AK Law Chamber

AK Law Chamber at supreme appellate court Gilgit-Baltistan,
District Bar Association Ghanche

22/05/2026
13/03/2026

یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک انتہائی اہم قانونی فیصلہ ہے جو اسکالرشپ بانڈز اور ضامن (Guarantor) کی وفات کے بعد اس کے وارثوں کی ذمہ داری کے گرد گھومتا ہے۔
​کیس کا پس منظر اور قانونی تنازع
​ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ڈاکٹر نوشین ارم کو 2007 میں پی ایچ ڈی اسکالرشپ دی، جس کی شرط یہ تھی کہ وہ واپسی پر 5 سال پاکستان میں خدمات دیں گی۔ ڈاکٹر صاحبہ نے یہ شرط پوری نہیں کی، جس پر HEC نے ان کے اور ان کے والد (بطور ضامن) کے خلاف ریکوری کا دعویٰ کر دیا۔
​دورانِ سماعت انکشاف ہوا کہ ضامن (والد) کا انتقال مقدمہ درج ہونے سے پانچ سال پہلے (2011 میں) ہو چکا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ضامن کے خلاف کارروائی ختم کر دی، جس کے خلاف HEC اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا۔
​عدالت کا فیصلہ اور اہم نکات
​جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے HEC کی اپیل خارج کرتے ہوئے چند بنیادی قانونی اصول واضح کیے:
​ذاتی ذمہ داری بمقابلہ وراثت: عدالت نے قرار دیا کہ "شورٹی بانڈ" ایک ذاتی ذمہ داری (Personal Obligation) ہے جو انسان کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ محض معاہدے میں یہ لکھ دینے سے کہ "یہ وارثوں پر لازم ہوگا"، وارثوں کو تب تک ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جب تک وہ خود اس معاہدے کا حصہ نہ ہوں۔
​کنٹینیونگ گارنٹی (Continuing Guarantee): HEC کا مؤقف تھا کہ یہ ایک مسلسل چلنے والی گارنٹی ہے، لیکن عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسکالرشپ کی رقم ایک ہی مقصد کے لیے دی گئی تھی، لہٰذا یہ "جاری رہنے والی گارنٹی" کے زمرے میں نہیں آتی۔
​جائیداد پر بوجھ (Charge on Property): عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ ضامن نے اپنی کسی مخصوص جائیداد پر کوئی قانونی بوجھ (Lien/Charge) یا رہن (Mortgage) ظاہر نہیں کیا تھا، اس لیے ان کی وفات کے بعد ان کے ترکے یا وارثوں سے یہ وصولی زبردستی نہیں کی جا سکتی۔
​پاکستانی قانون (Contract Act 1872)
​قانون کے مطابق، اگر ضمانت خالصتاً شخصی ہے اور اس کے پیچھے کوئی سکیورٹی یا جائیداد رہن نہیں رکھی گئی، تو ضامن کے انتقال کے بعد اس کے وارث اس قرض کے ذمہ دار نہیں ہوتے۔ وارث صرف اسی صورت میں جوابدہ ہیں اگر انہوں نے خود اس معاہدے پر دستخط کیے ہوں یا متوفی کی جائیداد پر قانونی طور پر اس قرض کا بوجھ ڈالا گیا ہو۔
​​ ۔

13/02/2026

پنجاب میں کم عمری کی شادی کا پرانا قانون ختم، نیا قانون نافذ۔ لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر 16 سال سے بڑھا کر لڑکے کے برابر 18 سال کر دی گئی ۔ اب دلہا یا دلہن میں سے کسی کی بھی عمر 18 سال سے کم ہوئی تو شادی کرنے والے اور کروانے والوں کو بھی سزا ہوگی ۔ سزا کی مدت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے اور سزا ہر حال میں 5 سال ہوگی اور لازمی جرمانہ 10 لاکھ ہوگا۔ جرم ناقابل ضمانت بنا دیا گیا ہے اور ٹرائل کا اختیار سیشنز کورٹ کو حاصل ہوگا۔

26/01/2026

ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﺍﻭﺭ‎ ‎ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ:

ﺩﻓﻌﮧ 6 ﻣﺴﻠﻢ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﻻﺯ ﺁﺭﮈﯾﻨﻨﺲ 1961 ﮐﮯ ﺗﺤﺖ‎ ‎ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﻮﻧﯿﻦ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺩﯾﮕﺎ ﺍﻭﺭ
ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﮕﺎ ۔ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ
ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺳﺰﺍ ﺍﻭﺭ 5 ﻻﮐﮫ ﺟﺮﻣﺎﻧﮧ
ﮨﻮﮔﺎ
ﻟﮩﺬﺍ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﯾﮧ ﻗﺎﺑﻞ ﺳﺰﺍ ﺟﺮﻡ
ﮨﮯ ۔ﺟﺒﮑﮧ ﻓﯿﮉﺭﻝ ﺷﺮﯾﺖ ﮐﻮﺭﭦ ﺳﺎﻝ 2000 ﻣﯿﮟ ﺍﺱ
ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ
PLD 2000 FSC page 1
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺣﺎﻝ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ
ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﺷﻮﮨﺮ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﯽ
PLD 2017 SC page 187
ﺟﺒﮑﮧ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺩﺍﺩ ﺭﺳﯽ ﺧﺎﺹ ﮐﯽ ﺩﻓﻊ 55 ﮐﮯ ﺗﺤﺖ
ﻣﺪ ﻋﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﺣﻖ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﺪ ﻋﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻧﮑﺎﺭ
ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻏﯿﺮ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ
ﺭﻭﮎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
ﺟﺒﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﻣﯿﮟ
ﻓﯿﻤﻠﯽ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ
ﺭﻭﮎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﻮﺭﭦ
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺍﻣﺘﻨﺎﻋﯽ ﺟﺎﺭﯼ
ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
1983 CLC page 279
ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻋﻠﯽ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﻧﻈﺎ ﺋﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﻮﺭﭦ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺣﮑﻢ ﺻﺎﺩﺭ
ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﺰﯾﺪ ﻧﮑﺎﺡ ﻧﺎﻣﮧ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﺮ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮯ ﮐﯿﺎ ﺩﻭﻟﮩﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﮨﮯ ؟
ﺍﮔﺮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮐﺎ ﺳﺮﭨﯿﻔﮑﯿﭧ ﻧﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻧﮑﺎﺡ ﺭﺟﺴﭩﺮﺍﺭ
ﻧﮑﺎﺡ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺎ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﺭﺟﺴﭩﺮﮈ
ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﺎ ﺻﺮﻑ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮐﯿﺲ
ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮯ ﻣﺘﻌﻠﻘﮧ ﯾﻮﻧﯿﻦ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ
ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺲ ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﻭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﮑﺎﺡ ﺭﺟﺴﭩﺮﮈ
ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﯾﺎﺩﺭﮐﮭﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ
ﮐﺮﻧﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺷﺮﻋﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ
ﺷﺮﻋﯽ ﻧﮩﯿﮟ , ﺍﮔﺮ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺷﻮﮨﺮ
ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺎﻟﻌﺪﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﺻﺮﻑ ﺷﻮﮨﺮ
ﮐﻮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮧ ﻟﯿﻨﮯ

14/01/2026

سکردو کے ایک جج صاحب واقعہ سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میری عدالت میں ایک نوجوان وکیل تھا اس نے پی ایچ ڈی فزکس کر رکھی تھی اور وکالت کے پیشے سے منسلک تھا انتہائی زیرک تھا بات انتہائی مدلل کرتا تھا اس کی خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا میری وہاں پوسٹنگ کے دوران میں نے اسے کبھی کوئی کیس ہارتے ہوئے نہیں دیکھا میں اس کی سچائی کا اتنا گرویدہ تھا کہ بعض دفعہ اس کی بات پر بغیر کسی دلیل کے میں فیصلہ سنا دیتا تھا اور میرا فیصلہ ٹھیک ہوتا تھا وہاں تعنیات ہر جج ہی ان کا گرویدہ تھا پوری عدالت میں سب ہی اس کا احترام کرتے تھے بعض مواقعوں پر ججز صاحبان اس سے کیس ڈسکس کر کے فیصلہ کرتے تھے میں اتنا اس کے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجو اس فیلڈ میں آنے اور پھر جج بن جانے کی اہلیت ہونے کے باوجود وکیل رہنے کی وجہ جاننا چاہتا تھا بہت کوشش کے بعد اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے یہ سوال اس سے پوچھ ہی لیا...اس نے بتایا کہ میرے نانا انتہائی غریب تھے ان کی اولاد میں بس دو ہی بیٹیاں تھیں انہوں نے بھٹے پر محنت مزدوری کر کے اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوائی ان کی پرورش کی اور پھر ان کی شادیاں کیں میری والدہ کی قسمت اچھی تھی وہ گورنمنٹ سکول میں ٹیچر لگ گئیں جب کہ میری خالہ کو سرکاری ملازمت نہ مل سکی میرے نانا نے بھٹہ سے قرض لے کر اپنی بیٹیوں کی شادی کی میری والدہ نے گھریلو اخراجات سے بچت کر کے میرے نانا کی قرض اتارنے میں مدد کی مگر پھر میرے والد صاحب نے ان کو منع کر دیا تو میرے نانا خود ہی قرض کے عوض مزدوری کرنے لگے جب کہ دوسری طرف میری خالہ کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تو انہوں نے میری خالہ کو تنگ کرنا شروع کر دیا کئی بار مار پیٹ کر کے میری خالہ کو گھر سے نکالا گیا پھر گاؤں والوں کی مداخلت سے ان کو راضی کر کے بھیجا گیا اور تیسرے مہینے پھر وہ سسرال والوں کے ہاتھوں مار کھا کر والد کی دہلیز پر آ بیٹھیں یہاں تک کہ أخری بار جب ان کے سسرال والے ان کو لے کر گئیے تو ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی اور میرے خالہ کو اس شرط پر ساتھ رکھنے کی ہامی بھر لی کہ گھر کے سارے اخراجات میرے نانا اٹھائیں گے میرے نانا بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر مزید مقروض ہوتے گئیے اور پھر سردیوں کی ایک دھند میں لپٹی ہوئی صبح کو جب وہ سائیکل پر جا رہے تھے تو کسی ٹرالے کے نیچے أ گئیے اور اس دنیا سے کوچ کر گئیے جب میرے نانا فوت ہوئے تو تب بھی مقروض تھے....میری والدہ نے میرے والد سے چوری اپنا زیور بیچ کر میرے نانا کے قرض ادا کئیے ان کی تجہیزو تکقین کا انتظام کیا اس معاملے میں میرے دادھیال والوں نے میری والدہ سے کوئی تعاون نہ کیا یہاں تک کہ میرے والد نے بھی نہیں
نانا کی وفات کے بعد میری خالہ کے سسرال والوں نے میری خالہ کو مجبور کرنا شروع کر دیا کہ وہ میری والدہ سے گھر کے اخراجات کا مطالبہ کرے میری خالہ نے انکار کر دیا تو ان کو طلاق ہو گئی مگر نہ تو ان کو ان کا سامان واپس کیا گیا اور نہ ہی زیور بلکہ ان کا حق مہر بھی نہ دیا گیا
میری واالدہ اور خالہ کے پاس آخری سہارا قانون کا تھا اور قانون طاقتور کی باندی ھے میری والدہ اور خالہ نے ہائی کورٹ تک کیس لڑا مگر اپنا حق نہ لے سکیں اور پھر خالہ ہائی کورٹ میں کیس سنوائی کی پیشی کے بعد واپس آئیں اور خود سوزی کر لی ان کے کی تجہیزو تکفین بھی میری والدہ کے ذمہ تھی.میری والدہ نے یہ کام بھی بخوبی کیا مگر بہن کی موت کے بعد ان کا چہرہ بجھ گیا یہاں تک کہ میری کامیابی پر میری والدہ خوش نہ ہوتیں تو یہاں تک کہ جب میں نے پی ایچ ڈی کی تو میرے دور پار کے سارے رشتہ دار خوش ہوئے مگر میری ماں کے چہرے پر پہلے جیسی خوشی نہیں تھی.میں نے اس رات مصلے پر بیٹھی دعا مانگتی اپنی ماں کو اپنے سینے سے لگا لیا اور پوچھا کہ آپ کی اداسی کی وجہ کیا ہے ؟
میری والدہ نے مصلے کو تہہ کیا اور کہا کہ میں چاہتی ہوں تم وکیل بنو
زندگی میں پہلی بار میری والدہ نے کسی خواہش کا اظہار کیا تھا میں نے وجہ پوچھی تو میری والدہ نے الٹا سوال داغ دیا تھا کہ أپ کو پتہ ہے آپ کی خالہ نے خودکشی کیوں کی تھی میں نے کہا نہیں تو میری والدہ نے جواب دیا کہ تمہاری خالہ کے پاس وکیل کی فیس کے پیسے نہیں تھے تو وکیل نے جسم کا تقاضا کیا تھا
میری خالہ نے اس دن گھر آ کر خود کشی کر لی تھی اس دن میرے دل میں خواہش آئی تھی کہ میں اپنے بیٹے کو وکیل بناؤں گی ایسا وکیل جو پیسوں کے عوض جسم کا مطالبہ نہیں کرے گا ایسا وکیل جو مظلوم کو انصاف چھین کر لے دے گا مگر میں کبھی تمہارے والد اور تمہارے ڈر سے اس خواہش کا اظہار نہیں کر سکی میری والدہ نے بات مکمل کر کے رونے لگی تو میں نے ان کے قدم چومے اور وعدہ کیا کہ میں ایسا ہی وکیل بنوں گا اور پھر وکالت میں داخلہ لے لیا میرے اس فیصلے سے تمام فیملی میمبر اور دوست احباب حیران تھے مگر میری والدہ بہت خوش تھیں میں جب تک جاگ کر پڑھتا رہتا تھا میری والدہ میرے ساتھ جاگ کر أیت الکرسی پڑھ کر مجھ پر پھونکتی رہتی تھی میں نے وکالت میں بھی گولڈ میڈل لیا اور اپنی ماں کا خواب پورا کر دیا مگر افسوس کہ میری والدہ اس خواب کی تعبیر نہ دیکھ سکیں۔۔۔۔
میں وکیل بننے کے بعد ہمیشہ سچ کے لئیے لڑا میں نے کبھی کسی ظالم کو سپورٹ نہیں کیا میں ہر کامیابی پر اپنی والدہ کی قبر پر جاتا ہوں مگر ایک عرصہ تک میری والدہ مجھے خواب میں نہیں ملیں چند ماہ پہلے میں نے ایک یتیم لڑکی کا کیس لڑا نہ صرف اس کا سامان اور حق مہر لے کر دیا بلکہ اس کے بچوں کا ماہانہ خرچ بھی لے کر دیا اس دن جب والدہ صاحبہ کی قبر پر گیا تو رات کو میری والدہ خواب میں مجھے ملیں اسی مصلے سے اٹھ کر مجھے سینے سے لگایا اور مجھ پر کچھ پڑھ کر پھونکا اس دن مجھے لگا کہ میں نے زندگی کا مقصد حاصل کر لیا ہے۔۔۔۔!!
اہلیت ہوتے ہوئے بھی جج نہ بننے کی وجہ یہ ہے کہ بطور جج مجھ پر پریشر آ سکتا ہے مگر بطور وکیل کوئی مجھے مجبور نہیں کر سکتا میں حلال طریقہ رزق سے اتنا کما لیتا ہوں کہ گزارا ہو جاتا ہے بس میں اتنے میں ہی خوش و مطمئن ہوں
جج صاحب بتاتے ہیں کہ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ عزت عہدے میں نہیں اعمال میں ہوتی ہے.

10/01/2026

مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 میں 2015 کی ترمیم کے بعد بغیر اجازت دوسری شادی کرنے پر سزا ایک سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ ھے۔ عدالت قید کی سزا میں تو نرمی کرسکتی ھے جبکہ عدالت کو جرمانہ میں نرمی کا اختیار نہ ھے۔ عدالت بغیر اجازت دوسری شادی ثابت ھو جا نے پر (500000) پانچ لاکھ روپے سے کم جرمانہ نہ کر سکتی ھے
Dealing with criminal revision in hand the only point in issue to be resolved is that whether the sentence of fine imposed against the petitioner can be reduced in consideration of the circumstances weighed by the learned appellate court while reducing the quantum of sentence of imprisonment imposed.

For convenience initial text of Clause (b) of sub section (5) of Section 6 of Muslim Family Laws Ordinance, 1961 is reproduced as under: Section 6(5)(b) –
“On conviction upon complaint be punishable with simple imprisonment which may extend to one year, or with fine which may extend to five thousand rupees, or with both.”
While the aforesaid clause has been substituted later on by Punjab Muslim Family Laws (amendment) Act, 2015 (Act No.XIII of 2015) which reads as under:
Section 6(5)(b) – “On conviction upon complaint be punishable with the simple imprisonment which may extend to one year and with fine of five hundred thousand rupees.”

The legislature through the above reproduced substitution of sub clause (b) sub section (5) of Section 6 of the Muslim Family Laws Ordinance, 1961 has withdrawn the discretion of Court with regard to quantum of fine to be imposed and imposition of fine itself which very clearly transpires intention of the legislature.

Crl. Revision No.72278 of 2019

وارثوں کو جائیداد سے محروم کرتے ہوئے ریوینو اتھارٹیز کو انتقال ہبہ نہیں کرنا چاہیے.2021 SCMR 772انتقال ہبہ پاس کرنے والے...
09/01/2026

وارثوں کو جائیداد سے محروم کرتے ہوئے ریوینو اتھارٹیز کو انتقال ہبہ نہیں کرنا چاہیے.
2021 SCMR 772
انتقال ہبہ پاس کرنے والے تحصیلدار اور گواہ انتقال کو پیش نہ کرنے کی صورت میں ہبہ ثابت نہ ہو گا.
2020 SCMR 276 (d)
ہبہ کا Beneficiary آرٹیکل 79 قانون شہادت کی رو سے بذریعہ شہادت ہبہ کو ثابت کرنے جا پابند ہے.
2018 MLD 739
بذریعہ وکیل پیش کردہ انتقال ہبہ ناقابل ادخال شہادت ہے.
2017 YLR 399
بوقت انتقال ہبہ Doner تقریباً 85 سال کا بوڑھا مریض تھا. ہبہ درست ثابت نہ ہو گا.
2016 SCMR 1417

09/01/2026

*Vvv informative for Bail maters*

*“میڈیکو لیگل رپورٹ میں تشدد کے آثار کی عدم موجودگی اور ضمانت کا حق”*

*“Further Inquiry کے زمرے میں آنے والے زنا بالجبر مقدمات میں ضمانت”*

*“Absence of Marks of Violence in Medico-Legal Evidence and Its Impact on Bail in R**e Cases”*

2025 SCMR 1952
سپریم کورٹ کا فیصلہ ۔۔۔۔
ملزم/درخواست گزار پر یہ الزام تھا کہ اس نے مدعی کی بیٹی کے ساتھ زبردستی زنا بالجبر کیا۔
اگرچہ متاثرہ لڑکی کے میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ اور فارنزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ملزم اور متاثرہ کے درمیان جنسی تعلق قائم ہوا، تاہم میڈیکو لیگل رپورٹ میں متاثرہ کے جسم پر کسی قسم کے تشدد یا جبر کے نشانات ظاہر نہیں ہوئے۔

لہٰذا یہ سوال کہ آیا مذکورہ جنسی تعلق رضامندی سے تھا یا زبردستی—ابھی ٹرائل کے دوران طے ہونا باقی ہے۔ اس مرحلے پر معاملہ مزید انکوائری کا متقاضی سمجھا گیا، جس کے باعث ملزم کو ضمانت دی گئی۔

خلاصہ قانونی نکتہ
صرف ڈی این اے یا میڈیکو لیگل رپورٹ سے جنسی تعلق ثابت ہو جانا بذاتِ خود زنا بالجبر ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، جب تک رضامندی یا جبر کا پہلو واضح طور پر ثابت نہ ہو؛ ایسی صورت میں ضمانت دی جا سکتی ہے۔

قانونی تجزیاتی جائزہ
و
1) مقدمے کا قانونی پس منظر
الزام: زنا بالجبر
(Section 376 PPC)

شہادت

میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ (MLC)

ڈی این اے رپورٹ (FSA)

اہم نکتہ: میڈیکو لیگل رپورٹ میں جسم پر تشدد/مزاحمت کے نشانات موجود نہیں۔

2) ضابطہ فوجداری
(Cr.P.C.)
کے تحت ضمانت کا قانونی فریم ورک
(الف) دفعہ 497 Cr.P.C.
— ضمانت (Bail)
سزائے موت یا عمر قید والے مقدمات میں ضمانت اصولاً ممنوع، مگر اگر

شواہد میں شک ہو،

یا معاملہ مزید انکوائری
(Further Inquiry)
میں آتا ہو،
تو ضمانت دی جا سکتی ہے۔

(ب) “مزید انکوائری” کا تصور
جب استغاثہ کے شواہد ابتدائی مرحلے پر حتمی یقین پیدا نہ کریں۔

اگر رضامندی بمقابلہ جبر کا سوال واضح نہ ہو اور ٹرائل کا متقاضی ہو۔

عدالتی اصول: ضمانت کے مرحلے پر حتمی فیصلہ نہیں دیا جاتا؛ صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا ملزم کا کیس مزید انکوائری میں آتا ہے یا نہیں۔

3) میڈیکل جریسپرڈینس
(Medical Jurisprudence)
کا تجزیہ
(الف) میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ (MLC)
زنا بالجبر کے مقدمات میں تشدد، مزاحمت، چوٹوں کی علامات اہم قرائن سمجھی جاتی ہیں

تازہ خراشیں

زخم

جسمانی مزاحمت کے آثار

اگر ایسے آثار موجود نہ ہوں تو:

جبر کا پہلو کمزور پڑ جاتا ہے

اور رضامندی کا امکان زیرِ بحث آتا ہے

(ب) ڈی این اے رپورٹ
ڈی این اے رپورٹ صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ:

جنسی تعلق ہوا

ڈی این اے یہ ثابت نہیں کرتی کہ:

تعلق زبردستی تھا یا رضامندی سے

طے شدہ اصول
DNA evidence is confirmatory of in*******se, not of consent or force.

4) تعزیراتِ پاکستان
(PPC)
کے تحت قانونی پہلو
دفعہ 375 PPC — زنا کی تعریف
زنا بالجبر ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے:

عدمِ رضامندی

یا زبردستی / جبر / خوف

اگر رضامندی کا سوال پیدا ہو جائے:

تو جرم کی نوعیت متنازع ہو جاتی ہے

اور معاملہ ٹرائل کا تقاضا کرتا ہے

دفعہ 376 PPC — سزا
سزا کا تعین ثبوتِ جبر پر منحصر ہے

محض تعلق کا ثابت ہونا کافی نہیں

5) عدالتی جریسپرڈینس
(Judicial Jurisprudence)
(الف) سپریم کورٹ کے مسلمہ اصول
زنا بالجبر کے مقدمات میں

صرف الزام کافی نہیں

قرائنِ جبر کا واضح ہونا ضروری ہے

جہاں

MLC تشدد ظاہر نہ کرے

اور رضامندی کا سوال اٹھے
تو کیس
Further Inquiry
میں آتا ہے

(ب) 2025 SCMR 1952
کا نچوڑ
عدالت نے قرار دیا

ڈی این اے اور MLC سے جنسی تعلق ثابت

مگر جبر ثابت نہیں

لہٰذا

رضامندی یا عدمِ رضامندی کا فیصلہ ٹرائل میں ہوگا

ضمانت دی جا سکتی ہے

6) شہادت کے قانون
(Qanun-e-Shahadat Order, 1984)
کا اطلاق
آرٹیکل 117 — بوجھِ ثبوت
فوجداری مقدمات میں

بوجھِ ثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے

اگر

جبر واضح نہ ہو
تو:

شک کا فائدہ ملزم کو

7) ضمانت اور ٹرائل کے مرحلے میں فرق
مرحلہ دائرہ کار
ضمانت شبہ، مزید انکوائری،
prima facie
جائزہ
ٹرائل مکمل شہادت، جرح، حتمی فیصلہ

8) نتیجاً مختصراً
(Conclusion)

2025 SCMR 1952
ایک اہم نظیر ہے جو واضح کرتی ہے کہ

ڈی این اے رپورٹ بذاتِ خود زنا بالجبر ثابت نہیں کرتی

میڈیکو لیگل رپورٹ میں تشدد کی عدم موجودگی، رضامندی کے سوال کو جنم دیتی ہے

ایسے حالات میں معاملہ
Further Inquiry
کا بنتا ہے

اور دفعہ 497 Cr.P.C.
کے تحت ضمانت دی جا سکتی ہے

Address

Malikabad Plaza
Rawalpindi
4600

Telephone

+92 355 4104340

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AK Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share