S.baqer mehdi abidi

S.baqer mehdi abidi syed baqer mehdi

اصل متن (عربی)هَبْ لِي نَظْرَةً فِي يَوْمِ مَوْلِدِكَ،وَكُنْ لِيَ الشَّفِيعَ… يَا حُسَيْنُ عَلَيْهِ السَّلَامُاردو ترجمہ...
23/01/2026

اصل متن (عربی)

هَبْ لِي نَظْرَةً فِي يَوْمِ مَوْلِدِكَ،
وَكُنْ لِيَ الشَّفِيعَ… يَا حُسَيْنُ عَلَيْهِ السَّلَامُ

اردو ترجمہ

اے آقا امام حسین علیہ السلام!
اپنی ولادت کے دن مجھ پر ایک نگاہِ کرم فرما دیجیے،
اور ہمیں اپنی شفاعت کا مستحق بنا دیجیئے —اے حسینی شفیع!

مرکزی نکتہ

ولادتِ حسینؑ کی ایک نظر،
عمر بھر کی راہوں کو روشن کر دیتی ہے؛
حسینؑ کی شفاعت امید نہیں، یقین ہے۔

08/11/2025
20/10/2025
25/09/2025

🌸 امر اہل بیت علیہ السلام کو زندہ رکھنے والا بندہ

📝 اصل عربی متن:
عَنِ الإِمامِ الرِّضا علیہ السلام:
رَحِمَ اَللَّهُ عَبْداً أَحْيَا أَمْرَنَا
فَقُلْتُ لَهُ: فَكَيْفَ يُحْيِي أَمْرَكُمْ؟
قَالَ: يَتَعَلَّمُ عُلُومَنَا وَ يُعَلِّمُهَا النَّاسَ، فَإِنَّ النَّاسَ لَوْ عَلِمُوا مَحَاسِنَ كَلاَمِنَا لاَتَّبَعُونَا.

🌸 اردو ترجمہ:
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
“رحمت خدا بر اس بنده ہو جو ہمارے امر کو زندہ رکھے۔”
عرض کیا گیا: “یہ امر کیسے زندہ رہے گا؟”
فرمایا: “وہ ہماری علوم سیکھے اور انہیں لوگوں تک پہنچائے، کیونکہ اگر لوگ ہمارے کلام کی خوبصورتی اور عظمت کو جان لیں، تو یقیناً ہماری طرف رغبت پیدا کریں گے اور ہمارے پیرو ہوں گے۔”

📚 حوالہ جات (شیعہ منہج کے مطابق):
1. وسائل الشیعہ، کتاب الامالی، باب امام رضا علیہ السلام
2. بحار الأنوار، ج ۵۵، ص ۳۲۴ (امام رضا علیہ السلام کی تعلیمات میں علم و تعلیم کی فضیلت)
3. الکافی، ج ۱، ص ۲۹۹ (احکام و فضائل علم و پیروی اہل بیت علیہم السلام.

जब रात की तन्हाई दिल बन के धड़कती है यादों के दरीचों में चिलमन सी सरकती है लोबान में चिंगारी जैसे कोई रख जाए यूँ याद तिर...
16/04/2025

जब रात की तन्हाई दिल बन के धड़कती है
यादों के दरीचों में चिलमन सी सरकती है

लोबान में चिंगारी जैसे कोई रख जाए
यूँ याद तिरी शब भर सीने में सुलगती है

यूँ प्यार नहीं छुपता पलकों के झुकाने से
आँखों के लिफ़ाफ़ों में तहरीर चमकती है

ख़ुश-रंग परिंदों के लौट आने के दिन आए
बिछड़े हुए मिलते हैं जब बर्फ़ पिघलती है

शोहरत की बुलंदी भी पल भर का तमाशा है
जिस डाल पे बैठे हो वो टूट भी सकती है

बशीर बदर

#रात #तन्हाई #प्यार #बुलंदी #रंग #याद #दिल

हम करें बात दलीलों से तो रद्द होती है उस के होंटों की ख़मोशी भी सनद होती है साँस लेते हुए इंसाँ भी हैं लाशों की तरह अब ध...
16/04/2025

हम करें बात दलीलों से तो रद्द होती है
उस के होंटों की ख़मोशी भी सनद होती है

साँस लेते हुए इंसाँ भी हैं लाशों की तरह
अब धड़कते हुए दिल की भी लहद होती है

जिस की गर्दन में है फंदा वही इंसान बड़ा
सूलियों से यहाँ पैमाइश-ए-क़द होती है

शो'बदा-गर भी पहनते हैं ख़तीबों का लिबास
बोलता जहल है बद-नाम ख़िरद होती है

कुछ न कहने से भी छिन जाता है एजाज़-ए-सुख़न
ज़ुल्म सहने से भी ज़ालिम की मदद होती है

मुज़फ़्फ़र वारसी

مسلسل بے کلی دل کو رھی ھےمگر جینے کی صورت تو رھی ھےمیں کیوں پھرتا ھوں تنہا مارا مارایہ بستی چین سے کیوں سو رھی ھےچلے دل ...
15/04/2025

مسلسل بے کلی دل کو رھی ھے
مگر جینے کی صورت تو رھی ھے

میں کیوں پھرتا ھوں تنہا مارا مارا
یہ بستی چین سے کیوں سو رھی ھے

چلے دل سے امیدوں کے مسافر
یہ نگری آج خالی ھو رھی ھے

نہ سمجھو تم اسے شورِ بہاراں
خِزاں پتّوں میں چھپ کر رو رھی ھے

ھمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ
اُداسی بال کھولے سو رھی ھے

ناصر ؔ کاظمی

07/03/2025

میر خورشید علی نفیسؔ کے مرثیے سے مکالمہ نگاری کی ایک بہترین مثال

مکالمہؑ حرؓ ِ جری و پسر سعد لعیں

کہا شقی نے کہ مالک ترا یزید نہیں ؟
جواب حرؓ نے دیا وہ ہے مُرتد و بے دیں
شراب خور ، سیہ کار ، بدشعار لعیں
غلام اس کا ہوں جو ہے شہؑ زمان و زمیں
امام ِ وقت ہے الله کا شناسا ہے
حسینؑ احمدﷺ مختار کا نواسا ہے

کہا لعیں نے کہ دنیا کی دولتوں کو نہ چھوڑ !
کہا جری نے کہ منھ اپنا راہِ دیں سے نہ موڑ
کہا سُخن کو مرے سن دلِ یزید نہ توڑ
کہا حرؓ نے کہ توبہ کر اپنے کان مروڑ
وہ بولا چھوڑے جو حاکم کو اپنے احمق ہے !
پکارا حرؓ کہ وہ عاقل ہے جو سُوئے حق ہے

کہا یہ اس نے اِدھر مال و ملک و جاہ نہیں ؟
کہا یہ حرؓ نے کہ واں جمع ہے خزانہِ دیں
وہ بولا چین اِدھر ہے اُدھر نہیں ہے کہیں !
صدا دی حرؓ نے کہ ہے اس طرف بہشتِ بریں
کہا شقی نے کہ دریا اِدھر ہے لشکر ہے
یہ بولا فوج خدا واں ہے نہرِ کوثر ہے

کہا کہ جاتا ہے کیوں شہِؑ تشنہ لب کی طرف
پکارا حرؓ پئے خوشنودئ امیرؑ ِ نجف
کہا یہ اس نے کہ واں تیری جاں ہوگی تلف!
کہا ملے گا شہادت کا مجھ کو عز و شرف
وہ بولا خلعت و زر تجھ کو آج دوں گا میں
پکارا حرؓ کہ ارے ! سلطنت نہ لوں گا میں

کہا شقی نے مجھ سے عبث بگڑتا ہے ؟
یہ بولا دولتِ فانی پہ تو اکڑتا ہے
کہا کہ تیغ کے قبضے کو کیوں پکڑتا ہے
کہا کہ خلفِ مصطفیٰﷺ سے تو لڑتا ہے
کہا بچیں گے نہ شہؑ دیکھ لیجو دور ہے کیا
جری پکارا کہ شبیرؑ کا قصور ہے کیا

کہا کہ جائے گا کیا جانبِ حسینؑ ضرور ؟
کہا خدا کی قسم میں ہوں اور ظّلِ حضورؑ
کہا یقیں نہیں تو نے بھی تو کیا ہے قصور ؟
کہا کہ دیکھ ہی لیجو نہ میں نہ شاہ ہیں دور
کہا نہ وہ بھی تری اب خطائیں بخثیں گے
کہا حسینؑ مری سب خطائیں بخشیں گے

🍁نیاز احمد نامی سیتاپوری🍁مولوی سید نیاز احمد متخلص بہ نامیؔ سیتاپوری کی ولادت 4 رمضان المبارک 1271 ہجری بروز یکشنبہ بمقا...
06/03/2025

🍁نیاز احمد نامی سیتاپوری🍁

مولوی سید نیاز احمد متخلص بہ نامیؔ سیتاپوری کی ولادت 4 رمضان المبارک 1271 ہجری بروز یکشنبہ بمقام سیتاپور ہوئی۔ آپکے والد سید وزیر علی مرحوم تھے۔ آپکے جد سید شاہ فتح اللّٰه کنّیت سید ابو الفتح عرف شیخ فتّن تھے جو جونپور سے آکر سیتاپور میں مسکن پذیر ہوئے اور سیتاپور میں محلّہ سرائے فتّن (فتّن سرائے) اپنے نام سے آباد کیا۔ آپکا سلسلہ نسب تینتیس (33) واسطوں سے جناب صادق آل محمد حضرت امام جعفر ابن محمد الصادق علیہ السلام سے ملتا ہے۔ آپکے جو حالات حاصل ہو سکے اُن سے واضح ہے کہ وطن خاص سیتاپور تھا لیکن آپ بسلسلہ ملازمت زیادہ تر بھوپال میں رہتے تھے۔ وہاں بعہدۂ تحصیلدار ریاست عالیہ بھوپال میں ممتاز رہے۔ شکار کا بہت شوق تھا اور خصوصیت کے ساتھ شیر کا شکار بہت کرتے تھے۔ اور اُنکے سر کٹواکر مصالحہ (پلاسٹر) سے بنواکر اپنے کمرے میں آویزاں فرماتے تھے۔ وطن میں رہنے کا کم اتفاق ہوتا تھا۔ آپ انتہائی قابل و لائق اور علم دوست، نہایت وجیہہ اور رعب و داب کے بلند قامت بزرگ تھے۔ آپکا ایک دیوان تھا جو اب موجود نہیں۔ آپ صاحبِ تصنیف بھی ہیں۔ آپکی تصنیفات میں کلیاتِ نامیؔ (دیوان)، تحقیقِ طاعون (مطبوعہ)، تذکرۂ شعرائے بھوپال، قبلہ نما (مسدس دراحوال سفر حج سلطان جہاں بیکم والیہ ریاست بھوپال، مطبوعہ)، کتابِ اتحاد شیعہ و سنی اور تین (3) مراثی ہیں جنکے مطلع حسبِ ذیل ہیں۔

1۔ واہ کیا حُرِّ دلاور نے مقدر پایا - در حال جناب حر (125 بند)
2۔ آج نظّارۂ اسرارِ خدا ہے منظور - در حال جناب رسولِ خدا (90 بند)
3۔ یا رب شعاعِ مہرِ طبیعت بلند کر - در حال
امام حسین (150 بند)

بہت تلاش کے بعد آپکے مرثیہ، جو جناب حر علیہ سلام کے حال کا ہے، کا ایک نُسخہ بخط زائرؔ سیتاپوری مرحوم حاصل ہوا ہے لیکن اُسمیں مقطع سمیت صرف 86 بند لکھے ہیں جبکہ سید ارتضی عبّاس صاحب نے اپنے شمارے میں اس مرثیہ میں بند کی تعداد 125 بتائی ہے۔ حالانکہ مرثیہ کے مطالعہ کے بعد یہ لگتا ہے کہ شاید کچھ بند نہیں لکھے ہیں۔ واللہ لعالم
بحر حال چند بند اُس مرثیہ کے یہاں درج کیے جاتے ہیں :

واہ کیا حر دلاور نے مقدر پایا
سروری چھوڑی تو شبّیر سا افسر پایا
راہ بھولا تھا مگر خضر کو راہبر پایا
گھر کو چھوڑا دلِ حضرت میں عجب گھر پایا
حر کی کیا شان ہے بندے کی سعادت دیکھو
گھر میں اللہ کے جا پائی یہ قسمت دیکھو

اے خہے اوج خوشا بخت زہے اُسکے نصیب
جس قدر دور ہوا راہ سے اُتنا ہی قریب
شاہ سے عالمِ غربت میں ملا آ کے غریب
ہو گیا ربِ دو عالم کے حبیبوں کا حبیب
دیکھا آنکھوں سے اثر یہ مژه پُرنم کا
صبح ہوتے ہوئے قسمت کا ستارہ چمکا

ہے جو طینت میں صفائی تو عیاں ہوگی ضرور
مہر پر ابر جو آ جائے تو کیا اُسکا قصور
نقص کیا، ہے جو چراغِ تہ دامن مشہور
گرد میں اٹ کے جواہر کا نہ دیکھا کم نور
ہوئی تلوار پہ صیقل تو جلا صاف ہے پھر
رنگ جب دور ہوا آئنہ شفّاف ہے پھر

حر نے اک شاہ کے پانے سے نہ کیا کیا پایا
حشر میں جد کی شفاعت ملی، دنیا میں وفا
عزتِ پیشِ خدا، فاطمہ زہرا کی دعا
خلد میں قصرِ گہر، سایہ نخلِ طوبی
جسم نے خاکِ شفا، روح نے جنّت پائی
نام نے نیک صفت، ذکر نے عزت پائی

امام حسین علیہ السلام کی اپنے رفقا کے ساتھ
آمد کا منظر کھینچتے ہوئے کہتے ہیں :

ناگہاں گرد اُڑی دور سے ریتی کی طرف
غل ہوا آتے ہیں رن میں پسرِ شاہِ نجف
سب عزیز و رفقا ساتھ ہیں شمشیر بکف
وہ علم کھولے ہے آگے شہ مرداں کا خلف
جن کے جد کے لیے آیا تھا براق، آتے ہیں
شور ہے مہرِ عرب ماہِ عراق آتے ہیں

بائیں جانب علی اکبر کے برابر نوشاہ
ساتھ ہیں عون و محمد بھی بصد عزت و جاہ
تیغيں تولے ہوئے مسلم کے پسر ہیں ہمراہ
کچھ جواں آگے، سپر اونچی ہے نیچی ہے نگاہ
کچھ ہیں انصار، فدا ہونے کو مضطر ہیں سب
بس یہ لشکر ہے کہ گنتی میں بہتّر ہیں سب

جناب حر علیہ السلام کی زبانی امام حسین
علیہ السلام کی توصیف :

بخدا احمدِ مرسل کے جگر ہیں یہ حسین
راحتِ روحِ شہ جن و بشر ہیں یہ حسین
سیدہ فاطمہ زہرا کے پسر ہیں یہ حسین
آج مجبور ہیں اور تشنہ جگر ہیں یہ حسین
کہہ سکے کون کہ ہاں صبر کا جادہ چھوڑا
ورقِ دفترِ تسلیم نہ سادہ چھوڑا

اِس بیت میں جناب حر اور اُنکے اصحاب کی خیام حسینی کی جانب آمد کا مضمون باندھا ہے، ملاحظہ ہو :

جن وفاداروں کو تھا پاسِ نمک، جاتے ہیں
دیکھو دربارِ محمد میں ملک جاتے ہیں

جناب حر علیہ السلام اور اُنکے رفقا کا امام عالی مقام
سے جنگ کی رضا ملنے کے بعد میدان میں آنا

پائے حضرت سے اٹھایا حر ذی جاہ نے سر
باری باری ہوئے پابوس یگانے بڑھکر
پیچھے ہٹ ہٹ کے چڑھے گھوڑوں پہ چاروں صفدر
پودے باگوں کے اٹھاتے ہی چلے مثلِ نظر
گرد قربان ہوئی جاتی تھی اسواروں کے
ذرّے اُٹھ اُٹھ کے قدم لیتے تھے رہواروں کے

جام ایمان کے لبریز کیے چاروں نے
گرم رو راہ پہ شبدیز کیے چاروں نے
نرم دوڑا کے فرش تیز کیے چاروں نے
اور گرمائے تو مہمیز کیے چاروں نے
گھوڑے اُن چاروں کے بھر بھر کے طرارے اُترے
صبح کو شام کے بادل میں ستارے اُترے

جنگ کا ایک بند ملاحظہ ہو :

کاٹیں زرہیں بھی جو خودِ سرِ پرفن کاٹے
اور چار آئینہ و شانہ و جوشن کاٹے
کاٹھیاں گھوڑوں کی اسواروں کے تن من کاٹے
پہلواں کاٹے تھے یا تودۂ آہن کاٹے
جو سناں چمکی وہ میدان میں اُڑتے دیکھی
کوئی چلتی ہوئی تلوار نہ مُڑتے دیکھی

مقطع
اے خدا وندِ جہاں سید و مولائے کریم
دِل پژمُردۂ نامیؔ سے ہے تو خوب علیم
اب گناہوں سے میرا حال نہایت ہے سقیم
رحم دنیا میں اور عُقبی میں کر اے ربِ کریم
آس مایوس کی مجرم کا سہارا تو ہے
ہم ترے عبد ہیں معبود ہمارا تو ہے

اسی نسخے کے آخر میں آپکا ایک سلام بھی لکھا ہے
جسکے چند اشعار درج ذیل ہیں :

گر غمِ شبّیر دُرجِ دیدۂ تر کھول دے
ناخنِ تقدیر عقدِ سلکِ گوہر کھول دے
عکس کا پردہ خیالِ روئے اکبر کھول دے
جوہرِ آئینہ خود رمزِ سکندر کھول دے
قبر کے منھ سے صدا آتی ہے آئے بوتراب
بندۂ مومن اب آنکھیں زیرِ چادر کھول دے
کاتبِ اعمال اجرِ گریہ اب ملنے کو ہے
ہے یہی موقع گناہوں کا بھی دفتر کھول دے
حر جو آیا دست بستہ بولے شہ عبّاس سے
ہاتھ اس کے جلد اے دلبندِ حیدر کھول دے
دی صدا روح الامیں نے فتح تیرے ہاتھ ہے
اے خدا کے ہاتھ بڑھکر بابِ خیبر کھول دے
چھن رہی ہے چادرِ زینب اِدھر دیکھ اے فلک
اِس پہ تو راضی ہے بنتِ فاطمہ سر کھول دے
زیرِ خنجر کیسے دیکھے جب گوارا یہ نہ ہو
تکمۂ بندِ قبائے تنگ مادر کھول دے
یا علی جنّت میں دق الباب نامیؔ جب کرے
مسکرا کر آپ فرمائیں کہ قنبر کھول دے

اس نسخے کے آخر میں یہ عبارت درج ہے:
تمام شُد مرثیہ ہذا بتاریخ 3 مئی 1931 مطابق 14 ذی الحجہ 1349 ہجری بروز یکشنبہ بمقام قیصر باغ دولت کدہ مہاراجہ صاحب بہادر محمودآباد لکھنئو بقلم زائرؔ عفی عنہ اِس مرثیہ اور اسلام کے علاوہ آپکا کلام اب تک حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ لیکن جس طرح اس مرثیہ کے حصول کے ذرائع پیدا ہوئے، انشاء اللہ اُمید ہے کہ آپکا مکمل کلام منظرِ عام پر آئیگا۔ مزید یہ کہ اگر کوئی بندہ مومن استعانت کی نیت کر لے تو یہ امر مشکل سہل ہو جائیگا چونکہ یہ مرثیہ بھی ایک بندہ مومن کی بروقت عنایت کا ثمر ہے۔ لہٰذا اس تحریر کے ذریعے قارئین سے یہ التماس ہے کہ اس بستی کے بزرگان مرحومین کا کلام کسی بھی شکل میں اگر موجود ہو تو اُسکی فراہمی کی سبیل کریں تاکہ اُن بزرگان کی محنت رائیگاں نہ جائے۔ یوں تو اِس عبادت توصیف مدح آل محمد کا اجر انشاء اللہ اُنکو بارگاہِ خدا وندی سے ملیگا۔

آپکی وفات بتاریخ 16 شعبان المعظم 1329 ہجری مطابق 1911 عیسویں ہوئی۔ آپ لکھنؤ میں علیل ہوئے اور وہیں انتقال فرماکر کربلا عیش باغ میں جوار رحمت میں آرام فرما رہے ہیں۔
بحوالہ
"شجرات طیبات" مولفہ سید ظہور الحسن فروغؔ سیتاپوری۔
"تذکرہ اربابِ کمال" مولفہ سید محمد اکبر عادلؔ سیتاپوری۔
قلمی تصویر : بدست سید محمد اکبر عادلؔ سیتاپوری۔

مرتبہ : اطہرؔ رضوی عفی عنہ

Address

Jaunpur

Telephone

+9615161272

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when S.baqer mehdi abidi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to S.baqer mehdi abidi:

Share