Mazhar Hayat - Empowering Pakistani Youth

Mazhar Hayat - Empowering Pakistani Youth Educationist | Entrepreneur | Youth Enabler

17 years mentoring Pakistani youth through classrooms & startup rooms.

Talking about careers, mindset & real opportunities — because potential deserves honest guidance.

🚀 JOB OPPORTUNITYA Faisalabad-based Real Estate Sales & Marketing Agency is looking for a dynamic, energetic, and result...
16/09/2026

🚀 JOB OPPORTUNITY

A Faisalabad-based Real Estate Sales & Marketing Agency is looking for a dynamic, energetic, and result-oriented Marketing Executive (Female) to join our growing team!

If you have great communication skills and a knack for building client relationships, we want to hear from you.

🔹Key Responsibilities:

👉🏼Make sales calls to convert leads into scheduled meetings

👉🏼Engage prospects across social media platforms
👉🏼Build and maintain client relationships
👉🏼Track lead records and achieve meeting/sales quotas

🔹Requirements:

▪️Bachelor’s degree in Marketing or a related field
▪️Good communication and persuasion skills
▪️Creative, target-oriented, and a team player
▪️Basic knowledge of digital marketing

🔹Why Join Us?

✨ Dynamic work environment
📈 Career growth opportunities
🤝 Supportive team culture

📍 Location: Canal Road, Faisalabad
📅 Deadline: 30th September 2026

📲 How to Apply:

Send your updated CV via WhatsApp to 03008660464 (WhatsApp Only).

📣 BIG ANNOUNCEMENT: Unity Ventures is the Proud Strategic Outreach Partner for UCP Launchpad 2026! 🤝✨We are absolutely t...
15/07/2026

📣 BIG ANNOUNCEMENT: Unity Ventures is the Proud Strategic Outreach Partner for UCP Launchpad 2026! 🤝✨

We are absolutely thrilled to announce that Unity Ventures has officially joined hands with the University of Central Punjab as the Official Outreach Partner for the highly anticipated UCP Launchpad 2026! 🚀

What is UCP Launchpad 2026? 🌟

It is the ultimate launchpad for innovation, where the brightest young minds will showcase:

* 💡 Groundbreaking Entrepreneurship & Startup Ideas
* 💻 Cutting-edge Computer Science Projects & Products
* 🤖 Advanced IT & Robotics-based Solutions

Our Role & Mission 🎯

At Unity Ventures, we believe in bridging the gap between brilliant academic innovation and real-world industry ex*****on. As the strategic outreach partner, our mission is to scale this event to new heights by bringing together:

* 💼 Top-tier Industry Leaders & Business Owners
* 💻 Tech Pioneers & IT Giants
* 🎙️ Media Dignitaries & Influential Voices
* 🎓 Renowned Academicians & Visionaries

We are working round the clock to ensure that these incredible student innovations get the massive platform, mentorship, and spotlight they truly deserve!

Stay tuned as we unveil our stellar lineup of guests, judges, and partners who will be joining us in shaping the future.

Let’s make UCP Launchpad 2026 an unforgettable success! 🙌

🔗 Follow Unity Ventures for exclusive behind-the-scenes, guest announcements, and event updates!

سچی قربانی اپنے آرام و سکون کو تیاگ کر کچھ ایسا تعمیر کرنے کا نام ہے جو آپ کے بعد بھی زندہ رہے۔عید مبارک ہو پاکستان کے ب...
27/05/2026

سچی قربانی اپنے آرام و سکون کو تیاگ کر کچھ ایسا تعمیر کرنے کا نام ہے جو آپ کے بعد بھی زندہ رہے۔
عید مبارک ہو پاکستان کے باہمت نوجوانوں اور ان کا حوصلہ بڑھانے والے افراد کو—
کوششیں جاری رکھیے، ہاتھ تھامے رہیے اور وقت کا رخ بدلتے رہیے!
عید مبارک !

"تم سے نہیں ہوگا..."یہ وہ چار الفاظ ہیں جو فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، ملتان یا سکھر کے کسی کمرے میں بیٹھے ایک باصلا...
25/05/2026

"تم سے نہیں ہوگا..."

یہ وہ چار الفاظ ہیں جو فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، ملتان یا سکھر کے کسی کمرے میں بیٹھے ایک باصلاحیت نوجوان کا دم گھونٹ دیتے ہیں۔

اگر آپ ایک ایسے فرسٹ جنریشن ڈریمر (First-Generation Dreamer) ہیں جس کے خاندان، محلے یا دوستوں کے سرکل میں دور دور تک کسی نے وہ کام نہیں کیا جو آپ کرنا چاہتے ہیں...
تو یہ پوسٹ اگلے دو منٹ لگا کر غور سے پڑھیں۔

جب آپ اپنے ماحول میں سب سے پہلے خواب دیکھنے والے ہوتے ہیں، تو آپ کا مقابلہ صرف مارکیٹ سے نہیں ہوتا۔ آپ کا مقابلہ اپنے ہی لوگوں کے خوف، شکوک اور طعنوں سے ہوتا ہے۔ وہ برے لوگ نہیں ہیں، وہ بس آپ سے محبت کرتے ہیں لیکن ان کی سوچ پچھلی صدی کے میٹرکس پر چل رہی ہے۔ ان کے لیے کامیابی صرف ایک ڈگری، ایک سرکاری نوکری یا کسی باہر کے ملک کا ویزا ہے۔

ایسے ماحول میں اپنی خود اعتمادی (Confidence) کو کیسے بچایا جائے جب کوئی آپ پر یقین نہ رکھتا ہو؟
یہ 5 باتیں پلے باندھ لیں۔

پہلی بات ۔ اپنی "کیوں" (WHY) کو مضبوط کریںلوگ آپ کی "کیا" (What) اور "کیسے" (How) پر تبصرہ کریں گے کیونکہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا ہوگا۔ لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ یہ کام کیوں کر رہے ہیں۔ اگر آپ کا مقصد صرف راتوں رات امیر ہونا ہے، تو پہلی دو rejections پر آپ کا کانفیڈنس ٹوٹ جائے گا۔ لیکن اگر آپ کا مقصد کوئی حقیقی مسئلہ حل کرنا ہے، کوئی ویلیو کریٹ کرنی ہے، تو لوگوں کی خاموشیاں آپ کا راستہ نہیں روک سکتیں۔

دوسری بات۔ مشورے بند، ڈاکومنٹیشن شروع (Document, Don't Create)
ایک کمال بات یاد رکھیں: "دنیا کو یہ مت بتائیں کہ آپ کتنے بڑے جینئس ہیں، دنیا کو اپنا سفر دکھائیں۔" اگر آپ کوڈنگ سیکھ رہے ہیں، کوئی چھوٹا بزنس شروع کر رہے ہیں یا کوئی ہنر سیکھ رہے ہیں، تو روزانہ کی محنت کو ریکارڈ کریں۔ جب کام بولتا ہے، تو بولنے والے خود ہی خاموش ہو جاتے ہیں۔

تیسری بات۔ "ابو نہیں سمجھتے" کوئی سٹریٹیجی نہیں ہے!
گھر والوں کو بحث سے مت جیتیں۔ انہیں کام کر کے دکھائیں۔ اپنی ڈگری یا موجودہ نوکری کو اپنا "فلور" (Floor) بنائیں، سیلنگ (Ceiling) نہیں۔ دن کے 8 گھنٹے اگر آپ ان کے مائنڈ سیٹ کو دیتے ہیں، تو رات کے 4 گھنٹے اپنے خواب کو دیں۔ جب آپ کی محنت سے پہلا ایک روپیہ یا پہلا کلائنٹ آئے گا، تو ان کا شک بھروسے میں بدلنا شروع ہو جائے گا۔

چوتھی بات۔ وقت سے پہلے اپنے خواب کا ڈھنڈورا مت پیٹیں
جب خواب ابھی چھوٹا ہو، نازک ہو، ابھی پروں پر کھڑا ہو رہا ہو، تو اسے ہر کسی کے سامنے مت رکھیں۔ ہر منفی جملہ، ہر ہنسی اس نازک خواب کو توڑ سکتی ہے۔ پہلے خاموشی سے زمین تیار کریں، بیج بوئیں، پانی دیں۔ جب پودا باہر نکل آئے گا، تو سب کو نظر آ جائے گا۔

پانچویں بات۔ آپ کا ماحول آپ کی تقدیر نہیں لکھتا
یہ شہر، یہ قصبے آپ کی حد نہیں ہیں۔ یہ صرف آپ کی شروعات ہیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ سب سے بڑے اور انقلابی خواب ہمیشہ سب سے چھوٹی اور پسماندہ جگہوں سے نکلے ہیں۔

آپ کا آج کا انتخاب، آپ کا یقین اور آپ کی روزانہ کی کنسسٹینسی (Consistency) آپ کا کل لکھے گی۔

نیچے کمنٹس میں بتائیں —
کیا آپ کی زندگی میں بھی کبھی ایسا لمحہ آیا ہے جب کسی قریبی نے کہا ہو "تم سے نہیں ہوگا" اور آپ نے ثابت کیا کہ "ہوگا"؟

اپنی کہانی لکھیں۔ یہاں کوئی ججمنٹ نہیں ہے، یہ ایک safe جگہ ہے۔ 👇

یہ پوسٹ اپنے اس ایک دوست کو ضرور شیئر یا ٹیگ کریں جسے آج یہ پڑھنے اور حوصلہ پانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ 🔁

-مظہر حیات | ماہرِ تعلیم | Entrepreneur | یوتھ ایمپاورمنٹ ایڈووکیٹ 17 سال سے پاکستانی نوجوانوں کے ساتھ — کیونکہ یقین ہے کہ ہر چھوٹے شہر میں ایک بڑا خواب چھپا ہے۔

تصویر کہانی: فروری 2011، بطور ٹرینر اپنے پہلے ٹریننگ سیشن کی یاد- کیونکہ پاکستانی نوجوانوں کی ایمپاورمنٹ کا مشن نیا نہیں۔

#حوصلہ #خواب

کیا آپ کو پتہ ہے کہجو کام آج آپ سیکھ رہے ہیں —وہ دس سال بعد موجود بھی ہوگا؟سوچیں۔سچ میں سوچیں۔میں کچھ عرصہ پہلےایک unive...
21/05/2026

کیا آپ کو پتہ ہے کہ
جو کام آج آپ سیکھ رہے ہیں —
وہ دس سال بعد موجود بھی ہوگا؟
سوچیں۔
سچ میں سوچیں۔

میں کچھ عرصہ پہلے
ایک university میں گیا۔
وہاں سینکڑوں students تھے —
محنتی، ذہین، پڑھے لکھے۔

میں نے ایک سوال پوچھا:
"آپ میں سے کتنوں نے
*اپنے کام میں AI استعمال کی ہے؟"
دس میں سے شاید دو ہاتھ اٹھے۔

پھر پوچھا:
"آپ میں سے کتنوں کو لگتا ہے
کہ AI آپ کی نوکری لے سکتی ہے؟"
آدھے سے زیادہ ہاتھ اٹھ گئے۔

ڈر ہے — لیکن تیاری نہیں۔
یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

سچ بات یہ ہے —
مصنوعی ذہانت یا AI کوئی فلم کا villain نہیں ہے۔
یہ کوئی دور کی بات بھی نہیں ہے۔

یہ ابھی ہے۔
یہاں ہے۔
اور یہ بدل رہی ہے —

دفاتر کو۔
کارخانوں کو۔
اسکولوں کو۔
ہسپتالوں کو۔
اور ہر اس کام کو
جو انسان روز دہراتا ہے۔

لیکن ایک بات سمجھ لیں —
مصنوعی ذہانت یا AI نوکریاں نہیں چھینے گی۔
نوکریاں وہ لوگ چھینیں گے
جو AI استعمال کرنا جانتے ہوں گے۔

فرق سمجھ آیا؟
کون سی نوکریاں خطرے میں ہیں؟

وہ کام جو بار بار ہوتے ہیں —
وہی کام AI سب سے پہلے کرے گی۔

ڈیٹا انٹری؟
خطرے میں ہے۔

بنیادی حساب کتاب؟
خطرے میں ہے۔

روزمرہ کی customer service؟
خطرے میں ہے۔

عام content لکھنا؟
خطرے میں ہے۔

یہ سن کر گھبرائیں نہیں —
بلکہ سمجھیں کہ اب کیا کرنا ہے۔

کون سے کام محفوظ ہیں؟
وہ کام جو صرف انسان کر سکتا ہے —

کسی کا درد سمجھنا؟
یہ AI نہیں کر سکتی۔

نئے مسائل کا نیا حل نکالنا؟
یہ AI نہیں کر سکتی۔

لوگوں کو inspire کرنا؟
یہ AI نہیں کر سکتی۔

کسی team کو lead کرنا؟
یہ AI نہیں کر سکتی۔

اپنے culture کو سمجھ کر
اپنے لوگوں سے بات کرنا؟
یہ AI کبھی نہیں کر سکتی۔

تو پھر کیا سیکھیں؟
پانچ چیزیں ہیں —

غور سے پڑھیں:

پہلی —
خود AI tools استعمال کرنا سیکھیں۔
یہ ٹولز ChatGPT، Gemini، Copilot —
یہ آپ کے دشمن نہیں،
یہ آپ کے ہتھیار ہیں۔
جو student آج AI سے کام لینا سیکھ لے —
وہ کل دس لوگوں کا کام اکیلا کر سکتا ہے۔
یہ طاقت ہے۔
اسے استعمال کریں۔

دوسری —
مسائل حل کرنے کی سوچ پیدا کریں۔
صرف یہ نہ سوچیں کہ
"مجھے کیا کام ملے گا؟"
یہ سوچیں:
"میں کون سا مسئلہ حل کر سکتا ہوں؟"
مسئلہ حل کرنے والے لوگوں کو
کبھی نوکری کی تلاش نہیں کرنی پڑتی —
نوکری انہیں ڈھونڈتی ہے۔

تیسری —
بات کرنے کا ہنر سیکھیں۔
اردو میں بھی۔
انگلش میں بھی۔
لکھ کر بھی۔
بول کر بھی۔
یعنی Communication ایک ایسی skill ہے
جو AI کبھی replace نہیں کر سکتی —
کیونکہ انسان انسان سے سننا چاہتا ہے۔

چوتھی —
ایک سے زیادہ چیزیں سیکھیں۔
صرف ایک degree،
صرف ایک skill،
صرف ایک راستہ —
یہ 2026 میں کافی نہیں ہے۔

وہ نوجوان جو marketing بھی جانتا ہو، AI tools بھی چلا سکتا ہو،
اور بات بھی کر سکتا ہو —
اسے کوئی نہیں روک سکتا۔

پانچویں —
سیکھنا کبھی بند نہ کریں۔
یہ سب سے اہم بات ہے۔
دنیا بدل رہی ہے —
ہر چھ مہینے میں نئی چیز آ جاتی ہے۔
جو شخص سیکھتا رہتا ہے —
وہ ہمیشہ آگے رہتا ہے۔
جو شخص سوچتا ہے
"میں نے سیکھ لیا" —
وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔

والدین سے ایک بات —

اپنے بچے کو صرف
ڈاکٹر یا انجینئر بنانے کی فکر چھوڑیں۔
اسے یہ سکھائیں:
نئی چیز سیکھنے سے نہ ڈرے۔
ناکامی سے نہ ٹوٹے۔
اور بدلتی دنیا میں
اپنا راستہ خود نکالے۔
یہ skills کسی university میں نہیں پڑھائی جاتیں —
لیکن یہی skills زندگی میں کام آتی ہیں۔

اساتذہ سے ایک بات —

ہم جو پڑھا رہے ہیں —
کیا وہ 2030 میں بھی کام آئے گا؟
یہ سوال خود سے پوچھیں۔
ایمانداری سے۔
ہماری ذمہ داری صرف syllabus پورا کرنا نہیں ہے —
ہماری ذمہ داری ہے کہ بچے
آنے والی دنیا کے لیے تیار ہوں۔

آخری بات —

آپ AI سے ڈریں نہیں۔
بلکہ AI کو سمجھیں۔
اور AI کو استعمال کریں۔
کیونکہ آنے والے وقت میں
دو طرح کے لوگ ہوں گے —

وہ جو AI استعمال کریں گے۔
اور وہ جن کی جگہ AI لے لے گی۔

آپ کو فیصلہ کرنا ہے —
آپ کس طرف ہیں؟

نیچے بتائیں —
کیا آپ نے ابھی تک کوئی AI tool استعمال کیا ہے؟
اگر ہاں — کون سا؟
اگر نہیں — کیوں نہیں؟
ہر جواب پڑھوں گا۔ 👇

یہ post ہر اس نوجوان تک پہنچائیں
جو اپنا مستقبل سنوارنا چاہتا ہے۔ 🔁

-مظہر حیات | ماہرِ تعلیم | Entrepreneur | یوتھ ایمپاورمنٹ ایڈووکیٹ
17 سال سے پاکستانی نوجوانوں کو وہ باتیں بتاتا ہوں
جو کلاس روم میں نہیں ہوتیں — لیکن ہونی چاہئیں۔

Photo Story: Attended UAF Annual Cultural Festival 2018 as Judge. On the stage with Director Student Affairs to present Final awards.

پاکستانی startups کیوں fail ہوتے ہیں؟کیا funding نہیں ملی؟نہیں۔یہ اتنا simple نہیں ہے۔میں نے سالوں میںسینکڑوں startup pi...
20/05/2026

پاکستانی startups کیوں fail ہوتے ہیں؟
کیا funding نہیں ملی؟
نہیں۔
یہ اتنا simple نہیں ہے۔

میں نے سالوں میں
سینکڑوں startup pitches سنی ہیں۔
کئی competitions judge کیے ہیں۔
بہت سے founders کو mentor کیا ہے۔
اور میں نے ایک چیز بار بار دیکھی ہے —
جب کوئی startup مرتا ہے
تو اس کی موت funding کی کمی سے نہیں ہوتی۔
موت ہوتی ہے ان غلطیوں سے
جو کوئی بتاتا نہیں۔
آج میں بتاتا ہوں۔

غلطی نمبر 1 —
غلط co-founder/پارٹنر
پاکستان میں زیادہ تر startups دوستی میں شروع ہوتے ہیں۔
"یار، تم میرے best friend ہو — مل کر کچھ کرتے ہیں۔"
یہ جملہ سن کر دل خوش ہوتا ہے۔
لیکن business چلاتے وقت؟
دوستی الگ چیز ہے۔
مگر Partnership الگ چیز ہے۔
میں نے دیکھا ہے —
ایک founder محنت کر رہا ہے،
دوسرا "busy" ہے۔
ایک پیسہ لگا رہا ہے،
دوسرا "بعد میں دوں گا" پر ہے۔
اور جب پہلی مشکل آتی ہے؟
دوستی بھی جاتی ہے۔ Business بھی جاتا ہے۔
اپنا Co-founder وہ چنیں جو آپ کی weakness پوری کرے —
نہ وہ جو آپ کا یار ہو۔

غلطی نمبر 2 —
وہ product بنایا جو کسی کو چاہیے نہیں تھا
یہ سب سے زیادہ دل توڑنے والی غلطی ہے۔
ایک founder میرے پاس آیا —
6 مہینے محنت کی تھی۔ app بنائی تھی۔
پراڈکٹ کا design perfect تھا۔ features شاندار تھے۔
میں نے پوچھا:
"کتنے لوگوں سے پوچھا کہ انہیں یہ چاہیے؟"
خاموشی۔
"کتنے لوگوں نے پیسے دینے کا وعدہ کیا؟"
اور بھی گہری خاموشی۔
اپنا Product بنانے سے پہلے یہ ثابت کریں کہ لوگ اسے خریدیں گے۔
پہلے آئیڈیا Validate کریں —
پھر build کریں۔
یہ نہیں کہ پہلے Build کریں — پھر validate کریں؟
یہ مہنگا سبق ہے۔ بہت مہنگا!

غلطی نمبر 3 —
امریکی idea، پاکستانی market
یہ میری favorite غلطی ہے —
کیونکہ یہ سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
کوئی Silicon Valley کا
کوئی successful startup دیکھتا ہے —
اور فیصلہ کرتا ہے:
"یہی پاکستان میں کرتے ہیں۔"
بھائی —
امریکہ میں credit card ہے۔
پاکستان میں cash culture ہے۔
امریکہ میں کسٹمر آن لائن reviews پر trust کرتا ہے۔
پاکستان میں customer بھائی کی بات پر trust کرتا ہے۔
امریکہ میں سبسکرپشن ماڈل چلتا ہے۔
پاکستان میں لوگ مہینے کی fee سے ڈرتے ہیں۔
بزنس شروع کرنے کے لیے ماڈل copy کیا —
لیکن market نہیں سمجھی۔
پاکستانی market کو پاکستانی نظر سے دیکھیں۔
یہاں کے مسائل، یہاں کی عادات، یہاں کی زبان —
انہیں سمجھے بغیر کوئی business نہیں چلتا۔

غلطی نمبر 4 —
فیڈبیک سے ego کو چوٹ لگتی ہے!
یہ سب سے خطرناک غلطی ہے۔
میں نے competition میں ایک founder کو feedback دیا —
"آپ کی pricing غلط ہے۔"
"آپ کی ٹارگٹ مارکیٹ Clear نہیں۔"
"آپ کو pivot کرنا ہوگا۔"
اس نے مسکرا کر سنا۔
باہر جا کر اپنے دوست کو کہا:
"یار اس Judge کو کچھ نہیں پتہ۔"
6 مہینے بعد —
وہی startup بند ہو گیا۔
انہی وجوہات سے۔
کیونکہ Feedback آپ کا دشمن نہیں۔ Feedback وہ چیز ہے جو آپ کو تباہی سے پہلے بچا سکتی ہے۔
جو founder فیڈبیک سنتا ہے — وہ کامیاب ہوتا ہے۔
جو founder فیڈبیک پر اپنی ego لگاتا ہے —
وہ ڈوبتا ہے۔

غلطی نمبر 5 —
سب کچھ اکیلے کرنے کی ضد
پاکستانی founders میں
ایک عجیب بیماری ہے —
"میں سب کچھ خود کروں گا۔"
یعنی Marketing بھی۔
اور Accounts بھی۔
بلکہ Operations بھی۔
اور تو اور Customer service بھی۔
اور product development بھی۔
یہ بیماری نہیں —
یہ خودکشی ہے۔
آپ سب کچھ نہیں جانتے۔
کوئی نہیں جانتا۔
جو چیز آپ نہیں جانتے —
وہ کسی اور سے سیکھیں
یا کسی اور کو دیں۔
کام کی Delegation سیکھیں۔
دوسروں سے Collaboration سیکھیں۔
اکیلا درخت
طوفان میں گرتا ہے۔
جنگل نہیں گرتا۔

آخری بات —
سٹارٹ اپ بزنس fail ہونا
کوئی شرم کی بات نہیں۔
شرم کی بات یہ ہے کہ سٹارٹ اَپ شروع ہی نہ کریں!
اور دوسری شرم کی بات یہ ہے کہ وہی غلطی دوبارہ کریں جو پہلے کر چکے ہیں۔

میں نے یہ سب
کتابوں میں نہیں پڑھا۔
میں نے یہ ان founders کی آنکھوں میں دیکھا ہے
جن کا خواب اُن کی غلطیوں نے توڑا۔
اگر آپ startup شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں — یا پہلے سے چلا رہے ہیں —
تو یہ پوسٹ save کریں۔
دوبارہ پڑھیں۔
اور خود سے پوچھیں:
"کیا میں یہ غلطیاں کر رہا ہوں؟"

آپ نے یا آپ کے کسی جاننے والے نے startup میں کون سی غلطی سب سے مہنگی سیکھی؟
نیچے Comments میں بتائیں —
بغیر کسی جھجھک کے۔
یہاں judgment نہیں —
صرف سیکھنا ہے۔ 👇

یہ post ہر اس شخص کو tag کریں
جو اپنا کام شروع کرنا چاہتا ہے۔ 🔁

مظہر حیات | ماہرِ تعلیم | Entrepreneur | یوتھ ایمپاورمنٹ ایڈووکیٹ
سالوں سے Pakistani startups کو قریب سے دیکھا ہے —
کامیابیاں بھی، ناکامیاں بھی۔

Photo Story: Receiving my souvenir in recognition of organizing "The Digital Shift" - a seminar on importance of Digital Opportunities. In the Photo: Left to Right: Dr. Jahanzaib Yousaf, Madam Aisha Rifat, Prof. Rifat Iqbal, Myself, Lion Asif Ilyas, Mr. Adeel Javaid held at NIC Faisalabad.

ابو نے ڈاکٹر بنانا تھا۔بیٹے نے YouTuber بننا تھا۔دونوں غلط نہیں تھے۔لیکن بات کبھی ہوئی نہیں۔میں 17 سال سے کلاس رومز میں ...
17/05/2026

ابو نے ڈاکٹر بنانا تھا۔
بیٹے نے YouTuber بننا تھا۔
دونوں غلط نہیں تھے۔
لیکن بات کبھی ہوئی نہیں۔

میں 17 سال سے کلاس رومز میں ہوں۔
ہزاروں بچوں کو پڑھایا ہے۔
ہزاروں والدین سے ملا ہوں۔
اور ایک بات ہے جو میں نے بار بار دیکھی ہے —
پاکستانی والدین اپنے بچوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔
اور یہی محبت کبھی کبھی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

ایک بچہ میرے پاس آیا۔
FSc میں 85% نمبر تھے۔
ابو کا حکم تھا — MDCAT دو۔
میں نے پوچھا: "تمہیں کیا کرنا ہے؟"
آنکھیں چمکیں — "سر، مجھے graphic design کرنی ہے۔ Logo بناتا ہوں، websites design کرتا ہوں — لوگ پیسے بھی دیتے ہیں۔"
میں نے پوچھا: "ابو کو بتایا؟"
ہنسا — مگر وہ ہنسی نہیں تھی۔
"سر، وہ سمجھیں گے نہیں۔"

یہ ایک بچے کی کہانی نہیں ہے۔
یہ ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے۔

والدین سے پہلے بات —
آپ غلط نہیں ہیں۔
آپ نے وہ دور دیکھا جب ڈاکٹر اور انجینئر کا مطلب تھا —
پکی نوکری۔ عزت۔ سکون۔
آپ نے قربانیاں دیں۔
آپ چاہتے ہیں کہ بچہ محفوظ رہے۔
میں یہ سمجھتا ہوں۔ دل سے۔
لیکن ایک سوال —
کیا وہ دنیا ابھی بھی وہی ہے؟

2026 میں:
ایک اچھا graphic designer مہینے کے
ڈیڑھ لاکھ سے تین لاکھ روپے کما رہا ہے — گھر بیٹھ کر۔
ایک digital marketer جو سچ میں کام جانتا ہو —
کسی بھی "سرکاری نوکری" سے زیادہ کما رہا ہے۔
ایک content creator جس کی audience ہو —
برانڈز اسے ڈھونڈتے ہیں۔
اور ادھر —
پانچ سالہ MBBS ڈگری کے بعد house job میں تیس پینتیس ہزار۔
Engineering کے بعد مہینوں job کی تلاش۔
میں ڈاکٹر اور انجینئر کی توہین نہیں کر رہا۔
میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ دنیا بدل گئی ہے۔
اور ہمارے گھروں کی سوچ ابھی 2005 میں ہے۔

اب بچوں سے بات —
آپ بھی سن لو۔
صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ
"ابو سمجھتے نہیں۔"
کیا تم نے سمجھایا؟
کیا تم نے دکھایا کہ تم یہ کام سنجیدگی سے لے رہے ہو؟
کیا تمہارے پاس کوئی result ہے — کوئی project، کوئی client، کوئی certificate؟
شوق کو passion کہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔
شوق کو prove کرنا پڑتا ہے۔
والدین کو یقین دلانا تمہاری ذمہ داری بھی ہے۔

تو کیا کریں؟
والدین — بچے سے ایک بار پوچھیں:
"تمہیں کیا اچھا لگتا ہے؟ اور کیوں؟"
بس سنیں۔ فیصلہ بعد میں کریں۔
بچے — والدین کو ایک بار دکھائیں:
"میں یہ کر سکتا ہوں — اور اس میں پیسہ بھی ہے اور عزت بھی۔"
خالی باتیں نہیں، بس اپنی کوشش ثابت کریں۔ لڑائی بعد میں کریں۔

پاکستان میں talent کی کمی نہیں ہے۔
کمی ہے تو بس ایک honest conversation کی —
باپ اور بیٹے کے درمیان۔
ماں اور بیٹی کے درمیان۔
وہ ایک گھنٹے کی بات —
کسی کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔

آپ کے گھر میں یہ بات ہوئی کبھی؟
Comments میں بتائیں —
والدین بھی، بچے بھی۔
دونوں کی سنوں گا۔ 👇

-مظہر حیات | ماہرِ تعلیم | Entrepreneur | یوتھ ایمپاورمنٹ ایڈووکیٹ
17 سال کلاس روم میں اور اب سوشل میڈیا پر — تاکہ آپ کو یہ باتیں باہر بھی سننے کو ملیں۔

PC: Panel Talk on Women Empowerment, organized by the Women Circle at NIC Faisalabad - September 2025

"لوگ کیا کہیں گے" — ایک خاموش قاتلیہ جملہ کسی کو گولی نہیں مارتا۔لیکن کریئر ضرور ختم کر دیتا ہے۔میں نے 17 سال میں یہ منظ...
16/05/2026

"لوگ کیا کہیں گے" — ایک خاموش قاتل

یہ جملہ کسی کو گولی نہیں مارتا۔
لیکن کریئر ضرور ختم کر دیتا ہے۔

میں نے 17 سال میں یہ منظر سینکڑوں بار دیکھا ہے۔

ایک بچہ جس کے ہاتھوں میں design کا ہنر تھا — engineering میں دھکیل دیا گیا کیونکہ "بیٹا، اس میں future نہیں ہے۔"

ایک لڑکی جو اپنے پورے batch کی سب سے تیز دماغ تھی — شروع کرنے سے پہلے ہی روک دی گئی کیونکہ "اب شادی، سسرال والے چاہیں تو پڑھ لینا۔"
ایک نوجوان جس نے 22 سال کی عمر میں ایک کام بنایا — پہلی ناکامی پر بند کر دیا کیونکہ محلے کی زبانیں چلنے لگیں۔
ہنر برباد ہوا۔
کاہلی سے نہیں۔
ذہانت کی کمی سے نہیں۔
ایک ایسے سوال سے — جو کبھی سوال تھا ہی نہیں۔

سچ بات کرتا ہوں — کیونکہ میں بھی پاکستانی ہوں اور یہ بوجھ میں نے خود بھی اٹھایا ہے۔
"لوگ کیا کہیں گے" — یہ برائی نہیں ہے۔
یہ محبت سے نکلا ہے۔ سچ میں۔
جس ماں باپ نے سب کچھ قربان کیا، وہ اپنے بچے کو خطرے میں نہیں دیکھنا چاہتے۔
جس خاندان نے عزت کے سہارے مشکل وقت گزارا، وہ ساکھ کو ہلکا نہیں لیتا۔
جس معاشرے نے مل کر مشکلات برداشت کیں، اس نے ایک دوسرے کو جوابدہ رکھنا سیکھا۔
میں اسے سمجھتا ہوں۔ میں اس کی قدر کرتا ہوں۔
لیکن یہ بھی جانتا ہوں کہ آج یہ ہمیں کتنا مہنگا پڑ رہا ہے۔

17 سال تعلیم اور entrepreneurship کی دنیا میں گزار کر میں نے ایک بات سیکھی —
ہم فطرتاً risk سے نہیں ڈرتے۔
ہم شرم سے ڈرتے ہیں — اور یہ ہمیں سکھایا گیا ہے۔
فرق سمجھیں —
Risk سے ڈرنے والا سوچتا ہے، پرکھتا ہے، پھر پیچھے ہٹتا ہے۔
شرم سے ڈرنے والا شروعات کی لکیر تک بھی نہیں پہنچتا — کیونکہ اگر کوئی دیکھ رہا ہو، اگر ٹھوکر لگ جائے، اگر لوگ باتیں کریں تو؟
ہمارے ذہین نوجوان محنت سے نہیں ڈرتے۔
وہ ڈرتے ہیں کہ کوشش کرتے ہوئے ناکام ہوں — اور لوگ دیکھیں۔
اور 2026 میں — جہاں ہر قابلِ قدر کریئر کے لیے آزمائش، غلطی اور سب کے سامنے سیکھنا ضروری ہے — یہ ڈر ایک کریئر کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔

اور یہ "title" کی دیوانگی؟
یہ اسی بیماری کا دوسرا چہرہ ہے۔
"ڈاکٹر صاحب۔ انجینئر صاحب۔ پروفیسر صاحب۔"
بطور فرد اور معاشرہ ہم لیبل کی پوجا کرتے ہیں۔
لیبل کے پیچھے کیا ہے — یہ شاید ہی کوئی پوچھتا ہے۔
میں نے MBA holders دیکھے ہیں جو ایک business proposal نہیں لکھ سکتے۔
میں نے Professors دیکھے ہیں جنہوں نے سالوں سے کوئی نئی چیز نہیں پڑھی۔
میں نے ایسے "CEOs" دیکھے ہیں جن کے پاس نہ customer ہے نہ revenue — لیکن visiting card بہت خوبصورت ہے۔
اور ادھر —
وہ نوجوان جس نے خود سیکھ کر real مسائل حل کیے،
وہ لڑکی جو گھر سے کامیاب کاروبار چلا رہی ہے،
وہ لڑکا جس نے کچھ بنانے کے لیے روایتی راستہ چھوڑا —
یہ سب فیملی ڈنر پر خود کو معذرت خواہ پاتے ہیں۔
ہم نے فریم سجایا — اور تصویر بنانا بھول گئے۔

تو بدلاؤ کیسے آئے گا؟
کسی motivational quote سے نہیں۔
کسی seminar سے نہیں جہاں کہا جائے "خود پر یقین رکھو۔"
بدلاؤ آئے گا جب خاندان میں ایک شخص — بس ایک — یہ فیصلہ کرے کہ عزت کی تعریف بدلنی ہے۔
جب باپ کہے — "مجھے تمہاری تنخواہ نہیں، تمہاری growth چاہیے۔"
جب ماں کہے — "ناکام ہو گئے؟ ٹھیک ہے — اب اس سے کیا سیکھا؟"
جب عید کے کھانے پر چچا پوچھے — "کیا بنا رہے ہو؟" بجائے "کتنا کما رہے ہو؟"
ایک شخص۔ ایک خاندان۔ ایک مختلف سوال۔
یہی اصل تبدیلی کی اکائی ہے۔

میں پاکستانی خاندانوں سے یہ نہیں کہہ رہا کہ اپنی اقدار چھوڑ دیں۔
میں کہہ رہا ہوں — اپنا پیمانہ بدلیں۔
عزت؟ وہی ہدف ہے۔
وقار؟ وہی ہدف ہے۔
بچوں کی اچھی زندگی؟ وہی ہدف ہے۔
لیکن 2026 میں اس منزل کا راستہ 1990 والا نہیں رہا۔
جو بچہ آزماتا ہے، ٹھوکر کھاتا ہے، سیکھتا ہے اور کچھ بناتا ہے —
وہ خاندان کی شرمندگی نہیں۔
وہ خاندان کا مستقبل ہے۔

"لوگ کیا کہیں گے" نے ہمیں اس وقت محفوظ رکھا جب حفاظت سب سے ضروری تھی۔
اب یہ پرانا مائینڈ سیٹ ہمیں چھوٹا اور محدود کر رہا ہے — جب دنیا ہم سے بڑا ہونے کا تقاضا کر رہی ہے۔
اور یہ — اپنی پوری ثقافت سے محبت اور احترام کے ساتھ کہہ رہا ہوں —
یہ وہ سودا ہے جو ہم اب نہیں کر سکتے۔

آپ کا یا آپ کے کسی قریبی کا ایک خواب جو "لوگ کیا کہیں گے" کی نذر ہو گیا — وہ مجھے comments میں بتائیں۔
آپ کو شاید اندازہ بھی نہ ہو کہ کتنے لوگ بالکل ایک جیسی کہانی اپنے سینے میں دبائے بیٹھے ہیں۔

-مظہر حیات | ماہرِ تعلیم | Entrepreneur | یوتھ ایمپاورمنٹ ایڈووکیٹ
17 سال سے پاکستانی صلاحیت اور پاکستانی ثقافت کے ٹکراؤ کا گواہ — اور اس یقین کے ساتھ کہ ہم دونوں کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔

pc: TEDx Kinnaird Circa February 2020

فیصل آباد کے باشعور اور محبت کرنے والے شہریو!کل بروز اتوار ہمارے شہر میں تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔ پہلی بار Young Entrep...
14/02/2026

فیصل آباد کے باشعور اور محبت کرنے والے شہریو!

کل بروز اتوار ہمارے شہر میں تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔ پہلی بار Young Entrepreneurs Summit کے نام سے ایک ایسا شاندار، یوتھ فوکسڈ ایونٹ منعقد ہو رہا ہے جو مکمل طور پر ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کے لیے وقف ہے۔ یہ صرف ایک پروگرام نہیں، بلکہ ایک وژن ہے… ایک سمت ہے… ایک آغاز ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ فیصل آباد میں نوجوانوں کے لیے اس سطح پر:
• جدید ڈیجیٹل اسکلز
• اے آئی (Artificial Intelligence) پر خصوصی ورکشاپ
• کامیاب ای کامرس پروفیشنلز کے سیشنز
• سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی جدید حکمتِ عملیاں
• ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور اسکلز
• اور اکیڈمیا کے کردار پر بامعنی گفتگو

ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ ایونٹ یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب، فیصل آباد کے طلبہ نے آپ کے بچوں کے لیے آرگنائز کیا ہے۔ انٹری بالکل فری ہے۔ مقصد صرف ایک ہے:
ہمارے نوجوانوں کو اسکل دینا، وژن دینا، اور مستقبل کا واضح راستہ دکھانا۔

صبح 10 بجے افتتاح ہوگا اور شام 4 بجے اختتام۔

فیصل آباد کے والدین سے خصوصی اپیل ہے:
اپنے بچوں کو — چاہے وہ میٹرک، انٹرمیڈیٹ، بیچلرز یا ماسٹرز کے طالب علم ہوں — ضرور بھیجیں۔
آپ کی موجودگی اور سپورٹ نوجوانوں کا حوصلہ بڑھائے گی۔

آج کا دور اسکلز کا دور ہے۔
اے آئی، ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ وہ ہتھیار ہیں جو آنے والے وقت میں کامیابی کی بنیاد بنیں گے۔
آئیں، ہم مل کر اپنے شہر کے نوجوانوں کو وہ پلیٹ فارم دیں جس کے وہ حقدار ہیں۔

فیصل آباد ہمیشہ ٹیلنٹ کی سرزمین رہا ہے — اب وقت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیں۔

کل ضرور تشریف لائیں، اور زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس تاریخی ایونٹ کا حصہ بنائیں۔
آپ کی سپورٹ ہی اس مشن کی اصل طاقت ہے۔
انٹری بلکل مفت ہے!

Address

Office No. 114-115, Makkah Commercial Market, Eden Valley (208 Chak) Road, Faisalabad
Shah Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mazhar Hayat - Empowering Pakistani Youth posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mazhar Hayat - Empowering Pakistani Youth:

Shortcuts

Share