10/09/2026
پلاسٹک کے کچرے سے نجات پانے اور ماحولیاتی آلودگی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے سائنسدانوں نے پینے کے پانی کو محفوظ کرنے کا ایک بالکل نیا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ لندن کی ایک نجی کمپنی نے 'اوہو' نامی ایسی واٹر پوڈز تیار کی ہیں جنہیں روایتی پلاسٹک کی بوتلوں میں رکھنے کی بجائے ایک خاص قدرتی اور کھانے کے قابل جھلی میں بند کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اب انسان کو پیاس بجھانے کے لیے کسی ڈبے یا بوتل کی ضرورت نہیں رہتی۔
اس حیرت انگیز ایجاد کے پیچھے موجود ٹیکنالوجی دراصل سمندری جڑی بوٹیوں اور پودوں کے قدرتی اجزاء کا استعمال کرتی ہے۔ بھورے رنگ کی کائی سے تیار ہونے والا یہ بیرونی غلاف سو فیصد قدرتی اور کیمیکلز سے پاک ہے، جسے پانی کے ساتھ ہی منہ میں رکھ کر چبایا اور کھایا جا سکتا ہے۔ جیسے ہی کوئی شخص اس لچکدار بلبلے کو منہ میں رکھتا ہے، یہ پٹاخے کی طرح پھٹ کر پیاس بجھا دیتا ہے اور اگر کوئی اس کے بیرونی غلاف کو پھینک بھی دے تو یہ محض چند ہفتوں میں مٹی میں گھل کر غائب ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجی آنے والے وقتوں میں کھیلوں کے مقابلوں اور بڑے تہواروں میں پلاسٹک کی بوتلوں کا نام و نشان مٹا دے گی۔