16/09/2018
میں وردی میں ملبوس تھا۔۔ میرے چاروں طرف لوگوں کا ہجوم تھا۔ سب کی نگاہیں مجھ پر جمی تھیں مگر میری آنکھوں کو صرف اسکا انتظار تھا۔۔ وہ جو میرے دل کا سکون میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میری روح کا حصہ تھی۔۔۔ میرا پورا وجود سراپہ انتظار تھا۔۔۔ انتظارکی گھڑیاں ختم ھوئیں۔۔۔وہ بھاگتی ہوئی آئی اورچوکھٹ پر آ کر رک گئی۔۔۔۔ اُس کے ہونٹ لرز رھے تھے۔۔۔۔۔ھاتھوں کی کپکپاہٹ بہت واضح تھی۔۔ انہی کپکپاتے ھاتھوں کو اُس نے دل پر رکھا۔۔۔ جیسے دھڑکنوں کو خاموش ھونے کا اشارہ دے رہی ھو۔۔۔ وہ لڑکھڑاتے ھوئے قدم قدم چل کر میرے پاس آئی اور دو زانو ھو کر میرے پاس بیٹھ گئی۔۔۔ میری آنکھوں کی پیاس تو اُسے دیکھ کر کچھ کم ھوئی مگر کان منتظر تھے کہ کب وہ ان میں اپنی آواز کا رس گھولےگی۔۔۔ اُس نے اپنے آنسوں پونچھے اور میری طرف دیکھتے ھوئے بولی "تم نے تو پرسوں آنے کا وعدہ کیا تھا پھر اتنے جلدی کیسے آ گئے۔۔ تم آرمی والے بڑے ظالم ھوتے ھو۔۔ کبھی مہینوں مہینوں اپنی آواز کے لئے ترساتے ھو اور کبھی بنا بتائے ملنے پہنچ جاتے ھو۔۔۔ ” اُس کے ہونٹ مسکرا رہے تھے مگر چہرہ پھر سے آنسووُں سے تر تھا۔۔ میں اُسے کہنا چاہ رھا تھا کہ وہ رونا بند کر دے اُس کے آنسو مجھے تکلیف پہنچا رھے ھیں مگر کہ نہ سکا۔۔۔ سارے ہجوم کی نظریں اُس پر ٹکی تھیں مگر اُسے پرواہ ہی کب تھی۔۔۔وصل کے لمحوں نے اُسے ارد گرد سے بیگانہ کر دیا تھا۔۔ وہ پھر کہنے لگی "تمہیں یاد ہے تم نے کہا تھا کہ تمہاری اور میری دھڑکن ساتھ چلتی ہے۔۔۔ ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ھیں۔۔۔ دیکھو میرا دل کس قدر تیزی سے دھڑک رہا ہے۔۔ میری دھڑکن کتنی تیز رفتار سے چل رھی ھے۔۔ میں دیکھنا چاہتی ھوں کیا تمھارہ دل بھی ایسے ھی دھڑک رہا ھے” دھڑکن سننے کی اُسکی یہ عادت مجھے ہمیشہ سے بہت پسند تھی۔۔۔ مگر اُن لمحوں اور اِن لمحوں میں بہت فرق تھا۔۔ وہ آگہی کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔ اُس نے آگے بڑھ کراپنا ہاتھ میرےسینے پر بائیں جانب رکھا اوراپنا سر میرے سینے پر ٹکاتے ھوئے اپنا کان عین دل کے اُوپر رکھ دیا۔۔۔ کچھ دیر یونہی ساکت سر ٹکائے سننے کی کوشش کرتی رہی۔۔۔ پھر اچانک کرنٹ کی سی تیزی سے دور ہٹی۔۔ اُسکی انکھوں میں بے یقینی تھی اور دکھ اتنی شدت سے ہلکورے لے رہا تھا کہ مجھے خوف تھا اُسے کچھ ھو نہ جائے۔۔ "تم جھوٹے ھو۔۔ تُم وعدہ فراموش ھو۔۔۔” وہ خلق کے بل چلاّئی ” تم نے وعدہ کیا تھا تمھاری دھڑکن میری دھڑکن کے ساتھ چلے گی۔۔ تمھارا دل میرے دل کے ساتھ دھڑکے گا۔۔ پھر کیوں تم نے وعدہ فراموشی کی۔۔۔؟ تم جھوٹے ھو ۔۔ تم وعدہ فراموش ھو۔۔۔” آنسو پوری رفتار سے بہہ رہے تھے۔۔۔ وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ھو گئی۔۔۔ میں نے آخری بار اُسے دیکھا۔۔ وصال کے لمحے آ پہنچے تھے۔۔۔ دو عورتوں نے اُسے سہارہ دے کر اُٹھایا۔۔ جبکہ مجھے چار کندھے سہارہ دئے آخری آرام گاہ کی طرف چل پڑے۔۔۔ جہاں ایک فوجی دستہ مجھے سلامی دے کر اعزاز کے ساتھ دفنانے کو تیار کھڑا تھا۔۔۔ اُس نے مجھے وعدہ فراموش کہا۔۔۔ مگر وہ جان جائے گی کہ ایک وعدہ میں نے اس مُلک سے بھی کیا تھا یہ وردی پہنتے ہوۓ جو میں نے پورا کر دیا۔۔ میں وعدہ فراموش نہیں ھ
🌹.