Prudential Management Systems

Prudential Management Systems Management & Legal Consultants:
1. Productivity and efficiency improvement
2. HRM,
3. QMS,
4. Social Compliance, CSR,
5. Process improvement,
6.

Safety & security.
7. Training
D.K. Tanoli Cell # 03002563540 Karachi. We are a team of highly experienced and qualified consultants. Our mission is to enhance capability and productivity of our clients in different sectors and make them able to utilize their resources actively to sustain and grow in competitive business environment.


• Human Resource Management
• Process and System Improve

ment
• Auditing and Evaluation
• ISO 9001 Quality Management Systems
• ISO 14001 Environmental Management Systems
• OH&S (Occupational Health and Safety)
• Labour Laws
• C-TPAT Security (Custom Trade Partnership Against Terrorism)
• SA 8000
• ISO 22000. HACCP (Food Safety Management Systems)
• WRAP (Worldwide Responsible Accredited Production)
• Buyers’ code of conduct (Wal-Mart, JC Penny, Sears, Kohls, etc)

21/03/2026
16/09/2024

پاکستان میں سماجی تحفظ کے چند محکمے ہیں جو نجی شعبے میں کام کرنے والے کارکنوں کے سماجی تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ یہ تین اہم نام ہیں جن میں پہلا ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (EOBI)، دوسرا صوبای سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشنز (Social Security)اور تیسرا ورکرز ویلفیئر فنڈ ہے(WWF)۔ اگرچہ ان محکموں میں سماجی تحفظ کا بہت مثالی نظام ہے لیکن بدقسمتی سے ان محکموں کو حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے آجروں نے بھی نظر انداز کر دیا۔ ان تینوں محکموں کا عملہ سیاسی اور اقربا پروری کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا۔ ان تمام محکموں میں کرپشن کی انتہا ہے۔

یہ اس وقت بہت ضروری ہے کہ آجروں اور ملازمین کی فیڈریشنز ان محکموں سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں اور انہیں حقیقی معنوں میں پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے ورکرز کے حق میں کام کرنے والا بناءیں تاکہ ملک سے غربت اور غیر یقینی حالات کا خاتمہ ہو۔

Sustainable Capacity building session for textile and garment factories at Beach Luxury Karachi.
31/05/2024

Sustainable Capacity building session for textile and garment factories at Beach Luxury Karachi.

Baseline against lean manufacturing requirements under supervision of Kaizen Institute 24th August 2023. Karachi
26/08/2023

Baseline against lean manufacturing requirements under supervision of Kaizen Institute 24th August 2023. Karachi

Labour and environmental compliance due diligence training program 23 august 2023
26/08/2023

Labour and environmental compliance due diligence training program 23 august 2023

Training on quality tools and problem solving at workplace. 9th August 2023
09/08/2023

Training on quality tools and problem solving at workplace. 9th August 2023

15/05/2023

پاکستان میں ماحولیاتی تباہی کا ذمہ دار کون؟
پاکستان کے تما م بڑے شہروں بلکہ اب تو چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں بھی ماحولیاتی آلودگی عروج پر ہے۔ آلودہ پانی پینے اور غیر معیاری ہوا میں سانس لینے کے وجہ سے شہری طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں اور بہت سی بیماریاں جان لیوا بھی ثابت ہو رہی ہیں۔ زرعی زمینوں پر بلڈرز مافیا بڑی تیزی سے رہائشی کالونیاں تعمیر کررہے ہیں جس سے اناج اور پھلوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ بڑی بڑی صنعتوں، کارخانوں اور ہسپتالوں کا کیمیکل ملا آلودہ پانی نالوں اور ندیوں کے ذریعے صاف پانی کے دریاؤں ، نہروں اور جھیلوںکو آلودہ کرتا ہوا سمندر میں شامل ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ پورے پاکستان میں پینے کے پانی کی ترسیل ندیوں، دریاؤں اور جھیلوں سے کی گئی ہے اور یہ تما م ندیاں، دریا اورجھیلیں اس آلودگی کا شکار ہیں اور پاکستان کی عام عوام یہی غلاظت ملا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے اور قسم قسم کی بیماریوں سے دوچار ہے۔
لاکھوں کی تعداد میں چلنے والی گاڑیوں، بجلی کے جنریٹرز اور صنعتوں سے نکلنے نے والے کاربن کی وجہ سے فضاء میں موجود آکسیجن بھی اب کافی حد تک آلودہ ہو چکی ہے جو کہ پھیپھڑوں کی بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ آبی اور جنگلی حیات بھی ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہو رہی ہے اور مجموعی طور پر ملک پاکستان کی قدرتی خوبصورتی بہت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ آبادی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان تما م مسائل میں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
حکومتی سطح پر پاکستان کے چاروں صوبوں میں ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (EPA)قائم کیے گئے ہیں اور ماحول کی بقاء کے لیے قوانین بھی بنائے گئے اور ان اداروں کو اختیارات بھی دیے گئے ہیں کہ وہ ماحول کے تحفظ کے لیے قوانین پر عمل درآمدکروائیں اور جو لوگ یا صنعتیں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتے ہیں ان کو سزا بھی دیں اور جرمانہ بھی کریں تاکہ لو گ ماحولیاتی تباہی سے باز رہیں۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں ماحول کے تحفظ کی براہ راست ذمہ داری ان ایجنسیوں پر عائد ہوتی ہے مگر یہ ایجنسیاں اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہی ہیں ان ایجنسیوں کے ملازمین رشوت کے عوض بڑے بڑے ماحول دشمن پروجیکٹ کی منظوریاں دے رہے ہیں اور اپنی پسند کی ماحولیاتی لیبارٹریز کو کاروباری لائسنس جاری کر رہے ہیں جن کے ساتھ ان کا ذاتی مفاد جڑا ہوا ہے۔ پورے پاکستان میں بہت سی انڈسٹریز ایسی ہیں جن کا فضلہ او ر مختلف مشینوں کے چلنے سے خارج ہونے والی ماحول دشمن گیسیں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے اداروں کی طرف سے زیادہ تر انڈسٹریز کو ماحولیاتی پروٹیکشن آرڈرز صرف اس لیے ایشو کیے جاتے ہیں کہ ان کو ڈرا کر ان سے پیسے وصول کیے جائیں۔
ماحولیاتی تحفظ کے ان اداروں کی طرف سے عوام کی رہنمائی کے لیے کوئی آگاہی مہم نہیں ہے اور نہ ہی ان کی کوئی ویب سائیٹ موجود ہے کہ عوام کوئی رہنمائی لیں سکیں۔ہر صوبے میں EPA کی ایک ویب سائیٹ ہونا چایئے اور عام عوام اگر ماحول سے متعلق کوئی معلومات لینا چائیں یا کوئی شکایت کرنا چائیں تو اس کے لیے ایک ہلپ لائن نمبر موجود ہونا چایئے۔
آج پاکستان کے تقریباََ تمام دریا آلودہ ہو چکے ہیں ان میں کہیں سے ہسپتالوں کے گندگی شامل ہو رہی ہے، کہیں سے فیکٹریوں کی اور کہیں سے رہائشی کالونیوں کا کچرا شامل ہو رہا ہے۔ رہائشی کالونیوں نے ذرعی زمین برباد کر دی ہے۔ سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں، بجلی کے جنریٹرز اور کارخانوں کی مشنریز سے خارج ہونے والے حد سے بڑے ہوئے کاربن نے آکسیجن کو سانس لینے کے قابل نہیں چھوڑا۔
حکومت وقت کو موجودہ مسائل کا ادراک ہونا چائیے اور جہاں جہاں پر عملے کی طرف سے ماحولیاتی تحفظ میں نااہلی کا مظاہرہ ہورہا اس کا نوٹس لینا چائیے، جہاں مذید قانون سازی کی ضرورت ہے وہاں قانون سازی کرنی چائیے۔ ماحولیاتی تحفظ کے اداروں اور ان کے ذیلی دفاتر میں اہل، قابل اور ایمان دار لوگوں کو بھرتی کرنا چایئے اور ان کے کاموں کے احتساب کا بھی کوئی نظام ہونا چایئے تاکہ یہ ادارے اپنا موثر کردار ادا کریں۔
ہماری طرح باتی دنیا میں بھی ماحولیاتی مسائل ہیں مگر ترقی یافتہ ممالک میں عوام اور حکومت کی شعوری کوششوں کی وجہ سے یہ مسائل قابو میں ہیں۔ ان ممالک میں حکومتوںکے ساتھ ساتھ عام عوام بھی ماحول کی بقا کے لیے سنجیدگی سے کا م کر رہی ہے۔ہماری عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چایئے اور ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے اپنا کر دار ادا کرنا چائیے۔

دلاور خان تنولی ایڈوکیٹ

14/04/2023

Most of the brands who are claiming themselves socially & environmentally responsible need to change their audits and factory verification approaches. Social and environmental compliance verification should be more practical and result oriented. Currently, audit/assessments are conducted frequently in the factories but environmental and social conditions remain same after many audits. In this regard, following recommendations can be considered by the brands to achieve sustainable environmental and social objectives.
• The long and hectic audit checklists should be reduced/eliminated so that auditors can give more time on verification activities rather filling out checklists and reporting formats.
• 100% compliant strategy should not be adopted. At the initial stage, factories should be given flexibility to remain open and transparent during audit and compliance verification process.
• Factories should not be marked as failed due to low compliance score. Factories should be given opportunity to improve in social and environmental compliance. Transparency and cooperation can be increased by doing this.
• Compliance scoring/achievement should be linked with orders placement and business enhancement.
• Auditors/verifiers should be enough capable and knowledgeable persons with reasonable relevant educational background and experience.
• Auditing and capacity building activities should be conducted parallel. Training from the brands end should be as important as audits.
• Code of conducts should be country specific to avoid confusions.
Professional are requested to give their valued comments and suggestions for improvement in social and environmental compliance.
Thank you. Dilawar Khan Tanoli

9001, 14001 and 45001 Integrated Management Systems Implementation process
12/09/2022

9001, 14001 and 45001 Integrated Management Systems Implementation process

پاکستان میں ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورتپاکستان میں 1997 سے پہلے ماحولیات سے متعلق کوئی قانون نہیں تھا۔...
06/02/2022

پاکستان میں ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت
پاکستان میں 1997 سے پہلے ماحولیات سے متعلق کوئی قانون نہیں تھا۔1997 میں پہلی دفعہ پاکستان کی مجلس شورہ نے Environmental Protection Act 1997 پاس کیا اور اس کے نتیجے میں ایک فیڈرل ریگولیٹری باڈی Environmental Protection Agency کا قیام عمل میں آیا اور پاکستان کے ہر صوبے میں اس ایجنسی کا ایک آفس قائم کیا گیا اور ہر ایجنسی کو چلانے کے لیے ایک ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا اور ایک کے ساتھ ساتھ کچھ رولز اور ریگولیشنز بھی متعارف کرائے گے۔2013 میں آئین میں اٹھارویں ترمیم کی رو سے صوبائی خود مختاری کی بدولت ماحولیات سے متعلق معملات صوبوں کے پاس چلے گئے اور 2014 میں تقریباّّ ہر صوبے نے اپنے اپنے ایکٹ اور ریگولیشز بنا لیے جو کہ ذیادہ تر فیڈرل قوانین کی نقل ہی ہیں۔ 2013 کے بعدتمام Environmental Protection Agencies صوبائی حکومتوں کے ماتحت چل رہی ہیں۔
موجودہ ماحولیات قوانین ہر طرح سے مکمل تو نہیں ہیں مگر جتنے ہیں ان پربھی عملدرآمد وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہو رہا ہے۔ مختلف کارخانوں، ہسپتالوں اور ملوں کا فضلہ اور کیمیکل ملا پانی نالوں کے ذریعے بہتا ہوا کھیتوں میں جاتا ہے، دریاوں کے پانی کو آلودہ کرتا ہے اور سمندر میں بھی شامل ہو رہا ہے۔ گھریلو اورکارخانوں کا ٹھوس کچرے کے جگہ جگہ پر ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور وقتّّ فوقتّّ اس کو جلا دیا جاتا ہے جو کہ فضائی آلودگی کا سبب بن رہا ہے، دھواں چھوڑنے والی بے شمار گاڑیاں سڑکوں پر چل رہی ہیں جو کہ کاربن میں اضافے کاباعث بن رہی ہیں۔ بے شمار ایسے پروجیکٹس بن رہے ہیں جن کا کوئی Initial Environmental Examination یا Environmental Impact Assessment نہیں کیا جا رہا جن میں مختلف قسم کی کانے اور رہائشی منصوبے شامل ہیں۔Non-biodegradable پلاسٹک کی تھیلیوں کا بے تحاشہ استعمال کیا جا رہا ہے جن کا ماحول کو آلودہ کرنے میں کوئی ثانی نہیں۔ Product Life Cycle Assessment (LCA) کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ماحول کو تباہ و برباد کرنے والی اشیاء جیسا کہ ڈائپرز وغیرہ بے دریغ درآمد کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح کے کئی ماحولیاتی مسائل ہیں جن کی روک تھام کے لیے قانون کو حرکت میں آنے کی ضرروت ہے۔
صوبائی حکومتوں کو چائیے کہ ماحولیاتی مجاز اداروں میں اہلیت کی بنیاد پر پیشہ ور لوگوں کو بھرتی کریں اور علاقائی سطح پر ماحولیاتی دفاتر کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ ماحولیاتی آگاہی میں بھی اضافہ ہو اور ماحول کے خلاف جرائم کی بیخ کنی ہوسکے۔ موجودہ ماحولیاتی قوانین کے تحت مزید ماحولیاتی عدالتیں بھی قائم کی جاسکتی ہیں تا کہ ماحول کی تباہی کا باعث بننے والے عناصر کوسزا دی جا سکے۔
ماحول سے متعلق شکایات کے لیے مراکز قائم کیے جائیں اور عام عوام کو اس کی آگاہی بھی دی جائے۔ ماحول کی بہتری کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کو چائیے کہ وہ کتابی باتوں سے آگے نکل کر عمل طور پر صوبائی حکومتوں سے مل کر ماحولیاتی اداروں کے ملازمین کی پیشہ ورانہ تربیت کریں تاکہ وہ ماحول کے بچاوٗ میں کارآمد ثابت ہو سکیں۔
دلاور خان تنولی
Implementing environmental laws in Pakistan is a matter of urgency.
There was no law on environment in Pakistan before 1997. For the first time in 1997, the Majlis-e-Shura of Pakistan passed the Environmental Protection Act 1997 and as a result a Federal Regulatory Body Environmental Protection Agency was established and offices were set up in each province of Pakistan and a director general was appointed to run each agency and at the same time some rules and regulations were introduced. After 18th constitutional amendments, environmental matters passed to the provinces in 2014, almost every province enacted its own Acts and Regulations, most of which are copies of federal laws.
Since 2013, all Environmental Protection Agencies have been operating under provincial governments.
The current environmental laws are not complete in every way, but even those that are there are not being implemented as per the need of the time. Waste and chemical effluents from various factories, hospitals and mills flow into the fields through drains, polluting river water and entering the Sea. Household and industrial solid waste is piled up in places and from time to time it is incinerated which is causing air pollution. Numerous smoke emitting vehicles are running on the roads which is causing increase in carbon.
Numerous projects are being developed for which no Initial Environmental Examination or Environmental Impact Assessment is being done including various mining and residential projects. Non-biodegradable plastic bags (which great cause of pollution) are being used indiscriminately. There is no concept of Product Life Cycle Assessment (LCA). Environmentally destructive items such as diapers are being imported indiscriminately. There are a number of such environmental issues that need to be addressed by law.
Provincial governments should recruit professionals on the basis of qualifications in environmental protection agencies and set up environmental offices at the regional level to increase environmental awareness and root out crimes against the environment. Under existing environmental laws, more environmental courts could be set up to punish those responsible for environmental degradation.
Environmental grievance centers should be set up and the general public should be made aware of this. International organizations working for the betterment of the environment should go beyond the bibliography and in practice work with the provincial governments to provide professional training to the employees of environmental protection agencies so that they can be effective in protecting the environment.
Dilawar Khan Tanoli
Management & Legal Consultant

ที่อยู่

A-1, 1st Floor, 11-C, South Park Avenue, Phase II
Dha

เว็บไซต์

แจ้งเตือน

รับทราบข่าวสารและโปรโมชั่นของ Prudential Management Systemsผ่านทางอีเมล์ของคุณ เราจะเก็บข้อมูลของคุณเป็นความลับ คุณสามารถกดยกเลิกการติดตามได้ตลอดเวลา

ติดต่อ ธุรกิจของเรา

ส่งข้อความของคุณถึง Prudential Management Systems:

แชร์