Awami national party shahtai official

  • Home
  • Awami national party shahtai official

Awami national party shahtai official Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Awami national party shahtai official, Business service, .

18/12/2025

Proud of Anp Dir lower🚩🚩🚩🚩🚩🚩

30/11/2025
29/11/2025

الحمدللہ! د پختون سټوډنٹس فیډریشن گورنمنٹ ډګري کالج گل آباد لخوا د ټول کال تر ټولو مهم کنونشن په بریالیتوب سره ترسره شو. غونډه د سخت نظم، ښکلي انتظام، او لوړ شعوري ګډون نه ډکه وه. په کنونشن کې مشران او محصلین دواړو د تعلیم، نظم، خدمت، او اتحاد په محور خبرې اترې وکړې. دا کنونشن د PSF د قوت، ثبات او مستقبل لپاره د قوي رهبري نښه ده.

15/11/2025

"حیدرآباد سازش کیس" پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک مشہور مقدمہ تھا، جو 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دور میں پیش آیا۔ یہ کیس دراصل نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کے رہنماؤں کے خلاف چلایا گیا تھا، جن پر ریاست کے خلاف سازش کرنے اور ملک توڑنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

پس منظر:

1971 میں مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) کے علیحدہ ہونے کے بعد، پاکستان میں سیاسی صورتحال بہت نازک تھی۔

نیشنل عوامی پارٹی (NAP) ایک بڑی اپوزیشن جماعت تھی جس کے سربراہ خان عبدالولی خان، غوث بخش بزنجو، سردار عطاء اللہ مینگل، خیر بخش مری ڈاکٹر عنایت خان غلزئی اور دیگر اکابرین تھے۔

یہ سب بلوچستان اور سرحد (خیبر پختونخوا) کے قوم پرست رہنما تھے۔

مقدمہ کیسے شروع ہوا:

1973 میں بلوچستان کی نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت (وزیراعلیٰ عطاء اللہ مینگل) کو ذوالفقار علی بھٹو نے برطرف کر دیا۔
اس کے بعد بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا۔

حکومت نے الزام لگایا کہ NAP کے رہنما بھارت اور افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔

مقدمہ کہاں اور کیوں "حیدرآباد سازش کیس" کہلایا؟

حکومت نے ان رہنماؤں کو گرفتار کر کے حیدرآباد جیل میں رکھا۔

ان کے خلاف ایک خصوصی عدالت (Special Tribunal) بنائی گئی۔
دلچسپ بات تو یہ کہ خان عبدالولی خان کے انتہائی قریبی ساتھی شہید عبدالصمد خان اچکزئی (نیشنل عوامی پارٹی) اور خان عبدالولی خان کے بجائے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھی بنے جو زندگی کے آخری دم تک بھٹو صاحب کے قریبی رہے۔

اسی وجہ سے یہ مقدمہ "حیدرآباد سازش کیس" کے نام سے مشہور ہوا۔

اہم ملزمان:(قیدی)

1. خان عبدالولی خان

2. سردار عطاء اللہ مینگل

3. غوث بخش بزنجو

4. خیر بخش مری

5. اجمل خٹک

6. ڈاکٹر عنایت اللہ خان غلزئی

اور دیگر NAP رہنما

انجام:

یہ مقدمہ کئی سال چلتا رہا (1973–1977 تک)۔

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے بعد جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگایا (1977)،
تو ضیاء الحق نے یہ مقدمہ ختم کر دیا اور تمام رہنماؤں کو رہا کر دیا۔

تاریخی اہمیت:

یہ کیس دراصل وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلافات کی ایک علامت بن گیا۔

بہت سے مورخین کے مطابق، یہ مقدمہ سیاسی انتقام پر مبنی تھا، کیونکہ بھٹو حکومت اپنی مخالفت برداشت نہیں کر رہی تھی۔

اس نے پاکستان کی وفاقی سیاست اور بلوچستان کے احساسِ محرومی پر گہرا اثر چھوڑا۔
جب بھٹو نے نیپ کے خلاف بے بنیاد مقدمہ چلایا اور سب لیڈر شپ حیدرآباد جیل میں بے گناہ قید تھے تو نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما اور مشہور شاعر حبیب جالب نے حیدرآباد سازش کیس کے زمانے میں اس مقدمے کے خلاف زبردست شاعری کی تھی — کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ کیس ظلم، سیاسی انتقام اور آوازِ حق دبانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے اس مقدمے اور نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کے رہنماؤں کی گرفتاری کے ردِعمل میں اپنی مشہور نظم لکھی:

"میں نہیں مانتا"

یہی وہ نظم ہے جو حیدرآباد سازش کیس کے تناظر میں لکھی گئی تھی۔

حبیب جالب نے یہ نظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو مخاطب کر کے لکھی، جب اپوزیشن رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور "ملک دشمن" قرار دیا گیا۔

نظم کے مشہور اشعار:

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو

میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے

میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے

ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو

چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو
اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو

میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں

اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں

تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

مطلب اور پس منظر:

جالب نے ان اشعار میں آمریت، ناانصافی اور سیاسی جبر کے خلاف آواز بلند کی۔

"ایسے دستور کو" سے مراد وہ نظام ہے جس میں عوام کی آواز دبائی جاتی ہے۔

"میں نہیں مانتا" ایک احتجاجی نعرہ بن گیا — جالب کا اعلانِ بغاوت کہ وہ ایسے ظلم کو تسلیم نہیں کرتے۔

حیدرآباد سازش کیس = سیاسی مخالفین پر ریاستی جبر

حبیب جالب کی نظم "میں نہیں مانتا" = اس جبر کے خلاف عوامی اعلان

یہ نظم ظلم، آمریت، ناانصافی اور طبقاتی فرق کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے۔

حبیب جالب نے یہ نظم حیدرآباد سازش کیس کے وقت لکھی، جب
خان عبدالولی ولی خان، عطاءاللہ مینگل، بزنجو ڈاکٹر عنایت اللہ خان غلزئی اور دیگر سیاسی رہنما جیل میں تھے۔

جالب نے عوام کو بتایا کہ حقیقی دستور وہی ہے جس میں انصاف اور آزادی ہو۔

(آج کچھ لوگ سیاسی نیشنل عوامی پارٹی کا اس تاریخی سلوگن کو اپنا سلوگن پیش کررہے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ کون کس سمت میں کھڑا تھا اور خان عبدالولی خان بابا کس سمت میں اپنے تحریک اور اپنے وفادار ساتھیوں کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Shakir Ullah, Habibullah Afridi, Abrar Khan, Samar Bettan...
08/11/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Shakir Ullah, Habibullah Afridi, Abrar Khan, Samar Bettani, Bahadar Nawab, Hamid Malik, Haji Zahir Shah, Aamir Z Ayubi, امتیاز علی مہمند, Ali Rahman Sailab, Shakeel Ahmad, Sarfaraz Khan, Bashir Bhai, Ashraf Pervez Nadeem, Shakir Ullah Shakir Ullah, Fayaz Khan Fayaz Khan, Ahmed Khan, Zahoor Shah, Lalak Jan Ziarat Wal, Gufran Mardani, Rahamdad Khan, Fayaz Ahmad, Bacha Rahman Sawati, Adil Wazir, Marwah Kakar Marwah Kakar, Amjad Ali Khitab Gul, Wajid Khan, Safdar Shakir, Sabir Shah, Shafi Ullah, Sohail Ahmad, Afgarmalakand Afgarmalakand, Ayaz Khan, Malik Azan, Sami Khan, Burham, Naseem Naseem, Alam Zeb Arman, Javed Khan, Rafi Ullah, Ayaz Khan, Umar Gul, Rafiq Khan, Izat Jan, Hayat Ali, عبدا لغنی, Muhammad Ali Jan, Hilal Khan, زاکہرواللہ زکہرواللہ, Aziz Baj

01/11/2025

پختونخوابار کونسل انتخابات
دیر لوئر/باجوڑ سیٹ پر ملگری وکیلان کے شاہ فیصل یوسفزئی ایڈووکیٹ کامیاب

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Saeed Rehman, امیر رحمان یوسفزئی, Shakeel Khan, Arshed Al...
29/10/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Saeed Rehman, امیر رحمان یوسفزئی, Shakeel Khan, Arshed Ali, Zarnosh Khan Amazai, Shahab Jan, Suleman Baba, Akbar Ali, Muhammad Farooq, Sabzali Khan, مجبور الوزیری, Muhammad Bilal, Sundas Gurya Sundas Gurya, Iftikhar Ahmad, Sadam Khan, Jan Bahadr, Balal Mazari, Haroon Rashid Utmanzai, AH Ahmad Hassan, Jehanzeb Khan, Ameer Ullah, Hàbìb Ùllàh Hero, Tajmunir Safi, Asif Jan, Abdul Basit, Hizb Ullah Mohmand, Sodais Khan, Khan Yousafzai, Asif Jani, Ali Jahangar, Agter Agter, Naseem Khan, H Nabi, Imtiaz Khan Imtiaz Khan, Naseeb Khan, Rab Nawaz Khan, Ajmal Khan, Anam Ulhaq, Amenullah Aminullah, Hassan Khan, Asfandiyar Asfandiyar Khan, Sikandar Khan, Nisar Ahmed, Waqar Khan, Skhee Muhammad, Ghani Khan, Ziwran Khan, Bashir K Baba, Fazal Aziz, Sajid Khan Miani

Address


Telephone

+923429392635

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awami national party shahtai official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Business?

Share