AL-Rehman Gas Centre

AL-Rehman Gas Centre Ap Rehman Gas centre Chistian road Bahawalnagar offer best quality LPG Gas clynder Home delivery.

10/08/2025

آج مسلمان کمزور اور مظلوم کیوں ہیں؟

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کبھی یہی مسلمان علم، عدل اور ہمت کے مینار تھے۔ ان کی بستیوں سے روشنی نکلتی تھی جو پوری دنیا کے اندھیروں کو دور کر دیتی تھی۔ بغداد کے کتب خانے، قرطبہ کے مدرسے، اور سمرقند کی گلیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک وقت تھا جب مسلمان طاقت اور علم کے امام تھے۔

مگر آج؟
آج ہم بٹے ہوئے ہیں، کمزور ہیں، اور اکثر جگہوں پر ظلم کا شکار ہیں۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر اسلام حق ہے تو اس کے ماننے والے اتنے کمزور کیوں ہیں؟

اس کا جواب قرآن نے صدیوں پہلے دے دیا:

(اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔) [الرعد: 11]

ہم نے وہ راستہ چھوڑ دیا جو ہمیں طاقتور بناتا تھا:
▪️ہم نے علم چھوڑ دیا، حالانکہ ہمارا پہلا حکم ہی "اقرأ" (پڑھو) تھا۔
▪️ہم نے اتحاد کھو دیا، حالانکہ ہمیں ایک اُمّت بنایا گیا تھا۔
▪️ہم نے عدل اور قربانی بھلا دی، حالانکہ یہی ہماری بنیاد تھے۔

یاد رکھیں، اسلام کمزور نہیں، ہم کمزور ہیں۔
وہی قوم جو ایک وقت میں دنیا کی قیادت کر رہی تھی، آج اگر چاہے تو دوبارہ اٹھ سکتی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ ہم اپنی فکر، اپنے اعمال اور اپنی ترجیحات بدلیں۔

10/08/2025

‏"اسلامی تاریخ کا دلیر ترین جاسوس"

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی للہ عنہ نے 7 افراد لشکر فارس کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کیلئے بھیجے اور انہیں حکم دیا کہ اگر ممکن ہو سکے تو اس لشکر کے ایک آدمی کو گرفتار کر کے لے آئیں۔ یہ ساتوں آدمی ابھی نکلے ہی تھے کہ اچانک انھوں نے دشمن کے لشکر کو سامنے پایا جبکہ ان کا گمان یہ تھا کہ لشکر ابھی دور ہے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے واپس پلٹنے کا فیصلہ کیا مگر ان میں سے ایک آدمی نے امیر لشکر سعد کی جانب سے ذمہ لگائی گئی مہم کو سرانجام دئیے بغیر واپس لوٹنے سے انکار کر دیا اور یہ چھ افراد مسلمانوں کے لشکر کی جانب واپس لوٹ آئے جبکہ ہمارا یہ بہادر اپنی مہم کی ادائیگی کیلئے فارسیوں کے لشکر کی جانب تنہا بڑھتا چلاگیا۔ انھوں لشکر کے گرد ایک چکر لگایا اور اور اندر داخل ہونے کیلئے پانی کے نالوں کا انتخاب کیا اور اس میں سے گزرتا ہوا فارسی لشکر کے ہراول دستوں تک جا پہنچا جو کہ 40 ہزار لڑاکوں پر مشتمل تھے۔ پھر وہاں سے لشکر کے قلب سے گذرتا ہو ایک سفید خیمے کے سامنے جاپہنچا جس کے سامنے ایک بہترین گھوڑا بندھا کھڑا تھا اس نے جان لیا کہ یہ دشمن کے سپہ سالار رستم کا خیمہ ہے چنانچہ یہ اپنی جگہ پر انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ رات گہری ہو گئی۔ رات کا کافی حصہ چھا جانے پر یہ خیمہ کی جانب گئے اور تلوار کے ذریعے خیمہ کی رسیوں کو کاٹ ڈالا جس کی وجہ سے خیمہ رستم اور خیمہ میں موجود افراد پر گر پڑا اس کے بعد اس نے گھوڑے کی رسی کاٹی اور گھوڑے پر سوار ہو کر نکل پڑے اس سے ان کا مقصد فارسیوں کی تضحیک اور ان کے دلوں میں رعب پیدا کرنا تھا گھوڑا لے کر جب فرار ہوئے تو گھڑسوار دستے نے ان کا پیچھا کیا۔ جب یہ دستہ قریب آتا تو یہ گھوڑے کو ایڑ لگا دیتے اور جب دور ہو جاتا تو اپنی رفتار کم کرلیتے تاکہ وہ ان کے ساتھ آملیں کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ان میں سے ایک کو دھوکے سے کھینچ کرسعد رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے حکم کے مطابق لے جائے چنانچہ 3 سواروں کے علاوہ کوئی بھی ان کا پیچھا نہ کر سکا انھوں نے ان میں سے دو کو قتل کیا اور تیسرے کو گرفتار کرلیا۔ یہ سب کچھ تن ت تنہا انجام دیا قیدی کو پکڑا اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا۔ فارسی کہنے لگا : مجھے جان کی امان دو میں تم سے سچ بولوں گا۔ سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے تجھے امان دی جاتی ہے اور ہم وعدے کی پاسداری کرنے والی قوم ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ہمارے ساتھ جھوٹ مت بولنا۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا ہمیں اپنی فوج کے بارے میں بتاؤ فارسی انتہائی دہشتناک اور ہذیان کی کیفیت میں کہنے لگا اپنے لشکر کے بارے میں بتانے سے قبل میں تمہیں تمہارے آدمی کے بارے میں بتلاتا ہوں “ہم نے اس جیسا شخص آج تک نہیں دیکھا ، میں ہوش سنبھالتے ہی جنگوں میں پلا بڑھا ہوں اس آدمی نے دو فوجی چھاؤنیوں کو عبور کیا ، جنہیں بڑی فوج بھی عبور نہ کر سکتی تھی، پھر سالار لشکر کا خیمہ کاٹا ، اس کا گھوڑا بھگا کر لے اڑا ، گھڑسوار دستے نے اس کا پیچھا کیا جن میں سے محض 3 ہی اس کی گرد کو پا سکے ، ان میں سے ایک مارا گیا ۔جسے ہم ایک ہزار کے برابر سمجھتے تھے پھر دوسرا مارا گیا جو ہمارے نزدیک ایک ہزار افراد کے برابر تھا اور دونوں میرے چچا کے بیٹے تھے۔ میں نے اس کا پیچھا جاری رکھا اور ان دونوں مقتولین کے انتقام کی آگ سے میرا سینہ دھک رہا تھا میرے علم میں فارس کا کوئی ایسا شخص نہیں جو قوت میں میرا مقابلہ کر سکے اور جب میں اس سے ٹکرایا تو موت کو اپنے سر پر منڈلاتے پایا چنانچہ میں نے امان طلب کر کے قیدی بننا قبول کر لیا۔ اگر تمہارے پاس اس جیسے اور افراد ہیں تو تمہیں کوئی ہزیمت سے دوچار نہیں کر سکتا پھر اس فارسی نے اسلام قبول کر لیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ عظیم بہادر کون تھے؟ جنہوں نے لشکر فارس کو دہشت زدہ کیا ان کے سالار کو رسوا کیا اور ان کی صفوں میں نقب لگا کر واپس آگئے۔ یہ طلیحہ بن خویلد الاسدی رضی اللہ عنہ تھے۔

امریکی شخص ہنری فورڈ دنیا کا پہلا بزنس مین تھا وہ اپنے ملازمین کو مارکیٹ میں سب سے زیادہ معاوضہ بھی دیتا تھا‘ ایک بار ای...
09/08/2025

امریکی شخص ہنری فورڈ دنیا کا پہلا بزنس مین تھا وہ اپنے ملازمین کو مارکیٹ میں سب سے زیادہ معاوضہ بھی دیتا تھا‘ ایک بار ایک صحافی آیا اور اس نے ہنری فورڈ سے پوچھا ”آپ سب سے زیادہ معاوضہ کس کودیتے ہیں“ فورڈ مسکرایا‘ اپنا کوٹ اور ہیٹ اٹھایا اورصحافی کو اپنے پروڈکشن روم میں لے گیا‘ ہر طرف کام ہو رہا تھا‘ لوگ دوڑ رہے تھے‘ گھنٹیاں بج رہی تھیں اور لفٹیں چل رہی تھیں‘ ہر طرف افراتفری تھیں‘ اس افراتفری میں ایک کیبن تھا اور اس کیبن میں ایک شخص میز پر ٹانگیں رکھ کر کرسی پر لیٹا تھا‘ اس نے منہ پر ہیٹ رکھا ہوا تھا‘ ہنری فورڈ نے دروازہ بجایا‘ کرسی پر لیٹے شخص نے ہیٹ کے نیچے سے دیکھا اور تھکی تھکی آواز میں بولا ”ہیلو ہنری آر یو اوکے“ فورڈ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا‘ دروازہ بند کیا اور باہر نکل گیا‘ صحافی حیرت سے یہ سارا منظر دیکھتا رہا‘ فورڈ نے ہنس کر کہا ”یہ شخص میری کمپنی میں سب سے زیادہ معاوضہ لیتا ہے“ صحافی نے حیران ہو کر پوچھا ” یہ شخص کیاکرتا ہے؟“ فورڈ نے جواب دیا ”کچھ بھی نہیں‘ یہ بس آتا ہے اور سارا دن میز پر ٹانگیں رکھ کر بیٹھا رہتا ہے“ ۔
صحافی نے پوچھا ”آپ پھر اسے سب سے زیادہ معاوضہ کیوں دیتے ہیں“ فورڈ نے جواب دیا ”کیوں کہ یہ میرے لیے سب سے مفید شخص ہے“ فورڈ کا کہنا تھا ”میں نے اس شخص کو سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے‘ میری کمپنی کے سارے سسٹم اور گاڑیوں کے ڈیزائن اس شخص کے آئیڈیاز ہیں‘ یہ آتا ہے‘ کرسی پر لیٹتا ہے‘ سوچتا ہے‘ آئیڈیا تیار کرتا ہے اور مجھے بھجوا دیتا ہے۔
میں اس پر کام کرتا ہوں اور کروڑوں ڈالر کماتا ہوں“ ہنری فورڈ نے کہا ”دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز آئیڈیاز ہوتے ہیں اور آئیڈیاز کے لیے آپ کو فری ٹائم چاہیے ہوتا ہے‘ مکمل سکون‘ ہر قسم کی بک بک سے آزادی‘ آپ اگر دن رات مصروف ہیں تو پھرآپ کے دماغ میں نئے آئیڈیاز اور نئے منصوبے نہیں آ سکتے چناں چہ میں نے ایک سمجھ دار شخص کو صرف سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے‘ میں نے اسے معاشی آزادی بھی دے رکھی ہے تاکہ یہ روز مجھے کوئی نہ کوئی نیا آئیڈیا دے سکے“ صحافی تالی بجانے پر مجبور ہو گیا۔
آپ بھی اگر ہنری فورڈ کی وزڈم سمجھنے کی کوشش کریں گے تو آپ بھی بے اختیار تالی بجائیں گے‘ انسان اگر مزدور یا کاریگر ہے تو پھر یہ سارا دن کام کرتا ہے لیکن یہ جوں جوں اوپر جاتا رہتا ہے اس کی فرصت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ بڑی انڈسٹریز اور نئے شعبوں کے موجد پوراسال گھر سے باہر قدم نہیں رکھتے۔
بزنس کی دنیا میں بل گیٹس اور وارن بفٹ بھی ویلے ترین لوگ ہیں‘ وارن بفٹ روزانہ ساڑھے چار گھنٹے پڑھتے ہیں‘ بل گیٹس ہفتے میں دو کتابیں ختم کرتے ہیں‘ یہ سال میں 80 کتابیں پڑھتے ہیں‘ یہ دونوں اپنی گاڑی خود چلاتے ہیں‘ لائین میں لگ کر کافی اور برگر لیتے ہیں اور سمارٹ فون استعمال نہیں کرتے لیکن یہ اس کے باوجود دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں‘ کیسے؟ فرصت اور سوچنے کی مہلت کی وجہ سے۔
ہم جب تک ذہنی طور پر فری نہیں ہوتے ہمارا دماغ اس وقت تک بڑے آئیڈیاز پر کام نہیں کرتا، چنانچہ آپ اگر دنیا میں کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے آپ کو فری رکھنا ہو گا‘ آپ اگر خود کو چھوٹے چھوٹے کاموں میں الجھائے رکھیں گے تو پھر آپ سوچ نہیں سکیں گے‘ آپ پھر زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کر سکیں گے۔

09/08/2025

٭مہمان کا رزق۔٭------------ایک گاؤں میں ایک صاحب کی اپنی بیوی کے ساتھ کچھ ان بن ہو گئی۔ ابھی جھگڑا ختم نہیں ہوا تھا کہ ا...
09/08/2025

٭مہمان کا رزق۔٭
------------
ایک گاؤں میں ایک صاحب کی اپنی بیوی کے ساتھ کچھ ان بن ہو گئی۔ ابھی جھگڑا ختم نہیں ہوا تھا کہ اسی اثناء میں ان کا مہمان آ گیا۔ خاوند نے اسے بیٹھک میں بٹھا دیا اور بیوی سے کہا کہ فلاں رشتہ دار مہمان آیا ہے اس کے لیے کھانا بناؤ۔وہ غصّے میں تھی کہنے لگی تمہارے لئے کھانا ہے نہ تمہارے مہمان کے لئے۔وہ بڑا پریشان ہوا کہ لڑائی تو ہماری اپنی ہے،اگر رشتہ دار کو پتہ چل گیا تو خواہ مخواہ کی باتیں ہو گی۔لہٰذا خاموشی سے آکر مہمان کے پاس بیٹھ گیا۔
اتنے میں اسے خیال آیا کہ چلو بیوی اگر روٹی نہیں پکاتی تو سامنے والے ہمارے ہمسائے بہت اچھے ہیں،خاندان والی بات ہے،میں انہیں ایک مہمان کا کھانا پکانے کے لیے کہہ دیتا ہوں۔چنانچہ وہ ان کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی کی طبیعت خراب ہے لہٰذا آپ ہمارے مہمان کے لئے کھانا بنا دیجئے۔انہوں نے کہا بہت اچھا،جتنے آدمیوں کا کہیں کھانا بنا دیتے ہیں۔وہ مطمئں ہو کر مہمان کے پاس آ کر بیٹھ گیا کہ مہمان کو کم از کم کھانا تو مل جائے گا جس سے عزت بھی بچ جائے گی۔
تھوڑی دیر کے بعد مہمان نے کہا:ذرا ٹھنڈا پانی تولا دیجئے۔ وہ اٹھا کہ گھڑے کا ٹھنڈا پانی لاتا ہوں۔اندر گیا تو دیکھا کہ بیوی صاحبہ تو زار و قطار رو رہی ہے۔ وہ بڑا حیران ہواکہ یہ شیرنی اور اس کے آنسو۔کہنے لگا کیا بات ہے؟ اس نے پہلے سے بھی زیادہ رونا شروع کر دیا۔کہنے لگی: بس مجھے معاف کر دیں۔وہ بھی سمجھ گیا کہ کوئی وجہ ضرور بنی ہے۔اس بچارے نے دل میں سوچا ہو گا کہ میرے بھی بخت جاگ گئے ہیں۔ کہنے لگا کہ بتاؤ تو سہی کہ کیوں رو رہی ہو؟ اس نے کہا کہ پہلے مجھے معاف کر دیں پھر میں آپ کو بات سناؤں گی۔خیر اس نے کہہ دیا کہ جو لڑائی جھگڑا ہوا ہے میں نے وہ دل سے نکال دیا ہے اور آپ کو معاف کردیا ہے۔
کہنے لگی:کہ جب آپ نے آکر مہمان کے بارے میں بتایا اور میں نے کہہ دیا کہ نہ تمہارے لئے کچھ پکے گا اور نہ مہمان کے لئے،چلو چھٹی کرو تو آپ چلے گئے ۔مگر میں نے دل میں سوچا کہ لڑائی تو میری اور آپ کی ہے، اور یہ مہمان رشتہ دار ہے،ہمیں اس کے سامنے یہ پول نہیں کھولنا چاہئے۔چنانچہ میں اُٹھی کہ کھانا بناتی ہوں۔جب میں کچن(باروچی خانہ) میں گئی تو میں نے دیکھا کہ جس بوری میں ہمارا آٹا پڑا ہوتا ہے،ایک سفید ریش آدمی اس بوری میں سے کچھ آتا نکال رہا ہے۔میں یہ منظر دیکھ کر سہم گئی۔ وہ مجھے کہنے لگا: اے خاتون!پریشان نہ ہو یہ تمہارے مہمان کا حصّہ تھا جو تمہارے آٹے میں شامل تھا۔اب چونکہ یہ ہمسائے کے گھر میں پکنا ہے،اس لئے وہی آٹا لینے کے لئے آیا ہوں۔
٭ مہمان بعد میں آتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اس کا رزق پہلے بھیج دیتے ہیں۔

ایک آدمی ایک دانشمند کے پاس اپنی پریشانی لے کر گیا اور کہا: "اے دانشمند، میں اپنی بیوی، چھ بچوں، ماں اور ساس کے ساتھ ایک...
08/08/2025

ایک آدمی ایک دانشمند کے پاس اپنی پریشانی لے کر گیا اور کہا: "اے دانشمند، میں اپنی بیوی، چھ بچوں، ماں اور ساس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہتا ہوں، میں کیا کروں؟" دانشمند نے کہا: "جاؤ اور ایک گدھا خرید کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں رکھو، اور دو دن بعد آنا۔" آدمی دو دن بعد واپس آیا اور کہا: "اے دانشمند، صورتحال اور خراب ہوگئی ہے۔" دانشمند نے کہا: "جاؤ اور ایک بھیڑ خرید کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں رکھو، اور دو دن بعد آنا۔" آدمی واپس آیا اور اس کا چہرہ زرد تھا، اس نے کہا: "صورتحال ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔" دانشمند نے کہا: "جاؤ اور ایک مرغی خرید کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں رکھو، اور دو دن بعد آنا۔" آدمی واپس آیا اور خودکشی کے قریب تھا... دانشمند نے کہا: "جاؤ اور گدھا بیچ دو، اور مجھے بتانا۔" آدمی واپس آیا اور کہا: "صورتحال تھوڑی بہتر ہوگئی ہے۔" پھر دانشمند نے کہا: "جاؤ اور بھیڑ بیچ دو، اور مجھے بتانا۔" آدمی واپس آیا اور کہا: "اب سب ٹھیک ہے۔" دانشمند نے کہا: "جاؤ اور مرغی بیچ دو، اور مجھے بتانا۔" آدمی واپس آیا اور کہا: "اب میں بہترین حال میں ہوں، دل سے شکریہ!" اس طرح دنیا کے سیاسی بحرانوں کو حل کیا جاتا ہے... وہ آپ کو نئی مشکلات پیدا کرکے اصل مسئلے کو بھولنے پر مجبور کرتے ہیں، تاکہ آپ اپنے مسائل پر اللہ کا شکر ادا کریں اور ان کے احسان مند رہیں۔

کہتے ہیں ’مرد ویسے تو بڑا غیرت مند بنتا ہے لیکن سوتا اسی بستر پہ ہے جو اسکے ’سسر‘ نے دیا ہوتا ہو‘ہمارا ماننا ہے کہ یہ بی...
08/08/2025

کہتے ہیں ’مرد ویسے تو بڑا غیرت مند بنتا ہے لیکن سوتا اسی بستر پہ ہے جو اسکے ’سسر‘ نے دیا ہوتا ہو‘
ہمارا ماننا ہے کہ یہ بیان کسی دل جلے کنوارے نے محفلِ شادی شدہ یاراں میں دیا ہوگا
مگر بات فقط بستر کی تو نہیں، بھاری بھرکم جہیز کی ہے
اور اس کے ساتھ معصوم سی ننھی منؔی فرمائش کہ ’ہمیں نازک، کم عمر، سروقد، گیسو دراز، دودھیا رنگت، شرمیلی، پڑھی لکھی، گھریلو، سگھڑ اور جاب والی لڑکی چاہیے بس س س‘
جب پوچھا جاتا ہے کہ ’آپ کے صاحبزادے کیا کرتے ہیں؟‘
جواب ملتا ہے، ’ماشاء اللہ چنگ چی چلاتا ہے‘ 😉😉
رونمائی ہوتی ہے تو بندہ چاند کو شرماتا نظر آتا ہے کہ جب اسے گرہن لگا ہو۔

یہی نہیں بلکہ صنفِ نازک سے اظہارِیکجہتی کے لئے بالوں کی پونی بھی بنا رکھی ہوتی ہے جس میں چلتی جوئیں دور سے نظر آتی ہیں
ہے تو تلخ مگر حقیقت ہے کہ گرل/بوائے فرینڈ کے اس دورِ پُر فتنہ میں اگر کوئی لڑکا سر جھکا کے ماں سے کہے، ’امؔی! میری تو کوئی پسند نہیں، جو آپ پسند کریں مجھے منظور ہوگا‘
تو ماں کو چاہیے کہ بیٹے کی سعادت مندی کے گن گانے کے بجائے، سمجھ جائے کہ بیٹے کی ’مارکیٹ والیو‘ نہیں ہے
ـــــــــــــــــــــــ
ستم ان لڑکیوں پہ ہوتا ہے جو کالج/یونیورسٹی صرف پڑھنے کے لئے جاتی ہیں اور ڈگری لے کر چپ چاپ گھر آجاتی ہیں
اور پھر کچھ عرصے بعد انکا مارچ پاسٹ شروع ہوجاتا ہے
نیا سوٹ سلوا لیا جاتا ہے فوراً پہننے نہیں دیا جاتا، ’اٹھا کر رکھ دو کوئی آئے گا تب پہننا‘ 😕😕😕
’اچھی طرح صفائی کرو گھر کی، آج ’کچھ لوگ‘ آئیں گے‘
’یہ کھی کھی بند کرو، دہی بڑے بنائو جا کے مہمانوں کے لئے‘
ــــــــــــــــــ
مائیں اوپر اوپر ڈانٹتی جاتی ہیں اور دل ہی دل میں دعا مانگتی جاتی ہیں کہ ’یا اللہ! آج تو بات بن جائے میری بچی کی‘
مہمانوں کی آمد پہ واری صدقی جاتی ہیں کہ گردن میں سریا لگا کر آنے والی خواتین کا دل پگھل جائے
’یہ پکوڑے لیں، بیٹی نے بنائے ہیں، میٹھا چکھیں، بیٹی نے بنایا ہے۔۔۔ کچھ تو جذبات میں بہہ کر کیلے سیب پیش کرتے ہوئے بھی بول جاتی ہیں کہ کیلے کھائیے نا، بیٹی نے بنائیں ہیں‘ 😀😀😀
ــــــــــــــــــ
آنے والی خواتین بھی پورا ایگزامینشن پیپر سیٹ کر کے آتی ہیں
’کیا کرتی ہو؟‘
’کیسے کرتی ہو؟‘
’کیوں کرتی ہو؟‘
’کب تک کرتی رہتی ہو؟‘
’سوتی کب ہو؟‘
’جاگتی کب ہو؟‘
’شیمپو کونسا استعمال کرتی ہو؟‘
’اتنا مہنگا کیوں استعمال کرتی ہو؟‘
’فیس پہ کونسی کریم لگاتی ہو؟‘
’اتنا گھٹیا برانڈ کیوں لگاتی ہو؟‘
’کپڑے کہاں سے خریدتی ہو؟‘
’سیل سے کیوں خریدتی ہو، بوتیک سے کیوں نہیں؟
’کھانا پکانا آتا ہے؟‘
’سلائی خود کرتی ہو؟‘
’ڈیزائننگ آتی ہے؟‘
’مشکل والی یا آسان والی؟‘
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور پھر یہ خواتین سموسے، رول، چپس، نمکو، دہی بڑے، کھیر اور شربت حلق تک انڈیل کر ایک بھیانک ڈکار مار کر کھڑی ہوجاتی ہیں اور یہ کہہ کر انکار کر کے چلتی بنتی ہیں کہ ’آپ کی بیٹی نے شربت لا کر میز پہ رکھ دیا، ہم سب کو الگ الگ تو پیش ہی نہیں کیا‘۔
ـــــــــــــــــــ
ہم نے یہ تحریر ایک محترمہ کی فرمائش پہ لکھی ہے جو مسترد کیے جانے کے عذاب سے گزر رہی ہے۔ ہم خود اس عذاب کا شکار رہے ہیں کہ تعلیم حاصل کر کے چپ چاپ گھر آنے والی فہرست میں اندراج رکھتے تھے
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سماجی مسئلہ کوئی سا بھی ہو کسی کی تحریر لکھنے یا نا لکھنے سے حل نہیں ہوپاتا نا کسی کی تحریر ’سب‘ کا دماغ بدل سکتی ہے
لہذا ایسی تمام دوشیزائیں جو ایسی صورتحال کا سامنا کر رہیں ہیں،پورے یقین کے ساتھ رب سے دعا کریں کہ ’یا اللہ! ہم معاشرہ نہیں بدل سکتے مگر تو ہماری قسمت بدل سکتا ہے، ہم تنہا نہیں رہ سکتے، واحد رہنا تیری ہی شان ہے، ہمیں اپنے کرم سے خوشیاں عطا کرنے والا ساتھی عطا فرما۔ آمین‘

06/08/2025

میں ہمیشہ جھوٹ بولتا ہوں
اگر یہ سچ ہے تو یہ جھوٹ ہے،
اور اگر یہ جھوٹ ہے تو یہ سچ ہے۔
یہ جملہ محض ایک لفظی کھیل نہیں، یہ انسانی عقل کے در و دیوار ہلانے والی بات ہے۔ ایسا جملہ جو نہ تو مکمل جھوٹ ہے، نہ مکمل سچ۔ درمیان میں ایک دراڑ ہے، اور یہی دراڑ پراڈوکس کہلاتی ہے۔

پراڈوکس وہ لمحہ ہے جب سوال خود کو کھا جاتا ہے۔ تم ایک قدم آگے بڑھتے ہو تو پیچھے گر جاتے ہو، اور جب واپسی کی طرف مڑتے ہو تو دیکھتے ہو کہ تم کبھی وہاں تھے ہی نہیں۔ جیسے کوئی خواب جسے تم نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا ہو، مگر حقیقت اس میں سے ریت کی طرح پھسل جائے۔

سوچو اگر تم وقت میں واپس جا سکو، اور جا کر اپنے دادا کو مار دو۔ تو کیا تم پیدا ہو سکتے ہو؟ اور اگر تم پیدا نہیں ہوئے تو واپس کیسے گئے؟
پراڈوکس یہی ہے. ایک سوال جو عقل کے دائرے سے باہر جا کھڑا ہو، اور پھر بھی سامنے موجود ہو۔

ایسا نہیں کہ یہ صرف فلسفے کا کھیل ہے۔ کائنات، آسمان، ستارے، اور خلا خود ایسے بےشمار پراڈوکس سے بھرے ہوئے ہیں۔ فلکیات میں پراڈوکس وہ خلا ہے جہاں ہماری سائنس اور فہم کا پہیہ رکنے لگتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جان چکے، لیکن اچانک ایک سوال آ کھڑا ہوتا ہے جو بتاتا ہے کہ ہمیں کچھ بھی نہیں آتا۔

فلکیات میں درجنوں پراڈوکس ہیں. آئیں چند ایک کے بارے میں پڑھتے ہیں.

رات کا آسمان کیوں تاریک ہے؟
ہر طرف ستارے ہیں، روشنی ہر سمت سفر کرتی ہے، تو پھر آسمان دن رات روشن کیوں نہیں؟
یہ پہلا بڑا فلکیاتی پراڈوکس ہے. یہ اولبرز کا پراڈوکس۔

اتنی وسیع کائنات، اربوں سیارے، ہزاروں کہکشائیں، اور ہر جگہ زندگی کا امکان۔ پھر بھی ہم تنہا کیوں ہیں؟
یہ فرمی کا پراڈوکس ہے، ایک خاموش چیخ جس کا جواب پوری انسانی تہذیب اب تک نہیں دے سکی۔

بلیک ہول سب کچھ نگل لیتے ہیں، یہاں تک کہ روشنی بھی۔
لیکن جو انفارمیشن ایک بلیک ہول میں جاتی ہے، وہ کہاں جاتی ہے؟ کیا فزکس کے قوانین ختم ہو جاتے ہیں؟
یہ ہے انفارمیشن پراڈوکس.

دو کنارے، جو ایک دوسرے سے کبھی نہیں ملے، نہ روشنی نے پل کا کام کیا، نہ وقت نے راستہ دیا۔ پھر وہ دونوں ایک جیسے کیوں ہیں؟
یہ ہے افق کا پراڈوکس۔

اور کائنات کی ہیت، یہ اتنی سیدھی کیوں ہے؟ اتنی متوازن، جیسے کسی نے ناپ تول کر بچھا دی ہو۔
یہ فلیٹنس کا پراڈوکس ہے.

فلکیاتی پراڈوکس محض مسئلے نہیں ہوتے، یہ سراغ ہوتے ہیں۔ یہ وہ دھاگے ہیں جنہیں اگر ہم صبر سے کھولیں، تو شاید وقت، مادّہ، کشش، شعور، اور زندگی سب کا مفہوم ایک نئی روشنی میں ظاہر ہو جائے۔
یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ علم کا سفر رک نہیں گیا، بس رخ بدل گیا ہے۔ اور جو رک گیا، وہ سمجھ لے کہ اُس نے ابھی سوال
کی خوشبو بھی نہیں محسوس کی۔

فلکیاتی پراڈوکس
تحریر: محمد سلیم


#علم

آپ ہی گر نہ لیں گے ہماری خبر ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے
03/08/2025

آپ ہی گر نہ لیں گے ہماری خبر
ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے

12/06/2025

گیس سلنڈر استعمال کرتے وقت احتیاطی تدابیر
گیس دھماکے سے بچنے کے لیے براہِ کرم درج ذیل حفاظتی تدابیر پر عمل کریں:

1. اپنے گیس سلنڈر کو اُس کی گنجائش سے زیادہ نہ بھریں۔ گنجائش گیس سلنڈر کے جسم پر درج ہوتی ہے۔
2. خراب گیس سلنڈر کو مرمت نہ کریں بلکہ اُسے نئے سلنڈر سے تبدیل کریں۔
3. گیس سلنڈر صرف مستند اور تصدیق شدہ ڈیلر سے ہی خریدیں، عام افراد سے نہ خریدیں۔
4. گیس سلنڈر خریدنے سے پہلے ہمیشہ اس کی تیاری اور معیادِ ختم ہونے کی تاریخ چیک کریں۔
5. گیس سلنڈر کو ہمیشہ باہر یا ایسی جگہ رکھیں جہاں ہوا کی آمد و رفت ہو اور درجہ حرارت نارمل ہو۔
6. گیس سلنڈر کو کسی بھی گرم چیز جیسے کھلا شعلہ، چولہا یا ہیٹر کے قریب نہ رکھیں۔
7. بھرا ہوا سلنڈر دھوپ میں نہ رکھیں۔
8. زنگ سے بچاؤ کے لیے سلنڈر کو بارش یا پانی کے رِسنے والی جگہ پر نہ رکھیں۔
9. گیس سلنڈر کے قریب سگریٹ نوشی سے گریز کریں۔
10. خاص طور پر جب گیس چولہا جل رہا ہو، موبائل فون کو گیس سلنڈر سے دور رکھیں۔
11. گیس سلنڈر بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔
12. گیس سلنڈر کو باورچی خانے میں رکھنا خطرناک ہے اور یہ دھماکے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے اسے باہر، ہوا دار جگہ پر، حرارت اور دھوپ سے دور رکھیں۔
13. کیمپنگ گیس سلنڈر اگر گھر کے اندر استعمال ہو رہا ہو تو مناسب ہوا داری یقینی بنائیں اور اسے آتش گیر چیزوں سے دور رکھیں۔
14. گیس کے اخراج کو چیک کرنے کے لیے صابن ملے پانی سے جانچ کریں۔ اگر بلبلے بنیں تو مطلب ہے گیس لیک ہو رہی ہے۔
15. استعمال کے بعد گیس والو کو بند کر دیں۔ اگر گیس کی بو محسوس ہو تو گیس بند کر کے جگہ کو ہوا دار کریں اور بجلی کے آلات کا استعمال نہ کریں۔
16. صرف تصدیق شدہ آلات استعمال کریں اور سلنڈرز کو کھلی اور محفوظ جگہ پر رکھیں۔
یہ احتیاطی تدابیر حادثات سے بچاؤ اور آپ کی حفاظت کو یقینی بناتی ہیں.
Al Rehman Gas Bahawalnagar

Address

Chistian Road
Bahawalnagar

Telephone

+923334399796

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AL-Rehman Gas Centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share