انگریزی والا چوہان

انگریزی والا چوہان Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from انگریزی والا چوہان, Business consultant, Dubai.

"Professor of English | Passionate about empowering others to master spoken English | Guiding students in fluency, pronunciation, and confident communication | Unlocking the art of expression through language."

23/05/2026

واش روم تک رسائی نہ ملی تو 15 پر کال، شیخ فاضل پولیس نے "فوری مدد" فراہم کی*
​بورے والا: تھانہ شیخ فاضل کو 15 ایمرجنسی پر ایک دلچسپ کال موصول ہوئی، جس میں کالر رانا (...Z) نے بتایا کہ وہ اڈا شیخ فاضل پر موجود عرفان علوی ناشتہ پوائنٹ پر ہیں مگر انہیں واش روم استعمال نہیں کرنے دیا جا رہا، لہذا فوری پولیس مدد درکار

22/05/2026

آرمی والوں نے نگا کر کے سب کچھ دیکھ بھی لیا اور "Select" بھی نہیں کیا
عزت بھی گئی اور نوکری بھی

13/05/2026

*پاکستانی عوام اور گورنمنٹ کی محبت کی لازوال زندگی پر اک نظر*
🤣

گجرات میں پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ ہر سننے والے کو ہلا کر گیا۔۔۔نادرا آفس میں 45 سالہ شوہر نے اپنی 42 سالہ بیوی کو...
12/05/2026

گجرات میں پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ ہر سننے والے کو ہلا کر گیا۔۔۔
نادرا آفس میں 45 سالہ شوہر نے اپنی 42 سالہ بیوی کو گو۔لی مارنے کے بعد خود بھی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب دونوں صبح کے وقت دفتر پہنچے اور وہاں اچانک جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔

تفصیلات کے مطابق خاتون امبر نادرا آفس میں ملازمت کرتی تھیں۔ ان کا شوہر روز کی طرح انہیں دفتر چھوڑنے آیا تھا مگر کسی بات پر دونوں میں تلخ کلامی شروع ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ اتنا بڑھا کہ شوہر نے طیش میں آکر پستو۔ل نکالی، پہلے بیوی پر فا۔ئرنگ کی اور پھر خود کو بھی گو۔لی مار لی۔

دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ ان دونوں کا جوان بیٹا بھی اسی دفتر میں ملازم تھا، مگر وہ اُس وقت تک دفتر نہیں پہنچا تھا۔ بعد ازاں بیٹے نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 8 سے 10 دن سے والدین کے درمیان روزانہ جھگڑے ہو رہے تھے، لیکن کسی کو اصل وجہ معلوم نہ ہو سکی۔ نہ والدین نے بچوں کو کچھ بتایا اور نہ ہی گھر والوں کو اندازہ ہو سکا کہ معاملہ اتنا سنگین ہو چکا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق گھر میں کشیدگی ضرور تھی مگر خاندان یا رشتہ داروں کو کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ حالات اس نہج تک پہنچ جائیں گے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ دونوں میاں بیوی بظاہر خوشگوار زندگی گزار رہے تھے، ان کے درمیان کبھی بڑے اختلافات کی بات سامنے نہیں آئی۔ لوگ ان کی مثالیں دیا کرتے تھے۔

پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آخر وہ کون سی وجہ تھی جس نے ایک بظاہر خوشحال خاندان کو چند لمحوں میں تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ گھریلو تنازعات اگر بروقت حل نہ ہوں تو ان کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

 #پنجاب : چیچہ وطنی کے نواحی چک 39 بارہ ایل میں رکشہ ڈرائیور 34 سالہ عمران اور اس کی بیوی 23 سالہ ثمرین نے مالی پریشانیو...
11/05/2026

#پنجاب : چیچہ وطنی کے نواحی چک 39 بارہ ایل میں رکشہ ڈرائیور 34 سالہ عمران اور اس کی بیوی 23 سالہ ثمرین نے مالی پریشانیوں سے تنگ آکر زہر کھا کر خودکشی کر لی۔ بتایا گیا ہے کہ ڈرائیور عمران رکشہ چلا کر گزر اوقات کرتا تھا لیکن ٹریفک پولیس کی طرف سے بار بار چالان اور جرمانوں سے تنگ آ چکا تھا اور گھر واپس رقم لے کر نہ آتا جس پر میاں بیوی میں جھگڑا ہوتا رہتا تھا، خودکشی سے قبل بھی جھگڑا ہوا اور دونوں نے مل کر اجتماعی خودکشی کر لی، پولیس صدر چیچہ وطنی نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے سپرد کر دیا۔

اپنی ہی شادی والے دن۔ بارات سے چند گھنٹے پہلے  لڑکے نے خود کشی کر لی۔ شادی والے گھر مین ماتم۔ کا سماں۔ مین سوچ رہا ہون، ...
11/05/2026

اپنی ہی شادی والے دن۔ بارات سے چند گھنٹے پہلے لڑکے نے خود کشی کر لی۔ شادی والے گھر مین ماتم۔ کا سماں۔ مین سوچ رہا ہون، اس لڑکی کا کیا قصور تھا۔ جس کی آج شادی تھی اور دولہن بنی بیٹھی دولہے کا انتظار کر رہی تھی۔ ناجانے کتنے خواب ہون گے اس کی آنکھوں مین جو اب ادھورے رہ گۓ۔ ہم ایک ایسے معاشرے مین رہ رہیں ہیں جہان لڑکیوں کا ایسے معملات میں کوئ قصور نا بھی ہو تو بھی اک لمبہ عرصہ انھین اس ذہنی اذیت سے گزرنا پڑتا صرف چند لوگوں کی کم علمی کی وجہ سے۔
الله پاک سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
طلحہ

لاٹھی کے سہارے چلنے والا ایک بوڑھا باپ… آخر اپنے ہی بیٹے کا قاتل کیسے بن گیا؟اپنا اصل سہارا انسان خود کیسے چھین سکتا ہے؟...
11/05/2026

لاٹھی کے سہارے چلنے والا ایک بوڑھا باپ… آخر اپنے ہی بیٹے کا قاتل کیسے بن گیا؟
اپنا اصل سہارا انسان خود کیسے چھین سکتا ہے؟

چک 315 گ ب، ٹوبہ ٹیک سنگھ کی فضا سوگوار ہے۔ گلیاں خاموش ہیں، در و دیوار اداس ہیں اور ہر آنکھ میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر ایک باپ اپنے ہی جگر گوشے کا خون کیسے کر سکتا ہے؟ یہ صرف ایک قتل نہیں، ایک پورے خاندان کے بکھر جانے کی دردناک کہانی ہے۔

وہ ہاتھ جنہوں نے کبھی بیٹے کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا… وہی ہاتھ آج کلہاڑی اٹھا بیٹھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جائیداد کی تقسیم اور گھریلو تنازعات نے عرصے سے اس خاندان کا سکون چھین رکھا تھا۔ رشتوں میں تلخی بڑھتی گئی، دلوں میں فاصلے بڑھتے گئے اور پھر ایک لمحہ ایسا آیا جب غصے نے عقل کو شکست دے دی۔

کہتے ہیں بڑھاپا انسان کو نرم دل بنا دیتا ہے، مگر جب گھروں میں محبت کی جگہ نفرت، برداشت کی جگہ ضد اور احترام کی جگہ لالچ لے لے تو پھر عمر کی سفیدی بھی دل کے اندھیروں کو نہیں روک پاتی۔ نوے سالہ بزرگ کے ہاتھوں اپنے ہی بیٹے کا قتل صرف ایک سانحہ نہیں، ہمارے معاشرے کے بگڑتے رویوں کا خوفناک عکس ہے۔

یہ واقعہ ایک دردناک سوال چھوڑ گیا ہے…
آخر جائیداد کب سے خون کے رشتوں سے زیادہ قیمتی ہو گئی؟
آخر ہمارے گھروں سے برداشت، احترام اور محبت کہاں کھو گئی؟

پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ یقیناً مزید حقائق سامنے آئیں گے، مگر جو نقصان ہو چکا وہ کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ ایک بیٹا قبر میں اتر گیا… ایک باپ سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا… اور ایک خاندان ہمیشہ کے لیے بکھر گیا۔

آج چک 315 گ ب میں ہر شخص افسردہ ہے، کیونکہ یہ سانحہ صرف ایک گھر کا نہیں… پورے معاشرے کے زوال کا نوحہ بن چکا ہے

راولپنڈی کے علاقے چکری روڈ، پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا سان...
11/05/2026

راولپنڈی کے علاقے چکری روڈ، پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا سانحہ ہے۔
سترہ سالہ سید زین شاہ ایک معصوم، محنتی اور بااخلاق نوجوان تھا جس کا تعلق ایک شریف سادات گھرانے سے تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان پر ملازمت کرکے اپنے بوڑھے والدین کا سہارا بنا ہوا تھا۔ جس علاقے میں زین پیدا ہوا اور اس نے سترہ سال گزارے، وہاں کا کوئی ایک فرد بھی یہ گواہی نہیں دے سکتا کہ وہ جھگڑالو، بدتمیز یا شرپسند تھا۔ یہاں تک کہ اس کے والد نے بھی کبھی کسی کے ساتھ اونچی آواز میں بات نہیں کی۔
اطلاعات کے مطابق محض 1300 روپے کے معمولی لین دین کے تنازعے کے بعد سراج محسود نامی شخص اپنے بھائیوں، متعدد افراد اور خواتین کے ہمراہ زین شاہ کے گھر پر حملہ آور ہوا۔ ایف آئی آر کے مطابق پہلے تلخ کلامی ہوئی اور بعد میں معاملہ ختم کر دیا گیا، مگر اس کے باوجود دوبارہ “گلہ” کرنے کے نام پر زین کے گھر جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق وہاں پہنچتے ہی دوبارہ جھگڑا شروع کیا گیا، جس دوران ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
اس کے بعد مشتعل افراد نے زین شاہ کے گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ زین شاہ کو زبردستی گھر سے اٹھا کر لے جایا گیا۔ ذرائع اور ابتدائی رپورٹس کے مطابق زین شاہ پر کئی گھنٹوں تک انسانیت سوز تشدد کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے جسم پر بدترین تشدد کے نشانات سامنے آئے۔ گلے اور بازوؤں پر بلیڈ کے زخم، ٹوٹی ہوئی انگلیاں، جسم کو جلانے کے نشانات، رسیوں سے باندھ کر گھسیٹنے جیسے دل دہلا دینے والے شواہد اس ظلم کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ بعد ازاں مبینہ طور پر اس کی لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے گھر کے باہر پھینک دیا گیا۔
اگر کسی قسم کا تنازع یا جرم موجود بھی تھا تو اس کا فیصلہ صرف اور صرف قانون کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔ کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر جتھوں کی صورت میں حملہ کرے، اغواء، تشدد اور قتل جیسے غیر انسانی اقدامات کرے۔ ایسے واقعات کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض عناصر اس واقعے کو لسانیت اور قومیت کا رنگ دے کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجابی اور پٹھان کے نام پر نفرت پھیلانا، جرگوں اور احتجاج کے ذریعے ریاست

دولہا فوت ہوگیا!!!  باراتی تیار ہو رہے تھے، کوئی پارلر میں تھا, کوئی کپڑے استری کر رہا تھا، کسی کو ناشتہ اور کسی کو گاڑی...
09/05/2026

دولہا فوت ہوگیا!!! باراتی تیار ہو رہے تھے، کوئی پارلر میں تھا, کوئی کپڑے استری کر رہا تھا، کسی کو ناشتہ اور کسی کو گاڑیاں تیار کرنے کی ذمہ داری ملی ہوئی تھی، بینڈ والے اپنے اپنے ساز درست کر رہے تھے، ایک خوشیوں بھرا شور اور رونق شونق چار سو تھی۔ اس دوران مسرت اور شادمانی کو جیسے کسی ڈائن کی نظر کھا گئی۔ دن گنے جاتے تھے جس دن کیلئے وہ دن اتنا اچانک تاریکی میں بدل گیا جیسے کسی گرڈ سٹیشن پہ میزائل گر جائے اور پورا علاقہ تیرگی کی چادر اوڑھ لے۔ ہر کوئی حیران، پریشان، چاک گریبان ایک دوسرے کو رونے کا سبب پوچھنے لگا، خواتین کی چیخوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا، دولہا فوت ہوگیا؟ کیا یہ خبر سچ یے، کیا ہوا؟ اس جواب کی تلاش میں ہر کوئی اشکبار آنکھوں سے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر بھاگ رہا یے۔ بینڈ والے اپنا سامان سمیٹے واپسی کہ راہ لے چکے اور شادی والا گھر عزا خانے میں تبدیل ہوگیا۔ دولہا بڑا قابل بچہ تھا۔ ملتان کی بڑی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم پڑھ کر آیا تھا۔ گھر والوں نے سوچا مستقبل کے اس قانون دان کو ڈگری آنے سے پہلے پیاری سی دلہن لا دی جائے۔ موت برحق ہے ہے مگر کم از کم بارات والے دن ممنوع ہونی چاہئے۔ دولہے کا جنازہ اٹھانا خاندان والوں کیلئے بڑا کٹھن امتحان ہوتا یے۔ امتحان بڑوں بڑوں کی جان لے لیتا یے۔ اس دولہے کو بھی کوئی انجانا امتحان تو درپیش نہیں تھا کہ جان سے گیا. جانے کون سے دکھ اور اندیشے اسلم۔سپرا کی روح کو کھا گئے تھے۔ جس نے پھولوں بھری مسہری پہ سونا تھاسیکڑوں راز سینے میں لئے منوں مٹی تلے جا سویا۔ کچھ بھید تو کھول جاتا

09/05/2026

_الیکٹرک بائیک اور سکوٹی والے ہوشیار رہیں ؛_
_الیکٹرک بائیک خریدتے وقت خریدار کو یہ احتیاط بتائی جاتی ہے کہ ٹرانسفارمر یا بجلی کی ڈی بی کے پاس الیکٹرک بائیک پارک نہیں کرنی۔_
_اللّٰہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ آمین_

Address

Dubai

Telephone

+923143070537

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when انگریزی والا چوہان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to انگریزی والا چوہان:

Share