Mr khan

Mr khan Royal

22/01/2021
09/01/2021

Assalamu alaikum

06/01/2021
Great
11/12/2019

Great

01/12/2019

ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮاللہ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ "ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺅ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﯿﻦ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﯿﮟ"
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻓﻮﺭﯼ ﺣﮑﻢِ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ
ﺳﺎﺣﻞ ﭘُﺮ ﺳﮑﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺘﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰؑ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ " ﺍﮮ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮ ! ﺍللہ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭ ﺭﮨﻨﺎ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻢ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﮑﻢ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ
ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺝ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮈﻭﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ
ﺳﻮﺍﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﻣﻮﺝ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺎ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ
" ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﻧﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ "ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻻﺗﮯ ﺭﮨﮯ
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺗﮯ ﺁﺗﮯ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯽ
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ
ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﺁﺗﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﺴﺐِ ﺳﺎﺑﻖ ﺍِﺱ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ! ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﺅ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽؑ ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﺳﭽﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﻞ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ، ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮﮞ
ﻟﮩٰﺬﺍ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺻﺪﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ
* ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﺎﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺁ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮؑ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ
ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺩﻭ ﺗﻮ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺁ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ، ﮐﯿﺴﮯ ﺑﭻ ﮔﺌﯽ؟
" ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ " ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ ! ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺗﻮﮐﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ
ﺗﻮ ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﻃﻔﯿﻞ ﺑﭻ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺻﺪﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻧﺎ ﺍﻣﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔ !
==========================
ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻋﺮﺵ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ، ﻣﯿﺮﮮ ﻏﻀﺐ ﭘﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﮨﮯ.
(ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ)

01/12/2019

سونے سے پہلے اس نے اپنے غنودگی میں لیٹے شوہر کو مخاطب کیا۔۔
سنیں فجر میں اٹھاؤں آپ کو؟
اس نے نیند میں ڈوبی آنکھیں کھول لئے اور تھوڑے کڑوے لہجے میں بولا۔۔
تم کو کتنی دفعہ کہا ہے میں نیند سے نہیں اٹھ پاتا فجر میں، سارا دن کا تھکا ہارا ہوتا ہوں.
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی. پر نماز تو فرض ہے ناں۔
فجر ہی کیا آپ کوئی بھی نمازادا نہیں کرتے۔ بس جمعہ یا عید۔
اس کی بات سن کر وہ جھنجلا کر بستر پر بیٹھ گیا اور کہا.
دیکھو تبسم تم نماز پڑھتی ہو. میں کبھی نہیں ٹوکتا
مگر یہ بار بار مجھے مت لیکچر دیا کرو۔ سب نے اپنا اپنا حساب دینا ہے۔
اب سونے دو مجھے اور لائٹ بند کر دو۔
وہ پھر بستر پر لیٹ گیا۔
اچھا سنیں..... اس کے پھر پکارنے پر اس کا ضبط جواب دے گیا۔
تبسم! ایک بار کہہ دیا تو کیوں وہ بحث کر رہی ہو بار بار...
وہ کچھ دیر کے توقف کے بعد بولی۔۔
نماز کا نہیں کہہ رہی، دوسری بات ہے.....
کیا؟؟؟!! اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ اب کیا پوچھنا چاہ رہی ہے۔۔
مجھے کل پیسوں کی ضرورت ہے۔جو آپ نے دئیے سب ختم ہو گئے....
سب ختم ہوگئے؟؟ اس کے لہجے میں بلا کی حیرت تھی.....
خدا کی بندی ایسے کہاں خرچ کئیے پیسے؟ابھی آدھا مہینہ باقی ہے تنخواہ ملنے کو۔
اور تم نے مہینے بھر کا بجٹ ابھی سے ختم کر دیا؟
میں آپ کو حساب نہیں دینا چاہتی، بس ہو گئے خرچ. کل بندوبست کر دیجئے گا پیسوں کا.
اس کی بات پر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی.... کیوں حساب نہیں دینا چاہتیں۔۔پیسہ کیا درختوں پر لگا ہے جو توڑ لےبندہ۔۔
ایسا تو آج تک تم نے نہیں کیا پھر اس بار۔۔کچھ بھی ہو مجھے ساراحساب چاہئیے.
ابھی اس کا چہرہ بتا رہا تھا وہ سخت غصے میں ہے.
اس کی بات پر وہ مسکرا دی۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا...
تم ہنس رہی ہو۔۔مذاق ہے کیا یہ؟
وہ بولی۔۔میں اس لئیے ہنس رہی ہوں کہ اللہ نے آپ کو اس گھر کا سربراہ بنا یا اور جب آپ کی سربراہی میں ،میں حساب نہ رکھ پائی تو آپ کو غصہ آ گیا۔۔۔
اب سوچیں کل کو آپ سے بھی وہ رب محشر میں حساب مانگے گا تو کیسے دیں گے۔۔
آپ کا میرا حساب تو چند ہزار روپوں کا ہے...
پر بندے اور رب کا تو پوری زندگی کی ایک ایک نعمت کاہے جس کی کوئی قیمت نہیں۔۔۔کوئی بدل نہیں....
وہ جیسےسن ہوا اسے سن رہا تھا۔۔۔
وہ پھر بولی۔۔میں نے تو آپ کو مزے سے کہہ دیا میرے پاس حساب نہیں. پر کیا آپ اس بڑے دن اس رب کے سامنے یہ کہہ سکیں گے؟
جس دن بڑے بڑے بادشاہ اس کے سامنےکانپ رہے ہوں گے؟؟
وہ چپ ہو چکا تھا نظریں جھکائے تصورمیں جیسےاس بڑے دن کے تصور سے کانپ رہا تھا...
آپ فکر نہ کریں، ہر مہینے کی طرح اس بار بھی پورا ہو جائے گا کہیں خرچ نہیں ہوئے پیسے یہ تو بس اس لئیے کہا کہ..... ۔اس نےبات ادھوری چھوڑ دی۔۔۔
سو جائیں میں لائٹ بند کر دیتی ہوں۔وہ اٹھی تو
وہ ایک دم بول پڑا۔
تبسم...!!! جی؟.... تم اٹھو تو فجر کے لئےمجھے جگا دینا۔۔یہ کہہ کر اسنے کروٹ بدلی اور آنکھیں بندکر لیں۔۔ا
س کی بیوی نے اسے مسکرا کر دیکھا اور بتی گل کر دی۔۔فجرمیں ایک نئی روشنی پھوٹنے والی تھی.

30/11/2019

"ایک اُبلا انڈہ کتنے کا ہے؟'' گاڑی روک کر خاتون نے بوڑھے غریب سے پوُچھا۔

"15 روپے کا ایک بیٹی۔" بزرگ نے سردی سے ٹھٹھرتی آواز میں کہا۔
"50 روپے کے 4 دیتے ہو تو بولو۔'' خاتون بولی۔
"لے لو بیٹی۔" بزرگ نے یہ سوچ کر کہا کہ کوئی گاہک تو ملا۔

اگلے دن خاتون اپنے بچوں کو لے کر ایک مہنگے ریسٹورنٹ گئی اور سب بچوں کا من پسند کھانا آرڈر کیا، کھانا کھانے کے بعد جب بل 1900 روپے آیا تو پرس سے 2000 روپے نکال کر دیئے اور "Keep the change" کہہ کر چلی گئی۔

تو گویا اِس خاتون نے اپنی فتح اِس میں سمجھی کہ جس بوڑھے انڈے بیچنے والے کو زیادہ پیسے دینے چاہیئے تھے تو اِس کا حق مار لیا، اور جو پہلے ہی بڑے ناموں کے ریسٹورنٹس بنا کر عوام کو لوٹ رہے ہیں اُن کو 100 روپے زیادہ دے دیئے۔

کبھی اِن غریبوں سے یہ سوچ کر ہی خریداری کر لیا کریں کہ شاید ہم کسی کی مدد کا سبب بن جائیں۔

30/11/2019

ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﯽ ﻋﺠﺐ ﻧﺸﺎﻧﯽ
_____________________
ﮔﻮﻟﮉﻥ ﭘﻠﻮﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮦ ھﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ھﺠﺮﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ
ﺳﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ھﮯ . ﯾﮧ ھﺮ ﺳﺎﻝ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺍﻻﺳﮑﺎ ﺳﮯ
ھﻮﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﺗﮏ 4000 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮ ﮐﮯ
ھﺠﺮﺕ ﮐﺮﺗﺎ ھﮯ .

ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﭘﺮﻭﺍﺯ 88 ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺤﯿﻂ
ھﻮﺗﯽ ھﮯ ,ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﺗﺎ .
ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟﮐﻮﺋﯽ ﺟﺰﯾﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭘﺮﻧﺪﮦ
ﺗﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟﺳﮑﺘﺎ .ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﺴﺘﺎﻧﺎ
ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ھﮯ

ﺟﺐﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﯽ ﺗﻮ
ﺍﻥ ﮐﻮ
ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﻔﺮ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯ88 ﮔﺮﺍﻡ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ‏( fat ‏) ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ھﮯ .

ﺟﺒﮑﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﮯ
ﺍﯾﻨﺪﮬﻦ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮﺗﻘﺮﯾﺒﺎ 70 ﮔﺮﺍﻡ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ
ھﻮﺗﯽ ھﮯ .

ﺍﺏ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﻮ ﯾﮧﭼﺎھﺌﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭘﺮﻧﺪﮦ 800 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﭘﮩﻠﮯ
ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ
ﻣﺮﮐﺮ ﺧﺘﻢ ھﻮ ﺟﺎﺗﺎ . ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ ھﮯ,
ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺷﺸﺪﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ھﮯ .

ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮔﺮﻭھﻮﮞ ﮐﯽ
ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ v ﮐﯽ ﺷﯿﭗ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮﺗﮯ ھﯿﮟ
اور اپنی پوزیشن چینج کرتے رھتے ھیں,ﺟﺲ ﮐﯽ
ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ھﻮﺍ ﮐﯽ ﺭﮔﮍ ﮐﺎ ﮐﻢ ﺳﺎﻣﻨﺎ ھﻮﺗﺎ ھﮯ
ﺑﻨﺴﺒﺖﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ .

ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ %23 ﺍﻧﺮﺟﯽ ﺳﯿﻮ
ھﻮﺟﺎﺗﯽ ھﮯ , ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﻮ ھﻮﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﭘﺮ
ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﯽھﮯ

6. ﯾﺎ 7 ﮔﺮﺍﻡ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﯾﺰﺭﻭ ﻓﯿﻮﻝ ﮐﯽ
ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ھﻮﺗﯽ ھﮯ, ﺟﻮ ھﻮﺍﻭﮞ ﮐﺎ ﺭﺥ
ﻣﺨﺎﻟﻒ ھﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺟﺎﺗﯽ ھﮯ .
ﺍﺏ
ھﻢ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ھﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﻥ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺮﺍﺀﺕ ﮐﺮ
ﺳﮑﺘﺎ ھﮯ .ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﺎﻥ ﺳﮑﺘﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ
ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯﮐﺘﻨﯽ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﺩﺭﮐﺎﺭ ھﮯ .

ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﻥ ﺑﺘﺎﺗﺎ ھﮯ .

ﺍﺗﻨﮯ ﻟﻤﺒﮯ ﺳﻔﺮ ﮐﯽ ﺍﺳﮯ ھﻤﺖ ﮐﯿﺴﮯ ھﻮﺟﺎﺗﯽ ھﮯ
ﺍﻭﺭ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ھﮯ .

ﺍﻭﺭ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﯾﮧ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ v ﺷﯿﭗ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻧﮯ
ﺳﮯ
ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﻧﺮﺟﯽ ﺑﭽﺎ ﺳﮑﺘﺎ ھﮯ۔“

ﻓﺘﺒﺎﺭﮎ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺣﺴﻦﺍﻟﺨﺎﻟﻘﯿﻦ

30/11/2019

کچھ لوگ وطن کا اتنا خیال رکھتے ہیں:

1898ء میں جرمن بادشاہ "گیلیم دوئم" اپنی بیگم کے ہمراہ ولایہ شام کا دورے پر آگیا ، عوام کی جانب سے استقبال کے دوران گیلیم کی بیگم نے ایک خوبصورت گدھا دیکھا اور اس وقت کے شام کے گورنر "مصطفی عاصم پاشا" سے درخواست کی کہ یہ گدھا ان کو دیا جائے، جس کو وہ برلن لے جانا چاہتی ہے! گورنر اس گدھے کے مالک کے پاس گیا جس کا نام "ابوالخیر تللو" تھا اور ان سے درخواست کی کہ اپنا گدھا جرمن ملکہ کو دیں، مگر انہوں نے انکار کیا تو گورنر ناراض ہوئے اور کہا جو قیمت لینی ہے لے لو، گدھا مہمان کو دو، مگر ابولخیرنے انکار کیا اور کہا کہ ان کے پاس 6 اعلیٰ نسل کے گھوڑے ہیں، چاہے تو سب کے سب لےلو، مگر گدھا جرمنوں کو نہیں دوں گا۔

گورنر حیران ہوئے اور کہا کیوں؟ تللو نے کہا: "جناب جب یہ گدھا لےکر جرمنی پہنچیں گے تو دنیا بھر کے اخبارات لکھیں گے کہ شام سے گدھا لیا گیا ہے، یوں شام کا ذکر گدھے کے ساتھ ہوگا، ہوسکتا ہے کوئی لطیفہ بھی بنائی جائے گی، پھر لوگ کہیں گے جرمن شہنشاہ کو شام میں گدھے کے سوا کچھ نہیں ملا، اس لیے میں کسی قیمت پر گدھا نہیں بیچوں گا"۔

گورنر نے یہ بات شہنشاہ کو بتائی تو وہ خوب ہنسے، جواب کو پسند کیا اور تللو کو تمغے سے نوازا۔
کتنے ایسے لوگ ہیں جو اپنی سرزمین کی عزت اور وقار کا خیال رکھتے ہیں اور کتنے ایسے گدھے ہیں جو اپنے وطن کو صلیبیوں کی چراگاہ بنانے کے بعد باہر جاکر بیٹھ جاتےہیں، بلکہ کفار کو خوش کرنے کےلیے اپنے لوگوں کو قتل کرنے، ماؤں بہنوں کو چند ڈالروں کی خاطر صلیبیوں کے ہاتھوں فروخت کرنے اور وطن سے غداری کرنےکے بعد انتہائی بے شرمی سے وطن کی بات کرتے ہیں۔“
منقووووووول :

30/11/2019

ریاستِ مدینہ

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چکا تھا ساتھ میں حاملہ بیوی تھی تو اس نے مدینے کی حدود کے پاس ہی خیمہ لگا لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا، بیوی کا وقت قریب تھا تو وہ درد سے کراہنے لگی، حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنے روز کے گشت پر تھے اور ساتھ میں ایک غلام تھا، جب آپ نے دیکھا کے دور شہر کی حدود کے پاس آگ جل رہی ہے اور خیمہ لگا ہوا ہے تو آپ نے غلام کو بھیجا کہ پتہ کرو کون ہے

جب پوچھا تو اس نے ڈانٹ دیا کہ تمہیں کیوں بتاؤں، آپ گئے اور پوچھا تو بھی نہیں بتایا آپ نے کہا کہ اندر سے کراہنے کی آواز آتی ہے کوئی درد سے چیخ رہا ہے بتاؤ بات کیا ہے تو اس نے بتایا کہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق سے ملنے مدینہ آیا ہوں میں غریب ہوں اور صبح مل کے چلا جاؤں گا، رات زیادہ ہے تو خیمہ لگایا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں، بیوی امید سے ہے اور وقت قریب آن پہنچا ہے تو آپ جلدی سے پلٹ کر جانے لگے کہ ٹہھرو میں آتا ہوں، آپ اپنے گھر گئے اور فوراً اپنی زوجہ سے مخاطب ہوئے کہا کہ اگر تمہیں بہت بڑا اجر مل رہا ہو تو لے لو گی زوجہ نے کہا کیوں نہیں تو آپ نے کہا چلو میرے دوست کی بیوی حاملہ ہے،وقت قریب ہے چلو اور جو سامان پکڑنا ہے ساتھ پکڑ لو،

آپ کی بیوی نے گھی اور دانے پکڑ لئے اور آپ کو لکڑیاں پکڑنے کا کہا آپ نے لکڑیاں اپنے اوپر لادھ لیں،،، سبحان اللہ ۔۔۔ (یہ کوئی کونسلر، ناظم ، ایم پی اے یا ایم این اے نہیں یہ اس کا ذکر ہو رہا ہے دوستو جو کہ 22 لاکھ مربع میل کا حکمران ہے جس کے قوانین آج بھی چلتے ہیں جو عمر فاروق ہے ) جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو فوراً کام میں لگ گئے بدو ایسے حکم چلاتا جیسے آپ شہر کے کوئی چوکی دار یا غلام ہیں،، کبھی پانی مانگتا تو آپ دوڑے دوڑے پانی دیتے کبھی پریشانی میں پوچھتا کہ تیری بیوی کو یہ کام آتا بھی ہے تو آپ جواب دیتے،، جبکہ اس کو کیا پتہ کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق خود ہیں،

جب اندر بچے کی ولادت ہوئی تو آپ کی زوجہ نے آواز لگائی یا امیر المومنین بیٹا ہوا ہے تو یا امیر المومنین کی سدا سن کر اس بدو کی تو جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور بے اختیار پوچھنے لگا کیا آپ ہی عمر قاروق امیر المومنین ہیں ؟؟ آپ عمر ہیں ؟ وہی جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپے آپ وہ ہیں وہی والے عمر ہیں جس کے بارے میں حضرت علی نے کہا کہ آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگ کر اسلام کے لئے مانگا وہی والے نا؟؟
آپ نے کہا ہاں ہاں میں ہی ہوں اس نے کہا کہ ایک غریب کی بیوی کے کام کاج میں آپ کی بیوی،خاتون اول لگی ہوئی ہے اور دھوئیں کے پاس آپ نے اپنی داڑھی لپیٹ لی اور میری خدمت کرتے رہے؟ تو سیدنا عمر رو پڑے اس بدو کو گلے سے لگایا اور کہا تجھے پتا نہیں توں کہا آیا ہے ؟ ؟ یہ مدینہ ہے میرے آقا کا مدینہ یہاں امیروں کے نہیں غریبوں کے استقبال ہوتے ہیں، غریبوں کو عزتیں ملتی ہیں، مزدور اور یتیم بھی سر اٹھا کر چلتے ہیں !!
سبحان اللہ

پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجئے. ۔۔۔۔
یہ ھے ریاست مدینہ

Address

Modal Town Humak Islamabad
Rawalpindi

Telephone

+923408923243

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mr khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share