Hidden Treasures of Swat-Malakand

Hidden Treasures of Swat-Malakand The Aim of this page is to explore many hidden sites including Lakes,Water falls,Mountains,Meadows,Archeological sites and Great Sufis

Guess the lake
05/05/2026

Guess the lake

Kooh Or Andrab Lake,Kalam,Swat
05/05/2026

Kooh Or Andrab Lake,Kalam,Swat

اس مقام پر موجود ایک بڑی چٹان پر فن کے وہ نمونے ملتے ہیں جو سینکڑوں سال قدیم بتائے جاتے ہیں۔ اس چٹان پر کل پندرہ (15) اش...
05/05/2026

اس مقام پر موجود ایک بڑی چٹان پر فن کے وہ نمونے ملتے ہیں جو سینکڑوں سال قدیم بتائے جاتے ہیں۔ اس چٹان پر کل پندرہ (15) اشکال کندہ ہیں، جن کی تقسیم کچھ اس طرح ہے:
​انسانی اشکال:
چٹان پر تیرہ (13) انسانی شکلیں بنائی گئی ہیں۔ یہ شکلیں مختلف حالتوں میں ہیں جو غالباً اس دور کے سماجی ڈھانچے، مذہبی رسومات یا کسی خاص واقعے کی عکاسی کرتی ہیں۔
​جانوروں کی اشکال:
انسانی شکلوں کے ساتھ ساتھ یہاں دو (2) جانوروں کی تصویریں بھی موجود ہیں۔ قدیم دور میں انسان اور جانور کا گہرا رشتہ رہا ہے، اور یہ نقوش اس دور کے ماحول اور طرزِ زندگی کو واضح کرتے ہیں۔

05/05/2026

کالکاٹئی-IV کے قدیم سنگی نقوش اور ان کی اہمیت
​سوات کی سرزمین اپنی قدیم تہذیب اور بدھ مت کے شاہکاروں کے حوالے سے عالمی شہرت کی حامل ہے۔ انہی میں سے ایک اہم مقام کالکاٹئی-IV ہے، جو کالکاٹئی-III سے تقریباً آدھا کلومیٹر مشرق کی جانب، بنجوٹ (Banjot) گاؤں کو جانے والی سڑک کے دائیں طرف واقع ہے۔
​جغرافیائی وقوع اور موجودہ حالت
​یہ مقام ایک چٹان پر مشتمل ہے جہاں قدیم دور کے فن پارے کندہ کیے گئے ہیں۔ بدقسمتی سے، وقت کی دھول اور موسمی سختیوں نے ان فن پاروں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ چٹان کا زیادہ تر حصہ درختوں اور خودرو جھاڑیوں میں گھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے اس کے فن پارے نظروں سے اوجھل ہو چکے ہیں۔ چٹان کے اوپر سے گزرنے والی ایک آبی گزرگاہ نے یہاں ایک موٹی سفید تہہ (Patina) جما دی ہے، جس نے نقش و نگار کی تفصیلات کو مزید دھندلا دیا ہے۔
​فنی خصوصیات اور اشکال
​ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق، یہاں کل 15 نقوش موجود ہیں، جن میں سے 13 انسانی اشکال ہیں اور 2 جانوروں کی تصویریں ہیں۔ اگرچہ یہ نقوش اب کافی حد تک مٹ چکے ہیں (Defaced)، لیکن ان کی شناخت درج ذیل طریقے سے کی گئی ہے:
​دھیانی بدھ (Dhyani Buddhas): یہاں مختلف سائز کے چار "دھیانی بدھ" کندہ ہیں جو مراقبے کی حالت میں دکھائے گئے ہیں۔
​بودھی ستوا (Bodhisattvas): یہاں پانچ بودھی ستوا کی مورتیاں ہیں جو "للیت آسن" (Lalitasana) یعنی ایک پاؤں لٹکا کر بیٹھنے کے پرسکون انداز میں موجود ہیں۔
​سمہاسن (Simhasana): ان میں سے دو بودھی ستوا شیر کے تخت (Simhasana) پر براجمان دکھائے گئے ہیں۔
​دیگر اشکال: چار دیگر مورتیاں کھڑی حالت میں ہیں جن کے ہاتھوں میں مختلف علامات یا اشیاء (Attributes) موجود ہیں۔
​اختتامیہ
​کالکاٹئی-IV کے یہ سنگی کتبے اور نقوش گندھارا آرٹ کا ایک قیمتی حصہ ہیں۔ اگرچہ انسانی مداخلت اور قدرتی عوامل نے ان کی خوبصورتی کو متاثر کیا ہے، لیکن یہ آج بھی اس خطے کی قدیم مذہبی روایات اور اعلیٰ درجے کی سنگ تراشی کے فن کی گواہی دیتے ہیں۔ ان کی حفاظت کرنا ہماری تاریخی ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی قدیم تاریخ سے جڑی رہ سکیں۔

Apne hato se Mai ne khola hai ...Ab bhi ye vaha par maujood hai Location ke bare Mai koyi na pooche mujhe se
05/05/2026

Apne hato se Mai ne khola hai ...
Ab bhi ye vaha par maujood hai
Location ke bare Mai koyi na pooche mujhe se

05/05/2026

Guess the waterfall?

Raja Gira castle, Odegram, Swat
05/05/2026

Raja Gira castle, Odegram, Swat

Guess the lake?
05/05/2026

Guess the lake?

With Ali Yousafzai – I'm on a streak! I've made it onto their weekly engagement list 11 weeks in a row. 🎉
05/05/2026

With Ali Yousafzai – I'm on a streak! I've made it onto their weekly engagement list 11 weeks in a row. 🎉

05/05/2026

صحت مند سرگرمیاں: ٹریکنگ کا ایک چیلنج
​تندرستی ہزار نعمت ہے، اور اس نعمت کو برقرار رکھنے کے لیے ورزش اور بیرونی سرگرمیاں بے حد ضروری ہیں۔ گزشتہ اتوار کو مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ ٹریکنگ کا ایک خوبصورت تجربہ ہوا، جس نے میری جسمانی ہمت کو آزمانے کا ایک بہترین موقع فراہم کیا۔
​ٹریکنگ کے دوران میرے دوستوں نے مجھے ایک دلچسپ چیلنج دیا کہ مجھے پہاڑی کے دامن سے چوٹی تک کا فاصلہ محض ایک منٹ میں طے کرنا ہے۔ میں نے اس چیلنج کو بخوشی قبول کیا اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ اوپر کی جانب دوڑنا شروع کیا۔ اللہ کے کرم سے، میں نے یہ ہدف مقررہ وقت سے بھی پہلے، یعنی صرف 50 سیکنڈ میں مکمل کر لیا۔
​یہ کوئی پیشہ ورانہ مقابلہ نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد محض ذہنی و جسمانی تازگی اور آپس میں خوشی بانٹنا تھا۔ ایسی سرگرمیاں ہمیں قدرت کے قریب لاتی ہیں اور روزمرہ کی تھکن کو دور کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
​پہاڑوں کی تازہ ہوا اور چڑھائی کی مشقت انسان کے اندر نظم و ضبط اور استقامت پیدا کرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر انسان کو اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر اس طرح کے کھیلوں اور سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیے، کیونکہ ایک مضبوط جسم ہی ایک صحت مند دماغ کا ضامن ہوتا ہے۔
​امید ہے کہ یہ تحریر آپ کے اس یادگار لمحے کی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے کافی ہوگی۔ اگر آپ اس میں مزید کچھ شامل کرنا چاہیں تو ضرور بتائیں!

سوات کی خوبصورت وادی اپنی قدرتی رعنائیوں کے ساتھ ساتھ اپنی منفرد ثقافت اور لذیذ پکوانوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ انھی پکوانو...
04/05/2026

سوات کی خوبصورت وادی اپنی قدرتی رعنائیوں کے ساتھ ساتھ اپنی منفرد ثقافت اور لذیذ پکوانوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ انھی پکوانوں میں 'بیگمی چاول' کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ محض ایک فصل نہیں، بلکہ سوات کی تاریخ اور ایک معزز خاتون کی کاوشوں کی ایک خوبصورت داستان ہے۔
​ذیل میں بیگمی چاول کی تاریخ اور اس کے پس منظر پر مبنی ایک مضمون پیش ہے:
​سوات کے مشہور 'بیگمی چاول' اور ان کا تاریخی پس منظر
​ریاستِ سوات اپنی زرخیزی اور میٹھے پانیوں کے باعث ہمیشہ سے بہترین فصلوں کا مرکز رہی ہے، لیکن جو شہرت یہاں کے "بیگمی چاول" کو ملی وہ کسی اور کے حصے میں نہ آئی۔ یہ چاول نہ صرف اپنے ذائقے اور خوشبو کی وجہ سے پسند کیے جاتے ہیں، بلکہ ان کے نام کے پیچھے چھپی کہانی بھی نہایت دلچسپ ہے۔
​ایک معزز خاتون کا تحفہ
​بیگمی چاول کا نام کسی بادشاہ یا علاقے کے نام پر نہیں، بلکہ ایک نہایت محترم خاتون بیگم بلقیس آفندی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ بیگم بلقیس آفندی کا تعلق افغانستان کے شاہی خاندان سے تھا۔ وہ شہزادہ غازی سردار ارحم خان آفندی کی اہلیہ تھیں، جو افغانستان سے ہجرت کر کے سوات کے علاقے 'باغ ڈھیرئی' میں آباد ہو گئے تھے۔
​بیج کی آمد اور پہلی کاشت
​اس فصل کی شروعات 1949ء میں ہوئی۔ بیگم بلقیس آفندی جب افغانستان سے سوات تشریف لائیں، تو وہ اپنے ساتھ وہاں کے اعلیٰ معیار کے چاولوں کے بیج بھی لے کر آئیں۔ انہوں نے پہلی مرتبہ ان بیجوں کو سوات کے علاقے 'باغ ڈھیرئی' کی زمین میں کاشت کیا۔
​چونکہ اس وقت مقامی سطح پر اس قسم کے خوشبودار اور باریک چاول موجود نہیں تھے، اس لیے یہ تجربہ انتہائی کامیاب رہا۔ مقامی لوگ بیگم بلقیس آفندی کو ان کی شرافت اور رتبے کی وجہ سے "بیگم" کے نام سے پکارتے تھے۔ چنانچہ جب یہ چاول عام ہوئے، تو لوگوں نے انہیں انھی کی نسبت سے "بیگمی چاول" کہنا شروع کر دیا۔
​خصوصیات اور مقبولیت
​بیگمی چاول اپنی مخصوص خوشبو، لمبائی اور لذیذ ذائقے کی وجہ سے سوات کی پہچان بن گئے۔ سوات کے ٹھنڈے پانی اور زرخیز مٹی نے اس افغانی بیج کو ایک نیا رنگ و روپ بخش دیا۔ آج بھی سوات آنے والے سیاح اس چاول کی فرمائش کرتے ہیں اور اسے یہاں کی ایک خاص سوغات سمجھا جاتا ہے۔
​اختتامیہ
​بیگمی چاول کی یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ کس طرح ایک مثبت تبدیلی یا ایک چھوٹا سا تحفہ کسی علاقے کی شناخت بن سکتا ہے۔ بیگم بلقیس آفندی تو آج ہم میں نہیں رہیں، لیکن سوات کے لہلہاتے کھیت اور دسترخوانوں پر سجے یہ چاول آج بھی ان کے نام اور ان کی اس کاوش کی یاد دلاتے ہیں جس نے سوات کی زراعت کو ایک نئی جہت عطا کی۔

سوات کی پکار​انشاء اللہ بہت جلد ہم سوات کی پکار کے نام سے ایک نئی مہم شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد سوات ک...
04/05/2026

سوات کی پکار
​انشاء اللہ بہت جلد ہم سوات کی پکار کے نام سے ایک نئی مہم شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد سوات کی تعمیر و ترقی، اس کے خوبصورت ماحول کا تحفظ اور نوجوانوں کے لیے بہتر مستقبل کی راہیں ہموار کرنا ہے۔
​ہماری یہ مہم تب ہی کامیاب ہو سکتی ہے جب آپ سب کا بھرپور ساتھ اور حمایت ہمیں حاصل ہو۔ سوات ہم سب کا گھر ہے، اور اس کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
​آئیں! اس نیک مقصد میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ ہم مل کر سوات کو ایک مثالی خطہ بنا سکیں۔
​اگر آپ کو اس مہم کے حوالے سے کوئی اور مدد درکار ہو تو ضرور بتائیں۔

Address

Swat

Telephone

92 3457917108

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hidden Treasures of Swat-Malakand posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hidden Treasures of Swat-Malakand:

Share