ISI Agency executive Lieutenant General Naveed Mukhtar, PA Director General This GOLD MEDAL makes it rank higher than Mossad.

With the lengthiest track record of success, the best know Intelligence so far on the scale of records is ISI. The Inter-Services Intelligence was created as an independent unit in 1948 in order to strengthen the performance of Pakistan’s Military Intelligence during the Indo-Pakistani War of 1947. Its success in achieving its goal without leading to a full scale invasion of Pakistan by the Soviet

s is a feat unmatched by any other through out the intelligence world. KGB, The best of its time, failed to counter ISI and protect Soviet interests in Central Asia. It has had 0 double agents or Defectors through out its history, considering that in light of the whole war campaign it carried out from money earned by selling drugs bought from the very people it was bleeding, The Soviets. It has protected its Nuclear Weapons since formed and it has foiled Indian attempts to attain ultimate supremacy in the South-Asian theatres through internal destabilization of India. It is above All laws in its host country Pakistan ‘A State, with in a State’. Its policies are made ‘outside’ of all other institutions with the exception of The Army. Its personnel have never been caught on camera. Its is believed to have the highest number of agents worldwide, close to 10,000. The most striking thing is that its one of the least funded Intelligence agency out of the top 10 and still the strongest.

16/09/2018

میں وردی میں ملبوس تھا۔۔ میرے چاروں طرف لوگوں کا ہجوم تھا۔ سب کی نگاہیں مجھ پر جمی تھیں مگر میری آنکھوں کو صرف اسکا انتظار تھا۔۔ وہ جو میرے دل کا سکون میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میری روح کا حصہ تھی۔۔۔ میرا پورا وجود سراپہ انتظار تھا۔۔۔ انتظارکی گھڑیاں ختم ھوئیں۔۔۔وہ بھاگتی ہوئی آئی اورچوکھٹ پر آ کر رک گئی۔۔۔۔ اُس کے ہونٹ لرز رھے تھے۔۔۔۔۔ھاتھوں کی کپکپاہٹ بہت واضح تھی۔۔ انہی کپکپاتے ھاتھوں کو اُس نے دل پر رکھا۔۔۔ جیسے دھڑکنوں کو خاموش ھونے کا اشارہ دے رہی ھو۔۔۔ وہ لڑکھڑاتے ھوئے قدم قدم چل کر میرے پاس آئی اور دو زانو ھو کر میرے پاس بیٹھ گئی۔۔۔ میری آنکھوں کی پیاس تو اُسے دیکھ کر کچھ کم ھوئی مگر کان منتظر تھے کہ کب وہ ان میں اپنی آواز کا رس گھولےگی۔۔۔ اُس نے اپنے آنسوں پونچھے اور میری طرف دیکھتے ھوئے بولی "تم نے تو پرسوں آنے کا وعدہ کیا تھا پھر اتنے جلدی کیسے آ گئے۔۔ تم آرمی والے بڑے ظالم ھوتے ھو۔۔ کبھی مہینوں مہینوں اپنی آواز کے لئے ترساتے ھو اور کبھی بنا بتائے ملنے پہنچ جاتے ھو۔۔۔ ” اُس کے ہونٹ مسکرا رہے تھے مگر چہرہ پھر سے آنسووُں سے تر تھا۔۔ میں اُسے کہنا چاہ رھا تھا کہ وہ رونا بند کر دے اُس کے آنسو مجھے تکلیف پہنچا رھے ھیں مگر کہ نہ سکا۔۔۔ سارے ہجوم کی نظریں اُس پر ٹکی تھیں مگر اُسے پرواہ ہی کب تھی۔۔۔وصل کے لمحوں نے اُسے ارد گرد سے بیگانہ کر دیا تھا۔۔ وہ پھر کہنے لگی "تمہیں یاد ہے تم نے کہا تھا کہ تمہاری اور میری دھڑکن ساتھ چلتی ہے۔۔۔ ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ھیں۔۔۔ دیکھو میرا دل کس قدر تیزی سے دھڑک رہا ہے۔۔ میری دھڑکن کتنی تیز رفتار سے چل رھی ھے۔۔ میں دیکھنا چاہتی ھوں کیا تمھارہ دل بھی ایسے ھی دھڑک رہا ھے” دھڑکن سننے کی اُسکی یہ عادت مجھے ہمیشہ سے بہت پسند تھی۔۔۔ مگر اُن لمحوں اور اِن لمحوں میں بہت فرق تھا۔۔ وہ آگہی کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔ اُس نے آگے بڑھ کراپنا ہاتھ میرےسینے پر بائیں جانب رکھا اوراپنا سر میرے سینے پر ٹکاتے ھوئے اپنا کان عین دل کے اُوپر رکھ دیا۔۔۔ کچھ دیر یونہی ساکت سر ٹکائے سننے کی کوشش کرتی رہی۔۔۔ پھر اچانک کرنٹ کی سی تیزی سے دور ہٹی۔۔ اُسکی انکھوں میں بے یقینی تھی اور دکھ اتنی شدت سے ہلکورے لے رہا تھا کہ مجھے خوف تھا اُسے کچھ ھو نہ جائے۔۔ "تم جھوٹے ھو۔۔ تُم وعدہ فراموش ھو۔۔۔” وہ خلق کے بل چلاّئی ” تم نے وعدہ کیا تھا تمھاری دھڑکن میری دھڑکن کے ساتھ چلے گی۔۔ تمھارا دل میرے دل کے ساتھ دھڑکے گا۔۔ پھر کیوں تم نے وعدہ فراموشی کی۔۔۔؟ تم جھوٹے ھو ۔۔ تم وعدہ فراموش ھو۔۔۔” آنسو پوری رفتار سے بہہ رہے تھے۔۔۔ وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ھو گئی۔۔۔ میں نے آخری بار اُسے دیکھا۔۔ وصال کے لمحے آ پہنچے تھے۔۔۔ دو عورتوں نے اُسے سہارہ دے کر اُٹھایا۔۔ جبکہ مجھے چار کندھے سہارہ دئے آخری آرام گاہ کی طرف چل پڑے۔۔۔ جہاں ایک فوجی دستہ مجھے سلامی دے کر اعزاز کے ساتھ دفنانے کو تیار کھڑا تھا۔۔۔ اُس نے مجھے وعدہ فراموش کہا۔۔۔ مگر وہ جان جائے گی کہ ایک وعدہ میں نے اس مُلک سے بھی کیا تھا یہ وردی پہنتے ہوۓ جو میں نے پورا کر دیا۔۔ میں وعدہ فراموش نہیں ھ

🌹.

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ Capt Qadeer 😢 See the personality/grace of officer how he was serving his na...
02/06/2018

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
Capt Qadeer 😢
See the personality/grace of officer how he was serving his nation being part of military intelligence.
میں تمہیں ہر روپ میں نظر آؤں گا کیونکہ میں اپنے ملک کے دفاع کی آخری لکیر ہوں۔۔۔
آئی ایس آئی زندہ باد
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
....

28/04/2018

دلہن بار بار پوچھ رہی تهی ماما میں اچھی لگ رھی ھوں ناں
ماں..ھاں بہت اچھی بہت ہی پیاری
ماما کوئی کمی تو نہیں رہ گئی ھے؟

نہیں کوئی کمی نہیں ماشاءاللہ ...اللہ میری بیٹی کو نظر بد سے بچائے....
بیٹی کے ضبط کے سب بندهن یکدم ٹوٹ گئے اور وہ بلک بلک کر رونے لگی ...ماما آپ نے جیولری کپڑوں اور دوسری چیزوں میں کوئی کمی نہیں چهوڑی لیکن بھائی کی کمی کون پوری کرے گا

نہیں میری جان رونا نہیں تم نے اپنے بھائی کی شہادت سے اک دن پہلے وعدہ کیا تھا کہ تم خوش رھو گی...بهائی سے فون پہ کیا ہوا آخری وعدہ بهول گئی کیا؟
...سوری ماما اسی وعدے کا پاس رکهے ہوئے ہوں جبهی تو زندہ ہوں ورنہ بهائی کے بغیر زندگی ممکن تهی کیا؟
..ماما پلیز ایک کام کریں....... یہ جھومر ھٹا دیں اور بھائی کا تمغہ بسالت سجا دیں پلیز....میرے بهائی میرے جهومر ہیں ناں.............

جانے دلہن کیا کچھ بولتی گئی اور........
میں آنکھوں میں آنسو لیے سوچتا رہی...گمنام سپاھیوں کی بہنیں شادی میں جھومر کی جگہ ان کے تمغے سجاتی ہیں جو انکا فخر انکا غرور ہوتے ہیں....بالکل انکے بھائیوں کی طرح....

ہر بہن کے سر کا تاج ہے بھائی۔۔۔ اللہ ہر بہن کے بھائی کو سلامت رکھے۔۔۔ آمین
....

5th death anniversary of   ..  ...  ...✈✈✈✈  ...
18/03/2018

5th death anniversary of .. ...
...✈✈✈✈
...

  .....
10/01/2018

.....

  ......
26/11/2017

......

  ....
16/11/2017

....

15/10/2017

میں دیکھائی نہیں دیتا، مگر میں ہوں ...!
تمہاری گلی کی نکڑ پہ کبھی رکشہ ڈرائیور بن کر کھڑا تمہارے گھروں کی حفاظت پر معمور ، تو کبھی تمہاری نوجوان اولاد کی حفاظت کے لیے کرکٹ اور ہاکی کے گراونڈز کی باونڈری لائن کے باہر کھڑا تماشائی بن کر میں موجود ہوں، تو کبھی کسی مجذوب کا روپ دھارے تمہارے گھر والوں کی حفاظت کے لیے تمہارے شہر کے بازاروں میں ، تمہیں احساس نہیں ہوتا مگر عین موقع پر تم سے بھیک مانگ کر تمہاری جیب کٹ جانے سے بچا لیتا ہوں ، اور کبھی شہر کے لاری اڈہ پر اخبار بیچتے ہوئے تمہارے اردگرد سے باخبر رہتا ہوں۔ مگر تم مجھ سے بے خبر ہو کر چلتے ہو ...
کسی ہسپتال میں نرسنگ سٹاف کا ممبر بن کر تمہاری جانوں کی حفاظت کرتا ہوں ... تم دیکھتے ہو جب کبھی سگنل پر گاڑی رکتی ہے تو میں بس میں کوئی مرغ دال یا قلفی بیچنے والا بن کر چڑھ دوڑتا ہوں، تم قلفی یا دال خریدتے ہو مگر میں ... میں تمہیں ایک باحفاظت سفر کی ضمانت دے جاتا ہوں ...!

تمہیں پتا ہے جون جولائی کی تپتی اور لو اڑاتی دھوپ میں جب پرندے اپنے گھونسلوں میں چھپ جاتے ہیں میں امرود بیچنے والا بن کر یا پھر کباڑیا بن کر تمہاری گلیوں میں گشت کرتا ہوں۔ تاکہ شہروں کا کباڑا نہ ہو ... یا کیا تم یہ جانتے ہو کہ جنوری کی یخ راتوں میں رات کی تاریکی میں وسل بجاتا تمہاری گلیوں سے گزرنے والا اکثر تمہارے محلے کا چوکیدار نہیں بلکہ تمہارے وطن کا چوکیدار ہوتا ہے ...!

تم جانتے ہو مجھے اپنے وطن کے علاوہ عالم اسلام کی بھی فکر رہتی ہے، کبھی میں ایک مجاہد بن کر وادی کشمیر کی بہنوں کے غموں کا مدوا کرنے پہنچ جاتا ہوں، تو کبھی ایک ہندو یا سکھ بن کر پڑوسی ملک کے وزیراعظم کے پرسنل سیکیورٹی افسر کے فرائض سرانجام دیتا ہوں، تو کبھی انہی کی پارلیمنٹ کا نمائندہ بن کر تمہارے جذبات کے نمائندگی کرتا ہوں ...!

تم مجھے دیکھتے نہیں لیکن، میں کبھی کسی صحافی کا روپ دھار کر اسرائیلی فوجیوں کی مخبریاں کرتا ہوں، تو کبھی فلسطینی مجاہدین کو ٹرینگ دیتا ہوں۔ اور الحمدللہ یہ میرا ہی کارنامہ ہوتا ہے کہ، اسرائیلی پارلیمنٹ میں اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا بلند کروا دیتا ہوں ...!

یہ میں ہی ہوں جو روس کو سہانے خواب دیکھا کر پہلے افغانستان لاتا ہوں ۔ پھر امریکہ سے تعاون لے کر پوری دنیا کو روس کی جارہیت سے پناہ دیتا ہوں، اور یہ میں ہی ہوں جو امریکہ کا دائیاں بازو بن کر امریکہ کو ہی کاٹتا ہوں۔
یہ میری ہی چابک دستی ہے کہ امریکہ 12 سال افغانستان میں ٹکریں مارتا ہے۔ اور خوب سرمایہ تباہ کرتا ہے۔ البتہ اسامہ کا ڈرامہ ایبٹ آباد میں فلاپ کروا دیتا ہوں ...!

یہ میرا ہی کارنامہ ہے کہ خدمت کے نام پر بی ایل اے کے منصوبے کا کاونٹر کر کہ بلوچوں کو منا لیتا ہوں۔ اور بی ایل اے کے بدلے خالصتان جیسی تحریکیں ہندوستان میں مظبوط کر دیتا ہوں ...!

اور تو اور تم یہ بھی نہیں جانتے کہ تمہارا حج میرے بغیر کتنا مشکل ہو جائے ۔ میں حرم کی پہرہ داری پہ کھڑا ہوتا ہوں تاکہ تم اپنے لیے امن کی دعا کر سکو ...!

میں کسی نہ کسی کور میں برما تک پہنچ جاتا ہوں ۔ تاکہ انہیں لڑنا سیکھا سکوں۔ میری لڑائی انڈیا، امریکہ اور اسرائیل سے بھی ہے۔ اور ان کے پالتو کتوں ٹی ٹی پی ، داعش، بی ایل اے جیسے بہت سے دہشت گردوں سے بھی ...!

مجھے ہر جگہ جانا ہوتا ہے۔ مجھے مسلم امہ کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے۔ اور ملت کفر کی ہر سازش پر نظر بھی، میں ملک کی ہر گلی سے لے کر کفر کے ہر ایوان تک موجود ہوں، اور میں ہر وقت مستعد ہوں ...!

مگر ...!
تم نے سوچا کہ میں اتنا کچھ کیوں کرتا ہوں۔ کیونکہ مجھے فکر ہے۔ میں نے عراق اور صومالیہ کا حال دیکھا ہے، میں نے ہیروشیما پر ایٹم گرتے دیکھا ہے۔ میں نے شام اور مصر کا حال دیکھا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میرے مقابل
سی آئی اے ،
بلیک واٹر ،
راء ،
موساد جیسے مہنگے کرائے کے قاتل ہیں۔ جن کا مقصد ہی مجھے اور میرے پاکستان کو ختم کرنا ہے ...!

میں جیتا ہوں اتنے دشمنوں میں، غیروں کی سازشوں میں، اپنوں کی دغابازیوں میں ... یہ سارے دشمن جب مل کر حملہ کرتے ہیں تو کبھی کبھار مجھے زخم لگ جاتے ہیں۔
میں وسائل تھوڑے ہونے کے باعث نہیں پہنچ سکتا اور وہ وسائل کی زیادتی کے باعث کبھی کبھار جیت جاتے ہیں ۔ میں ان کی اس جیت کو ہار میں تو نہیں بدل سکتا ... مگر اپنے رستے زخموں کے باوجود ان پر ایسی ضرب لگا دیتا ہوں کہ ان کی جیت کی خوشی مانند پڑ جائے ...!

تمہیں میری ذیادہ فتوحات میری طرح نظر نہیں آتی ۔ مگر میرے زخموں کو کریدنے تم ہمیشہ پہنچ جاتے ہو ، اتنے دشمنوں کے ہوتے ہوئے میں نے تمہیں برما، شام، فلسطین، کشمیر، صومالیہ ہیروشیما نہیں بننے دیا ...!

میں نے خود پہ زخم کھا کر تمہارے وجود جو آج پروقار بنایا ہے۔
آج تمہیں سی پیک دیا،
عالم اسلام کا سردار بنایا،
تمہیں ایٹمی طاقت بنایا،
کشمیر جہاد کو سہارا دیا،
میں ہی ہوں جس کے دم سے تم آج امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتے ہو۔ نہ صرف بات کر سکتے ہو ۔ بلکہ آنکھیں نکال سکتے ہو ...!

میں نے تمہیں پر امن حرمین الشریفین دیے،
میں نے تمہیں روس کے ٹکڑے دیے،
میں نے تمہیں امریکہ کی سسکیاں سنوائی،
میں تمہیں انڈیا کا رونا دیکھاؤں گا،
اور میں ہی تمہیں بیت المقدس کو یہودی سے آزاد کروا کر دوں گا ...!

میں ہر جگہ ہر روپ میں ہوں،
میں تمہیں ہر جگہ ملوں گا،
میں دنیا کے ہر کونے میں موجود ہوں،
کیونکہ یہ میرا فرض ہے،
میں آئی ایس آئی ہوں،
میں پاکستان ہوں
میں اسلام کا پاسبان ہوں .

always remember us in ur prayers.....

.....

14/12/2015
New spy director
30/09/2014

New spy director

22/09/2014

Lt gen Rizwan Akhtar :new DG ISI

Address

Islamabad
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ISI posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share