All tipe of novels

All tipe of novels "I am a passionate logo designer with a keen eye for aesthetics and a dedication to creating visually compelling brand identities.

With a strong understanding of color theory, typography, and design principles, I craft logos that not only look stunning

17/01/2026
17/01/2026
31/05/2025

ایم اے راحت صاحب کا ہارر ناول آ سیب نگر شروع کرنے جا رہے ہیں دوسری قسط کا اپلوڈ کر نا پہلی قسط کے رسپانس پر منحصر ہے

31/05/2025

کہانی : آسیب نگری

مصنف : ایم اے راحت

قسط : 1

پاپا نے پنجاب اور لاہور کی اتنی کہانیاں سنائی تھیں کہ ہم تینوں بہن بھائیوں کے دل میں اپنا وطن اور خاص طور سے لاہور دیکھنے کا بڑا اشتیاق پیدا ہو گیا تھا۔ ہم لوگ بحرین کے شہر مناما میں پیدا ہوۓ تھے اور وہیں پلے بڑھے تھے۔

پاپا نے بھی ہمیں پاکستان نہیں جانے دیا تھا۔ جبکہ ہم تینوں بہن بھائی ،خود پاپا اور ماما نہ صرف مشرق وسطی بلکہ یورپ کے کئی ملکوں کی سیر کر چکے تھے۔ پاکستان آنے سے منع کرنے

کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہاں ان کی دشمنیاں چل رہی تھیں اور ہمیں وہاں خطرہ ہے۔ حالانکہ پاپا پنجاب سے بے پناہ پیار کرتے تھے اور انہوں نے ہمیں اس کے بارے میں اتنا بتایا تھا

کہ ہمیں پنجاب کے ایک ایک گوشے سے واقفیت ہو گئی تھی۔

ہمارے خاندان کا تعلق ڈھابے سنگھ کے ایک بڑے زمیندار گھرانے سے ہے، جواب صفدر آباد کہلاتا ہے۔ زمینداروں کی زندگی عام لوگوں سے کافی مختلف ہوتی ہے، جس کی تفصیل بھی پاپا ہی سے معلوم ہوئی تھی۔ وہ جب بھی اپنے خاندان ، اپنے گھر کی باتیں کرتے تھے تو ان کے لیے میں بہت پیار ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنا گھر ، اپنا وطن کیوں چھوڑا،
اس کی تفصیل ذرا طویل ہے، جو بعد میں بتاؤں گا۔ میری ماما کا تعلق بھی پاکستان سے ہے لیکن وہ بچپن میں اپنے والد صاحب کے ساتھ انگلینڈ چلی گئی تھیں۔ وہیں ان کی شادی میرے پاپا سے ہوئی ۔ اس کے بعد بہت سے مرحلوں سے گزر کر پاپا بحرین میں سیٹل ہو گئے ۔ یہاں انہوں نے زیتون اور مونگ پھلی کا تیل بنانے والے ایک کارخانے میں ملازمت کی اور پھر آہستہ آہستہ جنرل مینجر کے عہدے تک پہنچ گئے۔

پاکستان میں ان کا پورا خاندان موجود تھا۔ انہوں نے بے شک ہمیں پاکستان نہیں آنے دیا لیکن خود وہ با قاعدہ پاکستان جاتے تھے۔ اس کی بڑی وجہ ہماری دادی صاحبہ تھیں ،
جو مجھے تایا کے پاس رہتی تھیں۔ پھر کچھ جائیداد اور زمینوں وغیرہ کے معاملات بھی تھے، جو شاید الجھے ہوئے تھے اور دادا صاحب کے انتقال کے بعد مزید الجھ گئے تھے۔ایسی دوران دادی صاحبہ بیمار ہو گئی۔ پھر بیماری نے کچھ ایسی پیچیدگی اختیار کی کہ وہ کوما میں چلی گئیں اور اب تقریبا آٹھ سال سے وہ کوما میں تھیں ۔
دادا صاحب کے انتقال کے دو سال کے بعد بڑے تایا کا بھی انتقال ہو گیا۔ پھر مجھلی تائی بھی اللہ کو پیاری ہو گئیں۔

ان سب کی اولاد تھیں ، جن سے ہم لوگوں کی صرف ناموں کی حد تک واقفیت تھی۔ بہر حال، میں اپنے پاکستان آنے کی وجہ بتا رہا تھا۔ پاپا کوئی ڈھائی مہینے سے غائب تھے۔ وہ معمول کے مطابق پاکستان آۓ تھے۔ عام طور پر وہ دس یا پندرہ دن پاکستان میں رہے تھے لیکن اس بار انہیں پاکستان گئے ہوۓ ڈھائی مہینے گزر گئے تھے اور انہوں نے اپنی کمپنی سے کوئی رابطہ کیا تھا،
نہ ہم سے۔ ہماری پریشانیاں انتہا پر پہنچ گئیں تو میرے پاکستان جا کر معلومات کرنے کا فیصلہ ہوا، کیونکہ بڑے بھائی سرفراز احمد خاں کو لاکھ کوشش کے باوجود ان کے آفس سے چھٹی نہیں ملی تھی۔ منجھلے تایا صاحب سے رابطہ کیا گیا
تو انہوں نے بھی لاعلمی ظاہر کی ۔ آخر کار میں پاکستان چل پڑا۔ لاہور ایئرپورٹ پر میرا استقبال تایا ممتاز احمد خاں اور ان کی دو نوجوان بیٹیوں حرا اور سلطانہ نے کیا۔ تایا صاحب بڑی محبت سے مجھ سے گلے ملے۔ حرا اور سلطانہ نے بھی مسرت کا اظہار کیا اور میں ان کے ساتھ ان کی قیمتی کار میں بیٹھ کر چل پڑا۔ سلطانہ، کار ڈرائیو کر رہی تھی ،
تایا صاحب بالکل خاموش بیٹھے تھے۔ ویسے بھی چہرے سے وہ مجھے حد سے زیادہ سنجیدہ محسوس ہوۓ تھے۔ لڑکیاں بھی کچھ قنوطی کی گئی تھیں۔

میں پاپا کے لاہور کو دیکھتا سفر کرتا رہا۔ پھر کار طویل فاصلہ طے کر کے سمن آباد کے ایک مکان میں داخل ہوئی۔ یہ مکان خاصا روایتی سا تھا۔ اس کا تھوڑا سا حصہ بنا ہوا تھا لیکن یوں لگتا تھا، جیسے اس کی تعمیر بھی بیس پچھپیں سال پہلے ہوئی ہو۔ دیواروں پر رنگ و روغن ختم ہو چکا تھا۔
جگہ جگہ سیمنٹ ادھڑا نظر آتا تھا، جس سے بدصورت اینٹیں جھانکتی نظر آ رہی تھیں ۔

کار سے اتر کر ہم گھر میں داخل ہو گئے ۔ میں نے اپنا سوٹ کیس خود اٹھا لیا تھا۔
تایا صاحب نے لڑکیوں سے کہا۔
تم دونوں انہیں کمرے میں پہنچا دو اور ان کی ضرورتیں ان سے پوچھ لو۔ شہاب میاں! میں اپنے کمرے میں ہوں ۔ تم فریش ہو جاؤ۔ دوپہر کے کھانے پر ملیں گے۔“
یہ کہہ کر وہ میرے جواب کا انتظار کئے بغیر ایک طرف مڑ گئے ۔

حرا اور سلطانہ نے مجھے ساتھ آنے کے لئے اشارہ کیا اور پھر ایک کمرے کے دروازے پر رک گئیں۔ ”
یہ کمرہ آپ کے لئے منتخب کیا گیا ہے، آئیے۔ حرا نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو " گئی۔و تا ”ٹھیک ہے، کوئی ضرورت ہو تو بتا دیجئے گا۔ حرا نے کہا اور پھر دونوں پلٹ کر دروازے سے باہر نکل گئیں۔ میں نے نظریں اٹھا کر دروازے کو دیکھا اور پھر جھک کر جوتوں کے فیتے کھولنے لگا۔ - مجھے احساس ہوا کہ یہاں کے ماحول اور یہاں کی فضا میں کوئی ایسی خاص بات ہے، جو ذہن پر بوجھ بنتی ہے۔ لیکن اس خاص بات کا تجزیہ کرنا فوری طور پر مشکل تھا ، بس ایک بوتل سا احساس تھا۔

کمرہ کافی بڑا تھا، لیکن نیم تاریک اور سادہ تھا۔ فرش پر قالین تک نہیں تھا ۔ ایک طرف پرانے اسٹائل کی مسہری پڑی ہوئی تھی۔ اس سے کچھ فاصلے پر ایک پرانی طرز کا صوفہ موجود تھا۔ لکڑی کی ایک خوب صورت الماری دیوار میں فٹ تھی ، جس میں دیمک لگی صاف نظر آ رہی تھی۔
اس الماری میں ڈریسنگ ٹیبل بھی بنی ہوئی تھی ۔ جس میں ایک بڑا آئینہ لگا ہوا تھا جس کی آب جگہ جگہ سے خراب ہو چکی تھی۔ میں نے ٹھنڈی سانس لے کر سوٹ کیس ایک طرف رکھ دیا۔
شہاب بھائی! آپ آرام کریں۔
وہ غسل خانے کا دروازہ ہے۔ اگر غسل کرنا چاہیں تو کر لیجئے۔ میں حمیدہ کو بھیج رہی ہوں ، وہ آپ کے کپڑے وغیرہ الماری میں رکھ دے گی۔“
نہیں، غسل کی ضرورت نہیں محسوس کر رہا۔ یہ حمیدہ کون ہے؟“ نوکرانی ہے۔“

”ابھی آپ اسے نہ بھیجیں۔ میں ذرا تھوڑی دیر آرام کرلوں ۔“ میں ایک صوفے پر بیٹھ کر بولا ۔

میں نے جوتے اتار کر ایک طرف سرکاۓ ہی تھے کہ اچانک ایک عجیب کی سرسراہٹ سنائی دی اور میں چونک پڑا۔ میں نے گردن اٹھا کر چاروں طرف دیکھا اور پھر میری نظریں ڈرینک کے شیشے کی طرف اٹھ گئیں۔ میں دنگ رہ گیا۔ شیشے میں سامنے اونچی دیوار میں بنے ہوۓ روشندان کی جھلک نظر آ رہی تھی۔
اس بڑے روشندان سے دو آنکھیں مجھے دیکھ رہی تھیں ۔ دو خوف ناک اور بھیانک آنکھیں، جو عام آنکھوں کے سائز سے کافی بڑی تھیں ۔ وہ بالکل سفید تھیں اور ان میں پتلیوں کا نشان بھی نہیں تھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ اور سوچتا، اچانک وہ سرسراہٹ دوبارہ سنائی دی
اور پھر روشندان سے کوئی چیز باہر نکل آئی اور میرے حلق سے بچ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ وہ کافی بڑی چمگادڑ تھی، جو پر پھیلا کر کمرے میں چکرانے لگی۔ البتہ وہ چھت سے قریب تھی اور کسی قدر بے چین نظر آ رہی تھی ، پھر ایک بار اس نے الماری کی طرف غوطہ لگایا اور زور دار آواز کے ساتھ الماری سے ٹھکرا کر نیچے گر پڑی۔ میں نے خوف کے عالم میں دونوں پاؤں اوپر سمیٹ لئے اور دہشت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگا،
چمگادڑ زمین پر گری تھی۔ اس کا چہرہ میرے سامنے تھا، جسے دیکھ کر درحقیقت میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ وہ سفید اور بڑی آنکھیں اس چمگادڑ کی تھیں،
جنہیں میں نے روشندان کے دوسری طرف دیکھا تھا۔ لیکن اس کا باقی چہرہ بھی نا قابل یقین منظر پیش کر رہا تھا۔ وہ بالکل انسانی چہرہ تھا۔ ایک چھوٹا سا انسانی چہرہ، جو نفرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ چمگادڑ ایک بار پھر فضا میں بلند ہوئی اور چھت کی بلندی تک پہنچ گئی۔
چھت کے قریب دیوار میں تین روشندان تھے، جن میں سے ایک تک وہ پہنچی اور پھر پر سمیٹ کر باہر نکل گئی۔ میں دیر تک اس روشندان کو تکتا رہا اور پھر گہری گہری سانسیں لے کر خود کو پرسکون کرنے لگا۔ کمال کی جگہ ہے۔ یہ گھر ہے یا بھوت گھر؟ ہر چیز نرالی ہے۔ حالانکہ ایک با رونق علاقے میں ہے۔ یہاں تک آتے ہوۓ میں نے گھر کے سامنے کی رواں دواں سڑک کو دیکھا تھا، کچھ لمحے میں سوچتا رہا،
پھر شانے جھٹک کر اٹھ کھڑا ہوا۔ عجیب سی جگہ ہے ، لیکن کچھ وقت تو توقف کرنا تھا۔ تایا صاحب سے پاپا کے بارے میں تفصیل معلوم کرنی تھی ۔ دل میں اہل خاندان کے لئے بڑے جذبات لے کر آیا تھا، لیکن شاید اس گھر میں قیام نہ کر سکوں ،

کوئی ہوٹل وغیرہ دیکھنا پڑے گا۔ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر اس بڑی کھڑکی تک پہنچ گیا، جو سامنے نظر آ رہی تھی ۔ اس میں بڑے بڑے شیشوں والے پٹ تھے۔ پردہ ہٹا کر میں نے ایک پٹ کھولا اور باہر کا منظر دیکھ کر ایک بار پھر حیران رہ گیا۔
یہ جگہ تو با قاعدہ جنگل معلوم ہوتی تھی۔ سامنے بدصورت اور ٹیڑھے میڑھے درخت کھڑے ہوئے تھے۔ ان کے سوکھے پتوں کے انبار ہر طرف بکھرے ہوۓ تھے ۔ بہت وسیع جگہ تھی۔ ۔ اُن کے سوکھے :

کافی فاصلے پر اینٹوں کی ایک اونچی سی دیوار نظر آ رہی تھی جو شاید دوسرے گھر کی دیوار تھی اور یہی دیوار اس گھر کے احاطے کا کام دیتی تھی۔ کھڑکی سے دور تک نظر آتا تھا۔ درختوں کا یہ سلسلہ کافی دور تک چلا گیا تھا۔ میں نے حیرانی سے سوچا کہ یہ اتنی وسیع و عریض زمین کیا اسی گھر کا ایک حصہ ہے؟

میرے کمرے سے کوئی بیں گز کے فاصلے پر ایک عجیب و غریب جگہ بنی ہوئی تھی۔

بہت ہی نیچی چھت والی انتہائی بوسیدہ اور پرانی۔ اس کی تعمیر کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی ۔
نجانے کیا بنایا گیا تھا۔
اس کے آس پاس کی زمین بھی سوکھے پتوں سے اٹی ہوئی تھی۔ دیر تک میں کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا ، پھر کوئی آہٹ سن کر چونکا ۔۔
پلٹ کر دیکھا تو ایک ملزمہ نظر آئی،
عمر کوئی 30 سال ہوگی رنگ سانولا اور قد لمبا تھا ۔۔۔
چھوٹے صاحب! چائے لاوں ؟ اس نے پوچھا ۔
نہیں ۔۔یہ چائے کا وقت تو نہیں ہے ۔ میں نے کہا
کوئی اور ضرورت ہو تو بتا دیجئے ۔ آپ کے کپڑے الماری میں لٹکا دوں؟
ابھی رہنے دو ، تمہارا شکریہ ۔۔ تمہارا نام حمیدا ہے ؟
جی چھوٹے صاحب!
حمیدہ! یہ پیچھے جو درخت بکھرے ہوئے ہیں، ان میں چمگادڑ میں رہتی ہیں؟“ میں نے بے اختیار سوال کر لیا اور حمیدہ کے چہرے پر حیرانی نمودار ہوگئی۔ رہتی تو نہیں ہیں، کبھی کوئی آ جاتی ہو تو مجھے معلوم نہیں۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟“ کچھ دیر پہلے ایک چمگادڑ اس روشندان سے اندر گھس آئی تھی۔ کافی بڑی تھی۔“ ”ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہوا، چھوٹے صاحب! میں روزانہ کمرے کی صفائی کرتی ہوں ۔ میں نے کوئی چمگادڑ کمرے میں آتی نہیں دیکھی ۔“

”ٹھیک ہے، تمہارا شکر یہ۔ اگر کسی چیز کی ضرورت ہوگی تو تمہیں بتا دوں گا ۔“

حمیده خاموشی سے باہر جانے کے لئے مڑ گئی۔ دروازے سے باہر نکلنے سے پہلے وہ روکی اور پلٹ کر مجھے دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک شوخ سی مسکراہٹ نظر آ رہی تھی اور آنکھوں میں غیر معمولی چمک۔ پھر وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ میں پھر الجھ گیا۔ حمیدہ اس طرح معنی خیز انداز میں کیوں مسکرائی تھی ، سمجھ میں نہیں آیا۔ ان....... اس لنکا میں سب باون گز کے ہیں۔ دیکھتا ہوں ، ان لوگوں کے رویے کو، اس کے بعد فیصلہ کروں گا کہ پاپا کی تلاش کے لئے کیا کر سکتا ہوں
۔ پایا کے تصور کے ساتھ دل میں اضطراب کی ایک لہر اٹھی ۔ نہ جانے وہ کہاں اور کس حال میں ہوں۔ تایا صاحب نے برا ریسیپشن نہیں دیا تھا۔ ایئر پورٹ گئے تھے، وہاں گلے لگایا تھا۔ دونوں کزن بھی اچھی طرح ملی تھیں ۔ لیکن تایا صاحب نے ابھی تک پاپا کا نام ایک بار بھی نہیں لیا تھا۔ جبکہ وہ جانتے تھے کہ میری آمد ہی اس سلسلے میں ہوئی ہے۔ بے شک کچھ وقت نہیں گزرا، لیکن لگن بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ایئر پورٹ سے آتے ہوۓ راستے میں تذکرہ ہو سکتا تھا۔ شاید یہی بات میرے ذہن میں گروہ بنی تھی اور میں کچھ عجیب عجیب سا محسوس کر رہا تھا ۔ .

31/05/2025

مجھے بکھیرا گیا ہے، بڑے سلیقے سے
میں رائگاں ہوں مگر پھر بھی خوبصورت ہوں
#عائشےگل 🙃

31/05/2025

❤️*_🥀بلیک میلنگ اور لڑکی🥀_*❤️

زندگی میں آخری آپشن بھی رہ گیا ہو نا " *بلیک میل ہونا*" تب بھی خدارا بلیک میل ہونے کی بجائے کسی اور راستے کا سوچیے گا ۔

✅ *جی ہاں آپ لڑکیوں سے ہی مخاطب ہوں کیونکہ ہمارے ہاں ایک لمحہ لگتا ہے لڑکیوں کو بلیک میل کرنے اور دھمکانے میں اور آگے سے لڑکیاں آدھا لمحہ بھی نہیں لگاتیں بلیک میل ہونے اور خاموش ہوجانے میں* ۔
↩️ *اگر غلطی آپ کی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ڈر سہم کر خاموش ہوجائیں ۔ یاد رکھیے گا! ایسے معاملات میں خاموشی مسئلے کا حل کبھی بھی نہیں رہا ۔ بات چھپانے سے ہمیشہ معاملہ بگڑتا اور بگڑتا چلا جاتا ہے ۔ اس لیے ایک لمحے کا وقت ضائع کیے بغیر گھر کے کسی فرد (اماں سے بہتر اور کوئی نہیں) کو اعتماد میں لے کر سارا معاملہ بتا دیں ، وہی بات دو تھپڑ لگیں گے (اور عقل بھی انہی دو تھپڑوں سے آتی ہے) اور آپ ہر راز ، ہر بوجھ ہر مصیبت سے آزاد* ۔۔۔۔
💯 *اور جب آپ کے بلیک میلر کو اس بات کی خبر ہوگی نا کہ آپ کے گھر والے آگاہ ہیں تو یقین کیجئیے اس کی ساری ہوشیاری اور بلیک میلری دھری کی دھری رہ جائے گی بلکہ اس دن کے بعد سے آپ کو لگے گا وہ اپنی موت آپ مرچکا* ۔
↩️ اس لیے براہ کرم! *اول تو اپنے معاملات ہی سیدھے رکھیے ، اپنی کمزوری کسی کے ہاتھ میں مت دیجئیے ۔ خود کو مضبوط بنائیے کہ دو چار پیار محبت کے بول آپ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں ۔ اللہ سے عافیت کی دعا طلب کرتی رہا کریں ، نظر کی حفاظت کا اہتمام رکھیے ، نوجوانی کے آدھے فتنے ویسے ہی ختم ہوجاتے ہیں ۔ اور اگر بالفرض خدانخوستہ کسی کمزور لمحوں کا شکار بننے بھی لگیں تو ایک لمحہ صرف ایک لمحہ قدم بڑھانے سے پہلے اپنے والدین اور عزت دار بھائیوں کا چہرہ ضرور آنکھوں میں لائیے گا ، میں شرطیہ کہہ سکتی ہوں انسان پتھر کا ہوجاتا ہے آگے نہیں بڑھ پاتا* ۔

↩️ *غلطی ہوگئی ہے بتا دیجئیے* ۔ روز روز کی اذیت اور بلیک میلنگ سے خود کو آزاد کیجئیے ۔ ماں باپ سے زیادہ خیر خواہ کوئی نہیں ہوتا ، انہیں بتائیے ۔ بہن بھائیوں سے اچھی *باونڈنگ* ہے سوچ سمجھ کر بات کرنے والے اور *ٹھنڈے دماغ* کے ہیں تو انہیں بتائیے وہ آپ کو قصور وار ضرور کہیں گے ، ڈانٹ بھی کھا لیجئیے گا لیکن اس سب سے نکالیں گے بھی وہی آپکو اور اللہ نے بھائی حفاظت کے لیے ہی تو دیے ہوتے ہیں ۔ 🖤

_*کاش کہ یہ بات تیرے دل میں اتر جائے*_
_*خواہش صرف اتنی ہے کہ کچھ الفاظ ل

31/05/2025

عورت کا پردہ........................................
وہ اب چھرے کی نوک سے لکڑی کے کنارے میں خم ڈال رہی تھی۔
لڑکیاں سمندر کی ریت کی مانند ہوتی ہیں حیا ! عیاں پڑی ریت ، اگر ساحل پہ ہو تو قدموں تلے روندی جاتی ہے اور اگر سمندر کی تہہ میں ہو تو کیچڑ بن جاتی ہے۔ لیکن اسی ریت کا وہ ذرہ جو خود کو ایک مضبوط سیپ میں ڈھک لے ،وہ موتی بن جاتا ہے۔ جوہری اس ایک موتی کے لئے کتنے ہی سیپ چنتا ہے اور پھر اس موتی کو مخملیں ڈبوں میں بند کر کے محفوظ تجوریوں میں رکھ دیتا ہے ۔ دنیا کا کوئی جوہری اپنی دکان کے شو کیس میں اصلی جیولری نہیں رکھتا۔ مگر ریت کے ذرے کے لئے موتی بننا آسان نہیں ہوتا، وہ ڈوبے بغیر سیپ کو کبھی نہیں پا سکتا ۔
جنت کے پتے (اقتباس)۔

31/05/2025

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All tipe of novels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share