01/10/2026
بارہ دن پہلے خواجہ فرید یونیورسٹی کے پروفیسر عقیل الرحمان کے خلاف سوشل میڈیا پہ سکرین شارٹ آئے ہر طرف طوفان برپا ہوگیا کہ
ایک ماتھے پہ محراب اور چہرے پہ سنت رسول ﷺ سجانے والا شخص ایسا ہوسکتا ہے جو ایک لڑکی کو فیل کرنے کی دھمکی دے کر اس کو مکان میں ملنے کا کہہ رہا ہے ۔
پھر کیا ہونا تھا ایک ٹاپک ملا بڑے بڑے ولاگرز نے ان پہ لفظوں کی بوچھاڑ کردی ۔
پولیس آئی گرفتار کرلیا ڈیپارٹمنٹل انکوائری شروع ہوئی ان کا موبائل وٹس ایپ اور لیپ ٹاپ سب فرانزک والے گئے ۔
اس بعد مختلف ٹیمز آئیں انہوں نے ایک ایک سٹوڈنٹ کو باری باری بلایا لیکن کسی نے بھی ان کی کردار کشی نہ کی انہوں نے کہا اگر میرے پاس سے کچھ بھی نکلا تو میں گنہگار ہونگا اور وہی ہوا ان کے موبائل اور لیپ ٹاپ سے کچھ نہ نکلا ۔
ان کی فیملی منہ چھپاتی پھر رہی تھی بچے اپنا دروازہ بند کرکے گھر میں قید ہوگئے رشتہ داروں نے لاتعلقی کردی ۔
سوشل میڈیا پہ گالیاں لوگ دینے لگے ان دنوں مجھے بھی یہ خبر پتا تھی میں کبھی کوئی بھی خبر تب تک نہیں لگاتا جب تک اس کا ثبوت نہیں ملتا یا وکٹم سامنے نہیں آتا ۔
اس لیئے میں خاموش تھا کہ ایک انسان جس کو جانتا تک نہیں اس کے کردار پہ کیسے بات کرسکتا ہوں اور وہی ہوا یہ بیچارے بے گناہ ثابت ہوگئے ۔
اب جب این سی سی آئی اے نے سوشل مڈیا پہ بغیر تصدیق کیئے سکرین شارٹ اپلوڈ کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تو اب معافی نامے سامنے آگئے ۔
جس اکاؤنٹ سے سب کچھ اپلوڈ ہوا وہ فیک آئی جس نے آے آئی سے سب کچھ بنایا وہ ڈیلیٹ کرگیا
اب زرا سوچیں یہ انسان کس کو چہرہ دیکھائے گا اس کو اس چیز کی سزا ملی جو اس نے کام کیا بھی نہیں لوگ حسد اور جیلسی میں کیا کچھ کر جاتے ہیں
میں ان کے حق میں اس لیئے لکھ رہا ہوں کہ لوگوں کو پتا چلنا چاہیئے کہ ویوز کے چکر میں ہم کسی باعزت انسان کی زندگی خراب کر دیتے ہیں کیا آپ اس انسان کی زندگی بحال کرنے میں مدد کریں گے
😓😓😓😔😪