05/04/2025
قرآن کی ہر آیت کسی معجزہ سے کم نہیں بس ہمیں اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سا ئنس ہو معاشیات ہو تاریخ کوئی ایسا پہلو نہیں جس پر چلنے کے لئے اللہ نے ہمیں کوئی واضح ہدایات نہ دی ہوں۔ قرآن محض دینی و مذھبی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے
تو ہم ایک نئے سلسلے کا آ غا ز کرتے ہیں جس میں قرآن پاک کے بارے میں دلچسپ اور حیران کن حقائق کا تذکرہ کیا جائے گا
تو سب سے پہلے ہم زکر کرتے ہیں قرآن پاک کے اس دعوے کا کہ
اس میں کوئی باطل بات داخل نہیں ہو سکتی اس لئے کہ قرآن حکیم کا ایک ایک حرف اتنی زبردست
کیلکولیشن اور اتنے حساب و کتاب کے ساتھ اپنی جگہ پر فِٹ ہے کہ اسے تھوڑا سا اِدھر اُدھر کرنے سے وہ ساری کیلکولیشن درھم برھم ہوجاتی ہے۔ جِس کے ساتھ قرآنِ پاک کی اعجازی شان نمایاں ہے ۔
اتنی بڑی کتاب میں اتنی باریک کیلکولیشن کا کوئی رائٹر تصوّر بھی نہیں کرسکتا۔
بریکٹس میں دیے گئے یہ الفاظ بطور نمونہ ہیں ورنہ قرآن کا ہر لفظ جتنی مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ وہ تعداد اور اس کا پورا بیک گراؤنڈ اپنی جگہ خود عِلم و عِرفان کا ایک وسیع جہان ہے۔
دُنیا کا لفظ اگر 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ تو اس کے مقابل آخرت کا لفظ بھی 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
وعلیٰ ھٰذِہِ القِیاس۔
(دُنیا و آخرت: 115)
(شیاطین وملائکہ: 88)
( موت وحیات:145)
(نفع وفساد:50)
(اجر و فصل108)
(کفر و ایمان :25)
(شہر:12)
کیونکہ شہر کا مطلب مہینہ اور سال میں 12 مہینے ہی ہوتے ہیں اور
یوم کا لفظ 360 مرتبہ استعمال ہوا ہے ۔
اتنی بڑی کتاب میں اس عددی مناسبت کا خیال رکھنا کسی بھی انسانی مصنّف کے بس کی بات نہیں۔.
مذہب میں سے انسانیت اور خدمت نکال دی جائے تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور محض عبادت کے لیے پروردگار کے پاس فرشتوں کی کمی نہیں!!
دعاءِ حضرت آدم علیہ السلام
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔"
(سورة الاعراف، 7:23)📗📖