17/05/2026
بارش کی ہلکی ہلکی آواز کھڑکی سے ٹکرا رہی تھی۔
کمرے کی لائٹ بند تھی، صرف باہر بجلی چمکتی تو دیواریں چند لمحوں کے لیے روشن ہو جاتیں۔
آٹھ سالہ عائشہ اپنے بستر پر گھٹنوں کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔
اس کی نظریں دروازے پر جمی ہوئی تھیں…
اور دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے سینہ پھاڑ کر باہر آ جائے گا۔
گھر والوں کو لگتا تھا عائشہ بہت خاموش بچی ہے۔
وہ کم بولتی تھی، کم ہنستی تھی، اور ہمیشہ ڈری ڈری رہتی تھی۔
لیکن کسی نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ آخر کیوں۔
ہر رات، جب گھر کے سب لوگ سو جاتے…
عائشہ کی آنکھوں سے نیند غائب ہو جاتی۔
کیونکہ اسے معلوم تھا کہ کچھ دیر بعد دروازہ آہستہ سے کھلے گا…
اور اس کا خوف دوبارہ زندہ ہو جائے گا۔
وہ اپنے کان بند کر لیتی، آنکھیں زور سے بند کر لیتی،
اور دل ہی دل میں دعا مانگتی:
“یا اللہ… آج رات مجھے بچا لینا…”
مگر کئی دعائیں خاموش دیواروں میں قید رہ جاتی ہیں۔
صبح ہوتے ہی سب کچھ معمول کے مطابق ہو جاتا۔
امی ناشتہ بنا رہی ہوتیں، بھائی اسکول کی تیاری کر رہے ہوتے،
اور وہ شخص…
جسے دنیا ایک عزت دار انسان سمجھتی تھی…
ایسے بیٹھا ہوتا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
کبھی کبھی وہ عائشہ کے سر پر ہاتھ پھیر کر مسکرا دیتا۔
اور لوگ کہتے:
“کتنا خیال رکھتا ہے اپنی بیٹی کا…”
یہ جملہ عائشہ کے دل میں خنجر کی طرح لگتا۔
عائشہ کئی بار امی کو بتانا چاہتی تھی۔
کئی بار اس کے ہونٹ کانپے…
آواز گلے تک آئی…
مگر پھر اسے وہ جملہ یاد آ جاتا:
“اگر کسی کو بتایا… تو گھر ٹوٹ جائے گا۔”
ایک آٹھ سال کی بچی کے لیے “گھر ٹوٹ جانا” بہت بڑا خوف ہوتا ہے۔
اس لیے وہ خاموش رہی۔
وقت گزرتا گیا۔
عائشہ بڑی ہوتی گئی…
مگر اس کے اندر کا خوف بھی اس کے ساتھ بڑا ہوتا گیا۔
اس نے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا۔
وہ اسکول میں بھی الگ تھلگ رہتی۔
جب کوئی اچانک اس کے قریب آتا تو وہ گھبرا جاتی۔
اسے رات سے نفرت ہونے لگی تھی۔
کئی راتیں ایسی تھیں جب وہ ساری رات جاگتی رہتی۔
صبح اسکول جاتی تو آنکھیں سوجی ہوتیں۔
ٹیچر پوچھتی:
“بیٹا طبیعت ٹھیک ہے؟”
اور وہ ہمیشہ یہی کہتی:
“جی…”
حالانکہ اس کے اندر سب کچھ ٹوٹ چکا تھا۔
ایک دن اسکول میں ایک نئی ٹیچر آئیں۔
ان کا نام مریم تھا۔
وہ بچوں کو صرف کتابیں نہیں پڑھاتیں تھیں…
وہ ان کے چہروں کے پیچھے چھپے درد بھی پڑھ لیتی تھیں۔
انہوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ عائشہ ہر آواز پر چونک جاتی ہے۔
اگر کوئی مرد ٹیچر قریب آتا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگتے۔
اور جب بھی “گھر” کے موضوع پر مضمون لکھنے کو کہا جاتا…
عائشہ کا صفحہ خالی رہ جاتا۔
ایک دن بریک میں مریم ٹیچر نے اسے اپنے پاس بٹھایا۔
بہت نرمی سے پوچھا:
“عائشہ… کیا کوئی بات ہے جو تم کہنا چاہتی ہو؟”
یہ سنتے ہی عائشہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
مگر برسوں کا خوف ایک لمحے میں ختم نہیں ہوتا۔
اس نے صرف اتنا کہا:
“میں ٹھیک ہوں…”
مریم ٹیچر نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا:
“جو بچے بار بار کہتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہیں… اکثر وہی سب سے زیادہ تکلیف میں ہوتے ہیں۔”
یہ جملہ سن کر عائشہ ٹوٹ گئی۔
وہ پہلی بار کسی کے سامنے روئی تھی۔
ایسے روئی جیسے برسوں کا درد آنکھوں سے بہہ رہا ہو۔
کمرے میں خاموشی تھی…
صرف اس کی سسکیوں کی آواز تھی۔
اور پھر…
کانپتی ہوئی آواز میں اس نے سب کچھ بتا دیا۔
وہ دن عائشہ کی زندگی کا سب سے مشکل دن تھا۔
لیکن شاید وہی دن اس کی نئی زندگی کی شروعات بھی تھا۔
اسکول نے فوراً کارروائی کی۔
Child protection center سے رابطہ کیا گیا۔
گھر میں ہنگامہ مچ گیا۔
رشتے داروں نے بات دبانے کی کوشش کی۔
“بچی ہے… غلط سمجھ گئی ہوگی…”
“ایسی باتیں گھر سے باہر نہیں جاتیں…”
“لوگ کیا کہیں گے؟”
لیکن پہلی بار عائشہ خاموش نہیں ہوئی۔
اس رات جب وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی…
اسے پہلی بار دروازے سے ڈر نہیں لگ رہا تھا۔
کیونکہ پہلی بار…
اسے یقین تھا کہ اب کوئی اس کی آواز نہیں چھین سکتا۔
عدالت کے دن بہت مشکل تھے۔
لوگ گھورتے تھے۔
سوال کرتے تھے۔
کبھی کبھی اسے خود پر شک ہونے لگتا۔
مگر مریم ٹیچر ہر پیشی پر اس کے ساتھ کھڑی رہیں۔
وہ کہتیں:
“سچ بولنے والے بچے کمزور نہیں ہوتے…
وہ دنیا کے بہادر ترین لوگ ہوتے ہیں۔”
کئی مہینوں بعد فیصلہ آیا۔
اور عائشہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ انصاف صرف کتابوں میں نہیں ہوتا…
کبھی کبھی حقیقت میں بھی مل جاتا ہے۔
سال گزر گئے۔
آج عائشہ 27 سال کی ہے۔
وہ ایک counseling center میں کام کرتی ہے۔
وہ ان بچوں سے ملتی ہے جن کی آنکھوں میں وہی خوف ہوتا ہے…
جو کبھی اس کی آنکھوں میں تھا۔
ایک دن ایک چھوٹی بچی اس کے پاس آئی۔
وہ مسلسل خاموش بیٹھی رہی۔
عائشہ نے نرمی سے پوچھا:
“ڈر لگتا ہے؟”
بچی کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
عائشہ نے اس کا ہاتھ پکڑا…
بالکل ویسے ہی جیسے کبھی مریم ٹیچر نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔
اور دھیرے سے کہا:
“اب تم اکیلی نہیں ہو…”
کمرے میں خاموشی تھی…
مگر اس خاموشی میں پہلی بار امید موجود تھی۔