Muhammad Usman

Muhammad Usman اسلامک پیج اسلامک ویڈیوز اسلامک ڈیٹا اصلاح کی ویڈیوز بیان قول اقوال ۔۔۔�
(1)

شوہر بڑا عقل مند ہے، لوگوں کے مسئلے انگلیوں پہ حل کر دیتا ہے، مگر اُس کی بیوی اُس مسئلہ کو اُس کے سامنے پیش نہیں کر سکتی...
17/09/2025

شوہر بڑا عقل مند ہے، لوگوں کے مسئلے انگلیوں پہ حل کر دیتا ہے، مگر اُس کی بیوی اُس مسئلہ کو اُس کے سامنے پیش نہیں کر سکتی، جس مسئلہ کی وجہ سے اُس کی جان پہ بنی ہوئی ہے،

بیوی ذہین، فطین اور باصلاحیت ہے مگر اُس کا شوہر اُس مسئلہ کو اپنی بیوی کے سامنے ڈسکس نہیں کر سکتا، جس کی وجہ سے اس کا سکون برباد ہے، دونوں کا اپنے خاص مسئلوں کو روپوش رکهنے کا ایک ہی سبب ہے، وہ ہے "خدشہ" پارسا بیوی کو خدشہ ہے اگر میں نے بتا دیا کہ میرے نمبر پہ کوئی مجهے تنگ کر رہا ہے کہیں میرا شوہر میرا موبائل نہ لے لے، یا میرے باہر نکلنے پہ پابندی نہ عائد کر دے، یا میری ناموس پہ انگلی نہ اُٹها لے،

شوہر کو خدشہ ہے کہ اگر میں نے بیوی کے سامنے اپنا کوئی راز یا موجودہ الجهن بتا دی تو ممکن ہے میں اپنی بیوی کی نگاہوں سے ہمیشہ کے لئے گِر جاوں،
اِس "خدشہ" کا نتیجہ یہ ہوتا ہے، کہ دونوں میاں، بیوی اکثر بهٹک جاتے ییں، اُن کو ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سامنے اپنا دکهڑا بیان کر سکیں، اپنی اُلجهن کی سُلجهن کرا سکیں، جنہوں نے آپس میں متوجہ ہونا تها آپس سے توجہ ہٹ کر دوسری جانب توجہ مبذول ہو جاتی ہے، پهر فریقین کو ایک دوسرا بهاتا نہیں، صلاحتیں نظر نہیں آتیں اور پهر ایک دوسرے کے پاس ہوتے بهی آس پاس "تک" نہیں ہوتے،

ہونا یہ چاہئے تها، ایک دوسرے پہ اعتماد بهرپور ہوتا، تحمل ہوتا، قوتِ رائے کو بروکار لاتے ہوئے اپنی زندگی کے اہم فیصلے خود نمٹاتے، کسی کی کمزوریوں کو زندگی بهر زبان پہ نہ لاتے، بهٹکنے سے بهی محفوظ ہو جاتے، اُجڑنے سے بهی بچ جاتے،
مرد کو عورت کا لباس، اور عورت کو مرد کا لباس جبهی تو کہا گیا کہ ہر ننگ، ہر عیب لباس چهپا لیتا ہے، کاش ہم میں سے ہر مرد و عورت کو خدا کرے سمجه آجائے....!

جب بھی ملک پر کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو کچھ لوگ اپنا کام چھوڑ کر مذہب اور اولیاء کرام پر بے جا تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ سی...
29/08/2025

جب بھی ملک پر کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو کچھ لوگ اپنا کام چھوڑ کر مذہب اور اولیاء کرام پر بے جا تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ سیلاب کے دنوں میں بھی بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر اولیاء کرام سچے ہیں تو کرامت دکھا کر سیلاب روک کیوں نہیں دیتے؟ یا مزارات پر پانی کیوں آ گیا ؟

ایسی بات کرنا حقیقت میں لا علمی اور جہالت ہے۔

قرآن پاک میں کرامات کا ذکر موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَـٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ
(سورۃ آلِ عمران 37)
"جب بھی زکریا علیہ السلام ان کے پاس محراب میں جاتے تو وہاں انہیں کھانے پینے کا سامان ملتا۔ وہ پوچھتے اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟ تو وہ جواب دیتیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے۔"

یہ صریح کرامت ہے کہ بی بی مریمؑ کے پاس بے موسم رزق آتا تھا۔
اسی طرح حضرت آصف بن برخیاہؒ کے بارے میں فرمایا:
قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ
(سورۃ النمل 40)
"وہ شخص جس کے پاس کتاب کا تھوڑا سا علم تھا، بولا: میں تخت (بلقیس) آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔"
یہ بھی کرامت ہے جو قرآن نے بیان کی۔
اب حدیث مبارکہ پر غور کریں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اِتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ"
(ترمذی، حدیث 3127)
"مؤمن کی فراست سے بچو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔"
یہ دراصل اولیاء اللہ کے باطنی کمالات اور کرامات کی طرف واضح اشارہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر کرامات حق ہیں تو پھر اولیاء اپنے مزارات یا شہروں کو آفات سے کیوں نہیں بچا لیتے؟
تو میرے بھائی اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ دنیا اللہ کے بنائے ہوئے قوانینِ قدرت کے تحت چل رہی ہے۔ اگر یہ اعتراض درست ہو تو پھر یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ مسجدیں کیوں شہید ہو جاتی ہیں ؟ حالیہ سیلاب میں درجنوں مساجد شہید ہوگئیں اگر کوئی کہے تو میں ویڈیوز پیش کر سکتا ہوں، حالانکہ وہ اللہ کا گھر ہیں۔ حج کے دوران بیت اللہ شریف میں بھی کئی حادثے ہو چکے جن میں سینکڑوں حجاج شہید ہوئے، حالانکہ وہ اللہ کے مہمان تھے۔ کیا کعبہ معظمہ میں سیلاب نہیں آیا ؟
اخبارِ مکہ (مصنف: الفاکہی) میں بیان ہے کہ جب سیلاب نے خانہ کعبہ کو ڈھانپ لیا تو لوگوں نے طواف ترک کر دیا، لیکن حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ نے تیر کر طواف کیا ۔
اسی بات کو ابن ابی الدنیا نے بھی نقل کیا ہے کہ جب سیلاب نے بیت اللہ کو گھیر لیا، تو حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ نے "تیر کر طواف" کیا ۔ غور فرمائیں کہ اتنا سیلاب آیا کہ سب نے طواف ترک کردیا۔
1941ء کے سیلاب کے دوران بھی ایسا واقعہ پیش آیا، جب ایک بحرینی نوجوان علی العوضی (Sheikh Ali Al-Awadi) نے بحرِ طواف یعنی ماءِ طواف کے اندر تیر کر خانہ کعبہ کا طواف کیا۔
تصویر شیئر کرتا ہوں جس میں 12-سال کے علی العوضی کو نصف جسم پانی میں ڈوبا ہوا دکھایا گیا ہے جب وہ طواف کر رہے تھے ۔

اصل بات یہ ہے کہ:

اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، مگر اس نے دنیا کو ایک خاص نظام کے تحت چلانا ہے۔

ولی کبھی اپنے مطالبے پر کرامت نہیں دکھاتا، بلکہ اگر اللہ چاہے تو ان کی دعا قبول فرما کر اپنی قدرت کا اظہار کر دیتا ہے۔
اور یاد رکھیں! کرامت ہمیشہ اللہ کے اذن اور قدرت سے ہوتی ہے، ولی محض وسیلہ ہوتا ہے۔
حضرت سلطان باھوؒ عین الفقر میں فرماتے ہیں:
"ولی کرامت کو اس طرح چھپاتا ہے جس طرح عورت حیض کے کپڑے چھپاتی ہے۔"
یعنی اللہ عزوجل کے ولی کے نزدیک اصل چیز معرفتِ الٰہی ہے، کرامت نہیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ کرامت حق ہے، مگر یہ اللہ کی عطا ہے، نہ کہ ولی کی مرضی۔ اور کسی آفت کے وقت اولیاء کرام پر اعتراض کرنا دراصل قرآن و سنت کے بیان کردہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور نری جہالت ہے۔!!!!

ایک وہ وقت بھی تھا جب "دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا تھا۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب:٭ماس...
27/08/2025

ایک وہ وقت بھی تھا جب "دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا تھا۔

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب:

٭ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے باپ کو نہیں بتاتا تھا۔ اور اگر بتاتا تو باپ اْسے ایک اور تھپڑ رسید کردیتا تھا ۔
٭یہ وہ دور تھا جب ’’اکیڈمی‘‘کا کوئی تصّور نہ تھا اور ٹیوشن پڑھنے والے بچے نکمے شمار ہوتے تھے۔

٭بڑے بھائیوں کے کپڑے چھوٹے بھائیوں کے استعمال میں آتے تھے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔
٭لڑائی کے موقع پر کوئی ہتھیار نہیں نکالتا تھا۔ صرف اتنا کہنا کافی ہوتا ’’ میں تمہارے ابا جی سے شکایت کروں گا۔‘‘ یہ سنتے ہی اکثر مخالف فریق کا خون خشک ہوجاتا تھا۔
٭اْس وقت کے اباجی بھی کمال کے تھے۔ صبح سویرے فجر کے وقت کڑکدار آواز میں سب کو نماز کے لیے اٹھا دیا کرتے تھے۔بے طلب عبادتیں کرنا ہر گھرکا معمول تھا۔

٭کسی گھر میں مہمان آجاتا تو اِردگرد کے ہمسائے حسرت بھری نظروں سے اْس گھر کودیکھنے لگتے اور فرمائشیں کی جاتیں کہ ’’ مہمانوں ‘‘ کو ہمارے گھر بھی لے کرآئیں۔جس گھر میں مہمان آتا تھا وہاں پیٹی میں رکھے فینائل کی خوشبو ملے بستر نکالے جاتے ۔ خوش آمدید اور شعروں کی کڑھائی والے تکئے رکھے جاتے ۔ مہمان کے لیے دھلا ہوا تولیہ لٹکایا جاتااورغسل خانے میں نئے صابن کی ٹکیا رکھی جاتی تھی۔

٭جس دن مہمان نے رخصت ہونا ہوتا تھا۔ سارے گھر والوں کی آنکھوں میں اداسی کے آنسو ہوتے تھے۔ مہمان جاتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کو دس روپے کا نوٹ پکڑانے کی کوشش کرتا تو پورا گھر اس پر احتجاج کرتے ہوئے نوٹ واپس کرنے میں لگ جاتا ۔ تاہم مہمان بہرصورت یہ نوٹ دے کر ہی جاتا۔

٭شادی بیاہوں میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا۔ شادی غمی میں آنے جانے کے لیے ایک جوڑا کپڑوں کا علیحدہ سے رکھا جاتا تھا جو اِسی موقع پر استعمال میں لایا جاتا تھا۔ جس گھر میں شادی ہوتی تھی اْن کے مہمان اکثر محلے کے دیگر گھروں میں ٹھہرائے جاتے تھے۔ محلے کی جس لڑکی کی شادی ہوتی تھی بعد میں پورا محلہ باری باری میاں بیوی کی دعوت کرتا تھا۔

٭کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی۔ کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے۔ سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا۔ سب کے دْکھ ایک جیسے تھے ۔

٭نہ کوئی غریب تھا نہ کوئی امیر ، سب خوشحال تھے۔ کسی کسی گھر میں بلیک اینڈ وہائٹ ٹی وی ہوتا تھا اور سارے محلے کے بچے وہیں جاکر ڈرامے دیکھتے تھے۔

…کاش پھر وہ دن اور زمانہ پھر لوٹ آ جائے "😓😢😥

زندگی کٹھن ہی ہوتی ہے چاہے امیر کی ہو یا غریب کی ، دونوں ہی اس کو بہتر کرنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں اپنی زندگی میں  آ...
12/08/2025

زندگی کٹھن ہی ہوتی ہے چاہے امیر کی ہو یا غریب کی ،

دونوں ہی اس کو بہتر کرنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں اپنی زندگی میں آسانی سے آسانی پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، سکون دونوں ہی نہیں پاتے اپنی جدو جہد کو ادھورا چھوڑ کر دونوں ہی چلتے بنتے ہیں ،

بابا جان کہنے لگے ، کہ وقاص میاں آدمی اپنی پوری زندگی کا مطالعہ کرے تو کوئی کام بھی یہ اپنی مرضی سے نہیں کر پاتا ، یہ بات سن کر مجھے دھچکا لگا کہ بابا جان یہ کیا فرما رہے ہیں بہرحال جواب خود جاننے کی غرض سے میں چلتا بنا ، کہ اس کا جواب مجھے خود سے یا اس جہان سے مل جائے گا ، اسی کشمکش میں ،میں اپنے دوست کہ پاس چلا گیا مجھے اس نے کہا تھا کہ اس وقت تک آجانا میں تمہارے ساتھ کہیں چلوں گا ، میں اس کے کہے گے وقت پر اس کے پاس حاضر ہو گیا ، اس کے پاس پہنچا تو دوست اپنے کام میں مصروف تھا ، جا کے بیٹھ گیا ،بیٹھا رہا ، کافی دیر بیٹھا رہا ، کافی وقت گزر گیا،، پوچھا بھائی کب چلنا ہے ، بولا بس کچھ دیر اور ، تھوڑا وقت اور گزر گیا ، اور بابا جان کی کہی ہوئی بات میری آنکھوں کے سامنے تھی، میں سمجھ گیا تھا، کہ صرف میرا ارادہ معنی نہیں رکھتا ،

کربلا کا آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ کیا ہے ۔ آپ لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ اگر آپ اس وقت ہوتے تو امام عالی مقامؑ کے ...
05/07/2025

کربلا کا آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ کیا ہے ۔ آپ لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ اگر آپ اس وقت ہوتے تو امام عالی مقامؑ کے ساتھ ہوتے یا یزید کے ساتھ ہوتے.

آپ اپنے آپ کو شبِ عاشور امام عالی مقام کے خیمے میں تلاش کرو کیا اُس وقت آپ امامِ عالی مقامؑ کے ساتھ ہوتے
شکر کرو آپ اس وقت موجود نہیں تھے نہیں تو آپ کو آزمائش پڑ جاتی ۔

آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپ ماننے والوں کے قافلے میں رہیں ۔ فقراء کرام یہ کہتے ہیں کہ جب امام عالی مقام کو شہید کیا جا رہا تھا تو شہید کرنے والے یہ کہہ رہے تھے کہ جلدی قتل کرو ۔ ہم نے نماز بھی پڑھنی ہے ۔ ان سے پوچھو کہ تم نماز کس کی پڑھو گے؟ کیا وہ نماز باقی رہ گئی ہے؟ بس آپ اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر بھروسہ رکھو اور جو اللہ کے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو پیارے ہیں ۔ ان کے ساتھ پیار کرو ۔ اپنے گردو پیش محبت پھیلاؤ ۔ اگر پیسے سے کسی کی خدمت کر سکتے ہو تو پیسے دے دو ۔ اگر کچھ نہیں کر سکتے تو میٹھی زبان سے خدمت کر دو ۔ یہ آپ کا دین ہے ۔ جاگنے والا سونے والے سے بہتر ہوتا ہے اور وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے ۔اللہ تعالی آپ پر مہربانی فرمائے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔

"حضرت واصف علی واصف رح"

*وہ لوگ "پڑھے لکھے"  نہیں تھے مگر ان میں انسانیت اور ہمدردی تھی۔ سادہ زندگی کو ترجیح دی اور اچھا وقت گزار کر منوں مٹی تل...
02/07/2025

*وہ لوگ "پڑھے لکھے" نہیں تھے مگر ان میں انسانیت اور ہمدردی تھی۔ سادہ زندگی کو ترجیح دی اور اچھا وقت گزار کر منوں مٹی تلے دفن ہو چکے ہیں.*
ایک وقت ایسا تھا جب ہر گاؤں میں ہر راستے پر تقریباً ہر پیڑ کے نیچے ٹھنڈے پانی کا گھڑا موجود ہوتا تھا
گاوں کے لوگ بھی بہت اچھے ہوتے تھے دوسروں کے لیئے آسانیاں پیدا کرتے اور راہگیروں کے ٹھنڈے پانی کا انتظام کرتے۔
بہت سے درختوں میں مختلف برتنوں میں پانی ڈال کر پرندوں کے لیئے رکھ دیتے تھے۔
آہ کیا ہی سہانا دور تھا !
بظاہر تو یہ ایک مٹی کا گھڑا تھا لیکن اس کے اندر کا پانی کسی فریزر کی ٹھنڈک سے کم نہیں ہوتا تھا۔
اور گاؤں میں نہ ہی کوئ فلٹر لگا ہوتا تھا سب لوگ کنوؤں سے پانی نکالتا اور اسی کو استعمال کرتا اس وقت نہ ہی کوئ بیماری تھی۔
سب لوگ خوشحال زندگی گزارتے تھے اور ایک خوبصورت ماحول دیکھنے کو ملتا تھا۔
لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب کر کوئ مخلص ہوا کرتا تھا بغیر کسی مطلب کے دوسروں کے لیئے آسانیاں پیدا کرنا ان کے کام کاج میں ہاتھ بٹھانا اور ان کی مدد کرنا
اب وقت بدل گیا سہولیات آ گئیں ہم سب پڑھے لکھے بن گئے مگر انسان نہ پائے۔
اب کوئ کسی کے لیئے بغیر مطلب کے کام نہیں کرتا اور اگر کسی کو اپنی طرف آتے دیکھ لے تو اپنا راستہ بدل لیتا ہے۔

وہ لوگ پڑھے لکھے نہیں تھے مگر ان میں انسانیت اور ہمدردی تھی۔ سادہ زندگی کو ترجیح دی اور اچھا وقت گزار کر منوں مٹی تلے دفن ہو چکے ہیں.!!!

01/07/2025

گاہک نے دکان میں داخل ہو کر دکاندار سے پوچھا: کیلوں کا کیا بھاؤ لگایا ہے؟ دکاندار نے جواب دیا: کیلے 12 درہم اور سیب 10 درہم۔

اتنے میں ایک عورت بھی دکان میں داخل ہوئی اور کہا: مجھے ایک کیلو کیلے چاہیئں، کیا بھاؤ ہے؟ دکاندار نے کہا: کیلے 3 درہم اور سیب 2 درہم۔ عورت نے الحمد للہ پڑھا۔

دکان میں پہلے سے موجود گاہک نے کھا جانے والی غضبناک نظروں سے دکاندار کو دیکھا، اس سے پہلے کہ کچھ اول فول کہتا: دکاندار نے گاہک کو آنکھ مارتے ہوئے تھوڑا انتظار کرنے کو کہا۔

عورت خریداری کر کے خوشی خوشی دکان سے نکلتے ہوئے بڑبڑائی: اللہ تیرا شکر ہے، میرے بچے انہیں کھا کر بہت خوش ہونگے۔

عورت کے جانے کے بعد، دکاندار نے پہلے سے موجود گاہک کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا: اللہ گواہ ہے، میں نے تجھے کوئی دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔

یہ عورت چار یتیم بچوں کی ماں ہے۔ کسی سے بھی کسی قسم کی مدد لینے کو تیار نہیں ہے۔ میں نے کئی بار کوشش کی ہے اور ہر بار ناکامی ہوئی ہے۔ اب مجھے یہی طریقہ سوجھا ہے کہ جب کبھی آئے تو اسے کم سے کم دام لگا کو چیز دیدوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا بھرم قائم رہے اور اسے لگے کہ وہ کسی کی محتاج نہیں ہے۔ میں یہ تجارت اللہ کے ساتھ کرتا ہوں اور اسی کی رضا و خوشنودی کا طالب ہوں۔

دکاندار کہنے لگا: یہ عورت ہفتے میں ایک بار آتی ہے۔ اللہ گواہ ہے جس دن یہ آ جائے، اُس دن میری بکری بڑھ جاتی ہے اور اللہ کے غیبی خزانے سے منافع دو چند ہوتا ہے۔

گاہک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اُس نے بڑھ کر دکاندار کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا: بخدا لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں جو لذت ملتی ہے اسے وہی جان سکتا ہے جس نے آزمایا ہو۔

کبھی اپنے بزرگوں کے پاس بیٹھوں تو وہ بتاتے ہیں کہ پرانے زمانے میں جب لائٹ نہیں ہوا کرتی تھی تو رات کو اتنا اندھیرا ہوجات...
30/06/2025

کبھی اپنے بزرگوں کے پاس بیٹھوں تو وہ بتاتے ہیں کہ پرانے زمانے میں جب لائٹ نہیں ہوا کرتی تھی تو رات کو اتنا اندھیرا ہوجاتا تھا کہ اپنے ہاتھ بھی نظر نہیں آتے تھے ۔

تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اندھیرا تو اتنا ہے کہ انسان جس وجود پر جس وجود کے ہونے پر اتنا غرور کرتا ہے اس کوتو وہ اندھیرے میں دیکھ نہیں سکتا ، یہ تو قدرت کی مہربانی ہے کہ سورج چند گھنٹے روشنی دے کر ہمیں اندھیرے میں اس لئے چھوڑ جاتا ہے کہ ہم اپنا دیا جلا سکیں ،اپنی ذات کو دیکھ سکیں اور ہم نے روشنی تو پیدا کی مگر دوسروں کو دیکھنے کے لئے------- اپنی ذات کا ااندھیرا ختم نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔ چراغ دل کا جلاو بہت اندھیرا ہے۔!!!

28/06/2025

امام شافعی کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد کا نام یونس تھا، اس طالب علم کا اپنے استاد امام شافعی سے کسی مسئلہ میں اختلاف ہو گیا، اختلاف رائے دینے کے بعد وہ طالب علم غصے سے اٹھا اور اس دن کلاس ادھوری چھوڑی، اپنا سبق ادھورا چھوڑا اور اپنے گھر چلا گیا !

جب رات ہوئی تو یونس کے دروازے پر دستک ہوئی۔
دستک کی آواز سن کر جب اس نے دروازہ کھولا تو سامنے امام شافعی کھڑے تھے، وہ انھیں رات کے اس پہر اپنے گھر کے باہر دیکھ کر بہت حیران ہوا…

امام شافعی نے فرمایا: "اے یونس! سینکڑوں باتیں ہمیں باہم متحد کرتی ہیں اور صرف ایک مسئلہ ہمیں جدا کرتا ہے۔" ..
اوہ یونس، تمام اختلافات میں اپنے ہم مذہبوں سے جیتنے کی کوشش نہ کریں.. کبھی کبھی "دلوں کو جیتنا"
"مناظرہ اور بحث جیتنے" سے زیادہ اہم ہوتا ہے!

اوہ یونس، ان قیمتی تعلقات کو تباہ نہ کرو جو تم نے دوسروں کے ساتھ خوشگوار لمحات میں بنائے ہیں اور ایک دن تمہیں اپنے ان ساتھیوں کے پاس واپس آنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

میں ہمیشہ "غلطی" سے نفرت کرتا ہوں... لیکن "غلطی کرنے والے" سے نفرت نہیں کرتا۔
اور "معصیت" سے دل سے نفرت کرو... لیکن "گنہگار" کو معاف کر کے اس پر رحم کرو…
اے یونس "کہنے والے کی بات " پر تنقید کرلو مگر "کہنے والے" کی عزت اور اس کا ادب کرو...
ہمارا مشن "بیماریوں " کو ختم کرنا ہے… نہ کہ "بیماروں" کو ختم کرنا۔

کربلا کا واقعہ ہمیں یہ تلخ حقیقت سکھاتا ہے کہ صرف قرآن حفظ کر لینا، نمازوں کی پابندی یا ظاہری دینداری انسان کو “حق پر” ن...
26/06/2025

کربلا کا واقعہ ہمیں یہ تلخ حقیقت سکھاتا ہے کہ صرف قرآن حفظ کر لینا، نمازوں کی پابندی یا ظاہری دینداری انسان کو “حق پر” نہیں بناتی جب تک وہ عدل، سچائی، اور مظلوم کے ساتھ کھڑا نہ ہو۔ یزید کی فوج میں ایسے افراد شامل تھے جو حافظِ قرآن اور نمازی تھے، جیسا کہ “عمرو بن سعد” جس کا ذکر علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں کیا۔ شیخ مفید نے الارشاد میں لکھا کہ کوفہ کے اکثر دین دار لوگ امام حسینؑ کے خلاف صرف اس لیے کھڑے ہوئے کیونکہ ان کے دل دنیا کی لالچ اور یزید کے خوف میں قید تھے۔ ابن جوزی نے تذکرۃ الخواص میں ان کی ظاہری دینداری کو نقاب قرار دیا۔ یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اگر ہم آج بھی عبادات تو کرتے ہیں، مگر ظلم پر خاموش ہیں یا ظالم کی حمایت کرتے ہیں، تو ہم بھی یزیدی لشکر کا حصہ ہیں — چاہے ہم حافظ یا نمازی ہی کیوں نہ ہوں۔ حسینؑ کا پیغام تلوار سے نہیں، کردار سے آیا: باطل کے خلاف آواز، سچائی کا ساتھ، اور ضمیر کی بیداری ہی اصل دین ہے
جب تک:
• ہم حق اور باطل کو پہچان کر صحیح فریق کا ساتھ نہ دیں
• ظالم کے خلاف آواز بلند نہ کریں
• اور مظلوم کا ساتھ نہ دیں

تب تک ہماری دینداری محض دکھاوا بن جاتی ہے۔

ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﺳﺎﺕ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮑﮯ ﻧﺎﻡ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ :1 ۔ ﻧﻔﺲ ﺍﻣﺎﺭﮦ2 ۔ ﻧﻔﺲ ﻟﻮﺍﻣﮧ3 ۔ ﻧﻔﺲ ﻣﻠﮭﻤﮧ4 ۔ ﻧﻔﺲ ﻣﻄﻤﺌﻨﮧ5 ۔ ﻧﻔﺲ ﺭﺍﺿﯿﮧ6 ۔ ﻧﻔﺲ ﻣﺮﺿ...
22/06/2025

ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﺳﺎﺕ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮨﯿﮟ
ﺟﻨﮑﮯ ﻧﺎﻡ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ :
1 ۔ ﻧﻔﺲ ﺍﻣﺎﺭﮦ
2 ۔ ﻧﻔﺲ ﻟﻮﺍﻣﮧ
3 ۔ ﻧﻔﺲ ﻣﻠﮭﻤﮧ
4 ۔ ﻧﻔﺲ ﻣﻄﻤﺌﻨﮧ
5 ۔ ﻧﻔﺲ ﺭﺍﺿﯿﮧ
6 ۔ ﻧﻔﺲ ﻣﺮﺿﯿﮧ
7 ۔ ﻧﻔﺲ ﮐﺎﻣﻠﮧ

* ﻧﻔﺲ ﺍﻣﺎﺭﮦ ﭘﮩﻼ ﻧﻔﺲ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺎﺋﻞﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﺭﻏﺒﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔
ﺭﯾﺎﺿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺎﮨﺪﮦ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﻏﻠﺒﮧ ﮐﻮ ﮐﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟﺐﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﻔﺲ ﺍﻣﺎﺭﮦ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﺍﻣﮧ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺭ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﻮ ﺑﺎﻃﻨﯽ ﻃﻮﺭﭘﺮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ

* ﺟﺐ ﻧﻔﺲ ﻟﻮﺍﻣﮧ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺴﯽﮔﻨﺎﮦ ﯾﺎ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﺎ ﺍﺭﺗﮑﺎﺏ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﻔﺲ ﺍﺳﮯ ﻓﻮﺭﯼﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﺨﺖ ﻣﻼﻣﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﻟﻮﺍﻣﮧ ﯾﻌﻨﯽ
ﺳﺨﺖ ﻣﻼﻣﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﮨﮯ :
ﻭَﻟَﺎ ﺍُﻗْﺴِﻢُ ﺑِﺎﻟﻨَّﻔْﺲِ ﺍﻟﻠَّﻮَّﺍﻣَﺔِ O
’’ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺲ ﻟﻮﺍﻣﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ‘‘
ﺍﻟﻘﻴﺎﻣﺔ، 75 : 2

* ﺗﯿﺴﺮﺍ ﻧﻔﺲ ﻧﻔﺲ ﻣﻠﮩﻤﮧ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﻠﮩﻤﮧ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺍﺧﻠﯽ ﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﻓﯿﺾ ﺳﮯ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﻃﺒﻌﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﮑﯽ ﺍﻭﺭﺗﻘﻮﯼ ﮐﯽ ﺭﻏﺒﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ

* ﭼﻮﺗﮭﺎ ﻧﻔﺲ ﻣﻄﻤﺌﻨﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﺮﯼ
ﺧﺼﻠﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭘﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻟﺖ ﺳﮑﻮﻥ ﻭﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﻧﻔﺲ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺍﻟﻮﮨﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻘﺪﺭ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﮑﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ :
ﻳَﺎ ﺃَﻳَّﺘُﻬَﺎ ﺍﻟﻨَّﻔْﺲُ ﺍﻟْﻤُﻄْﻤَﺌِﻨَّﺔOُ ﺍﺭْﺟِﻌِﻲ ﺇِﻟَﻰ ﺭَﺑِّﻚِ .
’’ ﺍﮮ ﻧﻔﺲ ﻣﻄﻤﺌﻨﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﻮﭦ ﺁ۔‘‘
ﺍﻟﻔﺠﺮ، : 89 27، 28
ﯾﮧ ﻧﻔﺲ ﻣﻄﻤﺌﻨﮧ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻧﻔﺲ ﮨﮯ ﯾﮩﯽ ﻭﻻﯾﺖ ﺻﻐﺮﯼٰ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ
ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
* ﻧﻔﺲ ﺭﺍﺿﯿﮧ،
* ﻣﺮﺿﯿﮧ
* ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻣﻠﮧ
ﯾﮧ ﺳﺐ ﮨﯽ ﻧﻔﺲﻣﻄﻤﺌﻨﮧ ﮐﯽ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺣﺎﻟﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﻨﺪﮦ ﮨﺮ ﺣﺎﻝﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ
ﮨﮯ۔
28 ﺍﺭْﺟِﻌِﻲ ﺇِﻟَﻰ ﺭَﺑِّﻚِ ﺭَﺍﺿِﻴَﺔً ﻣَّﺮْﺿِﻴَّﺔً O
ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭦ ﺁﮐﮧ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﺎﻃﺎﻟﺐ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﻮﺏ ﺑﮭﯽ ‏(ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎﺗﯿﺮﯼ ﻣﻄﻠﻮﺏ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﯼ ﺭﺿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻄﻠﻮﺏ )o

29 ﻓَﺎﺩْﺧُﻠِﻲ ﻓِﻲ ﻋِﺒَﺎﺩِﻱ O
ﭘﺲ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ‏(ﮐﺎﻣﻞ‏) ﺑﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮ ﺟﺎ o

30 ﻭَﺍﺩْﺧُﻠِﻲ ﺟَﻨَّﺘِﻲ O
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﻨﺖِ ‏( ﻗﺮﺑﺖ ﻭ ﺩﯾﺪﺍﺭ ‏) ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﺟﺎ o
ﺍﻟﻔﺠﺮ، : 89 28

Address

Street 1
London
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Usman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Usman:

Share