی۔ پراجیکٹ ڈائیریکٹر ٹریک اینڈ ٹریس نظام طارق حسین شیخ بھی کانفرس میں موجود تھے۔
ممبر آئی آر آپریشنز اور پراجیکٹ ڈائریکٹر نے ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی افادیت، خصوصیات اور پاکستان میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے باعث انسانی عمل دخل کم سے کم ہو جائے گا۔ ریونیو کے نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے گا اور مخصوص اشیاء کی کم فروخت کو ظاہر کرنے کا رحجان کم ہو گا اور وقت پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔
شرکاء نے پراجیکٹ میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور نظام سے مکمل آگاہی حاصل کرنے کے لئے سوالات پوچھے جن کے تسلی بخش جوابات دیئے گئے۔ ایف بی آر ٹیم نے وضاحت کی کہ بولی کی آخری تاریخ 19 دسمبر2020 ہے جس میں مزید کوئی توسیع نہیں کی جائے گی کیونکہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام کا اجراء 30 جون 2021 تک کردیا جائے گا۔

05/12/2020
03/12/2020

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو اور نیا پاکستان ہاوسنگ ترقیاتی اتھارٹی نے عوام الناس اور تعمیراتی صنعت سے وابستہ سرمایہ داروں کو ایک مرتبہ پھر اس بات کی یا د دہانی کروائی ہے کہ وزیر اعظم کا بلڈرزاور ڈویلپرز کے لئے اعلان کردہ کنسٹرکشن پیکج میں قابل نمایاں کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ یہ پیکج انکم ٹیکس آرڈینینس 2001 میں شق 100ڈی اور گیارویں شیڈول میں اضافہ کے ساتھ ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈینینس 2020کے تحت نافذالعمل ہوا۔ کنسٹرکشن پیکج کا دائر ہ کار وسیع ہے جس کے تحت نہایت پرکشش ٹیکس رعایات حاصل ہو سکتی ہیں۔
یہ کنسٹرکشن پیکج لینڈ بلڈرز اور ڈویلپرز پر لاگو ہوتا ہے اور اس کے دائر ہ کار میں نئے اور موجودہ صنعتی اورترقیاتی پراجیکٹس دونوں آتے ہیں۔ بلڈرز اور ڈویلپرز رہائشی اور کمرشل تعمیرات پر ٹیکس کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ فوائد افراد، ایسوسی ایشن آف پرسنز اور کمپنیوں کو بھی حاصل ہیں۔ اس پیکج کے تحت بلڈرز اور ڈویلپرزکے لئے ہر مربع فٹ اور مربع گز پر فکسڈ ٹیکس شرح کا اطلاق ہوگا۔پیکج کے تحت کم لاگت ہاوسنگ پراجیکٹس کی صورت میں ٹیکس میں نوے فیصد کمی حاصل ہو گی۔ کمپنیوں کے شئیر ہولڈرز کی سہولت کے لئے منافع آمدن پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہو گا۔ اس پیکج کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی خاطر خواہ چھوٹ دی گئی ہے۔ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے بلڈرز اور ڈویلپرز اور جائیداد کے خریداروں کے لئے شرائط کی تکمیل پر سرمایہ کاری کی آمدن پر کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔ اس پیکج سے مستفید ہونے کا نہایت آسان طریقہ کار ہے ۔ بلڈرز اور ڈویلپرز کو 31 دسمبر 2020 تک ایف بی آر کے آئرس سافٹ وئیر پر رجسٹر ہونا پڑے گا۔ بلڈرز اور ڈویلپرز کو پراجیکٹ کی تکمیل کو 30 ستمبر 2022 تک یقینی بنانا پڑے گا۔ رجسٹریشن کے لئے بینک اکاونٹ ، ملکیتی کاغذات اور منظور پلان کی تفصیلات درکار ہوں گی۔ ایف بی آر کا سسٹم عارضی رجسٹریشن کی سہولت بھی دے رہا ہے اس صورت میں جبکہ پراجیکٹس پلان کی منظوری پراسیس میں ہو۔ بلڈرز ، ڈویلپرز اور خریداروں کی سہولت کے لئے آن لائن سپورٹ فراہم کی جار ہی ہے۔ ایف بی آر کی ویب سائٹ پر نمایا ں بینرزاور ویب پیج تشکیل دیا گیا ہے۔ سوالات کے جوابات کے لئے مخصوص ای میل ایڈریس دیا گیا ہے اور رجسٹریشن سے متعلق مکمل راہ نمائی اپلوڈ کی گئی ہے۔ ا ب تک 57 کثرت سے کئے جانے والے سوالات کے جوابات دیئے جا چکے ہیں اور اپلوڈ کر دیئے گئے ہیں۔ کنسٹرکشن پیکج کی اخباروں اور الیکٹرانک میڈیا پر نمایاں تشہیر کی جا چکی ہےاور کئی ویبے نار سیشنز ایف بی آر اور نیا پاکستان ہاوسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے منعقد کئے جا چکے ہیں۔ بلڈرز ، ڈویلپرز اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی ایسوسی ایشن کے ساتھ سیمینارز منعقد کئے جا چکے ہیں۔ اب تک 348 افراد نے 389 پراجیکٹس رجسٹرڈ کئے ہیں جن کی کل مالیت 157 ارب روپے ہے۔ جوں جوں آخری تاریخ قریب آرہی ہے رجسٹریشن میں اضافہ ہو رہا ہے۔

02/12/2020
Federal Board of Revenue (FBR) has issued a clarification on the news item published in daily “The News” with a caption,...
02/12/2020

Federal Board of Revenue (FBR) has issued a clarification on the news item published in daily “The News” with a caption, “Authorities faces legal challenge on tax concession for Naya Pakistan Certificate”. FBR has clarified that Naya Pakistan Certificate, a new instrument launched by the Government/ State Bank of Pakistan, qualifies as debt instrument in terms of Clause (5AA) of Part-II of the Second Schedule of the Income Tax Ordinance, 2001. Therefore, profit on debt on the Naya Pakistan Certificate is subject to tax @ 10% which is final tax. Moreover, such non-residents are not required to file tax return solely for the declaration of tax deduction on profit on debt. It may be added that the aforesaid concessionary tax regime is applicable to non-residents only.

25/11/2020

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سمگلنگ سے متعلق انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون میں چھپنے والی خبر پر وضاحتی پریس ریلیز جاری کی ہے ۔ وضاحت کی گئی ہے کہ اخباری رپورٹر نے سال 2018 میں اشیاء کی سمگلنگ سے متعلق جاری کردہ سٹڈی کا حوالہ دیا ہے جس میں درج شدہ اعدادو شمار حکومت کے حالیہ اقدامات کے تناظر میں فرسودہ اور پرانے ہو گئے ہیں۔ حکومت کو سمگلنگ کے ریونیو پر منفی اثرات کا بخوبی اندازہ ہے ۔حکومت نے سمگلنگ کی روک تھام کے لئے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔
ایف بی آر نے کہا ہے کہ خبر میں رپورٹرنے لکھا ہے کہ ملک میں 74 فیصد استعمال شدہ موبائل فونز سمگل شدہ ہیں جو کہ سرا سر غلط رپورٹنگ ہے۔ پاکستان کسٹمز نے پی ٹی اے کے اشتراک سے ڈرب DIRBS نامی نظام متعارف کیا ہے تا کہ موبائل فونز کی رجسٹریشن کی جا سکے ۔ اس نظام کی بدولت کوئی بھی نان ڈیوٹی پیڈ یا سمگل شدہ فون پاکستان میں واجب الادا ٹیکسز کی ادائیگی اور پی ٹی اے سے رجسٹریشن کے بغیر استعمال نہیں ہو سکتا۔ سال 2019-20 میں پاکستان کسٹمز نے اس نظام کی بدولت 54 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا ہے ۔ ان کامیاب اقداما ت کی وجہ سے ملک بھر میں سرمایہ کاری کو فروغ ملا ہے اور اب سترہ کمپنیاں پاکستان میں موبائل فونز مینو فیکچر کر رہی ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے درست استعمال اور سمگلرز کے خلاف کامیاب آپریشنز کی وجہ سے سمگلنگ کی روک تھام میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے جس کی وجہ سے مقامی صنعت کو فروغ ملا ہے۔ کرونا وبا کے باعث ڈیمانڈ میں کمی کے باوجود ٹیکسٹائل صنعت ملک میں فروغ پارہی ہے جس کی وجہ سمگل شدہ اشیاء کی عدم دستیابی ہے۔
سمگلنگ کی روک تھام پر لئے گئے دوسرے حالیہ اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے ایف بی آر نے کہا کہ سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ممبران پر مشتمل ایک قومی سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کہ باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرتی ہے اور سمگلنگ کی روک تھام اور تمام قانون نافذکرنے والے اداروں کے اشتراک کو یقنی بنانے کے لئے حکمت عملی ترتیب دیتی ہے۔ پاکستان کسٹمز نے رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں پہلی مرتبہ 23 ارب روپے مالیت کی سمگل شدہ اشیاء ضبط کی ہیں جو کہ پچھلے سال کی نسبت 43 فیصد زائد ہے۔ کسٹمز ایکٹ 1969 میں ترامیم کی گئی ہیں تا کہ سمگلنگ کرنے والے افراد کی جائیداد اور گوداموں کی ضبطگی، جرمانہ اور دس سال تک سزا عمل میں لائی جا سکے۔ جاری کردہ خبر فرسودہ اور موجودہ حالات میں گمراہ کن ہے۔

Address

TF-219 Deans Trade Center Peshawar Sadar
Peshawar

Opening Hours

09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wealth Bridge Consultancy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share