07/09/2026
ایک دلچسپ خبر ہے۔
خبر یہ ہے کہ پاکستان میں کچھ دن قبل سو سال پرانا ایک مندر منہدم کر دیا گیا۔ یہ مندر پاکستان کے ضلع نارووال کے گاؤں سراج میں واقع تھا۔ اطلاعات کے مطابق 21 اگست کو مبینہ طور پر انتہاپسند عناصر نے اس مندر کو گرا دیا۔
اس واقعے کے بعد ہندوستان کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کی حکومت سے سخت احتجاج درج کرایا۔ اب خبر یہ سامنے آئی ہے کہ پاکستان حکومت کا کہنا ہے کہ مندر شدید بارش کے باعث بہہ گیا تھا۔ پاکستانی اخبار ڈان نے اس واقعے کو رپورٹ کیا، جس کے بعد پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے مندر کو دوبارہ تعمیر کروانے کی بات کہی ہے۔
اس خبر میں چار باتیں خاص طور پر اہم ہیں:
اول، پاکستان میں ہندو ایک اقلیتی برادری ہے۔
دوم، مذکورہ مندر تقریباً سو سال پرانا تھا۔
سوم، مندر کو انتہاپسند عناصر کی جانب سے گرائے جانے کی خبر پاکستانی اخبار ڈان نے شائع کی۔
چہارم، دباؤ کے بعد پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے اسے دوبارہ تعمیر کروانے کا اعلان کیا۔
اب ذرا اس کے برعکس ہندوستان کا معاملہ دیکھیے۔
ہندوستان کے سہارنپور میں ایک مسجد منہدم کی گئی ہے۔ اسے کسی مبینہ انتہاپسند گروہ نے نہیں، بلکہ خود حکومت نے منہدم کیا ہے۔ یہ مسجد بھی تقریباً سو سال پرانی بتائی جا رہی ہے۔ بڑی تعداد میں مسلمان اس کارروائی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
میڈیا کا ایک حصہ بھی حکومت کے مؤقف کے مطابق ہی خبر پیش کر رہا ہے۔ یہاں ڈان اخبار جیسی بے باک صحافت دکھائی نہیں دے رہی، اور نہ ہی حکومت کی جانب سے اس مسجد کو دوبارہ تعمیر کروانے کی کوئی یقین دہانی سامنے آئی ہے۔
اور جیسا کہ توقع تھی، پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی چند ہی دنوں کے اندر ہندوستانی حکومت کو جواب دے دیا۔ سہارنپور میں مسجد منہدم کیے جانے پر پاکستان نے ہندوستان پر ’اسلاموفوبک‘ اور ’ہندوتوا سے متاثرہ پالیسی اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے سامنے ہم آج بونے نظر آ رہے ہیں۔ ہمیں خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کا شاید کچھ بھی علم نہیں، اور چلے ہیں ’وشو گرو‘ بننے!
تحریر: بھارتی ہندی صحافی وکرم سنگھ چوہان
ہندی سے اردو ترجمہ: شاہ جی