AM Future Consultant UK

AM Future Consultant UK Study Partners UK provides free independent advice and support to international students applying to

31/12/2024
16/09/2024

‏چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
‏ آنکھیں ہیں کہ بحرین تقدس کے نگین ہیں
‏ ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے
‏ عارِض ہیں کہ “والفجر” کی آیات کے اَمیں ہیں
‏ گیسُو ہیں کہ “وَاللَّیل” کے بکھرے ہوئے سائے
‏ ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں

‏کیا ذہن میں آئے کہ تو اُترا تھا کہاں سے ؟
‏ کیا کوئی بتائے تِری سرحد ہے کہاں تک ؟
‏ پہنچی ہے جہاں پر تِری نعلین کی مٹی
‏ خاکسترِ جبریل بھی پہنچے نہ وہاں تک
‏ سوچیں تو خدائی تِری مرہونِ تصوّر
‏ دیکھیں تو خدائی سے ہر انداز جُدا ہے
‏ یہ کام بشر کا ہے نہ جبریل کے بس میں
‏ تو خود ہی بتا اے میرے مولا کہ تو کیا ہے ؟
‏⁦‪ ‬⁩ 💚💚💚

27/08/2024

Muhammad Izharul Haq

پاکستانی تارکینِ وطن… ایک تجزیہ
پاکستانی تارکینِ وطن کی تین قسمیں ہیں۔ دولت کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس لحاظ سے کہ اپنے کلچر‘ اپنی زبان اور اپنی جڑوں کے حوالے سے ان کا کیا کردار ہے۔
پہلی قسم میں وہ تارکینِ وطن ہیں جو ''ہر چہ بادا باد‘‘ کے قائل ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ان کی آئندہ نسل اپنے آبائی وطن سے‘ اپنی زبان سے یا اپنی تہذیب سے مربوط ہے یا دور ہو رہی ہے۔ یہ بچوں سے انگریزی میں بات کرتے ہیں۔ بچے کیا کر رہے ہیں‘ کہاں جا رہے ہیں‘ کہاں سے آرہے ہیں‘ انہیں اس سے کوئی علاقہ نہیں۔ اس نوع کا کوئی دردِ سر وہ نہیں پالتے۔ زندگی خوش و خرم گزارتے ہیں۔ نوکری یا کاروبار کرتے ہیں۔ اچھا مکان‘ اچھی گاڑی‘ سیرو تفریح‘ سیاحت‘ پارٹیاں‘ یہی ان کی ترجیحات ہیں۔ فخر سے بتاتے ہیں کہ بچہ آکسفورڈ میں ہے یا بیٹی کیمرج میں یا ہاورڈ میں! اگر آپ انہیں کچھ بتانے کی جسارت کریں تو ان کا جواب کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ ترقی کا یہی راستہ ہے۔ ہم پیچھے کی طرف نہیں جا سکتے۔ اپنی دانست میں وہ درست ہیں۔ ایک بار اپنی جڑوں کا خیال دل سے نکال دیں تو موجاں ہی موجاں! زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ کون جھنجھٹ میں پڑے۔ بہاؤ کے ساتھ بہنے میں آسانی ہے۔ زور نہیں لگانا پڑتا! ذہن پر کوئی دباؤ ہے نہ ٹینشن! ایک تقریب میں ایک صاحب نے اپنے صاحبزادے سے ملوایا۔ بیس بائیس برس کے تھے۔ ان سے اردو میں باتیں کی گئیں۔ وہ ہر بات کا جواب انگریزی میں دیتے۔ ان کے والد محترم سے پوچھا کہ بچوں کے ساتھ کون سی زبان بولتے ہیں۔ انہوں نے ایک شانِ بے نیازی سے جواب دیا کہ انگریزی! حالانکہ میاں بیوی خود آپس میں اردو بولتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم ایسے لوگوں کو Vegetable کہنا چاہیے یا نہیں! ایک بار ایک سینئر بیورو کریٹ سے کہا کہ کتنی زیادتی ہے ایوانِ صدر میں چوبدار‘ ویٹر اور بٹلر شیروانی اور پگڑی پہننے پر مجبور ہیں۔ اس کا جواب تھا کہ کیا حرج ہے؟ اچھی تو لگتی ہیں! چنانچہ ضروری نہیں کہ ہر شخص خوبصورت قالین کے نیچے بھی دیکھے!
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنہیں احساس تو ہے مگر عملاً کچھ نہیں کر سکتے۔ ان کی قوتِ ارادی کمزور ہے۔ زندگی گزارنے کے دو راستے ہیں۔ ایک ہے زمانہ با تو نسازد‘ تو با زمانہ بساز۔ کہ زمانہ تمہارے طور اطوار نہیں پسند کرتا تو تم مدافعت نہ کرو بلکہ زمانے کے ساتھ نباہ کرو۔ دوسرا فارمولا اس کے اُلٹ ہے۔ بقول علامہ اقبال:
حدیثِ بے خبراں ہے تو با زمانہ بساز
زمانہ با تو نسازد‘ تو با زمانہ ستیز
(زمانے کی ہاں میں ہاں ملانا بے خبر لوگوں کا وتیرہ ہے۔ زمانہ تمہارے ساتھ موافقت نہیں کرتا تو تم زمانے کا مقابلہ کرو)
لیکن یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ بہاؤ کے ساتھ بہنا آسان ہے اور مخالف سمت تیرنا مشکل! یہ جو قسم ہے تارکینِ وطن کی‘ یہ چاہتے تو ہیں کہ بچے اپنے کلچر سے جڑیں مگر اہتمام اور التزام ان کے بس کی بات نہیں۔ بھاری پتھر کو اٹھانے کی کوشش ہی نہیں کرتے!
تیسری قسم ان باہمت تارکینِ وطن کی ہے جنہوں نے بچوں کو اپنی زبان‘ کلچر اور اپنے وطن سے وابستہ رکھنے کے لیے محنت کی ہے۔ یہ بچوں کے ساتھ گھر میں اردو بولتے ہیں۔ التزام کرتے ہیں کہ بچے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اردو بولیں جو سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ تارکینِ وطن کے جو بچے ماں باپ کے ساتھ اردو بولتے ہیں‘ وہ بھی آپس میں‘ یعنی اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ زیادہ تر انگریزی ہی بولتے ہیں۔ انہیں بار بار کہنا پڑتا ہے اور یاد دلانا پڑتا ہے کہ آپس میں اردو بولیں! تعداد میں بہت کم سہی مگر ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے بچوں کو اردو لکھنا پڑھنا بھی سکھائی ہے۔ یہ بہت بڑا کام ہے۔ اتنا بڑا کہ ایک پوری نسل کو سنبھال لینے والا کام ہے۔ بعض حضرات ایک حوصلہ شکن نکتہ یہ پیش کرتے ہیں کہ اس نسل کو ہم نے اردو بولنا اور لکھنا پڑھنا سکھا بھی دیا تو کیا فائدہ! اس کے بعد کی نسلوں کو کون سکھائے گا! اور یہ کہ آئندہ نسلوں نے تو مقامی رنگ میں ڈھلنا ہی ہے۔ یہ ایک شکست خوردہ‘ گھِسا پٹا پوائنٹ ہے۔ آپ اس نسل پر کام کریں گے تو یہ نسل اپنے سے بعد والی نسل کو خود ہی سنبھال لے گی۔ جو کام آپ کر سکتے ہیں وہ تو کیجیے۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ آپ اپنے حصے کا چراغ جلائیے‘ اس یقین کے ساتھ کہ یہ آخری چراغ نہیں ہو گا۔ ان سطور کا لکھنے والا جب ڈھاکہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا تو ہمارے ساتھ سنگا پور کے ایک صاحب تھے جو ایم بی بی ایس کر رہے تھے۔ (جی ہاں! ایک وقت ایسا بھی تھا کہ سنگاپور اور کئی دوسرے ملکوں کے طلبہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کا رُخ کرتے تھے)۔ ان صاحب کا نام شمس تھا۔ ان کے آباؤ اجداد گوجرانوالہ سے سنگا پور گئے تھے۔ اس وقت ان کے خاندان کو گئے ہوئے سو سال ہو چکے تھے۔ شمس ہمارے ساتھ فصیح و بلیغ پنجابی میں بات کرتے تھے۔ ان کا خاندان‘ سو سال سے سنگا پور میں رہتے ہوئے بھی پنجابی زبان سے جڑا ہوا تھا۔
گھر میں بچوں کے ساتھ اردو بولنے کے بعد اپنی مٹی سے مر بوط رکھنے کے لیے دوسرا مؤثر ترین طریقہ یہ ہے کہ ہر سال بچوں کو پاکستان لایا جائے۔ یہ عرصہ کم سے کم ایک مہینہ ضرور ہونا چاہیے۔ دو ماہ ہو تو کیا ہی کہنے! اس قیام کے دوران بچے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں! اردو بولنے کی خوب مشق ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ غیرمحسوس طریقے سے بچے اپنی بنیادوں سے بھی آشنا ہوں گے۔ یہاں کے دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہیں گے اور پاکستانی ماحول ان کے اندر سماتا رہے گا۔ ورنہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والی بات ہو جائے گی! میں دیکھتا ہوں کہ امریکہ‘ یورپ اور آسٹریلیا میں رہنے والے تارکینِ وطن پوری دنیا کا سفر کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ہر سال دو ماہ کے لیے پاکستان میں جانا ان کے لیے ہر گز مشکل نہیں! میں ایک ایسے صاحب کو جانتا ہوں جن کا پاکستان میں کوئی قریبی عزیز نہیں بچا مگر وہ اکثر و بیشتر لاہور میں آکر قیام کرتے ہیں صرف اس لیے کہ ان کے بچے پاکستان کے ماحول سے واقف ہو جائیں اور یہاں رہنا سیکھ جائیں!!
بنیادی طور پر ہر پاکستانی نژاد بچہ پاکستان کے لیے محبت بھرے جذبات رکھتا ہے۔ اس کا مظاہرہ کرکٹ میچوں کے مواقع پر دیکھنے میں آتا ہے۔ بہت سے بچوں نے اپنے کمروں میں پاکستانی جھنڈے یا جھنڈے کی تصاویر لگائی ہوئی ہیں۔ اب یہ ان کے بڑوں کا کام ہے کہ اس چنگاری کو بجھنے نہ دیں! پاکستان کی روشنی ان بچوں کے دلوں میں ہمیشہ رہنی چاہیے۔ بیرونِ ملک رہنے والا ہر پاکستانی اپنی ذات میں پورا پاکستان ہے۔ تارکینِ وطن پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی بحران پاکستان کو اپنی گرفت میں لیتا ہے‘ تارکینِ وطن کی جان سولی پر لٹک جاتی ہے۔ پاکستان کی محبت ان کی رگوں میں‘ رگوں کے اندر بہتے خون میں‘ ہڈیوں میں اور ہڈیوں کے اندر بھرے گودے میں رچی بسی ہے۔ ان سے سیاسی اختلاف تو ہو سکتا ہے مگر ان کی پاکستان دوستی پر شک کرنا ظلم ہی نہیں‘ شاید گناہ بھی ہے۔ اس محبت اور وابستگی کو آنے والی نسلوں میں منتقل کرنا ان پر فرض ہے‘ خواہ اس کے لیے کتنی ہی مشقت کیوں نہ کرنی پڑے!! ہم پاکستان سے باہر ہوں تو ہوں‘ پاکستان ہمارے اندر ہونا چاہیے۔
اے خاک پاک تجھ سے ہم آغوش ہوں کہ دور
ہر آن تیرا چاند ستارا ہو سامنے

Muhammad Izhar Ul Haq

24/05/2024

‏ایک تحریر دل کو چھو گئی، لکھنے والے کا نام نہیں معلوم، اچھی لگی
‏ آپ لوگ بھی محظوظ ہوں
‏®®®®®®®®®®®®
‏*خوش رہنا شروع کیجیئے*
‏چائے میں بسکٹ ڈبو کر تو دیکھئے،
‏اگر ٹوٹ کر گِر گیا تو کونسا قیامت آ جائے گی؟

‏ایک وقت تھا خوشی بہت آسانی سے مل جاتی تھی۔
‏دوستوں سے ملکر،
‏عزیز رشتہ داروں سے ملکر،
‏نیکی کرکے،
‏کسی کا راستہ صاف کرکے،
‏کسی کی مدد کرکے۔
‏خربوزہ میٹھا نکل آیا،
‏تربوز لال نکل آیا،
‏آم لیک نہیں ھوا،
‏ٹافی کھا لی،
‏سموسے لے آئے،
‏جلیبیاں کھا لیں،
‏باتھ روم میں پانی گرم مل گیا،
‏داخلہ مل گیا،
‏پاس ھوگئے،
‏میٹرک کرلیا،
‏ایف اے کرلیا،
‏بی اے کر لیا،
‏ایم اے کرلیا،
‏کھانا کھالیا،
‏دعوت کرلی،
‏شادی کرلی،
‏عمرہ اور حج کرلیا،
‏چھوٹا سا گھر بنا لیا،
‏امی ابا کیلیئے سوٹ لے لیا،
‏بہن کیلیئے جیولری لے لی،
‏بیوی کیلیئے وقت سے پہلے گھر پہنچ گئے،
‏اولاد آگئی اولاد بڑی ھو گئی،
‏انکی شادیاں کر دیں.
‏ نانے نانیاں بن گئے.
‏دادے دادیاں بن گئے.
‏سب کچھ آسان تھا
‏اور سب خوش تھے.

‏پھر ہم نے پریشانی ڈھونڈنا شروع کردی،
‏بچہ کونسے سکول داخل کرانا ھے،
‏پوزیشن کیا آئے،
‏نمبر کتنے ہیں،
‏جی پی اے کیا ھے،
‏لڑکا کرتا کیا ہے،
‏گاڑی کونسی ہے،
‏کتنے کی ہے،
‏تنخواہ کیا ہے،
‏کپڑے برانڈڈ چاہیئں
‏ یا پھر اس کی کاپی ہو،
‏جھوٹ بولنا پھر اسکا دفاع کرنا،
‏سیاست انڈسٹری بن گئی.

‏ھم سے ھمارے دور ھو گئے،
‏گھر کتنے کنال کا ہو،
‏پھر آرچرڈ سکیمز آگیئں،
‏گھر اوقات سے بڑے ہو گئے،
‏اور ہم دور دور ہو گئے،
‏ذرائع آمدن نہیں بڑھے پر قرضوں پر گاڑیاں،
‏موٹر سائیکل،
‏ٹی وی،
‏فریج،
‏موبائل سب آ گئے،
‏سب کے کریڈٹ کارڈ آ گئے.
‏پھر ان کے بل،
‏بجلی کا بل،
‏پانی کا بل،
‏گیس کا بل،
‏موبائل کا بل،
‏سروسز کا بل،
‏پھر بچوں کی وین،
‏بچوں کی ٹیکسی،
‏بچوں کا ڈرائیور،
‏بچوں کی گاڑی،
‏بچوں کے موبائل،
‏بچوں کے کمپیوٹر،
‏بچوں کے لیپ ٹاپ،
‏بچوں کے ٹیبلٹ،
‏وائی فائی،
‏گاڑیاں،
‏جہاز،
‏فاسٹ فوڈ،
‏باہر کھانے،
‏پارٹیاں،
‏پسند کی شادیاں،
‏دوستیاں، طلاق پھر شادیاں، بیوٹی پارلر،
‏جم،
‏پارک،
‏اس سال کہاں جائیں گے،
‏یہ سب ہم نے اختیار کئے
‏ اور اپنی طرف سے ہم زندگی کا مزا لے رہے ہیں.
‏کیا آپ کو پتہ ھے آپ نے خوشی کو کھو دیا ہے۔
‏جب زندگی سادہ تھی تو خوشی کی مقدار کا تعین ناممکن تھا-
‏اب اسی طرح دھوم دھڑکا تو بہت ھے پر پریشانی کا بھی کوئی حساب نہیں۔

‏اپنی زندگی کو سادہ بنائیے

‏ تعلق بحال کیجیئے،
‏دوست بنائیے،
‏دعوت گھر پر کیجیئے،
‏بے شک چائے پر بلائیں،
‏یا پھر آلو والے پراٹھوں کا ناشتہ ساتھ کیجیئے،
‏دور ھونے والے سب چکر چھوڑ دیجیئے،
‏واٹس ایپ، فیس بک زرا کم استعمال کیجیئے،
‏آمنے سامنے بیٹھئیے،
‏دل کی بات سنیئے اور سنائیے، مسکرائیے.
‏یقین کیجیئے خوشی بہت سستی مل جاتی ہے.
‏بلکہ مفت،
‏اور پریشانی تو بہت مہنگی ملتی ہے
‏جس کیلیئے ہم اتنی محنت کرتے ہیں،
‏اور پھر حاصل کرتے ھیں۔
‏خوشی ہرگز بھی چارٹر طیارے میں سفر کرنے میں نہیں ھے۔ کبھی نئے جوتے پہن کر بستر پر رھیئے پاؤں نیچے رکھے تو جوتا گندا ھو جائے گا۔
‏بس محسوس کرنے کی بات ہے،

‏ہمسائے کی بیل تو بجائیے-
‏ملیئے مسکرائیے،
‏بس مسکراھٹ واپس آجائے گی،
‏دوستوں سے ملیئے دوستی کی باتیں کیجیئے،
‏ ان کو دبانے کیلیئے ڈگریاں، کامیابیاں، فیکٹریوں کا ذکر ہر گز مت کیجیئے۔
‏پرانے وقت میں جائیے جب ایک ٹافی کے دو حصے کر کے کھاتے تھے،
‏فانٹا کی بوتل آدھی آدھی پی لیتے تھے.
‏ہم نے کیا کرنا چائے خانہ کا؟
‏جہاں پچاس قسم کی چائے ہے۔
‏آؤ وہاں چلیں جہاں سب کیلیئے ایک ہی چائے بنتی ہے ملائی مار کے، چینی ہلکی پتی تیز۔

‏آؤ پھر سے خوش رہنا شروع کرتے ھیں.
‏خوش رہنے کے لیئے بچوں جیسے بن کے تو دیکھیئے

‏*چائے میں بسکٹ ڈبو کر تو دیکھیئے-*
‏*ٹوٹ کر گر گیا تو کونسی قیامت آجائے گی.*

15/04/2024

‏👈ذرا نہیں پورا سوچیں

‏آج کل کچھ لوگ بڑے زور و شور سے واویلا کر رہے ہیں کہ، کعبہ کے گرد گھومنے سے پہلے کسی غریب کے گھر گھوم آؤ۔۔۔

‏مسجد کو قالین نہیں کسی بھوکے کو روٹی دو۔۔۔

‏حج اور عمرہ پر جانے سے پہلے کسی نادار کی بیٹی کی رخصتی کا خرچہ اٹھاؤ۔۔۔

‏تبلیغ میں نکلنے سے بہتر ہے کہ کسی لاچار مریض کو دوا فراہم کر دو۔۔۔

‏مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینے سے افضل ہے کہ کسی بیوہ کے گھر آٹے کی بوری دے آؤ۔۔۔

‏یاد رکھیں۔۔۔👇

‏دو نیک اعمال کو اس طرح تقابل میں پیش کرنا کوئی دینی خدمت یا انسانی ہمدردی نہیں بلکہ عین جہالت ہے۔
‏اگر تقابل ہی کرنا ہے تو دین اور دنیا کا کرو اور یوں کہو !

‏15 ، 20 ﻻکھ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔

‏50 ، 60 ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔

‏ﮨﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮮ ﺳﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻟﮕﻮﺍئو ﺟﺐ گرمی میں بغیر بجلی کے سونے والا کوئی نہ ہو ۔۔۔

‏ﺑﺮﺍﻧﮉﮈ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺧﺮﯾﺪو ﺟﺐ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﭘﮭﭩﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔

‏یہ کروڑوں کی گاڑیاں ، لاکھوں کے موبائل فونز اورہزاروں کے کھلونے خریدتے وقت ان دانشوروں کو زحمت گوارا کیوں نہیں ہوتی۔۔۔؟

‏آخر یہ چِڑ کعبہ مسجد حج وعمرہ اور تبلیغ ہی سے کیوں ہے۔۔۔؟

‏ان ضروریات کا فرائض سے موازنہ کر کے فرائض سے غفلت کا درس دینے والے جب اپنی شادیوں پر عورتیں نچاتے ہیں تب ان کو کیوں یاد نہیں ہوتا کہ وہ بھی کسی کی بیٹیاں اور بہنیں ہیں...
‏ہزاروں آرام دہ اشیاء خریدتے وقت ان کو غریب کی بن بیاہی بیٹیاں نظر کیوں نہیں آتی ہیں؟

‏اک بار ضرور سوچیں
‏کیا
‏انسانیت کی خاطر غیر ضروری امور ترک کرنا بہتر ہے یا کہ فرائض کا ترک؟؟؟

29/03/2024

‏بہت پیاری حدیث ھے،
‏براے مہربانی پورا پڑھیں

‏نبی پاک صلی اللّه علیہ وسلم* نے فرمایا

‏جب تم کچھ بھول جاو تو مجھ پر درود بھیجو ،
‏انشا اللّه یاد آ جاے گا

‏یہ بہت قیمتی حدیث ھے
‏سب کو بتاؤ اپنے دل میں مت رکھو.

‏سوال: نماز میں دو سجدے کیوں ھوتے ھیں ؟

‏جواب: جب اللّه نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا

‏لیکن ابلیس نے نہیں کیا
‏ تو اسکو مردود قرار دے کر جنت سے نکال دیا.
‏ابلیس کی یہ حالت دیکھ کر فرشتوں نے سجدہ_شکر ادا کیا اور کہا
‏ اے اللّه تیرا شکر ھے تو نے ھمیں اپنا حکم بجا لانے اور اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائی

‏وہ دو سجدے آج تک نماز میں ادا کئے جا رھے ھیں.

‏1: سجدہ_حکم
‏2: سجدہ_شکر

‏ایک صحابی نے *حضور_پاک صلی اللّه علیہ وصلم* سے پوچھا
‏ھمیں کیسے پتہ چلے گا
‏کہ ھماری نماز قبول ھو گئی ؟

‏آپ صلی اللّه علیہ وصلم نے فرمایا :-
‏جب تمہارا دل اگلی نماز پڑھنے کا کرے تو سمجھنا کہ تمھاری نماز قبول ھو گئی

‏سبحان اللّه

‏کچھ لوگ ایسے میسج کو فارورڈ نہیں کرتے
‏تو اللّه تعالی نے فرمایا ھے.

‏اگر تم مجھ کو رد کرو گے تو میں تمہیں اپنی نظر میں رد کر دونگا

‏جب شیطان مردود نے کہا
‏ کہ
‏اے رب ،
‏تیری عزت کی قسم ،
‏میں تیرے بندوں کو ھمیشہ بہکاتا رھوں گا
‏ جب تک انکی روحیں انکے جسموں میں رهینگی

‏اللّه رب العزت نے ارشاد فرمایا :-

‏مجھے قسم ھے اپنی عزت و جلال کی اور اپنے اعلی مقام کی
‏جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رهینگے، میں انکو بخشتا رھوں گا.

‏سبحان اللّه

‏ھمارے پیارے نبی صلی اللّه علیہ وصلم* کی کچھ پیاری عادات

‏1:چلتے وقت نگاہ نیچی رکھتے

‏2: سلام ھمیشہ پہلے کرتے

‏3: مہمان نوازی خود کرتے

‏4: نفل نماز چھپ کر پڑھتے

‏5: فرض عبادت سب کے سامنے کرتے

‏6: بیمار کی مزاج پرسی کرتے

‏7: جب کھڑے ھوے غصہ آیا تو لیٹ جاتے

‏8: مسواک کرتے

‏9: عشاء سے پہلے کبھی نہ سوتے

‏10: کبھی کھل کر نہ ھنستے، صرف مسکراتے

‏اللّه پاک یہ میسج اگے بھیجنے والے کی ھر جائز تمنا پوری کرے
‏آمین

‏جب حضور صلی اللّه علیہ وصلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللّه علیہ وصلم نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا کہ
‏کیا میری امت کو بھی موت کی اتنی تکلیف برداشت کرنی پڑیگی

‏تو فرشتے نے کہا
‏جی
‏تو آپ صلی اللّه علیہ وصلم* کی آنکھ مبارک سے آنسو جاری ھو گیۓ

‏تو اللّه تعالی نے فرمایا :-

‏اے محمد صلی اللّه علیہ وصلم آپکی امت اگر ھر نماز کے فورا بعد آیت الکرسی پڑھےگی تو موت کے وقت اسکا ایک پاؤں دنیا میں ھو گا اور ایک جنت میں

‏سبحان اللّه

‏جو شخص سوتے وقت 21 بار بسمہ اللّه پڑھتا ھے.

‏اللّه تعالی فرشتوں سے فرماتا ھے کہ اسکی ھر سانس کے بدلے نیکی لکھو

‏سبحان اللّه

20/03/2024

‏اللّٰہ مجھے آپ کو عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔۔۔

‏ایک بدو کے 25 سوالات اور نبی کریم ﷺ کے جوابات:

‏سوال1: میں امیر (غنی) بننا چاھتا ہوں؟
‏جواب: فرمایا قناعت اختیار کرو،امیر ہو جاؤ گے.
‏سوال2: میں سب سے بڑا عالم بننا چاھتا ہوں؟
‏جواب: تقوی اختیار کرو عالم بن جاؤ گے.
‏سوال3: عزت والا بننا چاھتا ہوں؟
‏جواب: مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کر دو باعزت بن جاؤ گے.
‏سوال4: اچھا آدمی بننا چاھتا ہوں؟
‏جواب: لوگوں کو نفع پھنچاؤ.
‏سوال5: عادل بننا چاھتا ہوں؟
‏جواب: جسے اپنے لیے اچھا سمجھتے ہو وہی دوسروں کے لیے پسند کرو.
‏سوال6: طاقتور بننا چاھتا ہوں؟
‏جواب: اللہ پر توکل بھروسہ کرو.
‏سوال7: اللہ کے دربار میں خاص درجہ حاصل کرنا چاھتا ہوں؟
‏جواب: کثرت سے ذکر کرو.
‏سوال8: رزق کی کُشادگی چاھتا ہوں؟
‏جواب: ہمیشہ باوضو رھو.
‏سوال9: دعاؤں کی قبولیت چاھتا ہوں؟
‏جواب: حرام نہ کھاؤ.
‏سوال10: ایمان کی تکمیل چاھتا ہوں؟
‏جواب: اخلاق اچھے کر لو.
‏سوال11: قیامت کے روز اللہ سے گُناہوں سے پاک ہو کر ملنا چاھتا ہوں؟
‏جواب: جنابت کے بعد فوراً غُسل کیا کرو.
‏سوال12: گُناہوں میں کمی چاھتا ہوں؟
‏جواب: کثرت سے استغفار کرو.
‏سوال13: قیامت کے روز نور میں اُٹھنا چاھتا ہوں؟
‏جواب: ظلم کرنا چھوڑ دو.
‏سوال14: مین چاھتا ہوں کے اللہ مجھ پر رحم کرے؟
‏جواب: اللہ کے بندوں پر رحم کرو.
‏سوال15: میں چاھتا ہوں کے اللہ میری پردہ پوشی کرے؟
‏جواب: لوگوں کی پردہ پوشی کرو.
‏سوال16: رُسوائی سے بچنا چاھتا ہوں ؟
‏جواب: زنا سے بچو.
‏سوال17: میں چاھتا ہوں کہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہِ وسلم کا محبوب بن جاؤں؟
‏جواب: جو اللہ اور اُس کے رسول کو محبوب ہو اُسے اپنا محبوب بنا لو.
‏سوال18: اللہ کا فرمانبردار بننا چاھتا ہوں؟
‏جواب: فرائض کا اہتمام کرو.
‏سوال19: احسان کرنے والا بننا چاھتا ہوں؟
‏جواب: اللہ کی اس طرح بندگی کرو جیسے تُم اسے دیکھ رہے ھو. یا جیسے وہ تمھیں دیکھ رہا ہے.
‏سوال20: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہِ وسلم!
‏کیا چیز گُناہوں سے معافی دلائے گی؟
‏جواب: آنسو، عاجزى اور بیماری.
‏سوال21: کیا چیز دوزح کی آگ کو ٹھنڈا کریگی؟
‏جواب: دنیا کی مصیبتوں پر صبر.
‏سوال22: اللہ کے غصہ کو کیا چیز ٹھنڈا کریگی؟
‏جواب: چپکے چپکے صدقہ اور صلہ رحمی.
‏سوال23: سب سے بڑی برائی کیا ہے؟
‏جواب: برے اخلاق اور بخل.
‏سوال24: سب سے بڑی اچھائی کیا ہے؟
‏جواب: اچھے اخلاق، تواضع اور صبر.
‏سوال25: اللہ کے غصہ سے بچنا چاھتا ہوں؟
‏جواب: لوگوں پر غصہ کرنا چھوڑ دو.

‏سبحان الله والحمدلله ولااله الاالله والله اکبر.

If you required Language Cert Vouchers get in touch with us We are official LanguageCert Exams Center and Partners.Whats...
21/08/2022

If you required Language Cert Vouchers get in touch with us
We are official LanguageCert Exams Center and Partners.

WhatsApp: +447887459426
email: [email protected]

Address

60 Ilford Lane
London
IG12JZ

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AM Future Consultant UK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share