07/04/2026
آج جو لوگ ہندہ زانی کو پاک دامن یا ماں ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، وہ ذرا اپنی ہی معتبر تاریخی کتابوں کے یہ سیاہ صفحات بھی پڑھ لیں
مشہور مورخ ابنِ ابی الحدید معتزلی اور علامہ زمخشری ربیع الابرار نے نقل کیا ہے کہ ہندہ مکہ کی ان عورتوں میں سے تھی جو اپنے سیاہ کردار کے لیے مشہور تھی اس کے چار بیٹوں کے بارے میں شک کیا جاتا تھا کہ ان کا اصل باپ کون ہے ابو سفیان، مسافر بن ابی عمرو، عمارہ بن ولید یا صباح یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں معاویہ کے نسب پر ہمیشہ سوالیہ نشان رہا
جنگِ احد میں ہندہ نے جو درندگی دکھائی وہ انسانیت کے ماتھے پر کلنک ہے اس نے سید الشہداء حضرت حمزہؑ کا پیٹ چاک کر کے ان کا کلیجہ نکال کر چبایا کیا کوئی مومنہ یا شریف عورت ایسی درندگی کر سکتی ہے نبی ﷺ نے فتحِ مکہ کے دن اسے ہدر الدم جس کا خون مباح ہو قرار دیا تھا وہ تو محض جان بچانے کے لیے ظاہری اسلام لے آئی
جب فتحِ مکہ پر عورتیں بیعت کرنے آئیں اور نبی ﷺ نے شرط رکھی کہ زنا نہیں کرو گی تو ہندہ نے پلٹ کر کہا تھا کیا آزاد عورتیں بھی زنا کرتی ہیں یہ جملہ اس کے اپنے ضمیر کی خلش تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کا ماضی کیا رہا ہے
معاویہ نے اپنی حکومت بچانے کے لیے اپنے باپ ابو سفیان کی بدکاری کو تحفظ دیا اس نے زیاد بن ابیہ جس کا کوئی باپ معلوم نہ تھا کو ابو سفیان کا ناجائز بیٹا تسلیم کر کے اپنا بھائی بنا لیا اسلام میں ناجائز اولاد کو نسب میں شامل کرنا حرام ہے مگر آلِ سفیان کے ہاں حرام ہی سب کچھ تھا
تم اسے رضی اللہ کہتے ہو جس نے اللہ کے پیارے رسول ﷺ کے چچا کا کلیجہ چبایا تمہارا دین کیا اتنا کمزور ہے کہ تمہیں ایک زانیہ اور درندہ صفت عورت میں ماں نظر آتی ہے
کیا نبی ﷺ نے ہندہ کے بارے میں یہ نہیں فرمایا تھا کہ اس کا گوشت جہنم پر حرام نہیں ہو سکتا کیونکہ اس نے حمزہ کا کلیجہ چکھا ہے
کیا معاویہ وہ نہیں ہے جس نے امام حسنؑ کو زہر دلوایا اور یزید جیسے شرابی و زانی کو امت پر مسلط کیا
ہندہ وہ زنا کاری کی جڑ ہے جس سے معاویہ جیسا غاصب اور یزید جیسا قاتلِ حسینؑ پیدا ہوا جو ہندہ کو پاک کہے وہ دراصل کربلا کے مظالم میں برابر کا شریک ہے