12/01/2024
میں بے بس، غمزدہ، بے آسرا، مجبور انساں ہوں
میں غزّہ کا مسلماں ہوں میں غزّہ کا مسلماں ہوں
مجھےجو زخم لگتے ہیں مجھے بھی درد ہوتا ہے
مسلمانانِ عالم کو بتاؤ میں پریشاں ہوں
میرا گھر بار جل کر خاک ہوتے سب نے دیکھا ہے
میں دُکھیارا بھی فردِ اُمتِ محبوبِ یزداں ہوں
مجھےپڑھکرکوئی کیوں اپنی خوشیوں میں خلل ڈالے
کتابِ زندگی کا مختصر دِلسوز عُنواں ہوں
مِرے اس حال پہ دنیا نے خاموشی کی ٹھانی ہے
یہ دُنیا فائدہ چاہے میں تو نقصاں ہی نقصاں ہوں
میری خاطر جہانِ رنگ و بُو کو کون چھوڑے گا
جہاں اُمید کا طالب، میں اک تاریک اِمکاں ہوں
میری فریاد سُن کر کس کےدل میں رحم آئےگا
نہ جامی ہوں نہ رُومی ہوں نہ میں تبریزِ دوراں ہوں
میری خاطر فقط دو چار آنکھوں میں نمی ہوگی
میں زیرِ آسماں، زخمی بدن، اک پَل کا مہماں ہوں
سبھی جلسے جلوسوں میں محبت ڈھونڈنے نکلے
میں اندھوں کے شہر میں آئینہ لاکر پشیماں ہوں
مسلماں بزدلی کو مصلحت کہنے کے مُجرم ہیں
مسلماں ہو کے میں مسلمانوں پہ حیراں ہوں
میں غزہ کا مسلماں ہوں میں غزہ کا مسلماں ہوں🇵🇸🇵🇸🇵🇸