17/09/2025
شوہر بڑا عقل مند ہے، لوگوں کے مسئلے انگلیوں پہ حل کر دیتا ہے، مگر اُس کی بیوی اُس مسئلہ کو اُس کے سامنے پیش نہیں کر سکتی، جس مسئلہ کی وجہ سے اُس کی جان پہ بنی ہوئی ہے،
بیوی ذہین، فطین اور باصلاحیت ہے مگر اُس کا شوہر اُس مسئلہ کو اپنی بیوی کے سامنے ڈسکس نہیں کر سکتا، جس کی وجہ سے اس کا سکون برباد ہے، دونوں کا اپنے خاص مسئلوں کو روپوش رکهنے کا ایک ہی سبب ہے، وہ ہے "خدشہ" پارسا بیوی کو خدشہ ہے اگر میں نے بتا دیا کہ میرے نمبر پہ کوئی مجهے تنگ کر رہا ہے کہیں میرا شوہر میرا موبائل نہ لے لے، یا میرے باہر نکلنے پہ پابندی نہ عائد کر دے، یا میری ناموس پہ انگلی نہ اُٹها لے،
شوہر کو خدشہ ہے کہ اگر میں نے بیوی کے سامنے اپنا کوئی راز یا موجودہ الجهن بتا دی تو ممکن ہے میں اپنی بیوی کی نگاہوں سے ہمیشہ کے لئے گِر جاوں،
اِس "خدشہ" کا نتیجہ یہ ہوتا ہے، کہ دونوں میاں، بیوی اکثر بهٹک جاتے ییں، اُن کو ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سامنے اپنا دکهڑا بیان کر سکیں، اپنی اُلجهن کی سُلجهن کرا سکیں، جنہوں نے آپس میں متوجہ ہونا تها آپس سے توجہ ہٹ کر دوسری جانب توجہ مبذول ہو جاتی ہے، پهر فریقین کو ایک دوسرا بهاتا نہیں، صلاحتیں نظر نہیں آتیں اور پهر ایک دوسرے کے پاس ہوتے بهی آس پاس "تک" نہیں ہوتے،
ہونا یہ چاہئے تها، ایک دوسرے پہ اعتماد بهرپور ہوتا، تحمل ہوتا، قوتِ رائے کو بروکار لاتے ہوئے اپنی زندگی کے اہم فیصلے خود نمٹاتے، کسی کی کمزوریوں کو زندگی بهر زبان پہ نہ لاتے، بهٹکنے سے بهی محفوظ ہو جاتے، اُجڑنے سے بهی بچ جاتے،
مرد کو عورت کا لباس، اور عورت کو مرد کا لباس جبهی تو کہا گیا کہ ہر ننگ، ہر عیب لباس چهپا لیتا ہے، کاش ہم میں سے ہر مرد و عورت کو خدا کرے سمجه آجائے....!