Shah Ji

Shah Ji مل تو رہے ہیں آپ بڑی عقیدت سے
خوف آتا ہے مجھے اس محبت سے

29/05/2026

مطلب سے ہمیں مل، یا محبت سے ہمیں مل.

18/05/2026

بحال کر دے مراسم یا توڑ دے یکسر۔۔
يه درمیاں کی اذیّت سے اب نکال مُجھے ۔۔۔

10/05/2026
🔥 چین نے اپنا نیا اسٹیلتھ فائٹر جیٹ دنیا کے سامنے پیش کر دیا… اور پاکستان اس کا پہلا خریدار بننے جا رہا ہے!جی ہاں، خبریں...
08/05/2026

🔥 چین نے اپنا نیا اسٹیلتھ فائٹر جیٹ دنیا کے سامنے پیش کر دیا… اور پاکستان اس کا پہلا خریدار بننے جا رہا ہے!

جی ہاں، خبریں ہیں کہ پاکستان نے چین کے جدید Shenyang J-35A اسٹیلتھ فائٹر جیٹس خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ قدم بھارت کے Dassault Rafale رافیل طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ J-35A کو امریکہ کے مشہور Lockheed Martin F-35 Lightning II کے نسبتاً سستے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ جدید ریڈار سسٹمز سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری طرف بھارت پہلے ہی 36 رافیل حاصل کر چکا ہے، جبکہ مزید 114 جنگی طیاروں کی تیاری اور خریداری کا منصوبہ بھی چل رہا ہے۔ بھارتی بحریہ نے بھی الگ سے رافیل (M) ویریئنٹ آرڈر کیے ہیں۔ یعنی آنے والے چند برسوں میں جنوبی ایشیا کی فضاؤں میں طاقت کا توازن پہلے جیسا نہیں رہے گا۔

اب سوال یہ ہے👇

کیا چین واقعی دفاعی ٹیکنالوجی میں امریکہ اور فرانس کے برابر آ چکا ہے؟
یا پھر اس کے ہتھیار صرف “کاغذی طاقت” ہیں جن کا اصل امتحان ابھی باقی ہے؟

کیونکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ چینی دفاعی مصنوعات اب تک کسی بڑے عالمی جنگی محاذ پر کھل کر آزمائی نہیں گئیں۔ اسی لیے دنیا ابھی بھی امریکی، فرانسیسی اور روسی ٹیکنالوجی کو زیادہ آزمودہ مانتی ہے۔

لیکن ایک بات طے ہے…
پاکستان اس وقت ہر عالمی طاقت کے مفادات اور حالات کا فائدہ اٹھا کر اپنی فضائی طاقت تیزی سے بڑھا رہا ہے۔

امریکہ سے F-16…
چین سے J-35A…
اور دوسری طرف بھارت مسلسل رافیل اور مقامی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

جنوبی ایشیا اب صرف سرحدوں کی جنگ نہیں…
“ٹیکنالوجی کی جنگ” میں داخل ہو چکا ہے۔ ⚔️

آپ کے خیال میں آنے والے وقت میں فضائی برتری کس کے پاس ہوگی؟
پاکستان 🇵🇰
یا بھارت 🇮🇳 ؟

"میں ابھی مرا نہیں ہوں..."لندن کی ٹھنڈی ہوا میں، پارلیمنٹ اسکوائر کے کنارے چلتے ہوئے اچانک ایک نظر ٹھہر جاتی ہے… سامنے ا...
25/04/2026

"میں ابھی مرا نہیں ہوں..."

لندن کی ٹھنڈی ہوا میں، پارلیمنٹ اسکوائر کے کنارے چلتے ہوئے اچانک ایک نظر ٹھہر جاتی ہے… سامنے ایک خاموش مگر جیتی جاگتی موجودگی — گاندھی۔

حیرت ہوتی ہے۔
وہ شخص، جس نے برطانوی سلطنت کے سب سے قیمتی تاج—ہندوستان—کو اس کے سر سے اتار دیا…
آج اسی سلطنت کی پارلیمنٹ کے سامنے، ایک باوقار مجسمے کی صورت میں کھڑا ہے۔

یہ محض ایک مجسمہ نہیں… یہ تاریخ کا اعتراف ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اپنے ہی وطن میں گاندھی کو کم تر ثابت کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، دنیا اسے اور زیادہ سمجھ رہی ہے… اپناتی جا رہی ہے۔

کیونکہ گاندھی صرف ایک قوم کا لیڈر نہیں تھا…
وہ ایک فکر ہے… ایک راستہ… ایک طرزِ حیات۔

اس کی باتوں میں سچائی تھی، اس کے عمل میں صبر تھا، اور اس کی جدوجہد میں انسانیت۔
یہی وہ صفات ہیں جو بدھ اور عیسیٰ کے پیغام سے جڑتی ہیں — ایک مسلسل روایت۔

دنیا نے جنگیں دیکھیں، نفرتیں جھیلیں، اور جب تھک گئی…
تو اسے پھر وہی راستہ یاد آیا — عدم تشدد، سچائی، اور انسانیت کا۔

گاندھی کی سب سے بڑی طاقت یہ تھی کہ وہ کسی کو خوفزدہ نہیں کرتا تھا۔
تم اس سے اختلاف کر سکتے ہو، اس پر تنقید کر سکتے ہو، اسے رد بھی کر سکتے ہو۔

لیکن…
تم اس سے بچ نہیں سکتے۔

کیونکہ جب بھی انسان نفرت، تشدد اور انتقام کے راستے پر آگے بڑھتا ہے…
کچھ فاصلے کے بعد خون کی بو اسے واپس لوٹا دیتی ہے۔

اور وہی پر…
گاندھی کھڑا ملتا ہے۔

وہ کہتا ہے:
ہتھیار مت اٹھاؤ… خود کو اٹھاؤ۔

ایک عام، ڈرا ہوا انسان… جو لڑائی سے گھبراتا ہے،
وہی جب سچ بولنے لگتا ہے، ظلم کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے —
تو وہی سب سے بڑی طاقت بن جاتا ہے۔

چرکھا، نمک، سادہ کپڑا…
یہ سب معمولی چیزیں تھیں،
مگر گاندھی نے انہیں انقلاب کی علامت بنا دیا۔

اور جب جیل جانا جرم نہیں، بلکہ فخر بن جائے…
تو پھر کوئی سلطنت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔

اسی اسکوائر میں ایک اور مجسمہ بھی ہے — چرچل کا۔
وہ شخص جس نے جنگ جیتی، سلطنت بچائی…
مگر بنگال کے قحط میں لاکھوں کو بھوکا مرنے دیا۔

جب اس تباہی کی خبر اس کے پاس پہنچی،
تو اس نے ایک سوال کیا تھا:
"گاندھی ابھی تک مرا کیوں نہیں؟"

مگر…
گاندھی مرا نہیں۔

وہ پھیل گیا…
سرحدوں سے باہر، دلوں کے اندر۔

آج برطانیہ سکڑ چکا ہے…
اور گاندھی دنیا کے کونے کونے میں زندہ ہے۔

کوششیں آج بھی ہو رہی ہیں کہ اسے مٹا دیا جائے…
مگر وہ ہلتا نہیں۔

وہ خاموشی سے دیکھتا ہے…
اور جیسے مسکرا کر کہتا ہے:

"نہیں… میں ابھی مرا نہیں ہوں۔"

“نئے دور میں ایک نیا دھندا شروع ہوا ہے…جہاں نہ جسم بکتا ہے… نہ ویڈیوز…بلکہ لوگوں کے جذبات نیلام ہوتے ہیں…”اور سب سے خطرن...
24/04/2026

“نئے دور میں ایک نیا دھندا شروع ہوا ہے…
جہاں نہ جسم بکتا ہے… نہ ویڈیوز…
بلکہ لوگوں کے جذبات نیلام ہوتے ہیں…”

اور سب سے خطرناک بات؟

اس میں وہ لوگ پھنس رہے ہیں…
جو خود کو “محفوظ” سمجھتے ہیں۔

یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے
جس نے کبھی اپنی کوئی غلط تصویر شیئر نہیں کی…

نہ کوئی bold photo…
نہ کوئی cheap chat…

وہ صرف ایک لڑکے سے Instagram پر ملی تھی۔

وہ لڑکا مختلف تھا…

کیونکہ وہ ویسا نہیں تھا
جیسا عام لڑکے ہوتے ہیں۔

نہ flirting…
نہ late night demand…
نہ “send pic” والے message…

وہ صرف سنتا تھا…

اور یہی چیز
سب سے بڑا جال نکلی۔

چند ہفتوں میں…
وہ لڑکی اپنی زندگی اُس کے ساتھ share کرنے لگی۔

اپنی آواز…
اپنی کمزوریاں…
اپنے آنسو…

وہ ہر بار کہتا تھا:

“تم مجھ پر trust کر سکتی ہو…”

اور اُس نے کر لیا۔

لیکن اصل کہانی یہاں شروع ہوتی ہے…

ایک دن ایک message آیا:

“تمہاری بولی لگ رہی ہے…”

پہلے تو یہ مذاق لگا…

مگر جب screenshots کھولے گئے…

تو ایک دنیا سامنے آئی…

ایک private Telegram group…

جہاں لوگ نہ اُس کی شکل پر comment کر رہے تھے…
نہ اُس کے جسم پر…

بلکہ اُس کے جذبات پر۔

“آج یہ بہت کمزور لگ رہی ہے…”
“کل شاید یہ ٹوٹ جائے…”
“اسے اور emotionally push کرو…”

اور یہ سب upload کون کر رہا تھا؟

وہی لڑکا…

جس نے کبھی اُس سے کچھ مانگا بھی نہیں تھا۔

جب اُس سے پوچھا گیا…

تو اُس کا جواب صرف ایک جملہ تھا:

“لوگ اب جسم نہیں خریدتے…
وہ original feelings خریدتے ہیں…”

یہ سن کر…

ایک بات سمجھ آ گئی…

مسئلہ “غلط لوگوں” کا نہیں رہا…
مسئلہ اُن لوگوں کا ہے
جو صحیح بن کر آپ کی زندگی میں آتے ہیں۔

یاد رکھئے…

ہر وہ شخص جو آپ سے کچھ مانگتا نہیں…
وہ ضروری نہیں کہ بے لوث ہو…

کبھی کبھی…
وہ آپ سے سب کچھ لے رہا ہوتا ہے…
بس آپ کو پتہ نہیں چلتا۔

اس کہانی کو یہیں مت روکیں…

اسے آگے پہنچائیں…

کیونکہ اگلی بار
یہ کہانی کسی اور کی نہیں…

آپ کے اپنے کسی قریب کی بھی ہو سکتی ہے۔

کوشش کریں…

کہ کسی کی معصومیت…
کسی کا اعتماد…
کسی کے جذبات…

بازاروں میں نیلام ہونے سے پہلے
ہم اسے بچا لیں۔

ایک روز ایک محفلِ فکر کے بعد، جب شمعیں بجھ چکی تھیں اور موم زمین پر پھیلا ہوا تھا، ایک سادہ سا صفائی کرنے والا وہاں جھاڑ...
21/04/2026

ایک روز ایک محفلِ فکر کے بعد، جب شمعیں بجھ چکی تھیں اور موم زمین پر پھیلا ہوا تھا، ایک سادہ سا صفائی کرنے والا وہاں جھاڑو لگا رہا تھا۔

اس نے پوچھا:
“حضور! یہ اتنی شمعیں کیوں جلائی گئیں؟”

جواب ملا:
“کل رات یہاں بڑے بڑے اہلِ دانش جمع تھے… ایک مسئلہ زیرِ بحث تھا، مگر فیصلہ نہ ہو سکا…”

سادہ دل نے پوچھ لیا:
“آخر مسئلہ کیا تھا؟”

کہا گیا:
“ہم اس پر غور کر رہے تھے کہ ایک ‘مثالی گھوڑے’ کے کتنے دانت ہوتے ہیں…”

وہ ہنس پڑا:
“حضور! نیچے اصطبل میں گھوڑے بندھے ہیں، جا کر گن لیتے… اتنی محنت اور شمعیں جلانے کی کیا ضرورت تھی؟”

یہاں کہانی ختم ہو سکتی تھی…
اور نتیجہ یہی نکلتا کہ عام آدمی بعض مسائل کتنی آسانی سے حل کر لیتا ہے۔

مگر اصل بات ابھی باقی ہے—

افلاطون نے نہایت ٹھہراؤ سے کہا:
“اگر وہ گھوڑا بچہ ہو؟ یا بوڑھا ہو؟ دانت کم ہوں گے…
اگر بیمار ہو یا کسی نقص میں مبتلا ہو؟
پھر نسلوں کا فرق—عربی، افغانی، ہسپانوی…
کیا سب میں دانت ایک جیسے ہوں گے؟
اور سب سے بڑھ کر—‘مثالی گھوڑا’ کسے کہیں گے؟”

یہ سن کر وہ سادہ آدمی کچھ الجھ سا گیا…

بولا:
“مگر حضور! ہمیں تو بس گھوڑے پر بیٹھ کر کہیں پہنچنا ہے…
اتنی گہرائی میں جانے کی کیا ضرورت؟”

تب جواب آیا:
“بالکل… تمہارا مقصد صرف پہنچنا ہے،
اس لیے تمہیں یہ سب جاننے کی حاجت نہیں…

مگر جب یہی فلسفہ معیار بنے گا،
تو بادشاہ بہترین گھوڑے خریدے گا…
جنگیں جلد جیتی جائیں گی…
کم جانیں ضائع ہوں گی…
پیغام تیزی سے پہنچے گا…
اور ریاست کا سرمایہ بھی بچے گا…”

پھر نرمی سے کہا گیا:
“اسی لیے بعض اوقات فلسفہ عوامی سہولت کے لیے نہیں،
بلکہ آنے والے وقتوں کی بہتری کے لیے ہوتا ہے…”


سوچنے کی بات یہ ہے—
ہم صرف منزل تک پہنچنے والے ہیں؟
یا راستہ بہتر بنانے والوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں؟

دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں خاموشی بھی خطرے کی علامت لگتی ہے…خبریں بظاہر الگ الگ نظر آتی ہیں، لیکن اگر ان ک...
31/03/2026

دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں خاموشی بھی خطرے کی علامت لگتی ہے…

خبریں بظاہر الگ الگ نظر آتی ہیں، لیکن اگر ان کے دھاگوں کو جوڑا جائے تو ایک بڑی تصویر سامنے آتی ہے—ایک ایسی تصویر جس میں طاقت، دباؤ، مفادات اور عالمی سیاست کی سرد جنگ جھلکتی ہے۔

کیوبا… ایک چھوٹا سا ملک، لیکن اس وقت عالمی طاقتوں کے کھیل کا مرکز بن چکا ہے۔

تیل پر پابندیاں، سپلائی لائنز کا کٹ جانا، اور معیشت کا دم گھٹنا—یہ سب صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ ہسپتال جنریٹرز پر چل رہے ہیں، مریض اپنی باری کے انتظار میں کمزور ہوتے جا رہے ہیں، اور وہ گاڑیاں جو زندگی کو حرکت دیتی تھیں—کچرا اٹھانے سے لے کر خوراک پہنچانے تک—آج ایندھن کی کمی سے ساکت کھڑی ہیں۔

رات کے وقت جب سیٹلائٹ تصاویر میں آدھا کیوبا اندھیرے میں ڈوبا نظر آتا ہے، تو یہ صرف بجلی کا مسئلہ نہیں ہوتا…
یہ ایک ملک کی خاموش چیخ ہوتی ہے۔

یہ سب کچھ ہمیں ایک سوال کی طرف لے جاتا ہے:
کیا عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں؟

اسی دوران بیانات کا لہجہ بھی سخت ہوتا جا رہا ہے۔ طاقت کے اظہار میں بعض اوقات الفاظ بھی ہتھیار بن جاتے ہیں—اور یہی الفاظ ماحول کو مزید کشیدہ کر دیتے ہیں۔

مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی…

یہ تو بس آغاز ہے ایک بڑے منظر کا، جس میں اگلا قدم کسی بھی سمت جا سکتا ہے۔

اسی کشیدہ فضا میں ایک اور منظر سامنے آتا ہے—روس کا ایک واضح اور کھلا اقدام۔

ایک آئل ٹینکر، جس پر روسی پرچم لہرا رہا ہے، کیوبا کی طرف روانہ کیا جاتا ہے۔ یہ کوئی خفیہ حرکت نہیں، بلکہ دنیا کو کھلا پیغام ہے:
"ہم پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں۔"

یہاں سے معاملہ مزید سنجیدہ ہو جاتا ہے۔

اب یہ صرف تیل کا جہاز نہیں رہا…
یہ ایک علامت بن چکا ہے—طاقت کے توازن کی، اور عالمی نظام کو چیلنج کرنے کی۔

امریکہ کے لیے یہ لمحہ ایک آزمائش بن جاتا ہے۔
ہر راستہ ایک نئی پیچیدگی کی طرف لے جاتا ہے:

اگر راستہ روکا جائے تو کشیدگی بڑھ سکتی ہے…
اگر جانے دیا جائے تو عالمی پابندیوں کی ساکھ پر سوال اٹھ سکتے ہیں…

اور اگر بیچ کا راستہ اپنایا جائے، تو وسائل اور توجہ ایک ہی مقام پر مرکوز ہو سکتی ہے—جس کا فائدہ کہیں اور کوئی اور اٹھا سکتا ہے۔

یہی عالمی سیاست کی حقیقت ہے—
یہاں فیصلے صرف "صحیح" یا "غلط" نہیں ہوتے، بلکہ "کم نقصان دہ" ہوتے ہیں۔

ایسے میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایران اور اسرائیل کی کشیدگی، اور دیگر عالمی تنازعات—سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

ایک جگہ کی ہلکی سی جنبش، دوسری جگہ زلزلہ لا سکتی ہے۔

لیکن اس سارے منظر میں ایک بات سب سے اہم ہے:
عام انسان…

جو نہ پالیسی بناتا ہے، نہ جنگ چنتا ہے، مگر ہر بار اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ہر خبر کو جذبات کے بجائے شعور کی آنکھ سے دیکھیں،
کیونکہ سچ ہمیشہ سادہ نہیں ہوتا—اور ہر کہانی کے کئی رخ ہوتے ہیں۔

دعا یہی ہے کہ دنیا تصادم کے بجائے تدبر کا راستہ اختیار کرے…
کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ یہی سکھایا ہے کہ جنگ جیتنے والے بھی آخرکار کچھ نہ کچھ ہار جاتے ہیں۔

— شاہ جی

27/03/2026

اگر آج نماز چھوڑ دی… تو کیا پتا کل موقع ملے یا نہ ملے؟ 😔
گھر سے شروع ہونے والا یہ سفر…
آپ کو حرم تک بھی لے جا سکتا ہے 🕋🤍
نماز کو معمول بنا لو…
کیونکہ کامیابی اسی میں ہے۔
🤲 یہ صرف ویڈیو نہیں، ایک یاد دہانی ہے…
📌 کسی اپنے کو ضرور شیئر کریں — شاید اس کی زندگی بدل جائے

اللہ کے بندو! اللہ کا خوف کرو۔آج کل سوشل میڈیا پر ایک عجیب رجحان بڑھتا جا رہا ہے—ڈراموں کے کرداروں کو AI کے ذریعے اس طرح...
23/03/2026

اللہ کے بندو! اللہ کا خوف کرو۔

آج کل سوشل میڈیا پر ایک عجیب رجحان بڑھتا جا رہا ہے—
ڈراموں کے کرداروں کو AI کے ذریعے اس طرح پیش کیا جا رہا ہے جیسے وہ کوئی مقدس اور حقیقی خاندان ہوں۔

ایک ڈرامہ صرف کہانی ہوتا ہے،
اس کے کردار اداکار ہوتے ہیں،
ان کی “نیکی” اور “عظمت” اسکرپٹ کا حصہ ہوتی ہے—حقیقت نہیں۔

Kuruluş Osman جیسے ڈراموں کے کرداروں کو لے کر،
انہیں Al-Masjid an-Nabawi کے پس منظر میں دکھانا،
اور ایک پاکیزہ اسلامی خاندان کا تاثر دینا—
کیا یہ اخلاقی طور پر درست ہے؟

کیا یہ مناسب ہے کہ نا محرم افراد کو اس انداز میں پیش کیا جائے
کہ دیکھنے والا اسے ایک مثالی اور مقدس رشتہ سمجھ بیٹھے؟

افسوس ان لوگوں پر بھی ہے جو بغیر سوچے سمجھے
"ماشاء اللہ" اور "سبحان اللہ" کے تبصرے کر دیتے ہیں—
حالانکہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔

دین داری صرف جذبات کا نام نہیں،
بلکہ شعور، سچائی اور ذمہ داری کا نام ہے۔

آئیں! سوشل میڈیا پر بھی سچ کو پہچانیں،
اور ہر خوبصورت نظر آنے والی چیز کو حق نہ سمجھیں۔

Address

Noida
201301

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shah Ji posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shah Ji:

Share