Al Rahmat traders vehova

Al Rahmat traders vehova تمام اجناس کے ریٹس اورخریدوفروخت کےلئےرابطہ کریں
رابط?

ملک نہیں تو پلیز خود کیلئے ضرور پڑھیں۔  پاکستان سب کا، مگر پاکستان کا کون؟قومیں صرف اپنے لیے نہیں جیتیں، کچھ قومیں تاریخ...
01/04/2026

ملک نہیں تو پلیز خود کیلئے ضرور پڑھیں۔ پاکستان سب کا، مگر پاکستان کا کون؟
قومیں صرف اپنے لیے نہیں جیتیں، کچھ قومیں تاریخ کے لیے جیتی ہیں۔ پاکستان انہی میں سے ایک ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس نے اپنے حصے کی روٹی بھی دوسروں میں بانٹی، اپنا لہو بھی اور اپنی سفارت کاری بھی۔ مگر المیہ یہ ہے کہ دنیا تو کبھی کبھار مان بھی لیتی ہے مگر اپنے ہی لوگ سوال اٹھانے بیٹھ جاتے ہیں۔تاریخ کے اوراق پلٹیں تو آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ خدا کی قسم! اس دھرتی پر قدم قدم پر ایسی داستانیں بکھری پڑی ہیں جو مردہ روحوں میں بھی جان پھونک دیں۔ مگر ان سے کیا کہیں جن کی آنکھوں پر احساسِ کمتری کی دبیز پٹیاں بندھی ہیں؟ وہ جو صبح و شام اپنی ہی مٹی پر طعنہ زنی کرتے ہیں، جنہیں مغرب کی ہر ادا میں کمال اور اپنے گھر میں صرف زوال نظر آتا ہے۔ ان احمقوں کی جنت میں رہنے والوں اور ذہنی غلاموں سے کوئی پوچھے کہ جس ریاست کو تم بوجھ سمجھتے ہو، اس نے دنیا کے کتنے ہی بوجھ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے ہیں؟یہ احساسِ کمتری کے مارے ہوئے وہ لوگ ہیں جو غیروں کے ٹکڑوں پر پل کر اپنے ہی آنگن میں پتھر پھینکتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم کہ جب دنیا کسی کے ساتھ کھڑی ہونے سے ڈرتی تھی، تب یہ درویش صفت ریاست ننگے دھڑ میدان میں اترتی تھی۔
کیا الجیریا کو بھول گئے؟ جب فرانسیسی سامراج الجیریا کے مسلمانوں کا خون پی رہا تھا، اور دنیا خاموش تماشائی تھی، تو یہ پاکستان تھا جس نے اقوام متحدہ میں ان کا مقدمہ لڑا۔ الجیریا کے آزادی پسند رہنماؤں کے پاس سفر کے لیے کاغذات نہیں تھے، پاکستان نے انہیں اپنے سفارتی پاسپورٹ دیے تاکہ وہ دنیا بھر میں اپنی آزادی کی مہم چلا سکیں۔ الجیریا کی آزادی میں آج بھی اس مٹی کا پسینہ شامل ہے۔
اور وہ عرب اسرائیل جنگ؟ 1967ء اور 1973ء کی تاریخ پڑھ کر دیکھو۔ جب عربوں کی فضائیہ زمین بوس ہو چکی تھی، تب یہ پاکستان کے شاہین ہی تھے جنہوں نے پردیس میں جا کر طیارے اڑائے۔ یہ سیف الاعظم اور ثناء اللہ جیسے درویش صفت پائلٹ تھے جن کی گھن گرج سے اسرائیلی فضا ئیں کانپ اٹھی تھیں اور اسرائیلی طیاروں کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا تھا۔
تمہاری یادداشت اگر اتنی ہی کمزور ہے تو ذرا سری لنکا والوں سے پوچھ لو۔ تامل ٹائیگرز کولمبو کے دروازے پر پہنچ چکے تھے، لنکا دو ٹکڑے ہونے والا تھا اور خطے کا تھانیدار بھارت ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا تھا۔ اس وقت کس نے ہاتھ بڑھایا؟ یہ پاکستان تھا جس کے عسکری مشیروں اور ہتھیاروں نے سری لنکا کو ٹوٹنے سے بچایا۔ آج سری لنکا اگر پرامن ہے تو اس کے پیچھے اسی ملک کا احسان ہے۔
افغانستان پر جب روس نے اپنے قدم رکھے، تو دنیا کانپ رہی تھی۔ یہ پاکستان تھا جس نے 40 لاکھ افغانوں کو سینے سے لگایا، اپنا نوالہ آدھا کیا اور تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ آج تم ہمیں طعنے دیتے ہو؟ ہم نے تو اپنا لہو دے کر کابل کو ماسکو کی غلامی سے بچایا تھا۔
یورپ کے عین وسط میں بوسنیا کو یاد کرو۔ جب مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا اور اقوام متحدہ کی منافقت عروج پر تھی، تب یہ پاکستان کی آئی ایس آئی اور عسکری قیادت تھی جو چلتے میزائلوں اور موت کے منہ میں گھس کر بوسنیائی مسلمانوں کو اینٹی ٹینک میزائل اور گولہ بارود فراہم کر رہی تھی۔ ہم نے انہیں کٹنے سے بچایا۔ آذربائیجان کے مسلمانوں کو جب آرمینیا کے غاصبوں نے گھیرا، تو پاکستان نے نہ صرف سفارتی محاذ پر ان کی جنگ لڑی بلکہ آرمینیا کو آج تک تسلیم ہی نہیں کیا۔ نگورنو کاراباخ کی آزادی میں پاکستانی حمایت کا کردار سنہری حروف میں لکھا ہے۔
اور افریقہ کے تپتے صحراؤں اور گوریلا جنگلوں کا کیا ذکر کریں؟ صومالیہ ہو یا کانگو، جب گوروں کی فوجیں موت کے ڈر سے خیموں میں دبک گئیں اور ہاتھ کھڑے کر دیے، تو اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے یہ پاک فوج کے جوان تھے جنہوں نے اپنا لہو دے کر وہاں امن کے چراغ جلائے۔ انڈونیشیا کی آزادی کے وقت برطانوی فوج میں شامل سینکڑوں مسلمان فوجیوں نے قائداعظم کی ایک کال پر بغاوت کی اور انڈونیشیا کے حق میں لڑے۔
ترکی کے ساتھ کھڑے ہونا، خصوصاً مشکل اوقات میں، پاکستان کی روایت رہی ہے۔ فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کا مؤقف کبھی نہیں بدلا، چاہے عالمی دباؤ کتنا ہی کیوں نہ ہو۔ چین کے ساتھ اقتصادی راہداری (CPEC) صرف ایک منصوبہ نہیں، ایک اسٹریٹیجک پارٹنرشپ ہے جس نے خطے کی سیاست بدل دی۔ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانیوں کی خدمات نے وہاں کی معیشتوں کو سہارا دیا۔ اور نیوکلیئر پروگرام، یہ صرف دفاع نہیں، پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک نفسیاتی طاقت ہے۔
اور آج کے حالات کو سامنے رکھ کر ایک بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اس قوم کو اپنے اُن رہنماؤں پر فخر ہونا چاہیے جنہوں نے وقتی دباؤ، عالمی دھمکیوں اور معاشی مشکلات کے باوجود یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بننا ہے۔ وہ جملہ کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے، محض ایک نعرہ نہیں تھا، ایک دور اندیش حکمتِ عملی تھی۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے اسے دیوانگی کہا، مگر آج یہی فیصلہ پاکستان کی سلامتی کی سب سے مضبوط ضمانت بن چکا ہے۔ جب خطے میں جنگ کی آگ بھڑکتی ہے اور بڑے بڑے ممالک غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں، تو پاکستان ایک محفوظ حصار میں کھڑا نظر آتا ہے۔ یہ حصار کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ اُس قیادت کی بصیرت کا ثمر ہے جس نے آنے والے خطرات کو وقت سے پہلے بھانپ لیا تھا۔ یہ فیصلہ نہ صرف قابلِ فخر ہے بلکہ تاریخ کے صفحات میں ایک ایسی مثال کے طور پر لکھا جائے گا جس نے ایک کمزور معیشت کے باوجود ایک مضبوط ریاست کی بنیاد رکھ دی۔
یہ سب کچھ ایک ایسے ملک نے کیا جسے خود اندرونی مسائل، معاشی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا رہا۔اب سوال یہ ہے کہ جو قوم دوسروں کے لیے اتنا کچھ کرے، کیا اسے اپنے ہی لوگوں سے یہ سننا چاہیے کہ یہ ملک کچھ نہیں کر سکا ؟اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ بتانے والا کوئی نہیں۔ اور جو بتاتا ہے، اسے سننے کا حوصلہ نہیں۔ ہم نے اپنے ہیروز کو بھلا دیا، اپنی کامیابیوں کو کم تر سمجھ لیا، اور دوسروں کی چمک دمک میں خود کو کمتر مان لیا۔
یہ تنقید نہیں، ایک بیماری ہے۔ یہ سب ان کور چشموں کو کہاں نظر آئے گا جو ہر وقت 'یہاں کچھ نہیں، یہ ملک ختم ہونے والا ہے' کا راگ الاپتے ہیں؟ یہ وہ احساسِ کمتری کے شکار بونے ہیں جو عقابوں کی اڑان پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کی روحیں مر چکی ہیں، انہیں لندن اور نیویارک کی گلیاں تو یاد رہتی ہیں، مگر اپنے اسلاف کا وہ فخر یاد نہیں جو انہوں نے خون دے کر کمایا۔ انہیں یہ دھرتی کم تر لگتی ہے کیونکہ ان کے اپنے ظرف چھوٹے ہیں۔
ہاں، یہ سچ ہے کہ پاکستان سب کا، مگر پاکستان کا کوئی نہیں۔ ہم نے سب کے لیے قربانیاں دیں، مگر جب ہم پر کڑا وقت آیا تو کوئی ہمارے ساتھ کھڑا نہ ہوا۔ لیکن سن لو! اس درویش کو کسی سہارے کی ضرورت بھی نہیں۔ اس کا سودا براہ راست آسمانوں پر ہے۔ جب تک خدا کی نصرت اس مٹی کے ساتھ ہے، یہ تنہا ریاست یونہی بانجھ ذہنوں کے طعنے سہہ کر بھی دنیا کی تاریخ بدلتی رہے گی۔ تم روتے رہو، طعنے دیتے رہو، مگر یہ قافلہ یونہی چلتا رہے گا، ان شاء اللہ!۔حافظ حبكم هو الأمل لنا في غزة 🥰❤️❤️❤️❤️❤️
💪⚔️🇵🇰⚔️💪

30/03/2026

یااللہ اپنا خصوصی کرم فرما

‏میری اپ سب سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اس مرد مجاہد کی کامیابی کیلئے خصوصی دعا کریں عاصم منیر صاحب انتہائی سخت اور ناموافق...
30/03/2026

‏میری اپ سب سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اس مرد مجاہد کی کامیابی کیلئے خصوصی دعا کریں عاصم منیر صاحب انتہائی سخت اور ناموافق حالات میں نظام کی درستگی اور پاکستان کی فلاح کیلئے بیک وقت کئی محاذوں پر لڑائی لڑ رہے ہیں اللہ رب العزت انہیں سرخروئی نصیب فرمائیں آمین 🤲

اشفاق ولد علی مراد ساہو گیلے کپڑے سے سولر پینل صاف کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سول...
30/03/2026

اشفاق ولد علی مراد ساہو گیلے کپڑے سے سولر پینل صاف کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سولر پینلز سے بجلی خارج نہیں ہوتی۔ اکثر، بچوں یا خاندان کے افراد کو کسی بھی وقت سولر پینل صاف کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

براہ کرم سولر پینل کو گیلے کپڑے سے صاف نہ کریں اور بصورت دیگر ایسے کسی بھی غیر متوقع حادثے سے بچنے کے لیے اسے رات کے وقت صاف کریں۔

اس عوامی پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ایک بے گناہ کی جان بچ سکے۔

مغربی ہواؤں کا طاقتور سلسلہ یکم اپریل سے ملک میں داخل ہو گا اور 4 اپریل تک جاری رہے گا اس نظام کے زیر اثر ملک کے بیشتر ع...
30/03/2026

مغربی ہواؤں کا طاقتور سلسلہ یکم اپریل سے ملک میں داخل ہو گا اور 4 اپریل تک جاری رہے گا اس نظام کے زیر اثر ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا امکان 🌧️🌧️
ترجمان محکمہ موسمیات پاکستان

السلام علیکم کسان بھائیو 🌱شوگر بیٹ (چقندر) کا سیزن شروع ہونے والا ہے اور اطلاعات کے مطابق انشاءاللہ 8 اپریل سے کرشنگ کا ...
30/03/2026

السلام علیکم کسان بھائیو 🌱
شوگر بیٹ (چقندر) کا سیزن شروع ہونے والا ہے اور اطلاعات کے مطابق انشاءاللہ 8 اپریل سے کرشنگ کا آغاز ہو جائے گا۔
لیکن ابھی تک ریٹ کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، صرف مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں تمام کسان بھائیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ متحد رہیں۔
📌 گزارش ہے کہ: جو بھائی حضرات بااثر ہیں، جن کے شوگر ملز یا اعلیٰ حکام سے رابطے ہیں، وہ فوری طور پر رابطہ کریں اور کسانوں کے حق میں اچھا ریٹ فکس کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
📌 کیونکہ:
ڈیزل، کھاد اور دیگر اخراجات میں بہت اضافہ ہو چکا ہے
اگر ریٹ مناسب نہ ملا تو کسان کو شدید نقصان ہوگا
🤝 لہٰذا ہم سب کو مل کر آواز اٹھانی ہوگی تاکہ اس دفعہ شوگر بیٹ کا ریٹ کسان دوست مقرر ہو۔
اللہ پاک سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے 🤲

اپنی زندگی میں ہر شخص کو ایک خاص کرسی دیں ،، ایک اچھی جگہ پہ بٹھائیں ، جھکیں ، اہمیت دیں ، عزت کریں ،، پھر اطمینان سے مش...
17/03/2025

اپنی زندگی میں ہر شخص کو ایک خاص کرسی دیں ،، ایک اچھی جگہ پہ بٹھائیں ، جھکیں ، اہمیت دیں ، عزت کریں ،،


پھر اطمینان سے مشاہدہ کریں کہ کیا وہ شخص اپنا توازن کھونے لگا ھے ؟
اگر ایسا ھے تو اس سے اس کی جگہ نہ چھینیں ، اسے وہیں پہ بیٹھا رہنے دیں ، مگر خود خاموشی سے وہاں سے ہجرت کر جائیں ۔۔۔

یاد رکھیں! اگر کسی کو آپ کی دی ہوئی عزت ، محبت اور آپ کا دیا ہوا مقام راس نہیں آرہا تو آپ اپنا وقار و ظرف مت کھوئیں ، بس خاموشی سے منظر نامے سے ہٹ جائیں ، کہانی سے خود کو الگ کر لیجئے ، یہی زندگی ھے.🥀🥀🥀🥀🥀

ایک استانی کہتی ہیں، "میں کلاس میں داخل ہوئی اور پیچھے سے دروازہ بند کر لیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ آج اپنا سارا غصہ بچوں پ...
05/03/2025

ایک استانی کہتی ہیں، "میں کلاس میں داخل ہوئی اور پیچھے سے دروازہ بند کر لیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ آج اپنا سارا غصہ بچوں پر نکالوں گی۔

واقعی، جس بچے نے ہوم ورک نہیں کیا تھا، اسے پکڑا اور مارا!

ایک بچے کو میز پر سوئے ہوئے پایا، اس کا بازو پکڑا اور کہا: "تمہارا ہوم ورک کہاں ہے؟"

وہ بچہ ڈر کے پیچھے ہٹ گیا اور لرزتے ہوئے بولا بھول گیا ہوں مجھے معاف کر دیں

میں نے اسے پکڑا اور اپنے سارے غصے اور وہ دباؤ، جو میرے شوہر کی وجہ سے تھا، اس پر نکال دیا۔

پھر میں نے ایک بچے کو کھڑا پایا، وہ میرے قریب آیا، میرا دامن کھینچتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ جھک کر اس کی بات سنوں۔

میں غصے سے مڑی، جھکی، اور کہا: "ہاں، بولو، کیا ہے؟"

وہ مسکرا کر بڑی معصومیت سے کہتا ہے:
"کیا ہم کلاس سے باہر بات کر سکتے ہیں؟ یہ بہت ضروری ہے۔"

میں نے اسے بے صبری سے دیکھا اور سوچا کہ ضرور کوئی معمولی بات ہوگی، مثلاً یہ کہ کسی ساتھی نے اس کا پین چوری کر لیا ہوگا۔

لیکن جب میں نے اس کی بات سنی تو میں اس کی ذہانت سے حیرت زدہ رہ گئی۔ اس کے پاس بے شمار تربیتی معلومات تھیں۔

وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: "دیکھیں، ٹیچر، آپ بہت اچھی ہیں، اور ہم سب آپ سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن میرا وہ ساتھی، جسے آپ نے آخر میں مارا، وہ یتیم ہے۔ اور اس کی ماں اسے ہمیشہ مارتی ہے جب وہ کوئی غلطی کرتا ہے۔

وہ اسے غلط طریقے سے تربیت دیتی ہے، اسی لیے وہ اکثر چیزیں بھول جاتا ہے اور ہر چیز سے ڈرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے ساتھ کھیلنے سے بھی ڈرتا ہے، کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ ہم اسے ماریں گے۔

میں اس کا دوست ہوں اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہوں۔ اس نے مجھے بتایا کہ اسے مار کھانا بالکل پسند نہیں۔ اگر آپ اس کا جسم دیکھیں تو آپ کو اس پر مار کے نشانات ملیں گے، جو اس کی ماں نے کیے ہیں۔"

پھر وہ بچے نے کہا:
"کیا آپ ہماری ماں اور مربی بن سکتی ہیں؟ اور براہِ کرم، جب آپ کلاس میں آئیں تو اپنا غصہ اور پریشانی باہر چھوڑ کر آئیں، کیونکہ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔"

میں حیرانی سے اسے دیکھتی ہوں اور کہتی ہوں: "تم اتنے بڑے لوگوں سے کیسے بات کر لیتے ہو؟"

تو وہ جواب دیتا ہے: "میری ماں نے ہمیشہ مجھے اچھا گمان کرنا سکھایا ہے، اور یہ بھی کہا ہے:

‘تمہیں نہیں معلوم کہ سامنے والے کس حالت میں ہیں، اس لیے اپنا غصہ اور پریشانی ایک طرف رکھو اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔
دنیا میں بہت سی تکلیف دہ چیزیں ہیں۔’

انہوں نے یہ بھی کہا:
‘اگر تم کسی کو پریشان دیکھو، تو اس سے معافی مانگو، خواہ تم اس کی تکلیف کے ذمہ دار نہ ہو۔’

پھر وہ مجھے گلے لگاتا ہے اور کہتا ہے:
‘یقیناً آپ کسی وجہ سے ناراض ہیں، اسی لیے آج ہمیں مارا۔
ٹیچر، میں آپ سے معذرت خواہ ہوں، براہِ کرم ناراض نہ ہوں، کیونکہ آپ بہت اچھی ہیں۔’

میں حیرانی کے عالم میں کھڑی تھی، اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں بچی ہوں اور وہ میرا استاد اور مربی ہے۔ کیا آج بھی ایسی تربیت ہوتی ہے؟

اور کیا ایسی مائیں موجود ہیں جو اپنے بچوں کی اس قدر عمدہ تربیت کرتی ہیں؟"

میں نے اس بچے سے کہا: "ٹھیک ہے، میں اسے کیسے مناؤں؟"

تو وہ بولا:
"یہ لیں، چاکلیٹ! وہ اسے پسند کرتا ہے۔ اگر وہ آپ کو معاف کر دے تو اپنے رب سے استغفار کریں اور ‘سبحان اللہ وبحمدہ’ کہیں تاکہ جنت میں آپ کے لیے ایک درخت اگے۔"

میں نے کہا: "جیسے دنیا میں درخت ہیں؟"
وہ بولا: "میری ٹیچر، جنت کے درخت دنیا کے درختوں جیسے نہیں ہوتے۔
میری ماں نے بتایا کہ جنت کے درخت کی پھل بہت نرم، بڑے اور شہد سے بھی زیادہ میٹھے ہوتے ہیں، اور ان میں کوئی بیج نہیں ہوتا۔"

میں نے پوچھا: "انس، کیا میں تمہاری ماں کو کوئی تحفہ دے سکتی ہوں؟"
وہ بولا: "ہاں، مگر وہ ہمیشہ کہتی ہیں کہ ‘انس میرا تحفہ ہے۔’"

میں نے کہا: "واقعی، تم ایک بہت بڑا تحفہ ہو اور بہت پیارے بچے ہو۔"

انس نے کہا: "چلیں، آئیں احمد کو منائیں۔ میرے پاس پانچ روپے ہیں، اس سے چاکلیٹ خرید لیں اور احمد کو دیں، اور کہہ دیں کہ آپ نے اسے اس کے لیے خریدا ہے۔"

میں نے انس سے کہا: "تمہاری ماں واقعی ایک عظیم خاتون ہیں، وہ جنت کی حقدار ہیں۔"

وقت گزرتا گیا۔
"مس ریحام، آپ کیسی ہیں؟"
میں نے مڑ کر دیکھا تو انس تھا، اب ایک جوان لڑکا، عینک پہنے کھڑا تھا اور اس کی ماں اس کے ساتھ تھی، جن کے چہرے پر نور تھا۔

بعد میں انس کی ماں میرے لیے ایک تحفہ لے کر آئیں اور کہا:
"آپ انس کی استاد تھیں، یہ تحفہ میری طرف سے قبول کریں۔
آپ نے جو اچھائی انس کو سکھائی، یقیناً اس میں آپ کا بھی حصہ ہے۔"

میں نے حیرانی سے کہا: "کیسے؟"

وہ بولیں:
"الحمدللہ، میرا بیٹا اب ڈینٹل کالج میں لیکچرر ہے۔"

میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے کہا:
"آپ کا شکریہ، یہ ہدیے تو آپ جیسے لوگوں کے لیے ہیں۔
آپ سمجھتی ہیں کہ آپ نے صرف انس کی تربیت کی؟
حقیقت میں، آپ کی تربیت نے مجھے بھی سدھار دیا۔
آپ کے بیٹے نے مجھے سالوں پہلے ایک سبق دیا، جس نے میری زندگی بدل دی۔
اسی کے باعث میں نے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی، اور میرا ازدواجی رشتہ بھی بہتر ہو گیا۔"

حکمت:
نیک بیوی معاشرے کی جنت بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد ہے۔
اور گھریلو عورت کے کردار کو معمولی نہ سمجھیں، کیونکہ وہ ایک پوری نسل کی مربی ہوتی ہے۔

اگر آپ نے کہانی پڑھ لی ہے تو صرف پڑھ کر نہ جائیں، اپنی پسند کا اظہار کریں اور
"لا إله إلا الله محمد رسول الله"
کا ذکر کریں، کیونکہ یہ ساتوں آسمانوں اور زمین سے زیادہ وزنی ہے۔

یاد دہانی:
نبی ﷺ نے فرمایا:
"صدقہ دینے سے مال کبھی کم نہیں ہوتا۔"

یاد رکھیں، جو کچھ آپ خرچ کریں یا شیئر کریں، اس کا اثر آپ کی زندگی میں برکت، صحت، رزق میں اضافہ، اور دل کی خوشی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔
اس لیے دینے میں کبھی ہچکچائیں نہیں، کیونکہ عطا خیر کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔

Copied

گندم کو آخری پانی لگانے کا صحیح وقت جب آپکی فصل میں دانے میں موجود مادہ کا رنگ دودھیا حالت میں نہ بلکہ سبز گاڑھا ہو تب ت...
04/03/2025

گندم کو آخری پانی لگانے کا صحیح وقت جب آپکی فصل میں دانے میں موجود مادہ کا رنگ دودھیا حالت میں نہ بلکہ سبز گاڑھا ہو تب تک آپ گندم کو پانی لگا سکتے ہیں ۔

آپ نے شاہین کی ناک کو کبھی غور سے دیکھا ہے.؟ اس کی ناک پر ایک کون ہوتی ہے جسے بفیل کہتے ہیں. شاہین بہت تیز رفتار پرندہ ہ...
25/02/2025

آپ نے شاہین کی ناک کو کبھی غور سے دیکھا ہے.؟ اس کی ناک پر ایک کون ہوتی ہے جسے بفیل کہتے ہیں. شاہین بہت تیز رفتار پرندہ ہے. یہ جب شکار پر لپکتا ہے تو اس کی رفتار کچھ کم چار سو کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے. اس رفتار پر ہوا اس کے پھیپھڑے ہی پھاڑ دے. اس لئے قدرت نے اس کی ناک پر یہ کون لگا دی ہے.

آپ تیز رفتار کار بس سے سر باہر نکال لیں تو چہرے پر تیز آتی ہوا میں آپ کا بھی سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے. آپ فوراً اپنا ہاتھ ناک کے سامنے کر دیتے ہیں. یہی سائنس سپرسانک جہازوں کے انجن میں بھی ہوتی ہے. ان کے انجن میں بھی سامنے ایک کون ہوتی ہے. یہی کون اس رفتار اور طاقت کی ضمانت بنتی ہے.

آجکل زندگی کی رفتار بھی بہت تیز ہے. آپ وقت کی اس رفتار میں بہہ گئے تو آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا اور زندگی آپ پر بیت جاتی ہے. اس لئے صبر اور تسلی کی ایک "کون" ہمیں بھی چاہئے ہوتی ہے جو ہمیں ہر وقت یاد دلائے آخر جلدی کیا ہے.؟ جلد بازی کبھی کسی کو منزل پر جلدی نہیں پہنچاتی.

آہستہ چلو تا کہ جلدی پہنچ پاو. اپنے فیصلے اپنی رفتار آہستہ کر دو کیونکہ جب ہم کاموں کو سکون، توجہ اور احتیاط سے کرتے ہیں، تو وہ زیادہ مؤثر اور کم غلطیوں کے ساتھ مکمل ہوتے ہیں۔ یہی ہمارا بفیل بنتا ہے.

Address

پل دنڑ
Vehoa Town

Telephone

+923338168017

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Rahmat traders vehova posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al Rahmat traders vehova:

Share