26/05/2026
خیبر پختونخوا کے قومی وسائل
پاکستان میں موجود تمام سنگِ مرمر (ماربل) کے ذخائر کا تقریباً 90 فیصد حصہ خیبر پختونخوا کے نئے اضلاع میں واقع ہے، جن کا تخمینہ سات ارب ٹن لگایا گیا ہے۔ اب تک ماربل کی تقریباً 64 اقسام دریافت کی جا چکی ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ غیر سائنسی طریقوں سے نکالنے کے باعث اس قیمتی قدرتی ذخیرے کا تقریباً 85 فیصد حصہ بارودی دھماکوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
اس وقت عالمی مارکیٹ میں ماربل کی تجارت کا حجم تقریباً 62 بلین ڈالر ہے، جبکہ اس میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی ماربل عالمی معیار کے باوجود دنیا کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر فروخت ہوتا ہے، کیونکہ پشتون صنعتکاروں کی عالمی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ مناسب حکمتِ عملی اختیار کی جائے تو عالمی مارکیٹ میں یہ حصہ دس فیصد تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں پشتونوں نے اپنی مدد آپ کے تحت تقریباً چار ہزار چھوٹی بڑی ماربل فیکٹریاں قائم کی ہیں، لیکن افسوس کہ اس صنعت کو حکومتی سرپرستی، تکنیکی معاونت اور جدید سہولیات حاصل نہیں۔ مزدوروں کو فنی تربیت فراہم نہیں کی جاتی، حفاظتی سامان میسر نہیں، جبکہ بجلی کی طویل بندشیں صنعت کو مزید مشکلات سے دوچار کرتی ہیں۔ بعض طاقتور عناصر کی پہاڑوں اور معدنی وسائل پر غیر قانونی قبضے بھی مقامی عوام کو ان کے حق سے محروم کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اس کمزور صنعتی ڈھانچے میں پہاڑ سے فیکٹری تک ماربل کی تجارت سے تقریباً دس لاکھ پشتون وابستہ ہیں۔ اگر بجلی اور جدید سائنسی آلات فراہم کیے جائیں تو یہ روزگار دس گنا تک بڑھ سکتا ہے۔
باجوڑ میں سنگِ مرمر کے ذخائر کا تخمینہ تقریباً 5,850 ملین ٹن لگایا گیا ہے، لیکن سالانہ صرف پچاس ہزار ٹن نکالا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ باجوڑ مختلف معدنیات سے بھی مالا مال ہے۔ ماہرِ ارضیات یحییٰ خان کے مطابق باجوڑ میں میگنیشیم، ریڈ آکسائیڈ، رنگوں میں استعمال ہونے والی معدنیات، دس اقسام کے گرینائٹ، ساڈو گرے اور چین کے بعد بڑے پیمانے پر بی گریڈ معدنی ذخائر موجود ہیں۔
باجوڑ کا جسپر اور زمرد معیار کے لحاظ سے سوات اور کنڑ کے زمرد کا مقابلہ کرتا ہے۔ یہاں نیفرائٹ اور کرومائٹ کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں، لیکن ان میں سے صرف پانچ فیصد پر کبھی کبھار کام کیا جاتا ہے۔
مہمند میں تقریباً 845 ملین ٹن ماربل کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ نیفرائٹ، میگنیز، کرومائٹ، سرپنٹائن، آئڈوکریز اور دیگر معدنیات بھی پائی جاتی ہیں۔ خیبر میں تقریباً 345 ملین ٹن ماربل کے ذخائر کے ساتھ فلورائٹ، بیریٹ، اینٹی منی، کوئلہ اور دیگر معدنیات موجود ہیں۔
کرم میں پاکستان کے سب سے بڑے سوپ اسٹون کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سرپنٹائن، میگنا سائٹ، کرومائٹ، تانبا، کوئلہ، عقیق، لاجورد اور قیمتی جیم اسٹونز بھی پائے جاتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں تانبا، تیل، گیس اور میگنیز کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ اورکزئی میں کوئلے کے بڑے ذخائر اور تیل و گیس کے امکانات موجود ہیں۔
ان تمام علاقوں میں مجموعی طور پر زمرد، ماربل کی پچاس اقسام، کرومائٹ، میگنیز، جسپر، نیفرائٹ، گروسولر، سوپ اسٹون، چائنا کلے، تانبا، گیس، تیل، کوئلہ، کلسائٹ، زبرجد، بلور، لاجورد، سونا مکی، یاقوت، ہیماٹائٹ، گریفائٹ اور بینٹونائٹ جیسی قیمتی معدنیات موجود ہیں۔ بینٹونائٹ ایک خاص قسم کی مٹی ہے جو پیٹرولیم مصنوعات میں استعمال ہوتی ہے، اور مہمند کے علاقے چاغی میں بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے۔
اگر پاکستان کے حکمران واقعی ان پسماندہ علاقوں کو ترقی دینا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے خیبر پختونخوا کے نئے اضلاع کے معدنی وسائل کا ایک جامع اور سائنسی سروے کرایا جانا چاہیے، تاکہ عالمی مارکیٹ کے موجودہ نرخوں کے مطابق ان خزانوں کی حقیقی مالیت اور مقدار کا درست اندازہ ہو سکے۔
یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ماضی میں یہ علاقے باقاعدہ قانونی اور انتظامی نظام سے محروم رہے۔ معدنیات کا محکمہ صرف ٹیکس وصولی تک محدود تھا، جبکہ نئے اضلاع کے کسی بھی دفتر میں ان معدنی وسائل سے متعلق کوئی مستند رپورٹ یا سائنسی سروے موجود نہیں۔ یہ ایک بڑا خلا ہے، جسے اب پشتونوں اور مقامی عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے پُر کرنا ناگزیر ہے۔
— مولانا خانزیب