16/10/2026
● آبنائے ہرمز میں ڈوبنے والے جہاز کے بعد سمندر میں تیرتے آئی فونز اور مہنگے پرفیومز کی ویڈیو وائرل
آبنائے ہرمز کے قریب ایک مال بردار جہاز کے ڈوبنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں آئی فونز کے بند ڈبے، مہنگے پرفیومز کے پیکٹ اور دیگر سامان سمندر کی سطح پر تیرتا دکھائی دیتا ہے۔ ویڈیوز میں چھوٹی کشتیوں پر سوار افراد کو پانی سے یہ سامان نکالتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم ان ویڈیوز کی جگہ، وقت اور سامان کے اصل ماخذ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والی اشیا اسی ڈوبنے والے جہاز سے نکلی تھیں۔
● سنگاپور کے پرچم بردار جہاز کو آگ لگنے کے بعد کیا ہوا؟
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنگاپور کے پرچم بردار کنٹینر جہاز جی ایف ایس پرائیڈ (GFS Pride) کو آبنائے ہرمز کے قریب ایک حملے کے بعد نقصان پہنچا اور اس میں آگ لگ گئی، جس کے بعد جہاز بدھ 14 اکتوبر کو ڈوب گیا۔
سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق جہاز پر موجود عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
● جہاز میں کتنے کنٹینر اور کیا سامان تھا؟
رپورٹس کے مطابق جہاز کی گنجائش 2,824 معیاری کنٹینرز تھی، تاہم ڈوبنے کے وقت جہاز پر موجود کنٹینرز کی اصل تعداد اور مکمل سامان کی فہرست عوامی طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ جہاز میں 2,500 سے زیادہ کنٹینرز موجود تھے اور اس کے ڈوبنے کی وجہ بحری بارودی سرنگ تھی۔ بعض میڈیا رپورٹس میں آئی فونز اور مہنگے پرفیومز کو ممکنہ سامان کا حصہ بتایا گیا، لیکن ان اشیا کی جہاز پر موجودگی کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
● جہاز ڈوبنے کی اصل وجہ کیا تھی؟
جہاز کے ڈوبنے کے معاملے پر مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے مطابق جہاز ایک بحری بارودی سرنگ سے ٹکرایا تھا، جبکہ سمندری حکام اور بحری صنعت سے وابستہ ذرائع نے اسے نامعلوم نوعیت کے پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی۔
تاحال دستیاب معلومات سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے باعث ڈوبا یا کسی دوسرے ہتھیار کے حملے سے۔ واقعے کی اصل وجہ سے متعلق مزید شواہد درکار ہیں۔
● آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو بڑھتے خطرات
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے اطراف تجارتی جہازوں پر حملوں اور سمندری نقل و حمل کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی تیل اور گیس کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے یہاں جہازوں کو پہنچنے والا نقصان عالمی تجارت اور سپلائی کے نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
سمندر میں تیرتے قیمتی سامان کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے، لیکن تصدیق شدہ حقائق اور غیر مصدقہ مناظر میں فرق رکھنا ضروری ہے۔ فی الحال جہاز کے ڈوبنے اور عملے کے محفوظ انخلا کی تصدیق موجود ہے، جبکہ وائرل ویڈیوز میں دکھائی دینے والے آئی فونز اور پرفیومز کے اسی جہاز سے تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ماخذ: ایکسپریس نیوز، دی نیشنل، انڈیا ٹوڈے، سنگاپور میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی؛ 14–15 اکتوبر 2026