S D M Aiyan charjar house sillanwali

S D M Aiyan charjar house sillanwali معیاری سروس کے لئے تشریف لائیں

03/11/2016

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے ایک لڑکی جس کا نام تبسم تھا اس کی شادی ہوئی وہ سسرال میں اپنے شوہر اور ساس کے ساتھ رہتی تھی- بہت کم وقت میں ہی تبسم کو یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ اپنی ساس کے ساتھ نہیں رہ سکتی- ان دونوں کی شخصیت بالکل مختلف تھی اور تبسم اپنی ساس کی بہت ساری عادتوں سے پریشان تھی- اس کی ساس ہر وقت تبسم پر طنز کرتی رہتی تھیں جو اسے بہت ناگوار گزرتا تھا- آہستہ آہستہ دن اور پھر ہفتے بیت گئے لیکن تبسم اور اس کی ساس کی تکرار ختم نہ ہوئی- ان تمام نااتفاقیوں نے گھر کا ماحول بہت خراب کردیا تھا جسکی وجہ سے تبسم کا شوہر بہت پریشان رہتا تھا- آخرکار تبسم نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ساس کا برا رویہ اور برداشت نہیں کریگی اور وہ اب ضرور کچھ نہ کچھ کرے گی- تبسم اپنے پاپا کے ایک بہت اچھے دوست احمد انکل کے پاس گئی جو جڑی بوٹیاں بیچتے تھے- تبسم نے انھیں ساری کہانی بتائی اور ان سے کہا کہ وہ اس کو تھوڑا سا زہر دے دیں تاکہ ہمیشہ کے لئے یہ مسئلہ ختم ہوجائے- احمد انکل نے تھوڑی دیر کیلئے کچھ سوچا اور پھر کہا کہ تبسم میں اس مسئلے کو حل کرنے میں تمہاری مدد کرونگا لیکن تمہیں ویسا ہی کرنا ہوگا جیسا میں تمہیں کہوں گا- تبسم راضی ہوگئی- احمد انکل ایک کمرے میں گئے اور تھوڑی دیر بعد اپنے ہاتھ میں کچھ جڑی بوٹیاں لے کر لوٹے- انھوں نے تبسم کو کہا کہ تم اپنی ساس کو مارنے کیلئے فوری زہر استعمال نہیں کرسکتیں کیونکہ اسطرح سب تم پر شک کریں گے- اسلئے میں تمہیں یہ جڑی بوٹیاں دے رہا ہوں یہ آہستہ آہستہ انکے جسم میں زہر پھیلائیں گی- ہر روز تم کچھ اچھا پکانا اور پھر انھیں کھانا دیتے وقت اس میں یہ جڑی بوٹیاں ڈال دینا- اور ہاں اگر تم چاہتی ہو کہ کوئی تم پر شک نہ کرے کہ تم نے انھیں مارا ہے تو تمہیں یہ خیال رکھنا ہوگا کہ تمہارا رویہ انکے ساتھ بہت دوستانہ ہو- ان سے لڑائی مت کرنا، ہر بات ماننا اور انکے ساتھ ایک ملکہ کی طرح برتاؤ کرنا- تبسم یہ سب سن کر بہت خوش ہوئی، اس نے احمد انکل کا شکریہ ادا کیا اور جلدی سے گھر چلی گئی کیونکہ اب اسے اپنی ساس کو مارنے کا کام شروع کرنا تھا- ہفتے گزر گئے اور پھر مہینے، تبسم روز کچھ اچھا پکا کر اپنی ساس کو خاص طور پر پیش کرتی تھی- اسے یاد تھا کہ احمد انکل نے اس سے کیا کہا تھا کہ اسے اپنے غصے پر قابو رکھنا ہے، اپنی ساس کی خدمت کرنی ہے اور ان کے ساتھ اپنی ماں جیسا برتاؤ کرنا ہے- چھ مہینے گزر گئے، گھر کا نقشہ تقریبا بدل چکا تھا- تبسم نے کوشش کرکے اپنے غصے پر قابو کرنا سیکھ لیا تھا، اب اکثر وہ اپنی ساس کی باتوں پر ناراض اور غصہ نہ ہوتی- چھ ماہ میں ایک بار بھی اسکا اپنی ساس سے جھگڑا نہیں ہوا تھا اور اب اسے وہ بہت اچھی لگنے لگی تھیں اور انکے ساتھ رہنا بھی آسان لگنے لگا تھا- اس کی ساس کا رویہ بھی اسکے ساتھ بہت بدل گیا تھا اور وہ بھی تبسم کو اپنی بیٹیوں کی طرح پیار کرنے لگیں تھیں- وہ اپنے سب دوستوں کے درمیان تبسم کی تعریفیں کرتی تھیں- تبسم اور اسکی ساس دونوں اب ایک دوسرے کو ماں بیٹی کی طرح سمجھنے لگے تھی- تبسم کا شوہر بھی یہ سب دیکھ کر بہت خوش تھا- ایک دن تبسم پھر احمد انکل کے پاس آئی- تبسم نے کہا کہ آپ مجھے طریقہ بتائیں کہ کیسے میں اپنی ساس کو اس زہر سے بچاؤں جو میں نے انہیں دیا ہے؟ وہ بہت بدل گئیں ہیں- میں ان سے بہت پیار کرتی ہوں اور میں نہیں چاہتی کہ وہ اس زہر کی وجہ سے مر جائیں جو میں نے انھیں دیا ہے- احمد انکل مسکرائے اور کہنے لگے کہ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں- میں نے تمہیں زہر نہیں دیا تھا بلکہ جو جڑی بوٹیاں میں نے تمہیں دی تھیں وہ وٹامن کی تھیں تاکہ ان کی صحت بہتر ہوجائے- زہر صرف تمہارے دماغ میں اور تمہارے روئیے میں تھا لیکن وہ سب تم نے اپنے پیار سے ختم کردیا- ياد رکھيے ، ہمارا رويہ ، ہمارے الفاظ اور ہمارا لہجہ يہ فیصلہ کرتا ہے کہ دوسرے ہمارے ساتھ کيا رويہ اپناتے ہيں

18/10/2016

ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮬﮯ ،،
ﺍﯾﺠﮑﻮﯾﺸﻦ ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﮮ ﭘﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ،،،
ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﮬﯿﮉ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﻼﺱ ﭨﯿﭽﺮ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﮌﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ،،
ﺑﭽﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭ ،،ﺍﯼ ﮈﯼ ﺁﺋﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ،
ﺍﯾﮏ ﭨﺮﯾﻦ 100 ﻣﯿﻞ ﻓﯽ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺁ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ ، ﺟﺲ ﺍﺳﭩﯿﺸﻦ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﮐﻨﺎ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺗﯿﻦ ﻣﯿﻞ ﮐﮯ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﮬﮯ ،ﺁﭖ ﺑﺘﺎﯾﺌﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ؟
ﺑﭽﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﮭﮍﺍ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ،،،
ﮐﻼﺱ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮯ ﺳﻔﺎﺭﺵ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺳﺮ ﺑﭽﮯ ﮬﯿﮟ ﺳﻮﺍﻝ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﮯ ،ﭘﻠﯿﺰ ﺳﻮﺍﻝ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﮭﺮ ﺩﮬﺮﺍ ﺩﯾﺠﺌﮯ ،،
ﺍﯾﮏ ﭨﺮﯾﻦ 100 ﻣﯿﻞ ﻓﯽ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺁ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ ، ﺟﺲ ﺍﺳﭩﯿﺸﻦ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﮐﻨﺎ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺗﯿﻦ ﻣﯿﻞ ﮐﮯ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﮬﮯ ،ﺁﭖ ﺑﺘﺎﯾﺌﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ؟ ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﮭﺮ ﺩﮬﺮﺍ ﺩﯾﺎ ،،
ﻧﺘﯿﺠﮧ ﭘﮭﺮ ﻭﮬﯽ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﭽﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﺳﭩﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﺎ ،،
ﺳﺮ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﮐﻞ ﮔﺮﻣﯽ ﺑﮩﺖ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﮑﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﺑﭽﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﺌﯿﮟ ﺳﮑﮯ ﺁﭖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﻮ ﺩﮬﺮﺍ ﺩﯾﺠﺌﮯ ،ﮬﯿﮉ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻔﺎﺭﺵ ﮐﺎ ﮈﻭﻝ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ،،
ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﮭﺮ ﺩﮨﺮﺍ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ،،
ﺍﯾﮏ ﭨﺮﯾﻦ 100 ﻣﯿﻞ ﻓﯽ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺁ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ ، ﺟﺲ ﺍﺳﭩﯿﺸﻦ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﮐﻨﺎ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺗﯿﻦ ﻣﯿﻞ ﮐﮯ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﮬﮯ ،ﺁﭖ ﺑﺘﺎﯾﺌﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ؟
ﺍﺏ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮩﺮﺍﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ ،ﮐﻼﺱ ﭨﯿﭽﺮ ﺍﻭﺭ ﮬﯿﮉ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻣﺘﻌﺠﺒﺎﻧﮧ ﻧﮕﺎﮬﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ،،
ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮐﮭﮍﺍ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮩﺎ ،،
ﺳﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ 50 ﺳﺎﻝ ﮬﮯ ، ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ،،
ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﮐﮭﻠﮯ ﮐﺎ ﮐﮭﻼ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ،، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﮭﭧ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﺩﯾﺎ ، ﺷﺎﺑﺎﺵ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﻼﺱ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﺍ ،،
ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭩﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ 100 ٪ ﺩﺭﺳﺖ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﺘﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ 50 ﺳﺎﻝ ﮬﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺍﺳﮑﻮﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻡ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ،،،
ﺟﻨﺎﺏ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﭘﮍﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺻﺎﺣﺐ ﮬﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ 50 ﺳﺎﻝ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﻮﻧﮕﯿﺎﮞ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﺭﮬﺘﮯ ﮬﯿﮟ ،، ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ،،

08/10/2016

حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے وزراء کے ساتھ مجلس میں گفتگو کر رھے تھے.. ایک شخص نہایت خوبصورت حلیے میں ' عمدہ پوشاک پہنے ' اعلی وضع قطع کے ساتھ مجلس میں داخل ھوا اور تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد وہ شخص چلاگیا..

اس کے جانے کے بعد ایک وزیر نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے پوچھا.. " اﷲ کے نبی ! ابھی جو شخص آپکے پاس آیا یہ کون تھا..؟ "

ارشاد ھوا.. " میرے پاس جو شخص بیٹھا تھا وہ ملک الموت تھا.. "

جیسے ھی وزیر نے موت کے فرشتہ کا ذکر سنا اس کا رنگ فق ھوگیا ' جسم کپکپانے لگا.. عرض کرنے لگا.. " حضرت ! میں آپ سے درخواست کرتا ھوں کہ ھوا کو حکم دیں وہ مجھے ھندوستان پہنچا دے.. میرے لیے ممکن نہیں کہ میں اس جگہ بیٹھوں جہاں ملک الموت بیٹھا ھے.. "

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی درخواست قبول کرلی.. ھوا کو حکم دیا ' اس نے وزیر کو ھندوستان منتقل کردیا..

تھوڑی دیر گزری تھی کہ ملک الموت دوبارہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی مجلس میں حاضر ھوا.. وزیر نظرنہیں آیا.. پوچھا.. " آپ کا وزیر کدھر ھے..؟ "

ارشاد فرمایا.. " تیرے ڈر اور خوف کی وجہ سے ھوا نے اس کو ھندوستان پہنچا دیا.. "
ملک الموت ھنسا اور کہنے لگا.. "جب تھوڑی دیر پہلے آپ کی مجلس میں آیا تھا تو اس شخص کو آپ کی مجلس میں دیکھ کر بڑا متعجب ھوا کیونکہ اﷲ تعالی کی طرف سے مجھے حکم ملا کہ فلاں وقت پر اس شخص کی ھندوستان کے فلاں علاقے میں جان قبض کرنا ھے اور یہ ھندوستان سے ھزار میل دور آپ کے پاس بیٹھا تھا..

سبحان اﷲ ! اﷲ تعالی' ﴿تقدیر میں لکھے ھوئے﴾ وقت اور جگہ کو بدلتا نہیں.. بہرحال میں وقت مقرر پر ھندوستان پہنچا تو یہ شخص اسی جگہ موجود تھا اور اب میں اس کی جان قبض کرکے آپ کے پاس آرھا ھوں.. "

" سنہرے اوراق " سے ماخوذ..

07/10/2016

اسلام کیا احساس کمتری کی تعلیم دیتا ہے؟
اس سوال نے مجھے چونکا دیا،میں نے غور سے دیکھا تو ایک نوجوان میرے سامنے ادب سے بیٹھا اور سلام کے بعد فوراً سوال کر دیا۔۔
نہیں۔ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔
میں نے نفی میں سر بھی ہلایا۔۔
تو عاجزی کسے کہتے ہیں؟
اس نے سوال کیا ،مجھے لگا شاید یہ بات پوری کرنا چاہتا ہے۔۔۔
میں خاموش تھا
وہ مخاطب ہوا۔۔
میں نے آج پڑھا کہ اسلام عاجزی کی تعلیم دیتا ہے اور عاجزی کا مطلب تو یہی ہے کہ اپنے آ پ کو کم سمجھنا،ادنیٰ سمجھنا اور احساس کمتری بھی تو یہی ہے تو کیا اسلام احساس کمتری کی تعلیم دیتا ہے؟
اس کی نظریں میرے چہرے پر تھی اور وہ بات مکمل کر چکا تھا۔۔
میں نے بات شروع کی۔
اصل میں اسلام کی عاجزی کی تعلیم اور احساس کمتری میں بہت فرق ہے۔
وہ آلتی پالتی مار کر میرے سامنے بیٹھ گیا اور غور سے سننے لگا،
میں نے بات جاری رکھی۔۔
احساس کمتری یہ ہے کہ کوئی یہ خیال کرے کہ اللہ نے اسے کچھ نہیں دیا،اس کا حق تھا نہیں ملا،کاش اسے ذہانت ملتی وہ آگے بڑھتا،کاش اسے دولت ملتی وہ سب خرید لیتا،کاش اسے اچھا مکان ملتا وہ خوش رہتا۔۔
مگر عاجزی اس کے الٹ ہے،
عاجز بندہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کا کچھ حق نہیں تھا پھر بھی اسے بہت مل گیا،
عاجز یہ سوچتا ہے کہ جو ملا وہ بھی اوقات سے زیادہ ملا،
جو ملا وہ بھی اس کا حقدار نہیں تھا
اللہ رب العزت چاہتا تو اسے جانور بنا دیتا یا بیمار یا کسی لاعلاج مرض میں ہمیشہ رکھتا
مگر اس نے احسان کیا اور اسے سب دیا جو اس کا حق نہیں تھا،اوقات نہیں تھی،اہلیت نہ تھی
میں خاموش ہوا،
وہ غور سے سن رہا تھا،
میں نے بات مکمل کی اور بولا۔
دیکھو بیٹا!
احساس کمتری اللہ کے فیصلے پر شکوہ کا نام ہے
عاجزی اللہ کی تقسیم پر راضی ہونے کا نام ہے
میں اب چپ تھا
وہ نوجوان اٹھا اور سلام کرکے رخصت ہوا
اس کے کندھے جھکے تھے اورنظر فرش پر تھی۔۔۔

(تحریر۔۔۔محمد عثمان)

07/10/2016

تاﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﻋﻈﯿﻢ ترین ﺟﺮﻧﯿﻞ ، ﻓﺎﺗﺢ اور عادل حکمران آ

ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ 20ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎ۔ 23 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ، ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﯼ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﻞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﺼﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍٓﯾﺎ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺱ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﯼ، ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﺯ ﺟﺎﻥ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺎﻟﯿﮧ ﺷﮩﺮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ، ﻣﮑﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ، ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﻔﺎﺋﯿﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ 323 ﻗﺒﻞ ﻣﺴﯿﺢ ﻣﯿﮟ 33 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺨﺖ ﻧﺼﺮ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﻭﮦ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﺮﻧﯿﻞ، ﻓﺎﺗﺢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺩﯼ ﮔﺮﯾﭧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﺍﮐﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭﺍﻋﻈﻢ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﺯﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯽ ﺳﻮچیے!

ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﮍﺳﻮﺍﺭﯼ ﺳﮑﮭﺎﺋﯽ، ﺍﺳﮯ ﺍﺭﺳﻄﻮ (Aristotle) ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ 7 ﭘﺸﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔

ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ 22 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺳﭙﺮ ﭘﺎﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯿﮟ۔

ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﻼﺋﭧ، ﻣﯿﺰﺍﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺑﺪﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻭ ﺍﻧﺼﺮﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﭼﻼﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﻧﮯ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻞ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺍﺋﮯ، ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﻐﺎﻭﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺗﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ.

ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﭙﮧ ﺳﺎﻻﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻣﻌﺰﻭﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﭨﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻭﻗﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﻮﻓﮯ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻣﺎﻝ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻤﺺ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﻋﺪﻭﻟﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔

ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭﻧﮯ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺴﭩﻢ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺴﭩﻢ ﺩﯾﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﯿﮟ:

✅ ﺳﻦ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﺟﺮﺍ ﮐﯿﺎ۔
✅ ﺟﯿﻞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
✅ ﻣﻮٔﺫﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮟ-
✅ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪ ﻭ ﺑﺴﺖ ﮐﺮﺍﯾﺎ-
✅ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔
✅ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﻤﻞ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔
✅ ﺍٓﺏ ﭘﺎﺷﯽ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺍﯾﺎ۔
✅ ﻓﻮﺟﯽ ﭼﮭﺎﻭٔﻧﯿﺎﮞ ﺑﻨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﮯ ﺑﭽﻮﮞ، ﻣﻌﺬﻭﺭﻭﮞ، ﺑﯿﻮﺍﻭٔﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍﻭٔﮞ ﮐﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮯ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ، ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﯾﺪﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﮯ ﮈﮐﻠﯿﺌﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ-
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﻼﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ (accountability) ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔
✅ ﺍٓﭖ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺠﺎﺭﺗﯽ ﻗﺎﻓﻠﻮﮞ ﮐﯽﭼﻮﮐﯿﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻋﺪﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ’’ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﭽﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔‘‘

ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻣﮩﺮ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ:
’’ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺕ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ‘‘۔

◾ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺌﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﺮ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﯾﻨﭧ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﯿﻨﺪ ﺍٓﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﭘﺮ ﭼﺎﺩﺭ ﺗﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﺎﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﺭﺍﺯ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﭘﺮ 14ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﯿﻮﻧﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺥ ﭼﻤﮍﮮ ﮐﺎ ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﮭﺮﺩﺭﺍ ﮐﭙﮍﺍ ﭘﮩﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺗﮭﯽ۔
◾ ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺨﻤﯿﻨﮧ ﻟﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ (Accountability) ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ:
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺮﮐﯽ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ، ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﻨﺎ، ﭼﮭﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﭨﺎ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ، ﺩﺭﺑﺎﻥ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔
◾ ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ: ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ﻣﻈﻠﻮﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ.
◾ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﺍٓﺝ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﭨﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ: "ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎﻟﯿﺎ۔"

◾ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ: "ﻋﻤﺮ ﺑﺪﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﯿﺎ۔‘‘

◾ ﺍٓﭖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ’’ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔

ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮨﮯ ، ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﻋﺪﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻭﮦ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺪﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻋﺪﻝِ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔

ﺍٓﭖ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﺗﮭﮯ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﻣﮑﺎﻥ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻭﺍﺣﺪ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ: ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣﺮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻋﻤﺮ( ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ) ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺘﻨﺎ ﮨﻮﮔﯽ۔

ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ:
’’ﻟﻮﮔﻮ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔‘‘ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
’’ﺗﻢ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ۔‘‘

ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﻭﮦ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﻨﮑﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ 5ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﺌﯽ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﺟﺲ ﺧﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﺠﻮﺍﯾﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺻﺮﻑ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 245 ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔

ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮈﺍﮎ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻂ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻭﺭﺩﯼ ﭘﮩﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺟﻮﺍﻥ 6 ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﭼﮭﭩﯽ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ، ﻣﻌﺬﻭﺭ، ﺑﯿﻮﮦ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ، ﻭﮦ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ، ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻋﻈﯿﻢ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﻣﺎﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﮏ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ’’ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﮮ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔‘‘ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﮨﺮ ﻻﻝ ﻧﮩﺮﻭ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ: ’’ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍٓﺝ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ( ﺣﻀﺮﺕ ) ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ) ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔‘‘

جن کے بارے میں مستشرقین اعتراف کرتے ہیں کہ "اسلام میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا میں صرف اسلام ہی دین ہوتا."

ﮨﻢ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ،
’’ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻋﻤﺮ ﮨﻮتا-`

منقول..

نوٹ -
ان تمام کامیابیوں اور کامرانیوں کے باوجود اپنے خاندان مین سے کسی کو اپنا ولی عہد مقرر نہ فرمایا بلکہ مشورہ دینے والوں کو مسکت جواب دیا کہ اگر امارت خیر ھے تو آل عمر نے اپنا حصہ وصول کر لیا ھے اور اگر یہ آزمائش ھے تو ضروری نہیں کہ عمر کی ساری نسل حساب کے لئے قطار بنائے کھڑی ھو. آپ نے امارت کے لئے جو کمیٹی بنائی اس میں بھی اپنے خاندان کا کوئی آدمی نہ رکھا. جب آپ کو ایک صاحب کی عظمت کا حوالہ دیا گیا تو آپ نے فرمایا اگرچہ وە ایسا ھی ھے جیسا کہ بیان کیا گیا مگر اس کا قصور یہ ھے کہ وە عمر کے چچا کا بیٹا ھے اور عمر اپنے کسی رشتےدار کو اب اس آزمائش میں نہیں ڈالے گا. کاش بعد والوں نے بھی اس اصول کو اپنایا ھوتا اور پوری امت کو آزمائش اور ٹوٹ پھوٹ سے بچا لیا ھوتا.

Muhammad Hanif Dar

30/09/2016

Address

New Lari Adda Road Sillanwali
Sillanwali

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when S D M Aiyan charjar house sillanwali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share