30/04/2026
با اثر کیلے قانون الگ
اور غریب کیلے قانون سخت
خود کو مسلمان کہنے والے کیا
سکول کالجز یونیورسٹیز ،
میں خطبہ حجتہ الوداع نہ پڑھا ؟
کسی کو کسی پر فوقیت نہیں
غریبوں کا خیال رکھنا ،
قومیں ویسے تباہ نہیں ہوتی ،
جب انصاف ختم ہو جائے ،
تگڑہ جب جرم کرے تو قانون بدل جائے ،
ماڑہ جب معمولی سی خطا کرے تو ہتھکڑی ،
افسوس کیا تم نے اسلام کی تاریخ نہیں پڑھی،
کے خالد بن ولید جرنیل تھے ، کسی نے حضرت عمر کو شکایت کی ، تو خلیفہ وقت نے کہا ،گرفتار کر کے ،خالد بن ولید کو پیش کیا جائے،
امیر کی بیوی ہو یا امیر کا بیٹا نشے میں چور کسی لگثری گاڑی میں کسی مزدور کو کچل دے ، تو دو دن میں معاملہ رفع دفعہ ،
اور ایک مزدور سے حادثاتی ایکسیڈنٹ ہو جائے تو جیل ؟
کیا کبھی غور کیا جس مغرب کو ہم برا کہتے ہے ، صرف لباس دیکھ کر اور مذہب دیکھ کر ان کے ہاں وہی قانون ہے جو ایک اسلامی ملک کا ہونا چاہیے ،
تو غور کر
قومیں لباس ،مزہب ، یا شراب ، جوا، سے تباہی کی طرف نہیں جاتی ،
بلکہ دوہرے قانون بے ایمانی ، اور اپنے اسلاف کے طریقے کو رد کرنے سے تباہ ہوتی ہے،
تحریر سائیں ادریس محمود چشتی صابری