08/05/2026
بنگال الیکشن نتائج کے بعد کچھ لوگ یہ مان کر چل رہے ہیں کہ اویسی کی سیاست ختم ہوچکی ہے۔ ممکن ہے، ایسے لوگ درست ہوں۔ ہمایوں کبیر کے ساتھ اویسی کا جانا، پھر ایکسپوز ہونے کے بعد ان سے الگ ہوجانا، ان تمام پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا اور بولا جاچکا ہے۔ لیکن مسلم لیڈرشپ کے حوالے سے ایک نہایت اہم نکتہ ہے جسے مکمل طور پر نظرانداز کردیا گیا ہے۔
آزاد بھارت میں اب تک جتنی بھی مسلم لیڈرشپ پر مبنی سیاسی پارٹیاں وجود میں آئیں، ان میں مجلس اتحاد المسلمین ایک حد تک مختلف نظر آتی ہے۔ انڈین یونین مسلم لیگ کیرالا سے باہر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ 2 اکتوبر 2005 میں قائم ہونے والی اے آئی یو ڈی ایف آج زوال کے مرحلے میں ہے۔ ڈاکٹر ایوب کی پیس پارٹی اپنا وجود تقریباً کھوچکی ہے۔ ڈاکٹر فرید جلیلی ایک طوفان کی طرح آئے اور گزر گئے۔ اسی طرح مسلم مجلس کے کچھ بااثر لیڈران، جن سے امیدیں وابستہ تھیں، وقت کے ساتھ خود کو نام نہاد سیکولرزم کے مکھوٹے میں چھپا بیٹھے۔
یہ تمام پارٹیاں اپنے طریقۂ کار، حکمت عملی اور اندازِ سیاست میں چاہے کتنی ہی خامیوں کی حامل رہی ہوں، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے مقاصد میں ملت کی بھلائی کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور موجود تھا، چاہے وہ دس فیصد ہی کیوں نہ ہو۔ پارٹیاں بکھر گئیں، کچھ لیڈر سیاسی طور پر تباہ ہوگئے، کچھ اپنے لیے راستے نکالنے میں کامیاب ہوگئے، مگر مسلم قیادت کے قیام کا خواب بہرحال شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔
عام طور پر مسلم لیڈرشپ کی ناکامی کا ذمہ دار انہی پارٹیوں کے اندازِ سیاست اور فرقہ وارانہ بیانیے کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ لیکن اگر حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی قیادت محض منشور، نعرے اور اچھے عزائم کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہوتی۔ قیادت اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب عوام اسے قیادت کے طور پر قبول کریں۔
بھارت میں مسلم لیڈرشپ کی ناکامی کی اصل وجہ یہ نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان قیادت کی صلاحیت رکھنے والے افراد موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خامیوں کے باوجود ایسے افراد کی کمی نہیں، لیکن ان کی قیادت قبول کرنے والی اجتماعی ذہنیت ناپید ہے۔ ہماری عوام ایک دن اور ایک لمحے میں سو سال پرانی آر ایس ایس کو اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہے۔ آج پارٹی بنے اور آج ہی وزارت کی کرسی مل جائے۔ یہی سوچ ہماری سیاسی بے صبری کی عکاسی کرتی ہے۔
عوام خود تو بولہبی کی خوگر ہے، مگر لیڈر اسے ابوبکر صدیقؓ جیسا چاہیے۔ ہمایوں کبیر کی بے ایمانی میں اویسی کا ہاتھ تھا یا نہیں، اس پر محض قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں، مگر مسلمانوں نے فوراً فیصلہ صادر کردیا کہ اویسی غدار ہیں۔ اگر بنگال میں مسلمانوں نے اویسی کو ووٹ نہ دے کر انہیں ملت فروشی کی سزا دی، تو یہ منطق کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہمایوں کبیر کو ملت کی کس خدمت، کس قیادت اور کس غمخواری کا انعام ملا کہ وہ اپنی دونوں نشستیں جیت گئے؟
اسٹنگ آپریشن میں اویسی براہِ راست نہیں تھے، مگر سزا انہیں مل گئی۔ جبکہ ہمایوں کبیر، جن کے گرد مسلسل سوالات اور الزامات کا طوفان برپا رہا، انہیں عوامی پذیرائی حاصل ہوگئی۔ آخر یہ کس بنیاد پر ہوا؟
اویسی کی سیاست ختم ہوئی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ لیکن اس میں شاید ہی کوئی شک ہو کہ مسلمانوں کی سیاسی بصیرت شدید بحران کا شکار ہے۔ آر ایس ایس پر 14 ہزار کروڑ کے رام مندر چندے میں غبن کے الزامات لگتے ہیں، مگر اس کے حامی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔ بی جے پی کو بدعنوان اور کرپٹ کہا جاتا ہے، مگر اکثریتی طبقہ اپنی سیاسی وفاداری قائم رکھتا ہے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اگر مخالفین اویسی کو “بی ٹیم” کہہ دیں تو مسلمان اسے فوراً سچ مان لیتے ہیں۔ اگر ڈاکٹر ایوب کو یوگی آدتیہ ناتھ کا قریبی قرار دے دیا جائے تو بغیر تحقیق اسے بھی قبول کرلیا جاتا ہے۔ آخر اس طرزِ عمل کو کس سیاسی شعور کا نام دیا جائے؟
اویسی کی سیاست باقی رہتی ہے یا ختم ہوجاتی ہے، اس سے اویسی اور ان کے خاندان کا جو ہونا ہے، وہ ہوگا۔ مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ملک کی سیاست جس سمت بڑھ رہی ہے، وہاں مسلمانوں کا اپنا کوئی مضبوط سیاسی سہارا دکھائی نہیں دیتا۔
یہ کہنا درست نہیں کہ اویسی یا مسلم قیادت میں خامیاں نہیں ہیں۔ خامیاں ہر جماعت اور ہر قیادت میں ہوتی ہیں۔ بی جے پی میں ہیں، کانگریس میں ہیں، سماجوادی پارٹی میں ہیں۔ مگر کیا کبھی مسلمانوں نے ان جماعتوں کی اسی شدت سے مخالفت کی جس شدت سے وہ اویسی کی مخالفت کرتے ہیں؟
پیس پارٹی کے بعد مجلس شاید واحد ایسی جماعت ہے جس میں گنتی کے ہی سہی، مگر غیر مسلم بھی شامل ہونا باعثِ فخر سمجھنے لگے ہیں۔ کسی بھی نظریے کو صاف ستھرا ہونے، منظم ہونے اور عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لیے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس سفر میں حمایت بھی ہوتی ہے اور مخالفت بھی، اور بسا اوقات مخالفت، حمایت سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
حیدرآباد کی گلیوں سے نکل کر مہاراشٹر، گجرات، بہار اور اتر پردیش کی سیاست میں دستک دینے والی مجلس واحد ایسی پارٹی ہے جس نے اپنے دائرے کو وسعت دینے کی عملی کوشش کی ہے۔ اس کے باوجود اگر لوگوں کو لگتا ہے کہ اویسی کے دن ختم ہوچکے ہیں اور انہیں حیدرآباد واپس چلے جانا چاہیے، تو بے شک یہ رائے رکھنے کا انہیں حق ہے۔
لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہیے کہ وقت صرف مسلم لیڈرشپ کے بحران کا نہیں، بلکہ مسلمانوں کے وجودی بحران کا بھی ہے۔ اس لیے کسی ممکنہ سیاسی وجود کو مکمل ختم کرنے کے بجائے، اس کی خامیوں کے اصلاح کی کوشش زیادہ دانشمندانہ راستہ ہوسکتا ہے۔
شفیق فیضی