25/02/2026
اعداد و شمار کے مطابق پچھلے ایک سال میں پاکستان نے تقریباً 15000 میگاواٹ کے سولر پینلز چائنہ سے امپورٹ کیے ہیں۔ اگر دو ہزار بیس سے دیکھا جائے تو یہ تقریباً 42000 میگاواٹ کے برابر بنتے ہیں۔ اس سال تقریباً اتنے ہی مزید آنے کی امید ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی بجلی کی کل ضرورت صرف 42000 میگا واٹ ہے۔ یعنی دن میں بجلی کی ضرورت سے بھی زیادہ کے سولرپینلز ملک میں لگ چکے ہیں لیکن پھر بھی یہاں بجلی مہنگی ہے۔ جانتے ہیں کیوں؟
صرف اور صرف غلط حکومتی پالیسیوں اور رشوت کی وجہ سے۔
سولر سے اتنی زیادہ بجلی پیدا ہو رہی ہے لیکن ساری کی ساری ضائع ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر ایک گھر میں نو پلیٹیں لگی ہیں تو وہ دن میں تقریباً بیس سے تیس یونٹس پیدا کرتی ہیں لیکن آج کل استعمال صرف سات آٹھ یونٹس تک ہے۔ گرمیوں میں بھی بہت زیادہ استعمال بھی ہو جائے تو بیس یونٹس سے زیادہ نہیں ہوگا۔ ایسے میں اگر گرین میٹر نہیں ہے تو یہ سب ضائع ہو رہی ہیں۔ اگر حکومت گرین میٹر لگانے کا خرچ صرف اتنا کر دے جتنا اصل میں آرہا ہے، رشوت کو ختم کر دے تو دن کے وقت یہ ساری بجلی کام آسکتی ہے۔ابھی گرین میٹر لگانے پر تقریباً دو لاکھ خرچ آتا ہے جس میں سے آدھی رشوت ہے۔
پھر حکومت چاہے تو دن کے وقت بجلی بہت زیادہ سستی کر دے جس سے کارخانے بھی زیادہ کام دن کو کر لیں گے، لوگ چولہے بھی گیس کی بجائے بجلی پر چلائیں گے، کاریں دن کو چارج کر لیں گے، استری، واشنگ مشین، پانی والی موٹر وغیرہ سب گھروں میں دن کو ہی ہو جائیں گے، دکانوں کے اوقات بھی زیادہ دن کے اوقات میں ہو جائیں گے اور رات کو اس کا استعمال بس اے سی وغیرہ کی ضرورت کے لیے رہ جائے گا۔ حکومت گرین میٹر کا خرچ کم کر دے پھر چاہے تین یونٹ لے کر صرف ایک یونٹ رات کو دے تب بھی لوگ لگوا لیں گے۔ پھر اس سے ملک میں بہت سی اشیاء بہت سستی بننا شروع ہو جائیں گی اور ہمیں وہ باہر سے نہیں منگوانی پڑیں گی بلکہ انھیں بیچ کر زر مبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔
لیکن جیسے اس ملک میں پانی ضائع کیا جا رہا ہے چاہے وہ بارش کا ہو یا دریاؤں کا، ویسے ہی یہ بجلی بھی ہم ضائع کیے جا رہے ہیں۔
متفق ہیں تو اس پوسٹ کو شئیر کریں، ہو سکتا ہے کسی صاحب اقتدار تک یہ بات پہنچ جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔