20/08/2025
سینیٹ نے پیٹرولیم ایکٹ میں ترمیم منظور کر لی
ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور ہو کر آیا ہے
وفاقی حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور رئیل ٹائم کی مدد سے پیٹرولیم مصنوعات کی ڈیجیٹل ٹریکنگ، زخائر کی نگرانی کرے گی
پیٹرولیم مصنوعات کی پیٹرول اسٹیشن، ذخیرے کی جگہ تک ترسیل کی بھی رئیل ٹائم ٹریکنگ کی جائے گی
جو غیر قانونی طور پر پیٹرول امپورٹ ، ٹرانسپورٹ، ذخیرہ ، ریفائین یا بلینڈ کرے گا اسے دس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا
جرم دہرانے پر پچاس لاکھ روپے جرمانہ ہوگا
لائسنس کے بغیر پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ یا فروخت کرنے پر مشینری، مواد ، سٹوریج ٹینک اور پیٹرولیم مصنوعات کو ڈپٹی کمشنر ضبط کر لے گا، مالک کو ایک کروڑ روپے جرمانہ ہوگا
اگر لائسنس زائد المیاد یا منسوخ ہو جائے تو چھ ماہ کا گریس پیریڈ دیا جائے گا
محکمہ ایکسپلوسو درخواست پر ایک ماہ میں لائسنس کی تجدید کرے گا ، تاخیر پر افسر وجوہات بیان کرے گا
لائسنس کی تجدید نہ ہونے پر سیکرٹری پیٹرولیم ڈویژن کے پاس اپیل دائر کی جا سکے گی
لائسنس یافتہ اگر سمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات کو ذخیرہ یا فروخت کرنے میں ملوث پایا گیا تو اس کی سٹوریج کو بند کر دیا جائے گا
سمگل شدہ پٹرول فروخت کرنے پر تمام مشینری، سامان، مواد ، سٹوریج ٹینک اور پیٹرولیم مصنوعات ضبط کر لی جائیں گی، 100 ملین جرمانہ ہوگا اور لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا
پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ میں ملوث ٹرانسپورٹ کو ضبط کر لیا جائے گا
متاثرہ شخص عدالت سے رجوع کر سکے گا،بل
بل کے اغراض و مقاصد
پیٹرولیم کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے ائی ٹی ٹریکنگ شامل کی جا رہی ہے
پیٹرولیم کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے غیر قانونی ٹرانسپورٹیشن یا صفائی کرنے پر سخت ایکشن لیا جائے گا
غیر قانونی پیٹرول پمپس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی
غیر قانونی پیٹرول کی سمگلنگ روکنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کو ضبطگی کا اختیار دیا جا رہا ہے