Al Rahmat traders vehova

Al Rahmat traders vehova تمام اجناس کے ریٹس اورخریدوفروخت کےلئےرابطہ کریں
رابط?

ملک نہیں تو پلیز خود کیلئے ضرور پڑھیں۔  پاکستان سب کا، مگر پاکستان کا کون؟قومیں صرف اپنے لیے نہیں جیتیں، کچھ قومیں تاریخ...
01/04/2026

ملک نہیں تو پلیز خود کیلئے ضرور پڑھیں۔ پاکستان سب کا، مگر پاکستان کا کون؟
قومیں صرف اپنے لیے نہیں جیتیں، کچھ قومیں تاریخ کے لیے جیتی ہیں۔ پاکستان انہی میں سے ایک ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس نے اپنے حصے کی روٹی بھی دوسروں میں بانٹی، اپنا لہو بھی اور اپنی سفارت کاری بھی۔ مگر المیہ یہ ہے کہ دنیا تو کبھی کبھار مان بھی لیتی ہے مگر اپنے ہی لوگ سوال اٹھانے بیٹھ جاتے ہیں۔تاریخ کے اوراق پلٹیں تو آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ خدا کی قسم! اس دھرتی پر قدم قدم پر ایسی داستانیں بکھری پڑی ہیں جو مردہ روحوں میں بھی جان پھونک دیں۔ مگر ان سے کیا کہیں جن کی آنکھوں پر احساسِ کمتری کی دبیز پٹیاں بندھی ہیں؟ وہ جو صبح و شام اپنی ہی مٹی پر طعنہ زنی کرتے ہیں، جنہیں مغرب کی ہر ادا میں کمال اور اپنے گھر میں صرف زوال نظر آتا ہے۔ ان احمقوں کی جنت میں رہنے والوں اور ذہنی غلاموں سے کوئی پوچھے کہ جس ریاست کو تم بوجھ سمجھتے ہو، اس نے دنیا کے کتنے ہی بوجھ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے ہیں؟یہ احساسِ کمتری کے مارے ہوئے وہ لوگ ہیں جو غیروں کے ٹکڑوں پر پل کر اپنے ہی آنگن میں پتھر پھینکتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم کہ جب دنیا کسی کے ساتھ کھڑی ہونے سے ڈرتی تھی، تب یہ درویش صفت ریاست ننگے دھڑ میدان میں اترتی تھی۔
کیا الجیریا کو بھول گئے؟ جب فرانسیسی سامراج الجیریا کے مسلمانوں کا خون پی رہا تھا، اور دنیا خاموش تماشائی تھی، تو یہ پاکستان تھا جس نے اقوام متحدہ میں ان کا مقدمہ لڑا۔ الجیریا کے آزادی پسند رہنماؤں کے پاس سفر کے لیے کاغذات نہیں تھے، پاکستان نے انہیں اپنے سفارتی پاسپورٹ دیے تاکہ وہ دنیا بھر میں اپنی آزادی کی مہم چلا سکیں۔ الجیریا کی آزادی میں آج بھی اس مٹی کا پسینہ شامل ہے۔
اور وہ عرب اسرائیل جنگ؟ 1967ء اور 1973ء کی تاریخ پڑھ کر دیکھو۔ جب عربوں کی فضائیہ زمین بوس ہو چکی تھی، تب یہ پاکستان کے شاہین ہی تھے جنہوں نے پردیس میں جا کر طیارے اڑائے۔ یہ سیف الاعظم اور ثناء اللہ جیسے درویش صفت پائلٹ تھے جن کی گھن گرج سے اسرائیلی فضا ئیں کانپ اٹھی تھیں اور اسرائیلی طیاروں کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا تھا۔
تمہاری یادداشت اگر اتنی ہی کمزور ہے تو ذرا سری لنکا والوں سے پوچھ لو۔ تامل ٹائیگرز کولمبو کے دروازے پر پہنچ چکے تھے، لنکا دو ٹکڑے ہونے والا تھا اور خطے کا تھانیدار بھارت ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا تھا۔ اس وقت کس نے ہاتھ بڑھایا؟ یہ پاکستان تھا جس کے عسکری مشیروں اور ہتھیاروں نے سری لنکا کو ٹوٹنے سے بچایا۔ آج سری لنکا اگر پرامن ہے تو اس کے پیچھے اسی ملک کا احسان ہے۔
افغانستان پر جب روس نے اپنے قدم رکھے، تو دنیا کانپ رہی تھی۔ یہ پاکستان تھا جس نے 40 لاکھ افغانوں کو سینے سے لگایا، اپنا نوالہ آدھا کیا اور تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ آج تم ہمیں طعنے دیتے ہو؟ ہم نے تو اپنا لہو دے کر کابل کو ماسکو کی غلامی سے بچایا تھا۔
یورپ کے عین وسط میں بوسنیا کو یاد کرو۔ جب مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا اور اقوام متحدہ کی منافقت عروج پر تھی، تب یہ پاکستان کی آئی ایس آئی اور عسکری قیادت تھی جو چلتے میزائلوں اور موت کے منہ میں گھس کر بوسنیائی مسلمانوں کو اینٹی ٹینک میزائل اور گولہ بارود فراہم کر رہی تھی۔ ہم نے انہیں کٹنے سے بچایا۔ آذربائیجان کے مسلمانوں کو جب آرمینیا کے غاصبوں نے گھیرا، تو پاکستان نے نہ صرف سفارتی محاذ پر ان کی جنگ لڑی بلکہ آرمینیا کو آج تک تسلیم ہی نہیں کیا۔ نگورنو کاراباخ کی آزادی میں پاکستانی حمایت کا کردار سنہری حروف میں لکھا ہے۔
اور افریقہ کے تپتے صحراؤں اور گوریلا جنگلوں کا کیا ذکر کریں؟ صومالیہ ہو یا کانگو، جب گوروں کی فوجیں موت کے ڈر سے خیموں میں دبک گئیں اور ہاتھ کھڑے کر دیے، تو اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے یہ پاک فوج کے جوان تھے جنہوں نے اپنا لہو دے کر وہاں امن کے چراغ جلائے۔ انڈونیشیا کی آزادی کے وقت برطانوی فوج میں شامل سینکڑوں مسلمان فوجیوں نے قائداعظم کی ایک کال پر بغاوت کی اور انڈونیشیا کے حق میں لڑے۔
ترکی کے ساتھ کھڑے ہونا، خصوصاً مشکل اوقات میں، پاکستان کی روایت رہی ہے۔ فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کا مؤقف کبھی نہیں بدلا، چاہے عالمی دباؤ کتنا ہی کیوں نہ ہو۔ چین کے ساتھ اقتصادی راہداری (CPEC) صرف ایک منصوبہ نہیں، ایک اسٹریٹیجک پارٹنرشپ ہے جس نے خطے کی سیاست بدل دی۔ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانیوں کی خدمات نے وہاں کی معیشتوں کو سہارا دیا۔ اور نیوکلیئر پروگرام، یہ صرف دفاع نہیں، پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک نفسیاتی طاقت ہے۔
اور آج کے حالات کو سامنے رکھ کر ایک بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اس قوم کو اپنے اُن رہنماؤں پر فخر ہونا چاہیے جنہوں نے وقتی دباؤ، عالمی دھمکیوں اور معاشی مشکلات کے باوجود یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بننا ہے۔ وہ جملہ کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے، محض ایک نعرہ نہیں تھا، ایک دور اندیش حکمتِ عملی تھی۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے اسے دیوانگی کہا، مگر آج یہی فیصلہ پاکستان کی سلامتی کی سب سے مضبوط ضمانت بن چکا ہے۔ جب خطے میں جنگ کی آگ بھڑکتی ہے اور بڑے بڑے ممالک غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں، تو پاکستان ایک محفوظ حصار میں کھڑا نظر آتا ہے۔ یہ حصار کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ اُس قیادت کی بصیرت کا ثمر ہے جس نے آنے والے خطرات کو وقت سے پہلے بھانپ لیا تھا۔ یہ فیصلہ نہ صرف قابلِ فخر ہے بلکہ تاریخ کے صفحات میں ایک ایسی مثال کے طور پر لکھا جائے گا جس نے ایک کمزور معیشت کے باوجود ایک مضبوط ریاست کی بنیاد رکھ دی۔
یہ سب کچھ ایک ایسے ملک نے کیا جسے خود اندرونی مسائل، معاشی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا رہا۔اب سوال یہ ہے کہ جو قوم دوسروں کے لیے اتنا کچھ کرے، کیا اسے اپنے ہی لوگوں سے یہ سننا چاہیے کہ یہ ملک کچھ نہیں کر سکا ؟اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ بتانے والا کوئی نہیں۔ اور جو بتاتا ہے، اسے سننے کا حوصلہ نہیں۔ ہم نے اپنے ہیروز کو بھلا دیا، اپنی کامیابیوں کو کم تر سمجھ لیا، اور دوسروں کی چمک دمک میں خود کو کمتر مان لیا۔
یہ تنقید نہیں، ایک بیماری ہے۔ یہ سب ان کور چشموں کو کہاں نظر آئے گا جو ہر وقت 'یہاں کچھ نہیں، یہ ملک ختم ہونے والا ہے' کا راگ الاپتے ہیں؟ یہ وہ احساسِ کمتری کے شکار بونے ہیں جو عقابوں کی اڑان پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کی روحیں مر چکی ہیں، انہیں لندن اور نیویارک کی گلیاں تو یاد رہتی ہیں، مگر اپنے اسلاف کا وہ فخر یاد نہیں جو انہوں نے خون دے کر کمایا۔ انہیں یہ دھرتی کم تر لگتی ہے کیونکہ ان کے اپنے ظرف چھوٹے ہیں۔
ہاں، یہ سچ ہے کہ پاکستان سب کا، مگر پاکستان کا کوئی نہیں۔ ہم نے سب کے لیے قربانیاں دیں، مگر جب ہم پر کڑا وقت آیا تو کوئی ہمارے ساتھ کھڑا نہ ہوا۔ لیکن سن لو! اس درویش کو کسی سہارے کی ضرورت بھی نہیں۔ اس کا سودا براہ راست آسمانوں پر ہے۔ جب تک خدا کی نصرت اس مٹی کے ساتھ ہے، یہ تنہا ریاست یونہی بانجھ ذہنوں کے طعنے سہہ کر بھی دنیا کی تاریخ بدلتی رہے گی۔ تم روتے رہو، طعنے دیتے رہو، مگر یہ قافلہ یونہی چلتا رہے گا، ان شاء اللہ!۔حافظ حبكم هو الأمل لنا في غزة 🥰❤️❤️❤️❤️❤️
💪⚔️🇵🇰⚔️💪

30/03/2026

جب حکومت سمیت کوئی مدد کو نہ پہنچا تو اپنے گاؤں کو دریائی کٹاؤ سے بچانے کے لیے ایک کروڑ روپے سے زائد کی ڈونیشین اکٹھی کر کے حفاظتی بند تعمیر کرنے والے کچہ میلے والی کے باہمت شہریوں پر روز ٹی وی کی رپورٹ

30/03/2026

یااللہ اپنا خصوصی کرم فرما

‏میری اپ سب سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اس مرد مجاہد کی کامیابی کیلئے خصوصی دعا کریں عاصم منیر صاحب انتہائی سخت اور ناموافق...
30/03/2026

‏میری اپ سب سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اس مرد مجاہد کی کامیابی کیلئے خصوصی دعا کریں عاصم منیر صاحب انتہائی سخت اور ناموافق حالات میں نظام کی درستگی اور پاکستان کی فلاح کیلئے بیک وقت کئی محاذوں پر لڑائی لڑ رہے ہیں اللہ رب العزت انہیں سرخروئی نصیب فرمائیں آمین 🤲

اشفاق ولد علی مراد ساہو گیلے کپڑے سے سولر پینل صاف کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سول...
30/03/2026

اشفاق ولد علی مراد ساہو گیلے کپڑے سے سولر پینل صاف کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سولر پینلز سے بجلی خارج نہیں ہوتی۔ اکثر، بچوں یا خاندان کے افراد کو کسی بھی وقت سولر پینل صاف کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

براہ کرم سولر پینل کو گیلے کپڑے سے صاف نہ کریں اور بصورت دیگر ایسے کسی بھی غیر متوقع حادثے سے بچنے کے لیے اسے رات کے وقت صاف کریں۔

اس عوامی پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ایک بے گناہ کی جان بچ سکے۔

مغربی ہواؤں کا طاقتور سلسلہ یکم اپریل سے ملک میں داخل ہو گا اور 4 اپریل تک جاری رہے گا اس نظام کے زیر اثر ملک کے بیشتر ع...
30/03/2026

مغربی ہواؤں کا طاقتور سلسلہ یکم اپریل سے ملک میں داخل ہو گا اور 4 اپریل تک جاری رہے گا اس نظام کے زیر اثر ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا امکان 🌧️🌧️
ترجمان محکمہ موسمیات پاکستان

السلام علیکم کسان بھائیو 🌱شوگر بیٹ (چقندر) کا سیزن شروع ہونے والا ہے اور اطلاعات کے مطابق انشاءاللہ 8 اپریل سے کرشنگ کا ...
30/03/2026

السلام علیکم کسان بھائیو 🌱
شوگر بیٹ (چقندر) کا سیزن شروع ہونے والا ہے اور اطلاعات کے مطابق انشاءاللہ 8 اپریل سے کرشنگ کا آغاز ہو جائے گا۔
لیکن ابھی تک ریٹ کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، صرف مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں تمام کسان بھائیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ متحد رہیں۔
📌 گزارش ہے کہ: جو بھائی حضرات بااثر ہیں، جن کے شوگر ملز یا اعلیٰ حکام سے رابطے ہیں، وہ فوری طور پر رابطہ کریں اور کسانوں کے حق میں اچھا ریٹ فکس کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
📌 کیونکہ:
ڈیزل، کھاد اور دیگر اخراجات میں بہت اضافہ ہو چکا ہے
اگر ریٹ مناسب نہ ملا تو کسان کو شدید نقصان ہوگا
🤝 لہٰذا ہم سب کو مل کر آواز اٹھانی ہوگی تاکہ اس دفعہ شوگر بیٹ کا ریٹ کسان دوست مقرر ہو۔
اللہ پاک سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے 🤲

Address

پل دنڑ
Vehoa Town

Telephone

+923338168017

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Rahmat traders vehova posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al Rahmat traders vehova:

Shortcuts

Share