06/01/2026
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
یہ وہ نورانی دعا ہے جس کی بنیاد دو عظیم اسمائے الٰہی یاحیّ اور یا قیّوم پر قائم ہے
حی وہ ذات ہے جو ہمیشہ زندہ ہے جس پر کبھی فنا طاری نہیں ہوتی اور قیّوم وہ رب ہے جو ہر شے کو تھامے ہوئے ہے جس کے سہارے پوری کائنات قائم ہےیہ دعا محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں
یہ توحید کا اعلان ہے
عاجزی کا اقرار ہے
اور اس یقین کی تجدید ہے کہ دینے والا صرف ایک ہی ہے اللّٰہ
اس دعا کی ہر سطر ایک الگ دروازہ کھولتی ہے
اور ہر جملہ اللّٰہ کی کسی نہ کسی صفت کے واسطے سے مانگنے کا سلیقہ سکھاتا ہے
جب بندہ کہتا ہے یاحیّ یا قیّوم برحمتک استغیث
تو دل کو سکون ملتا ہے
روح یہ مان لیتی ہے کہ اگر رحمت نہ ہو تو کوئی راستہ نہیں
کوئی سہارا نہیں
کوئی نجات نہیں
پھر یہی پکار مختلف صفات کے واسطے سے آگے بڑھتی ہے
کبھی کرم کے وسیلے سے
کبھی نعمت کے سہارے سے
کبھی قدرت کے در پر
کبھی فضل کی بارگاہ میں
کبھی نصرت کی امید کے ساتھ
کبھی حجت کے نور کے ذریعے
کبھی عزت کی پناہ میں
اور کبھی عظمت کے جلال کے سامنے
اور آخر میں پھر کرم کے واسطے سے
کیونکہ بندہ جان لیتا ہے کہ ابتدا بھی کرم ہے اور انتہا بھی کرم ہی ہے
یہ ترتیب یونہی نہیں
یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ مانگنے کا آداب کیا ہے
پہلے رحمت
پھر عطا
پھر طاقت
پھر فضل
پھر مدد
پھر حق
پھر عزت
پھر عظمت
اور آخر میں پھر وہی کرم جس پر سب کچھ قائم ہےیہ دعا اُن دلوں کے لیے ہے جو ٹوٹ چکے ہوں
اُن لوگوں کے لیے ہے جو راستہ بھٹک گئے ہوں
اُن کے لیے ہے جن کے معاملات رکے ہوئے ہوں
جن پر بندشیں ہوں
جنہیں سمجھ نہ آ رہی ہو کہ دروازہ آخر کھلے گا کہاں سے ؟ یہ دعا کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ دل کو اللّٰہ سے جوڑ دیتی ہے
زبان کو عاجزی سکھاتی ہے
اور روح کو یقین عطا کرتی ہے
جو شخص اسے توجہ کے ساتھ پڑھتا ہے
سانسوں کے ساتھ پڑھتا ہے
دل کی گہرائی سے پڑھتا ہے
وہ خود محسوس کرتا ہے کہ اس کے حالات میں نرمی آنا شروع ہو جاتی ہے
سوچ بدلنے لگتی ہے
فیصلے درست ہونے لگتے ہیں
اور بند راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں
یہ رب سے تعلق کا عمل ہے
یہ دعا وقت کی محتاج نہیں
یہ رات میں بھی قبول ہے
یہ دن میں بھی اثر رکھتی ہے
ہر مقصد میں کامیابی کے لیے
ہر مشکل سے نکلنے کے لیے
ہر الجھن کے حل کے لیے
یہ دعا ایک مکمل سہارا ہے
اب اگر اس ذکر کو ہر فرض نماز کے بعد صرف ایک بار پڑھنے کو اپنا معمول بنا لیا جائے
تو یہ معمول محض ایک عمل نہیں رہتا
یہ تعلق کی تجدید بن جاتا ہے
دل کا رب سے دوبارہ جڑ جانا بن جاتا ہے
نماز کے بعد کا لمحہ قبولیت کا لمحہ ہوتا ہے
اس وقت زبان سے نکلے ہوئے الفاظ سیدھے دل سے آسمان کی طرف اٹھتے ہیں
جب یہ ذکر تسلسل کے ساتھ پڑھا جاتا ہے
تو نیت میں پختگی آتی ہے
سوچ میں وضاحت پیدا ہوتی ہے
اور اعمال میں برکت شامل ہونے لگتی ہے
ان شاء اللّٰہ وہ مقصد جو الجھا ہوا ہو آسانی کی طرف آتا ہےوہ خواہش جو مدت سے دل میں ہو راستہ پا لیتی ہےاور وہ کوشش جو بار بار رک جاتی ہو بالآخر کامیابی کی شکل اختیار کر لیتی ہےیہ ذکر انسان کو بدلتا ہے
اور جب انسان بدلتا ہے تو حالات خود بدلنے لگتے ہیں شرط صرف ایک ہے
دل حاضر ہو یقین کامل ہو
اور معمول میں ناغہ نہ آئے
کیونکہ جو عمل اللّٰہ کے نام سے جڑ جائے
وہ کبھی بے اثر نہیں رہتا
یاحیّ کبھی مایوس نہیں کرتا
اور یاقیّوم کبھی بےسہارا نہیں چھوڑتا
دعاوں کی گزارش ہے