Asim Hameed Joyia

  • Home
  • Asim Hameed Joyia

Asim Hameed Joyia Asim Hameed Joyia director of Power Next Pvt ltd Solar Company.

یا اللہیومِ عرفہ کے صدقے ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہماری دعاؤں کو قبول فرما، ہمارے دلوں کو سکون عطا فرما اور ہمیں ہمیشہ...
26/05/2026

یا اللہ
یومِ عرفہ کے صدقے ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہماری دعاؤں کو قبول فرما، ہمارے دلوں کو سکون عطا فرما اور ہمیں ہمیشہ اپنی رحمت کے سائے میں رکھ۔
تمام بیماروں کو شفا، پریشان حال لوگوں کو آسانی، اور ہمارے والدین کو صحت و لمبی زندگی عطا فرما۔ آمین 🤲

26/05/2026

اب وہ سختیاں حجاج کرام کو برداشت نہیں کرنی ہوتیں جو پہلے ہمارے باپ دادا کرگئے
سعودیہ نے اس حج کو ڈیجیٹل حج کا نام دیا ہے جیسے ہم رات 10 بجے منیٰ میں پہنچے تو سفید چادر ہمیں نیچے بیچھانے کے لیئے دے دی گئیں
آج ہم نے اگلے دن فجر تک یہاں قیام کرنا ہے
ہر حاجی کو ایک قبر جتنی جگہ مہیا کردی گئی ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ قبر میں زمین بہت سخت ہوگی نہ کوئی تکیہ ہوگا نہ ہی کوئی اے سی

لیکن اس وقت ہم سب کفن کے دو ٹکڑے پہنے ﷲ پاک کی عبادت میں مشغول ہیں کوئی اس وقت تھکا ہارا سو چکا ہے اور کوئی اس وقت ﷲ کے ذکر میں مشغول ہے ۔

احرام کی پابندیاں بہت سخت ہیں ایک چھوٹی سی غلطی آپ پہ دم واجب کروا دیتی ہے ۔

یہاں نہ کوئی امیر ہے نہ ہی غریب سب کے سب نیچے لیٹے ہوئے ہیں ۔

اس حالت کو دیکھ کر ﷲ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ یہ لوگ یہاں کیوں جمع ہوئے ہوئے ہیں تو فرشتے کہتے ہیں کہ یارب کریم آپ کو ہم سے بہتر پتا ہے کہ یہ سب کیوں جمع ہیں
یہ رب کریم تجھے راضی کرنے کے لیئے جمع ہوئے ہیں ۔
تب ﷲ پاک مسکرا کر کہتے ہیں کہ اے فرشتو تم گواہ رہنا میں ان سب سے راضی ہوگیا ۔

ﷲ پاک مجھ سے راضی ہوجائے آمین

— at ‎الطائف الحويه‎.

آج رات ہم منیٰ روانہ ہوجائیں گے لیکن اس سے پہلے ان پانچ دنوں میں کیا کیا کرنا ہے وہ میں حجاج کرام کے لیئے لکھ رہا ہوں کی...
24/05/2026

آج رات ہم منیٰ روانہ ہوجائیں گے لیکن اس سے پہلے ان پانچ دنوں میں کیا کیا کرنا ہے وہ میں حجاج کرام کے لیئے لکھ رہا ہوں کیا پتا کسی کے لیئے آسانی ہوجائے

حج کا آسان اور مکمل طریقہ
8 ذی الحج حج کا پہلا دن (یوم الترویہ)
8 ذی الحج کی صبح غسل یا وضو کر کے، (اگر مکہ مکرمہ میں ہوں تو اپنے ہوٹل سے ہی) احرام پہن لیں۔ دو رکعت نمازِ نفل بحیثیتِ احرام پڑھیں، حج کی نیت کریں اور بلند آواز سے تلبیہ پڑھتے ہوئے مِنیٰ کے لیے روانہ ہوں۔
اگر انتظامی مجبوری یا اسانی کی خاطر خادمِ حجاج آپ کو 7 ذی الحج کی رات یا دن میں ہی مِنیٰ روانہ کر دیں، تو ۷ ذی الحج کو ہی اپنے ہوٹل سے غسل کر کے، احرام پہن کر، دو رکعت پڑھ کر حج کی نیت اور تلبیہ کے ساتھ روانہ ہو جائیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مِنیٰ میں نمازوں کے علاوہ کوئی خاص عمل فرض نہیں ہے۔ خوب آرام کریں، دوسرے حاجیوں کے ساتھ حج کے طریقے پر مذاکرہ کریں، استغفار اور ذکر و اذکار میں وقت گزاریں۔
نمازیں: 8 ذی الحج کو مِنیٰ میں پانچ نمازیں اپنے وقت پر جن کا قیام مکہ میں پندرہ دن سے کم ہو وہ قصر پڑھیں گے اور جن کا قیام پندرہ دن سے زائد ہے وہ مکمل ادا کریں گے
9 ذی الحج: حج کا دوسرا دن (یومِ عرفہ)
9 ذی الحج کے طلوعِ آفتاب کے بعد، تلبیہ اور ذکر و اذکار کرتے ہوئے میدانِ عرفات کے لیے روانہ ہوں۔
اگر انتظامی مجبوریاں ہوں اور آپ کو فجر سے پہلے (رات ہی میں) عرفات پہنچا دیا جائے، تو بھی کوئی حرج نہیں، حج ادا ہو جائے گا۔

ظہر و عصر کی نمازیں: ۹ ذی الحج کو ظہر اور عصر کی نمازیں مسجدِ نمرہ کے امام کی اقتدا میں ملا کر (جمع تقدیم) پڑھنا سنت ہے۔
لیکن وہاں جگہ ملنا بہت مشکل ہوجاتی ہے
اگر آپ مسجدِ نمرہ سے دور اپنے خیموں میں ہوں، تب آپ ظہر کی نماز اس کے وقت میں اور
عصر کی نماز اس کے وقت میں ہی ادا کریں جس کا پندرہ دن سے کم مکہ میں قیام ہوگا وہ سفر والی یعنی قصر ادا کرے۔

میدانِ عرفات کا خاص وظیفہ: زوال کے بعد، قبلہ رخ ہو کر درج ذیل تسبیحات ۱۰۰، ۱۰۰ مرتبہ پڑھنے کی بڑی فضیلت حدیث پاک سے ثابت ہے: چوتھا کلمہ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ (۱۰۰ مرتبہ)
سورہ اخلاص (۱۰۰ مرتبہ)
درود شریف (۱۰۰ مرتبہ)
قبولیتِ دعا کا وقت: زوال سے لے کر غروبِ آفتاب تک کا پورا وقت دعا کا ہے، لیکن خاص طور پر عصر سے مغرب تک کا وقت انتہائی فضیلت اور قبولیت کا ہے۔ اس وقت باوضو، قبلہ رخ کھڑے ہو کر خوب عاجزی سے دعائیں کریں۔ اگر تھک جائیں تو کچھ دیر بیٹھ جائیں، پھر کھڑے ہو کر دعا شروع کر دیں۔
مغفرتِ عامہ: عصر سے مغرب کے درمیان اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے بندوں کی اس قدر کثرت سے مغفرت فرماتے ہیں کہ شیطان مٹی اٹھا کر اپنے سر میں ڈالتا ہے اور کہتا ہے: "ہائے! میری سالہا سال کی محنت ضائع ہو گئی"۔ لہذا خوب توبہ و استغفار کریں۔

مزدلفہ کی طرف روانگی: 9 ذی الحج کو غروبِ آفتاب کے بعد، مغرب کی نماز پڑھے بغیر مزدلفہ کے لیے روانہ ہوں (مِنیٰ سے مزدلفہ تقریباً 5 کلومیٹر ہے)۔ راستے میں مغرب کی نماز ہرگز نہ پڑھیں، اگر پڑھ لی تو مزدلفہ پہنچ کر اس کا اعادہ (دوبارہ پڑھنا) لازم ہوگا۔ اس رات مغرب قضا نہیں ہوتی، چاہے آپ رات ۲ یا ۳ بجے بھی مزدلفہ پہنچیں، نماز ادا ہی شمار ہوگی۔
مزدلفہ پہنچ کر ایک اذان اور ایک ہی اقامت کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر (جمع تاخیر) پڑھی جائیں گی۔ پہلے مغرب کے ۳ فرض، پھر عشاء کے 4 فرض پڑھیں۔
دونوں نمازیں اپنے تمام ارکان (بشمول سلام) کے ساتھ الگ الگ ہی پڑھی جاتی ہیں، بس انہیں ایک ہی وقت میں بغیر کسی طویل وقفے کے مسلسل پڑھا جاتا ہے۔

اس کے بعد مغرب کی سنتیں، پھر عشاء کی سنتیں اور وتر پڑھیں۔
مسافر قصر ادا کریں گے ۔

یہ رات بہت برکت والی ہے۔ نمازوں کے بعد آرام کریں اور اگر ہمت ہو تو رات کے آخری حصے میں تہجد ضرور پڑھیں۔

کنکریاں جمع کرنا: جمرات (شیطانوں) کو مارنے کے لیے مزدلفہ کے میدان سے کم از کم 70 کنکریاں (چنے کے دانے کے برابر) کسی پلاسٹک کی بوتل یا کپڑے کی تھیلی میں جمع کر لیں۔ کنکریاں ضرورت سے تھوڑی زائد جمع کریں تاکہ اگر کچھ گر جائیں تو پاس متبادل موجود ہو۔

10 ذی الحج: حج کا تیسرا دن (یوم النحر)
10 ذی الحج کو مزدلفہ میں نمازِ فجر اور وقوف (دعا) کے بعد، طلوعِ آفتاب سے پہلے یا بعد مِنیٰ کی طرف روانہ ہو جائیں آج صرف ایک (بڑے) شیطان یعنی "جمرہ عقبہ" کو 7 کنکریاں ماری جائیں گی۔
اس کے لیئے وضو
(ضروری) نہیں ہے، البتہ باوضو ہونا مستحب ہے۔ کنکری کا براہِ راست ستون پر لگنا لازمی نہیں ہے، اگر وہ ستون کے گرد بنے ہوئے بڑے حوض (دائرے) کے اندر گر جائے تو کنکری شمار ہو جائے گی۔ پہلی کنکری مارنے کے ساتھ ہی زبان سے تلبیہ پڑھنا بند کر دیں۔
رمی کا مسنون وقت 10 ذی الحج کو طلوعِ آفتاب سے زوال تک ہے۔ زوال سے غروبِ آفتاب تک بغیر کراہت جائز ہے۔ غروب کے بعد رات میں بھی ہجوم یا کمزوری کے باعث رمی کرنا بلا کراہت جائز ہے۔
سنت طریقہ یہ ہے کہ مِنیٰ آپ کے دائیں طرف، خانہ کعبہ بائیں طرف اور جمرہ عقبہ سامنے ہو۔
ایک وقت میں ایک کنکری دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑ کر پھینکیں اور ہر کنکری پر کہیں: بِسْمِ اللہِ، اَللہُ اَکْبَرُ۔ تفصیلی مستحب دعا: بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَرُ، رَجْمًا لِلشَّیْطَانِ وَرِضًا لِلرَّحْمٰنِ، اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَذَنْبًا مَّغْفُوْرًا۔

10 ذی الحج کو درج ذیل تین کام اسی ترتیب سے کرنا : بڑے شیطان (جمرہ عقبہ) کو 7 کنکریاں مارنا۔
قربانی کرنا (حجِ قران اور تمتع کرنے والوں کے لیے شکرانے کی قربانی)۔

بال کٹوانا یا منڈوانا (حلق یا قصر)
(نوٹ: حنفی مسلک کے مطابق ترتیب خراب ہونے کی صورت میں دم لازم آتا ہے، جبکہ دیگر ائمہ کے ہاں دم لازم نہیں ہوتا)۔

احرام کھولنا: بال کٹوانے (حلق یا قصر) کے بعد آپ کا احرام کھل جائے گا اور آپ سلائی والے کپڑے پہن سکتے ہیں۔ اب بیوی کے علاوہ تمام ممنوعہ چیزیں حلال ہو جائیں گی۔

10 ذی الحج کو احرام اتارنے کے بعد مکہ مکرمہ جا کر حج کا فرض طواف (طوافِ زیارت) اور حج کی سعی کر لیں۔ اگر ہجوم یا تھکن کی وجہ سے ۱۰ تاریخ کو نہ کر سکیں تو ۱۱ یا ۱۲ ذی الحج کے غروبِ آفتاب سے پہلے پہلے تک طوافِ زیارت کرنا جائز ہے۔ اگر ۱۲ ذی الحج کے غروب کے بعد کیا تو (حنفی مسلک کے مطابق) دم واجب ہوگا۔ طوافِ زیارت کے بعد بیوی بھی حلال ہو جاتی ہے۔
11 ذی الحج: حج کا چوتھا دن
آج (۱۱ تاریخ کو) تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماری جائیں گی۔ رمی کا وقت زوالِ آفتاب (دوپہر) کے بعد شروع ہوتا ہے اور اگلی صبح صادق تک رہتا ہے۔ (ہجوم سے بچنے کے لیے عصر یا مغرب کے بعد کا وقت زیادہ آسان رہتا ہے)۔
آج کی رمی کی ترتیب: جمرہ اولیٰ (چھوٹا شیطان): پہلے اسے ۷ کنکریاں ماریں، پھر تھوڑا آگے بڑھ کر ایک طرف قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر خوب دعائیں مانگیں۔ یہ قبولیت کا وقت ہے۔
جمرہ وسطیٰ (درمیانی شیطان): پھر اسے 7 کنکریاں ماریں اور اسی طرح ایک طرف ہٹ کر قبلہ رخ ہو کر خوب دعائیں مانگیں۔
جمرہ عقبہ (بڑا شیطان): آخر میں اسے 7 کنکریاں ماریں، لیکن اس کے بعد کھڑے ہو کر دعا نہ مانگیں (کیونکہ نبی کریم ﷺ سے یہاں دعا مانگنا ثابت نہیں)، بلکہ تلبیہ اور ذکر کرتے ہوئے واپس پلٹ جائیں۔

12 ذی الحج: حج کا پانچواں دن
آج کے اعمال: 12 ذی الحج کو بھی بالکل 11 ذی الحج کی طرح زوالِ آفتاب کے بعد تینوں شیطانوں کو اسی ترتیب سے ۷، ۷ کنکریاں ماریں۔

مِنیٰ سے رخصتی: رمی کرنے کے بعد اگر آپ مکہ مکرمہ جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں، آپ کے حج کے ارکان مکمل ہو گئے۔

مِنیٰ سے رخصتی کا وقت 12 تاریخ کے غروبِ آفتاب تک ہے۔ اگر 12 تاریخ کا سورج مِنیٰ ہی میں غروب ہو جائے، تب بھی مکہ جانا جائز ہے، لیکن اگر 13 تاریخ کی صبح صادق مِنیٰ ہی میں ہو گئی، تو اب 13 تاریخ کی رمی کیے بغیر جانا گناہ ہوگا اور 13 کی رمی زوال کے بعد کر کے ہی مکہ روانہ ہونا پڑے گا۔

طوافِ وداع (آخری واجب)
تعارف و وقت: طوافِ وداع مکہ مکرمہ سے اپنے ملک یا مدینہ منورہ رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے

یہ ہر آفاقی (باہر سے آنے والے) حاجی پر واجب ہے۔ اس کا وقت طوافِ زیارت کے بعد ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔

حکم: اگر کوئی حاجی طوافِ زیارت کے بعد کوئی بھی نفلی طواف کر لے تو اس سے بھی طوافِ وداع ادا ہو جاتا ہے، لیکن افضل اور مسنون طریقہ یہی ہے کہ جب آپ مکہ مکرمہ کو بالکل الوداع کہہ رہے ہوں، تو عین رخصتی کے وقت ہی طوافِ وداع کیا جائے، اور اس سے پہلے تک مکہ میں قیام کے دوران کثرت سے نفلی طواف کیے جاتے رہیں۔ (خواتین کے لیے مخصوص ایام کی صورت میں یہ طواف معاف ہے اور ان پر کوئی دم نہیں ہوتا)۔

اللہ تعالیٰ میری کی اس خوبصورت کوشش کو قبول فرمائے اور تمام حجاجِ کرام کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین

اور اگر کچھ مجھ سے غلطی ہوئی ہو تو بتادی
اد

23/05/2026

یہ ویڈیو ایک دفعہ ضرور ملاحظہ فرمائیں
شاید زندگی بدل جائے

زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
23/05/2026

زیادہ سے زیادہ شئیر کریں

لَبَّیْکَ اللّهُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلکَ لاشریکَ ...
23/05/2026

لَبَّیْکَ اللّهُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلکَ لاشریکَ لَکَ لَبَّیْکَ.
یا اللّٰہ ہم سب کو اپنـے گھر حرم شریف کی زیارت نصیب فرما۔ اور جو مسلمان حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں ان کا حج قبول فرما آمین الہی آمین۔۔۔۔۔۔

کیا آپ کسی ایسی چیز کے لیے 48 ڈگری گرمی میں 10 کلومیٹر پیدل چل سکتے ہیں جس پر آپ واقعی یقین رکھتے ہوں؟اس وقت ہزاروں لوگ ...
22/05/2026

کیا آپ کسی ایسی چیز کے لیے 48 ڈگری گرمی میں 10 کلومیٹر پیدل چل سکتے ہیں جس پر آپ واقعی یقین رکھتے ہوں؟

اس وقت ہزاروں لوگ یہی کر رہے ہیں۔

میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔

مکہ مکرمہ میں جمعہ کی صبح ہے۔

درجہ حرارت 45 تک پہنچ رہا ہے، مگر محسوس ہونے والا درجہ حرارت 48 ڈگری تک ہوگا۔

15 ذوالحجہ تک حرم جانے والی تمام بس اور شٹل سروسز بند کر دی گئی ہیں۔

ٹیکسی والے ایک ایسے راستے کے 200 ریال سے زیادہ مانگ رہے ہیں جو عام دنوں میں 20 یا 25 ریال میں 10 منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔

تو حجاج کیا کر رہے ہیں؟

پیدل چل رہے ہیں، ہزاروں لوگ، تپتی ہوئی گرمی میں۔

عصا کے سہارے چلتے عمر رسیدہ افراد۔

مکمل پردے میں خواتین۔

نوجوان جن کی پانی کی بوتلیں آدھے راستے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گی۔

سب ایک ہی سمت میں جا رہے ہیں۔

نہ کوئی شکایت کررہا ہے۔

نہ کوئی واپس مڑ رہا ہے۔

ہر طرف پولیس موجود ہے، ہر گلی، ہر نکڑ پر نسک کارڈ چیک کیے جارہے ہیں۔

انتظامیہ مسلسل ہدایات دے رہی ہے:

پانی پئیں۔ سائے میں رہیں۔
شدید گرمی کے اوقات سے بچیں۔

مگر بہت کم لوگ سن رہے ہیں۔

کیونکہ حرم کی کشش گرمی کی شدت سے زیادہ طاقتور ہے۔

یہ منظر بتاتا ہے کہ جب انسان کسی چیز سے سچی محبت کرتا ہے، اور اس کے مقصد میں کلیرٹی ہوتی ہے، تو اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔

وہ خوشی سے قربانی دیتا ہے۔

وہ تکلیف سے سودے بازی نہیں کرتا۔

وہ 48 ڈگری میں 10 کلومیٹر چلنے کا “کاسٹ بینیفٹ اینالیسس” نہیں کرتا۔

وہ صرف چلتا ہے، یہ سوچے بغیر کہ اس کا کیا حال ہونے والا ہے۔

اب اس کا موازنہ اپنی باقی پچاس ہفتوں کی زندگی سے کیجیے۔

ہم فجر کے لیے 30 منٹ پہلے نہیں اٹھتے کیونکہ ہم “تھکے ہوئے” ہوتے ہیں۔

ہم تین دن کسی زندگی بدل دینے والی ورکشاپ میں نہیں دیتے کیونکہ ہم “بہت مصروف” ہوتے ہیں۔

ہم ایک کتاب نہیں پڑھ پاتے کیونکہ ہمارے پاس “وقت نہیں” ہوتا۔

ہم اپنے قریبی لوگوں سے ایک ضروری اور مشکل گفتگو نہیں کرتے کیونکہ “ابھی صحیح وقت نہیں ہے۔”

مکہ کی گرمی نہیں بدلی۔
لیکن حرم کی محبت نے انسانی رویے کو بدل دیا۔

ہمارے امیر (گروپ لیڈر) نے ایک بہت دانشمندانہ فیصلہ کیا۔

انہوں نے تمام بزرگ افراد سے کہا کہ قریب کی مسجد میں جمعہ پڑھیں یا قصر نماز ادا کریں، حرم نہ جائیں۔

اپنی صحت اور توانائی اصل حج کے دنوں کے لیے بچا کر رکھیں۔

یہی ترجیحات کی درستگی ہے۔

یہ بات سمجھنا کہ اصل امتحان ابھی آگے ہے، اور آپ اس سے پہلے خود کو نہ تھکائیں اور اپنی صحت خراب کرنے کا رسک نہ لیں۔

ہمارے گروپ میں ایک بڑی عمر کے ڈاکٹر صاحب ہیں جو حج قران کررہے ہیں، مستقل احرام کی حالت میں ہیں اور کئی روز سے روزانہ حرم آنا جانا کررہے ہیں، طواف بھی کررہے تھے۔

اب پچھلے دو روز سے ان کی کمر میں شدید تکلیف ہوگئی ہے، کرسی کے بغیر نماز نہیں پڑھ پارہے، چلنے پھرنے میں تکلیف ہورہی ہے، اور آنے والے ایام حج کے لیے پریشان اور فکر مند ہیں۔

اب روزانہ تین چار بار ان کی کمر کی مالش جاری ہے، درد کم کرنے والی دوائیں بھی لے رہے ہیں، ہیٹنگ پیڈ بھی خرید لائے ہیں اور سب ان کے لیے دعا بھی کررہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب سے بات کرتے ہوئے کل میں یہی کہہ رہا تھا کہ اکثر لوگ زندگی میں یہ بات کبھی نہیں سیکھتے۔

وہ اپنی ساری توانائی اور وسائل اُن چیزوں پر خرچ کر دیتے ہیں جو صرف فوری نظر آتی ہیں، پھر جب اصل اہم مرحلہ آتا ہے تو ان کے پاس کچھ باقی نہیں ہوتا۔

وہ فوری کاموں میں خود کو جلا دیتے ہیں، اور اہم ذمہ داریوں کا مرحلہ آنے سے پہلے ہی تھک جاتے ہیں یا گر جاتے ہیں۔

اس وقت حرم کی طرف چلتے یہ حجاج ایک ایسی حقیقت سمجھتے ہیں جو بہت سے پروفیشنلز اور بزنس اونرز نہیں سمجھتے:

“جب منزل واضح ہو جائے، تو تکلیف غیر اہم ہو جاتی ہے۔"

ہمارا مسئلہ کبھی گرمی نہیں تھا۔کبھی رش نہیں تھا۔ کبھی خرچہ نہیں تھا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی عام زندگی میں کوئی ایسی چیز، کوئی ایسا مقصد ہے نہیں جو آپ کو اُس شدت سے اپنی طرف کھینچے، جس شدت سے کعبہ ان لوگوں کو کھینچ رہا ہے۔

سوچیے…

آپ کس چیز کے لیے 48 ڈگری گرمی میں 10 کلومیٹر پیدل چل سکتے ہیں؟

اگر فوراً کوئی جواب ذہن میں نہیں آیا… تو یہی ہمارا اصل مسئلہ ہے۔

یمین الدین احمد
22 مئی 2026ء
بمطابق 5 ذوالحجہ 1447ھ
مکہ مکرمہ سے انسانی رویّوں، مقصد اور زندگی کے سبق شیئر کرتے ہوئے

22/05/2026
ابھی جب ناشتہ کرنے گیا تو یہ بزرگ ملے جب پوچھا کہ آپ کیسے حج کریں گے تو مسکرا کر کہنے لگے کہ میرا بیٹا میرے ساتھ ہے ان ش...
22/05/2026

ابھی جب ناشتہ کرنے گیا تو یہ بزرگ ملے جب پوچھا کہ آپ کیسے حج کریں گے تو مسکرا کر کہنے لگے کہ میرا بیٹا میرے ساتھ ہے ان شاء اللہ آسانی ہوگی ۔
جن جن کے ساتھ بیٹے ہیں وہ خوش ہیں
ہماری بلنڈنگ می کئی بزرگ حجاج پریشان ہیں کیونکہ اب بڑھاپا آچکا ہے اور حج ادا کرنا انتہائی مشکل ہے نہ راستے یاد ہوتے اور نہ ہی فرائض اور سنتیں یاد رہتیں یہ ایک پریشانی کا معاملہ ہے ۔

جب میں باہر نکلا تو مدینہ کے ساتھے بابا عبید اللہ انتہائی پریشان تھے کہ حج کیسے ہوگا مدینہ میں جو جو میرے ساتھ تھے ان میں اکثر بزرگ حضرات کا ریاض جنت کا پرمنٹ بنا دیتا یا ان کو راستہ دیکھا دیتا اس سے ان کی پریشانی ختم ہوجاتی اور مجھے دعائیں بھی ملتیں ۔

اگر ہم چاہیں تو اپنے حج کو حج مبرور بنا سکتے ہیں اس کا طریقہ بالکل آسان ہے
اب کی بار حج پہ کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں آئی ہوئی ہیں جن میں اتنی طاقت ہے کہ وہ الحمد اللہ با آسانی عمرہ اور حج ادا کرسکتے ہیں ۔
اگر ہم چاہیں تو اپنے ساتھ بزرگ حضرات کو جوڑ سکتے ہیں جن کے ساتھ کوئی نہیں ہے
آپ کا ذہن تیز ہے جسم ساتھ دے سکتا ہے تو پلیز ان کا ساتھ لازمی دیں اپنے ذہن سے نکال دیں کہ ﷲ پاک کو آپکے سجدوں کی ضرورت ہے ﷲ پاک تو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آپ کتنے مہربان ہیں
کیا آپ کو کسی کا دکھ نظر آتا ہے ؟ اب کی بار ایک لاکھ انہتر ہزار پاکستانی حجاج کرام ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ہم رابطہ میں ہیں غور کریں کہ کتنے جوان ساتھ ہیں اور کتنے بوڑھے اگر ایک جوان لڑکا یا لڑکی کسی ایک بزرگ خاتون یا مرد کو حج کروانے میں آسانی والا معاملہ کردے تو سوچیں کیا ﷲ آپ سے راضی نہیں ہوگا ؟ میں چیلنج کرتا ہوں سو رکات کی نیت باندھنے کی بجائے کسی ایک کے لیئے آسانی کردیں پھر آپ دعا مانگ کر دیکھ لیں اگر ﷲ راضی نہ ہو آپ کی دعا قبول نہ کرے تو میرا نام بدل دینا

چوبیس تاریخ سے اٹھائیس تاریخ تک موقع آپ کے ہاتھ میں سوچ لینا یہ وقت پھر نہیں آنا
اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں اور حج مبرور کسی کے لیئے آسانی پیدا کرنے سے حاصل ہوسکتا ہے ۔
اگر ہوسکے پیغام دوسروں تک پہنچا دیں ایک بھی نوجوان اس پہ عمل کرلے گا تو بہت کچھ پالے گا ۔

❤❤❤❤

22/05/2026

حاجیوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر مکہ میں ہر طرف اللہ کے مہمان 26 مئی یوم عرفہ کیلئے پرجوش، اللہ اکبر

‏یہ دولت، یہ طاقت، یہ حکومت، یہ جوانی سب فانی ہے۔‏انسان دُنیا سے جب جائے گا تو صرف اپنے اعمال لے کر جائے گا۔ ہمیشہ رہنے ...
21/05/2026

‏یہ دولت، یہ طاقت، یہ حکومت، یہ جوانی سب فانی ہے۔
‏انسان دُنیا سے جب جائے گا تو صرف اپنے اعمال لے کر جائے گا۔ ہمیشہ رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔

Address

عرفات

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asim Hameed Joyia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Business?

Share