Pakistani community in Barcelona

Cómo llegar Página web

Pakistani community in Barcelona Información de contacto, mapa y direcciones, formulario de contacto, horario de apertura, servicios, puntuaciones, fotos, videos y anuncios de Pakistani community in Barcelona, Proveedor de servicios de internet, Barcelona.

یہ پیج بارسلونا میں مقیم پاکستانیوں کے باہمی رابطے، معلومات، روزگار، رہائش، قانونی مدد اور مسائل کے حل کے لیے ہے۔ آئیے ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور ایک مضبوط کمیونٹی بنائیں

20/10/2026

Assalamualaikum
Brother ma Spain ke appointment book krta hoo finger print asilo etc.
Kisi ko koi be CITA book kerwana ho muj sy rabta kry +34607032453

19/10/2026

حال ہی میں بارسلونا کے مقامی میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک کلپ نے پاکستانی کمیونٹی کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ویڈیو میں پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے روال کے علاقے میں منشیات کے مبینہ اڈوں پر پاکستانیوں کی اجارہ داری کا الزام لگایا گیا ہے.
جبکہ فینٹانائل جیسی مہلک منشیات کے کاروبار کے حوالے سے بھی بالواسطہ طور پر پاکستانیوں کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے۔
پاکستانی کمیونٹی کے حوالے سے یہ سوال آج نہیں کئی برس پہلے پیدا ہو گیا تھا۔
سنہ 2007 کی بات ہے۔ بارسلونا کے سانتس ڈسٹرکٹ کے ایک ہسپانوی ریسٹورنٹ میں کام کرنے والا ایک پاکستانی نوجوان ایک سینئر پولیس اہلکار کے ساتھ معمول کی گپ شپ میں مصروف تھا۔ بات پوبلے نوء اور پیرالیل کے علاقوں میں بعض پاکستانیوں کی مبینہ منشیات فروشی تک پہنچی۔ تو پولیس اہلکار نے ایک ایسا سوال پوچھا جو بظاہر سادہ تھا، مگر اپنے اندر ایک پورا معاشرتی المیہ لیے ہوئے تھا۔

اس نے پوچھا:
’’منشیات بیچنے والے جب منشیات کے کاروبار سے کمایا گیا پیسہ پاکستان بھیجتے ہیں۔ تو کیا وہاں رشتہ دار اور محلے دار یہ نہیں پوچھتے کہ اتنی دولت کہاں سے آئی؟‘‘

یہ سوال سن کر نوجوان کو اپنے گاؤں سے چند گاؤں دور رہنے والے ایک شخص کا خیال آیا۔ وہ شخص سنہ 2002 میں یورپ آیا تھا۔ چند ہی برسوں میں اس نے چار کنال کی کوٹھی بنوا لی۔ نئی ٹویوٹا جی ایل آئی خرید لی اور علاقے میں کامیابی کی ایک نمایاں مثال بن گیا۔

لوگ اس کی خوش حالی کے قصے سناتے تھے۔ اس کی گاڑی، اس کے مکان اور اس کے گھر والوں کے بدلتے ہوئے رہن سہن کا ذکر ہوتا تھا۔ اس کی ترقی پر رشک کیا جاتا تھا۔ لیکن کسی نے سنجیدگی سے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اتنی مختصر مدت میں دولت کہاں سے آئی؟
آمدنی کا ذریعہ کیا تھا ؟
۔۔۔۔۔۔
وقت گزرتا رہا۔ ماضی بعید و ماضی قریب میںی بارسلونا اور اس کے گرد و نواح میں بعض پاکستانی افراد کی مبینہ منشیات فروشی، مختلف گروہوں کے درمیان پرتشدد واقعات اور ہوائی اڈوں پر منشیات کی برآمدگی سے متعلق خبریں سامنے آتی رہیں۔
اب حال ہی میں بارسلونا میں کمیونٹی کے سماجی کارکنان کی مقامی حکام سے ملاقاتوں کے حوالے سے یہ تشویش بھی سامنے آئی ہے۔ کہ پاکستانیوں کی دوسری نسل کے بعض نوجوان منشیات کے کاروبار میں ملوث ہو رہے ہیں۔

یہ وہ نوجوان ہیں۔ جن میں سے بہت سے سپین میں پیدا ہوئے یا یہیں پلے بڑھے۔ ان کے لیے پاکستان شاید والدین، بزرگوں کے آبائی ملک یا گرمیوں کی چھٹیاں گذارنے والے ملک کا نام ہو۔
جبکہ ان کی روزمرہ زندگی بارسلونا کی گلیوں، سکولوں، کھیل کے میدانوں اور دوستوں کے درمیان گزرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
اس سینئر پولیس اہلکار کے سوال کو تقریباً دو دہائیاں گزر چکی ہیں۔ بارسلونا کی کمیونٹی کا مزاج اور خدوخال بدل گئے ہیں۔ نوجوانوں کی دنیا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک پھیل گئی ہے۔ اور منشیات کے کاروبار کی شکلیں بھی تبدیل ہوئی ہیں۔

لیکن وہ سوال آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے۔
جب ہمارے گھروں میں چاہے پاکستان میں یا سپین میں۔۔۔
جب اچانک دولت آتی ہے۔ جب کوئی نوجوان اپنی عمر اور حالات سے کہیں بڑھ کر خرچ کرنے لگتا ہے۔
جب کوئی شخص محنت کے بغیر کامیابی کا دعویٰ کرتا ہے۔
تو کیا کبھی والدین اس سے پوچھتے ہیں۔ کہ اس سب ریل پیل کے پیچھے کیا حقیقت ہے؟
۔۔۔۔۔
بارسلونا میں مقیم والدین کیلئے ضروری ہے۔ کہ ہم اپنے بچوں کو ذہن نشین کروا دیں۔ کہ، دولت حاصل کرنے کے لیے، ہماری سماجی و اخلاقی حدود و قیود کیا ہیں؟
۔۔۔۔۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بچوں کو بچانے کا کام صرف اس وقت شروع نہیں ہوتا. جب پولیس دروازے پر دستک دے۔ کوئی ویڈیو وائرل ہو یا اخبارات میں خبر شائع ہو۔
اس کا آغاز اس دن ہوتا ہے جب ہم اپنے بچے کو وقت دیتے ہیں۔ اس کی بات غور سے سنتے ہیں۔ اس کی پریشانی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اس کے دوستوں اور مستقبل میں دلچسپی لیتے ہیں اور اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ اس کی قدر اس کی کمائی یا گاڑی سے نہیں۔ اس کے اچھا انسان ہونے سے ہے۔
۔۔۔۔
بارسلونا کی پاکستانی کمیونٹی کو اپنی ساکھ کا دفاع ضرور کرنا چاہیے۔
بعض لاطینی ممالک کی طرح پاکستانی کمیونٹی کو اجتماعی طور پر اس کالے دھندے میں ملوث نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ مقامی معاشرہ و ادارے اسے انفرادی فعل سمجھتے ہیں۔
جوان ہوتی نسل کو منشیات کے عفریت سے بچانا صرف پولیس یا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ یہ کمیونٹی کی مشترکہ ذمہ داری بن چکی ہے۔
ہماری آنے والی نسل کا مستقبل ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے۔
بصورت دیگر منشیات سے آنے والی آسان کمائی کی چمک کا عفریت۔ ۔
آپ کے دروازے پر کھڑا ہے۔
اور ایک ایک کر کے آپ کے بچوں کو نگل جانے کیلئے کمر بستہ ہے۔

19/10/2026
19/10/2026

کاتالونیا۔ سوموار سے شدید بارشوں کا الرٹ۔
۔۔۔ کاتالونیا حکومت نے پیر سے شدید اور بعض مقامات پر موسلادھار بارشوں کے امکان کے پیشِ نظر شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ محکمۂ موسمیات Meteocat اور سول پروٹیکشن نے اورنج الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پیش گوئی کے مطابق بارشوں کا زیادہ اثر وسطی ساحلی علاقوں پر رہے گا۔ جبکہ رات کے دوران طوفانی بارشوں کا رخ جیرونا کی جانب ہونے کا امکان ہے۔ بعض مقامات پر 30 منٹ کے دوران 40 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہو سکتی ہے۔ جبکہ 24 گھنٹوں میں مجموعی بارش 100 ملی میٹر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ سمندر میں 2.5 میٹر سے بلند لہریں اٹھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ بارسلونا اردو سروس ف۔ acn

آخر حرام کمانے والے مغربی ماحول کا ڈھنڈورا پیٹنے کیوں بیٹھ جاتے ہیں؟یہ یورپ ازم کی لہر سے آخر کیا مراد ہے؟چند روز پہلے م...
18/10/2026

آخر حرام کمانے والے مغربی ماحول کا ڈھنڈورا پیٹنے کیوں بیٹھ جاتے ہیں؟

یہ یورپ ازم کی لہر سے آخر کیا مراد ہے؟

چند روز پہلے میں نے ایک پوسٹ چڑھائی جس میں کمیونٹی کے دانشمندوں سے سوال کیا گیا کہ آخر حرام کاروبار ہی کیوں؟ یا اس کے خلاف کوئی آواز کیوں نہیں؟

پوسٹ کے بعد جو تبصرے اور جو یورپ ازم اور لبرل ازم کی ذہنیت کے لوگ(یہ واضح کرتا چلو کہ ان لوگوں کو بھی نہیں پتہ کہ وہ یورپ ازم ہیں، لبرل ازم ہیں یا پھر مسلمان ہیں) اپنا استدلال اس بات سے کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ “آپ پاکستان چلے جاؤ، اسلامی ریاست میں چلے جاؤ” جیسے بارسلونا اسپین ان کے باپ دادا کی جاگیر ہے اور اب وہاں کوئی مسلمان نہیں بچا سب کے سب یورپ ازم کو تسلیم کر چکے ہیں۔ تسلیم کرنے سے مراد یہ کہ ان حضرات کو حرام کھانے کی ایسے لت لگ چکی اور ایسی حرام کمائی کی حوس ان کے دلوں میں اس طرح سے جگہ بنا کے آرام فرما ہے جیسے کسی شخص کا کوما میں چلے جانا۔

یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ خود بھی جانتے ہیں کہ ہم لوگ ایک کام غلط کر رہے ہیں جبکہ اسے حرام قرار دیا گیا اور دو ٹوک الفاظ میں، اس کے باوجود یہ حضرات (جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور حرام کاروبار بھی کرتے ہیں) اتنی بے شرمی کے ساتھ اس بات کوکہتے ہیں کہ اب کیا کریں یہاں کمانے آئے ہیں، یہاں کا قانون کی پاسداری کرنی بھی ضروری ہے۔
یہ حضرات سے میرا سوال ہے کہ بارسلونا اسپین کے قانون کی ایسی کونسی کتاب ہیں جہاں یہ لکھا ہو۔
“بارسلونا اسپین میں شراب بیچنا ہوگی ہر صورت” یا پھر
“بارسلونا اسپین میں حرام کاروبار نا کیا تو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی”
اگر کوئی شخص اس کو ثابت کردے تو مہربانی ہوگی ۔

یہ کچھ نوجوان، دانشمند، یورپ ازم، لبرل اور ایسے چند گندگی کے جراثیم لے کر مسلمان کے لیبل سے جب تک دیکھائی دیتے رہیں ہم ان کے خلاف وقتاً فوقتاً آواز بلند کرتے رہیں گے۔

یاد رکھیں ! جب بات اسلام کی ہوگی تو کوئی کمپرومائز (Compromise) نہیں ہوگا۔

17/10/2026

631690344
بارسلونا میں اگر کسی کو ورکر کی ضرورت ہے تو اس نمبر پر رابطہ کر لیں۔
شکریہ

16/10/2026

کیا بارسلونا میں VTC کے لیے ڈرائیور کی ضرورت ہے؟
Requirements
کیا کیا ہیں؟

Dirección

Barcelona
08011

Notificaciones

Sea el primero en enterarse: le enviaremos un correo electrónico cuando Pakistani community in Barcelona publique novedades y promociones. Su dirección de correo electrónico no se utilizará para ningún otro fin y puede darse de baja en cualquier momento.

Atajos

Compartir