Ubaidullah razwi qadri official

Ubaidullah razwi qadri official is page par aap ko naat taqreer islami videos dekhne ko milenge aap hmaare page pr aap ka khair maqdm h

30/06/2023

صفحۂ دہر سے باطل کو مِٹایا کس نے؟
نوعِ انساں کو غلامی سے چھُڑایا کس نے؟
میرے کعبے کو جبِینوں سے بسایا کس نے؟
میرے قُرآن کو سِینوں سے لگایا کس نے؟
تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

23/06/2023
23/06/2023

عباسیہ حکومت کے آخری دور میں ایک وقت وہ آیا جب مسلمانوں کے دارالخلافہ بغداد میں ہر دوسرے دن کسی نہ کسی دینی مسئلہ پر مناظرہ ہونے لگا
جلد ہی وہ وقت بھی آ گیا جب ایک ساتھ ایک ہی دن بغداد کے الگ الگ چوراہوں پر الگ الگ مناظرے ہو رہے تھے.
پہلا مناظرہ اس بات پر تھا کہ ایک وقت میں سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں؟
دوسرا مناظرہ اس اہم موضوع پر تھا کہ کوا حلال ھے یا حرام؟
تیسرے مناظرے میں یہ تکرار چل رہی تھی کہ مسواک کا شرعی سائز کتنا ہونا چاہیے؟
ایک گروہ کا کہنا تھاکہ ایک بالشت سے کم نہیں ہونا چاہیے اور دوسرے گروہ کا یہ ماننا تھا کہ ایک بالشت سے چھوٹی مسواک بھی جائز ھے
ابھی یہ ڈیبیٹ( مناظرہ) چل ہی رہی تھی کہ ہلاکو خان کی قیادت میں تاتاری فوج بغداد کی گلیوں میں داخل ہو گئی اور سب کچھ تہس نہس کر گئ
مسواک کی حرمت بچانے والے لوگ خود ہی بوٹی بوٹی ہو گئے
سوئی کی نوک پر فرشتے گننے والوں کی کھوپڑیوں کے مناریں بن گئے جنہیں گننا بھی ممکن نہ تھا
کوے کے گوشت پر بحث کرنے والوں کے مردہ جسم کوے نوچ نوچ کر کھا رہے تھے
آج ہلاکو خان کو بغداد تباہ کیئے سینکڑوں برس ہو گئے مگر قسم لے لیجئے جو مسلمانوں نے تاریخ سے رتی برابر بھی سبق لیا ہو
آج ہم مسلمان پھر ویسے ہی مناظرے سوشل میڈیا پر یا اپنی محفلوں جلسوں اور مسجدوں کے ممبر سے کر رہے ہیں کہ ڈاڑھی کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے یا پھر پاجاما کی لمبائی ٹخنے سے کتنی نیچے یا کتنی اوپر شرعی اعتبار سے ہونی چاہیئے
قوالی اور مشاعرے کرنا ہمارے مزہبی فرائض میں شامل ہونے لگے
فرقے اور مسلک کے ہمارے جھنڈا بردار صرف اور صرف اپنے اپنے فرقوں کو جنت میں لے جانے کا دعویٰ کر رہے ہیں.
اور دور حاضر کا ہلاکو خان ایک ایک کر مسلم ملکوں کو نیست و نابود کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ھے
افغانستان, لیبیا, عراق کے بعد شامی بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں کی گنتی کرنے والا کوئی نہیں ھے بیگناہوں کی کھوپڑیوں کے منار پھر بنائے جا رہے ہیں
آدم علیہ السلام کی نسل کے نوجوانوں, بوڑھے اور بزرگوں کی لاشوں کو کوے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں
اور حوا کی بیٹیاں اپنی عصمت چھپانے امت کی چادر کا کونہ تلاش کر رہی ہیں
جی ہاں اور ہم خاموشی سے اپنی باری آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔۔اور آج بھی اس کاہنات کی بد ترین امت کی یہ حالت ھے جو خود کو افضل ترین سمجھتی ھے اور اس کے پلے ھے کچھ بھی نھی اور الللہ کے لیے کیا مشکل ھے ھم پے کسی اور امت کو افضل کر دے قرآں تو اسکی گواہی دیتا ھے اور آجکے حالات بھی قرآن کی گواہی کی تصدیق کرتے ھیں اور آج بھی یہ حالات ھیں دوسری امت غالب ھے علم اور ساینس میں اور انصاف اور طرز معاشرت میں اور آج ھم اس لیے بھی سیخ پا ھیں کہ ھمارے جھوٹے من گھڑت کہانیاں اپنے انجام کو پہنچنے والی ھیں ھم نے 1500 سال میں تاریخ سے کچھ نہی سیکھا
فیسبک اولڈ میموری
حسن نقوی
🙏😭

12/09/2021

*لمحئہ فکر*

مخالفینِ مسلکِ اعلی حضرت و حاسدینِ حضور قائدِ ملت کے بھونڈے اور جاہلانہ اعتراضات کا جواب دینے کے لئے
میرے ایک کرم فرما ناشر مسلک اعلی حضرت *حضرت علامہ مولانا غلام مصطفی رضوی دام ظلہم* نائبِ صدر *رضا فونڈیشن بنگلور* و رکن *آل کرناٹکا سنی علماء بورڈ بنگلور* کی فرمائش پر
راقم کو *حضور قائد ملت جانشینِ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ الشاہ مفتی محمد عسجد رضا خان قادری قاضی القضاة فی الہند دام ظلہم* کی علمی لیاقت پر کچھ لکھنا پڑا

ورنہ ساری دنیاء کے اہل علم و اہل حق جانتے ہی ہیں کہ قائدِ ملت کی ذات کیا ہے ؟

اور انکی علمی لیاقت کیا ہے ؟

ابھی ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک پی۔ڈی۔یف۔ نظروں سے گذری جس کو لفظ بلفظ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا
اس پی۔ڈی۔یف۔ کے ذریعے *حضرت علامہ مفتی انیس عالم رضوی ازہری سیوانی* نے حضورقائدِ ملت علامہ عسجد رضا خان قادری کی سوانح جو کہ مکمل دلائل و براہن مع تاریخ سن عسوی و ھجری کے ١۵صفحات پر مشتمل تحریر فرمائی ہے
بس اس کو ہی پڑھ لیا جائے تو ان حاسدین مسلک و حاسدین حضور قائد ملت کے لئے جواب کافی ہوگا

مفتئی آعظم کی گود کا پلا ، حضور تاج الشریعہ جیسی ذات کا اکلوتا جانشین ، لعابِ مفتئ آعظم ہند سے سیراب ہونے والا ، وارثِ علومِ تاج الشریعہ
سالوں سال شرعی فقہی مسائل پر منحصر قائم سوال و جواب کا سیشن چلانے والا

جس میں دنیاء بھر سے شرعی، فقہی، علمی، عملی، فروعی، اختلافی، اعتقادی، اور جدید تکنالوجی کے استعمال کو لیکر اٹھنے والے جدید سوالات اور جدید مسائل پر روزانہ شریعت کی روشنی میں جواب دینے میں *قاضی القضاة فی الہند حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ* کے ساتھ تربیت پانے والا

مستند علماء و مفتیان کرام کی سرپرستی میں کتب فقہ کا جس نے گہرائی سے مطالعہ کرکے بارگاہ تاج الشریعہ سے استفادہ حاصل کرنے والا

مرکز سے دئے گئے ہر ایک فتووں کا مطالعہ اور ان فتووں کو بارگاہ تاج الشریعہ میں روزانہ پڑھ کر سنانے والا نیز ان فتووں پرگہری نظر رکھنے والا

ان فتووں کو بارگاہ تاج الشریعہ میں روزانہ سنتے سناتے ہوئے توضیح و تصحیح کرنے کی صلاحیت رکھنے والا

مرکزی دارالافتاء کے جید لائق و فائق مفتیان کرام سے اس طرح کی تربیت ایک دو سال نہیں اپنی بالغ عمری سے لیکر تادم آخر یعنی وصال تاج الشریعہ علیہ الرحمہ تک رہکر جس نے رات دن حصول علم میں اپنی عمر صرف کی ہو

حضور تاج الشریعہ کی موجودگی میں افتاء کی کاروائی ، فتاوں کی ترتیب ، تصنیفات تاج الشریعہ کی اشاعت ، جس وقت زور و شور سے ہورہی تھی ایسے وقت میں انکے جانشین نے مرکزی دارالافتاء کے مفتیان کرام اور جامعةالرضا کے اساتذا کے ہمراہ سارے اشاعتی کاموں کی باگ دوڈ سنبھالے ہوئے اپنا دینی اشاعتی منصب کے جملہ فرائض کو نبھانے والا

بعد وصال تاج الشریعہ یعنی آج کی تاریخ میں ملک اور بیرونی ممالک کے تبلیغی دوروں کے ساتھ ساتھ ان اشاعتی کام کاج کو آگے بڑھانے کے لئے جانشین تاج الشریعہ *علامہ مفتی محمد عسجد رضاخان صاحب* اپنے استاذِگرامی *حضرت علامہ مفتی ناظم علی رضوی نوری صاحب* اور مرکزی دارالافتاء کے مصروف ترین مفتی *حضرت علامہ مفتی افضال رضوی صاحب* اور خصوصاً جامعةالرضا کے اساتذہ *حضرت مفتی محمد شکیل رضوی صاحب پرنسپل ادراہ ہذا* اور *حضرت مفتی محمد شہزاد عالم رضوی* کی سرپرستی میں جو اس عظیم کام کی ذمہ داری اپنے سر لئے ہوئے ہیں ان کے ساتھ اپنی تمام تر علمی صلاحییتوں کا استعمال کرتے ہوئے ان تمام اشاعتی کاموں کو پائے تکمیل تک پہونچانے میں آج بھی مصروف عمل ہیں

*اورتعجب ہوتا ہے*

جس نے مرکز جامعة الرضا کے درجہ فضیلت کے طالب علموں کو درس دیا ہو اس سے مولوی کی سند مانگی جاتی ہے

جس نے شعبہ افتاء کے طلبہ کو افتاء و فتاوی نویسی کا بھی درس دیا ہو اس سے افتاء کی سند مانگی جارہی ہے

جس نے جامعة الرضا کے ہر ایک تعلیمی شعبے کی نظامت سنبھالتے ہوئے آج اس ادارے کو ایک *اسلامی یونیور سٹی* کے منزل پر پہونچانے کی سعی کی ہے
اس سے عالم کی سند مانگی جارہی ہے

جس نے اپنا پہلا فتوی جامعة الرضا مرکزی دارالافتاء سے صادر فرمایا ہو اس سے مفتی کی سند مانگی جارہی ہے

جس کے رگ رگ میں افہام و تفہیم کی لازوال دولت بھری پڑی ہو جس کے اندر تاج الشریعہ کی علمی عملی خوبیوں کی جھلک پائی جاتی ہو آج اس سے سند علم مانگی جارہی ہے

جس کے گھر سے افتاء کی سندیں تقسیم کی جاتی ہوں اس سے سند شعبہ افتاء مانگی جارہی ہے

اپنے وقت کا محقق جن کے گھر میں آکر کوئی ایک حدیث سناکر سند حدیث پر مہر ثبت کرکے لیجاتا ہو ان سے سند حدیث مانگی جارہی ہے

ہند وپاک کے علاوہ عرب وعجم کے علماء جس کے گھر سےسند علم ، سند فقہ ، سند حدیث ، سند افتاء ، سند خلافت ، لیجاتے ہوں
تو کیا اس گھر کا فرد ، اس گھر کا بیٹا ، اس قطبِ وقت کا جانشین ، جو عالم بھی ہو کیا وہ ان افتاء کے علوم و فنون سے ناواقف رہ سکتا ہے ؟

کیا دنیاء بھر کے علماء ، فضلاء ، مفتی ، اور فقہاء کو علم و حکمت سے سیراب کرنے والی وہ عظیم ذات اپنے اکلوتے جانشین کو علم و حکمت سے محروم کر سکتی ہے ؟

میرا سوال اور مطالبہ اہل علم و اہل حق سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہے جو
قائد ملت کے حاسدین ہیں اور مسلک اعلی حضرت کے ان دشمنوں سے ہے جو علم رکھ کر بھی جاہل ہونے کا ثبوت دیتے نظر آرہے ہیں
عقل رکھ کر بھی جاہلانہ و احمقانہ سوال کرتے ہیں
آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھے پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں

بتایا جائے
*کیا ان تمام خوبیوں کا مالک ، خداداد علمی صلاحیتوں کا حامل ، حسنِ اخلاق و کردار کا پیکر کسی بھی عالم با عمل مفتی کے لئے کسی بھی طرح کی ایک کاغذ کی سند کا پیش کرنا یا ان سےکاغذ پر منحصر سند مانگنا کیا اتنا بھی ضروری ہے ؟*

اللہ تعالی ہمیں اور ہر صحیح العقیدہ سنی مسلمانوں کو اپنے اکابرین کی سچی محبت عطا فرمائے اور سختی کے ساتھ مسلک اعلی حضرت پر عمل پیرا رہکر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے
اور مسلک اعلی حضرت کے غداروں سے دئے جانے والے مکر و فریب سے بھولے بھالے سنیوں کو بچائے

آمین بجاہ سیدالمرسلین و علی آلہ وصحبہ اجمعین

*قاضی مشتاق احمد رضوی نظامی*
بروز سنیچر ١١ ستمبر ٢٠٢١ء

 #منقبت تاج الشریعہ
15/06/2021

#منقبت تاج الشریعہ

16/10/2020

پارٹ 1
بھٹکتی روحیں 😳
فرسٹ ایئر کی رامین کی اچانک موت پورے کالج میں ایک معمہ بنی ہوئی تھی یہ دوسری موت تھی اس سے پہلے بھی کالج کے چوکیدار کی موت کالج کے کمرے میں ہو چکی تھی صبح تک جب چوکیدار کمرے سے باہر نا آیا تو کالج کی پرنسپل نے ملازم کو دیکھنے بھیجا تو تھوڑی دیر بعد وہ بد حواس سا واپس آیا پرنسپل نے جب جا کر دیکھا تو کمرے کا جو نقشا تھا اس پر خوف زدہ ہو گئیں جس چارپائی پر چوکیدار سوتا تھا وہ زمین پر اوندھے منہ گر پڑا چوکیدار کے اوپر گری ہوئی تھی باقی کمرے میں رکھا سامان بھی ادھر ادھر بکھرا پڑا تھا ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے رات میں کسی نے چیزوں کو اٹھا کر پھینکا ہو چوکیدار کی موت اچانک حرکت قلب بند ہونے سے ہوئی تھی مگر جس چیز نے سب کو خوف زدہ کیا وہ چوکیدار کی پھٹی آ نکھیں تھیں اور اب یہ دوسرا واقع رامین کا تھا جو واش روم کے لیے گی تھی اس کی دوست نادیہ جو اس کے انتظار میں واش روم کے باہر کھڑی تھی اچانک واشروم سے آ نے والی رامین کی دلخراش چیخ پر وہ سہم کر استاتذہ کو لے کر آ ی تھوڑی تگ دو کے بعد واش روم کا دروازہ کھولا گیا تو اندر کے منظر نے سب کو خوف زدہ کر دیا رامین اندر واش روم میں مری ہوئی تھی اس کی بھی آ نکھیں خوف سے باہر کو ابلی ہوئی تھیں ایسا لگتا تھا ک اس نے کوئی بھیانک منظر دیکھا ہو ڈاکٹرز ک مطابق اس کی موت بھی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی تھی پورے کالج میں عجیب خوف کی لہر دوڑی ہوئی تھی ہر شخص اپنی جگہ خوف زدہ تھا
جاوید صاحب جو کالج کے مالک تھے وہ سب سے زیادہ فکرمند تھے اس سے ان کے کالج کی بدنامی ہو رہی تھی اور کتنے ہی سٹوڈنٹس ڈر کی وجہ سے کالج چھوڑ چکے تھے اب تو ٹیچرز بھی کالج کی خوف زدہ نظر آتی تھیں ایسے میں بھلا کون ان کالج میں داخلہ لے گا اس کالج میں پہلے بھی کوئی نا کوئی واقع ہوتا رہتا تھا مگر ان دو موتوں نے سب کو ہی ڈرا کے رکھ دیا تھا طالب علم واشروم اکیلے جانے سے ڈرنے لگے تھے یار ہمیں معلوم کرنا چاہیے کے آخر ماجرا کیا ہے اسفند لائبریری سے نکلتے ہوئے اسجد اور موحد سے بولا ماجرا سیدھا سادھا ہے بھائی یہ کالج آسیب زدہ ہے اسفند کی بات پر اسجد بولا وہ تینوں بی کام کے سٹوڈنٹ تھے اور اس کالج میں پچھلے تین سال سے پڑھ رہے تھے ان تینوں کی دوستی بہت مشہور تھی وہ تینوں باتیں کرتے ہوئے کیفے میں آ گئے تھے اگر کؤی چیز آپ کو اندر سے اکساۓ کی کھوج لگائیں تو یہ تجسس کہلاتا ہے ہے نا اسفند نے اپنے دوستوں سے کہا ان کی باتوں سے بے نیاز موحد سموسے اور چٹنی سے انصاف کرنے میں مصروف تھا جبکہ اسجد جو سموسہ کھانے کے لیے پلیٹ کی جانب ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کا ہاتھ وہیں رک گیا اسے اسفند کی کہی بات سمجھ آ گئی تھی اسے سمجھ آ گیا تھا کے اسفند کے دماغ میں کیا چل رہا ہے وہ اس کے خطرناک ارادوں سے ہوتے ہوئے بھی انجان بنا بیٹھا تھا اور خود کو لا پروا ظاہر کرتے ہوئے سموسہ اٹھا کے کھانے لگا پھر کیا ارادہ ہے اسفند کے بولنے پر اسجد کے حلق میں نوالا اٹک گیا کس چیز کا وہ انجان بنتے ہوئے بولا بنو مت اسفند منہ بناتے ہوئے بولا ایسا خواب میں بھی مت سوچنا تیسرا سموسہ اٹھاتے ہوئے موحد بولا مگر میں نے مجبور نہیں کیا میں نے اپنا ارادہ بتایا ہے کل ہفتہ ہے اور میں اپنا ساری چھٹی جن بھوتوں ج ساتھ گزارنا چاہتا ہوں مگر ہفتے کی رات تو تم لوگ میرے ساتھ گزارنے والے تھے ویسے بھی ممی ڈیڈی گھر پر نہیں ہیں اسجد نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا
جاری ہے

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 😊🥀🥀،فن شعری ھے اقبال، اپنی جگہ،نعت کہنے کو احمد رضا چاھیے،تمام احباب سنی صحیح العقیدہ ...
13/10/2020

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 😊🥀🥀،

فن شعری ھے اقبال، اپنی جگہ،
نعت کہنے کو احمد رضا چاھیے،

تمام احباب سنی صحیح العقیدہ مسلمان
بھایوں کو عرس رضوی مبارک ہو 🥰🥀🥀

12/10/2020

Clip page

Address

Jamui
811317

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ubaidullah razwi qadri official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ubaidullah razwi qadri official:

Share