30/07/2022
*کوئٹہ کی خوبصورتی بچاو*
جہاں 35 سال بعد پورے بلوچستان میں کوئٹہ سمیت رکارڈ بارش ہوئی ہے اور ہر جگہ سیلاب کی وجہ سے ڈیم بھر گئے ہیں وہیں بہت نقصان بھی ہوا ہے کہیں ڈیم اور پل ٹھوٹ گئے ہیں غرض یہ کہ اگر سیٹلائیٹ سے دیکھیں تو ہر جگہ پانی پانی نظر آئے گا مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ
کوئٹہ میں ویسے ہی پیکنک پوائنٹس کی کمی ہے لیکن جو پیکنک پوائنٹس ہیں ان کی طرف بھی گورنمنٹ کا دہان نہیں ہے الیہ بارشوں سے اگر فائدہ اٹھایا جاتا تو
*انگریزوں کے بنائے ہوئے ہنہ جھیل کو پانی بھر دیا جاتا*
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر اچھی پلاننگ ہوتی تو الیہ بارشوں کے پانی کو محفوظ کیا جاسکتا تھا جو کہ ممکن نہیں ہو سکا چلو یہ تو رہی پلاننگ کی بات جو ہم ہماری گورنمنٹ نہیں کرسکی لیکن جو پلاننگ انگریزوں نے کی تھی ہم نے اس سے بھی خود کو محروم کر دیا ہے پتہ نہیں کیوں اگر گورنمنٹ آف بلوچستان ان بارشوں سے
*ہنہ جھیل کو بھرنا چاہتے تو اس طرح کے سینکڑوں ہنہ جھیل بھر جاتے*
لیکن گورنمنٹ کی عدم توجہ کی وجہ سے *ہنہ جھیل کے پانی کا راستہ روکا گیا ہے* جس کی وجہ سے اس میں پانی نہیں جا رہا اور سارا پانی ضائع ہو گیا ہے اور کوئی پرسان حال نہیں کیونکہ کسی کو کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ اس پیکنک پوائنٹ کو ٹھیک کرے ہمارے اعلی حکام نے تھوڑی اس پیکنک پوائنٹ پہ آنا ہوتا ہے ان کو تو دوبئی، باکو ، امریکہ، لندن ،کینڈا، تھائی لینڈ جانا ہوتا ہے کوئٹہ کی خوبصورتی یا بد صورتی سے انھیں کوئی سروکار نہیں اللہ تعالٰی ہمارے صوبے اور ہمارے شہر پہ رحم فرمائے آمیــــــــــــن
عوامی گزارش ان اعلی حکام سے ہے جو
*بلوچستان اور کوئٹہ کے خیر خواہ ہیں* خدارا کوئٹہ کے پیکنک پوائنٹس جو کہ نہ ہونے کے برابر ہیں جس میں *انگریزوں کا بنایا ہو ہنہ جھیل سر فہرست ہے*
کو ٹھیک کیا جائے اور حالیہ بارشوں سے فائدہ اٹھا کر اسکا راستہ کھول دیا جائے تاکہ جھیل بھر جائے اور کوئٹہ کی خوبصورتی میں تھوڑا سا اضافہ ہوسکے ۔
براہ مہربانی پیج کو لاٸک کریں