13/04/2026
شاہپر-2: جب پاکستان کا اپنا 'خاموش شکاری' آسمان پر چھا گیا!
دوستو، اگر آپ کو لگتا ہے کہ جدید ترین مسلح ڈرونز (UCAVs) صرف امریکہ، ترکی یا چین کے پاس ہیں، تو اپنی معلومات درست کر لیں! آج ہم بات کریں گے پاکستان کے اس شاہکار کی جس نے دفاعی دنیا میں خاموشی سے ایک تہلکہ مچا رکھا ہے—اور اس کا نام ہے 'شاہپر-2' (Shahpar-II)۔ یہ محض ایک ریموٹ کنٹرول طیارہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی خود انحصاری اور ٹیکنالوجی کی بلندی کا وہ نشان ہے جس نے دشمن کے ایئر ڈیفنس سسٹمز کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔
آئیے اس ہائی ٹیک ایڈونچر کی گہرائی میں اترتے ہیں!
تصور کریں ایک ایسا شکاری جو 20 ہزار فٹ کی بلندی پر خاموشی سے پرواز کر رہا ہو، جہاں اسے عام ریڈار مشکل سے دیکھ پاتے ہیں۔ شاہپر-2 کی سب سے بڑی طاقت اس کی مقامی ٹیکنالوجی ہے۔ اسے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (GIDS) نے مکمل طور پر پاکستان میں ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔ اس ڈرون کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ صرف جاسوسی کر سکتا ہے بلکہ اپنے ساتھ 'البرق' (Burq) جیسے لیزر گائیڈڈ میزائل بھی لے کر اڑتا ہے۔ یعنی یہ ہدف کو پہلے ڈھونڈتا ہے، اس کی ایچ ڈی (HD) ویڈیو ہیڈ کوارٹر بھیجتا ہے، اور حکم ملتے ہی پلک جھپکتے میں اسے نیست و نابود کر دیتا ہے۔
شاہپر-2 کا اصلی 'جادو' اس کے اندر نصب اے آئی (AI) اور جدید سنسرز میں چھپا ہے۔ اس میں ای او/آئی آر (EO/IR) پے لوڈ نصب ہے، جو اسے رات کے گھپ اندھیرے، دھند اور بادلوں میں بھی صاف دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہ لگاتار 14 گھنٹے تک فضا میں رہ سکتا ہے، جو اسے سرحدوں کی نگرانی کے لیے ایک بہترین ہتھیار بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہماری سرحدوں پر نظر رکھنے کے لیے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں، ہمارا یہ 'ڈیجیٹل شاہین' ہی کافی ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہپر-2 صرف ایک جنگی مشین نہیں بلکہ پاکستان کی سافٹ ویئر انجینئرنگ کا کمال بھی ہے۔ اس کا کنٹرول سسٹم اور سیٹلائٹ لنک اتنا مضبوط ہے کہ اسے سیکڑوں کلومیٹر دور سے ایک بند کمرے میں بیٹھ کر کسی ویڈیو گیم کی طرح آپریٹ کیا جا سکتا ہے۔ جب یہ ڈرون پہلی بار دنیا کے سامنے آیا، تو بین الاقوامی دفاعی ماہرین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ پاکستان نے اتنی کم مدت میں ترکی کے مشہور 'بائرکتار' (Bayraktar) لیول کی ٹیکنالوجی کیسے حاصل کر لی۔
سچی بات تو یہ ہے کہ شاہپر-2 اس نئے دور کی علا