AMMAR's Markets Updates And Consulatancy

AMMAR's Markets Updates And Consulatancy Human Being

10/07/2024

*حکومت آئی ایم ایف شرائط کے مطابق زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے. حکومت کو بتا دیا زمینداروں سے ٹیکس وفاق نہیں صوبائی حکومتیں وصول کریں گی، زمینداروں سے منافع اور اخراجات کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے گا، صدر مملکت آصف زرداری کا خطاب.*

صدر مملکت آصف زرداری نے کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف شرائط کے مطابق زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے، زمیندار بھی ٹیکس ویسے ہی دے گا جیسے بزنس مین دیتے ہیں، حکومت کو بتا دیا زمینداروں سے ٹیکس وفاق نہیں صوبائی حکومتیں وصول کریں گی، زمینداروں سے منافع اور اخراجات کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے جامع نقطہ نظر اپنانے اور دانشمندانہ مالیاتی پالیسیوں کی ضرورت پر زور د یتے ہوئے کہا کہ معیشت کے مختلف شعبوں، خاص طور پر زرعی شعبے کو جدید خطوط پر ترقی دینا وقت کی ضرورت ہے۔ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کے مطابق زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، تاہم صوبائی حکومتیں بڑے زمینداروں سے ان کی منافع اور اخراجات کے مطابق ٹیکس وصول کرنے کی قیادت کریں گی۔

10/07/2024

*تاجر دوست اسکیم کے تحت 46 ہزار 237 تاجروں کی رجسٹریشن.*

وفاقی حکومت کے کاروبار کو دستاویزی شکل دینے کے سلسلے میں تاجر دوست اسکیم کے تحت 46 ہزار 237 تاجروں کی رجسٹریشن مکمل کرلی۔

ایف بی آر کے مطابق ملک کے 6 بڑے شہروں میں 41 ہزار 906 ریٹیلرز کو رجسٹر کیا گیا ہے۔

لاہور میں سب سے زیادہ 17 ہزار 358 تاجروں کی رجسٹریشن کی گئی جبکہ کراچی میں اب تک 6 ہزار 818 تاجروں نے رجسٹریشن کرائی ہے۔

ایف بی آر کے مطابق راولپنڈی میں بھی اب تک 6 ہزار 736 ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔

10/07/2024

*ورکرز ترسیلات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے 10.7 فیصد اضافہ، اسٹیٹ بینک*

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ورکرز ترسیلات کی تفصیلات جاری کردیں۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ جون میں ورکرز ترسیلات 3 ارب 20 کروڑ ڈالر رہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2024 میں ورکرز ترسیلات 30 ارب 30 کروڑ ڈالر رہیں جو مالی سال 2023 کے مقابلے 10.7 فیصد زائد ہیں۔

ایس بی پی نے کہا کہ مالی سال 2023 کی ورکرز ترسیلات 27.3 ارب ڈالر تھیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2024 میں سعودی عرب سے پاکستانیوں نے 7 ارب 42 کروڑ ڈالر کی ترسیلات بھیجیں جبکہ متحدہ عرب امارات سے 5 ارب 53 کروڑ ڈالر کی ترسیلات پاکستان بھیجی گئیں۔

اسی طرح برطانیہ سے 4 ارب 52 کروڑ ڈالر کی ورکرز ترسیلات پاکستان بھیجی گئیں اور امریکا سے 3 ارب 53 کروڑ ڈالر جبکہ یورپی یونین سے 3 ارب 53 کروڑ ڈالرز پاکستان آئے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق دیگر ممالک سے 5 ارب 76 کروڑ ڈالر کی ورکرز ترسیلات پاکستان بھیجی گئیں۔

10/07/2024

*وفاقی بجٹ کے بعد مہنگائی نے شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی.*

وفاقی بجٹ کے بعد مہنگائی نے شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی، مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کو چکرا کر رکھ دیا۔

آٹے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اوپن مارکیٹ کافی کے مختلف پیکس کی قیمتوں میں 100 روپے سے 500 روپے تک اضافہ ہوگیا، اسی طرح خشک دودھ 300 روپے سے بڑھکر 1650 روپے کا ہوگیا، 1850 سے نیڈو 2150 روپے فی کلوگرام ہوگیا جبکہ کالی مرچ 1400 روپے فی کلوگرام سے 2800 روپے فی کلوگرام ہوگئی۔

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پریشان ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے بجلی کے بلوں نے زندگی مشکل کردی اب اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہو رہی ہیں۔

ملت ٹریکٹرز نے اپنے ٹریکٹروں کی قیمتوں میں 2 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک اضافہ کر دیا
10/07/2024

ملت ٹریکٹرز نے اپنے ٹریکٹروں کی قیمتوں میں 2 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک اضافہ کر دیا

08/07/2024

*پاکستان ہفتہ وار کاٹن کا جائزہ: اچھے کاروباری حجم کے درمیان قیمتوں میں اضافہ*
کپاس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اسپاٹ ریٹ میں فی من 600 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ جننگ فیکٹریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

تاہم ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل حل طلب ہیں۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) ان مسائل کے حل کے لیے حکومت سے مسلسل اپیل کر رہی ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پی) کے زیادہ ٹیرف کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ وہ حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ آئی پی پی ایس کے ٹیرف سٹرکچر پر نظرثانی کرے۔

مزید برآں، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار اسلام آباد میں جننگ فیکٹریوں کے مسائل حل کرنے کے لیے مثبت کوششیں کر رہے ہیں، کیونکہ پنجاب کپاس کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے آپشنز تلاش کر رہا ہے۔

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ کاروباری حجم تسلی بخش رہا لیکن کپاس کی سپلائی محدود ہے کیونکہ مزید جننگ فیکٹریوں نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ آئل ملز اور ٹیکسٹائل انڈسٹری پر فکسڈ چارجز اب بھی وہیں ہیں۔ گو کہ جننگ فیکٹریاں اور آئل ملز چل رہی ہیں لیکن وہ حکومت کی پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں۔ حکومت بھی ان کا کوئی جواب نہیں دے رہی۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے ہار مان لی ہے۔

ذرائع کا خیال ہے کہ ان اداروں کے سربراہان کو اسلام آباد جا کر احتجاج کرنا چاہیے اور حکام پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنے مطالبات تسلیم کرائیں۔ بصورت دیگر دور سے احتجاج کرنا سود مند نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی حکام کو صنعتوں کی بندش، بے روزگاری میں اضافے اور معیشت کے زوال کی فکر نہیں ہے۔ کسی کو اس کی پرواہ نظر نہیں آتی اور جب تک کچھ پرزور احتجاج نہیں ہوتا مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے مضبوط اور متحد حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم آئی ایم ایف کے زیر اثر پیش کیے جانے والے بجٹ کو معاشی ماہرین صنعتوں کے لیے مہلک قرار دے رہے ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے جس سے موجودہ مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

صوبہ سندھ میں روئی کی فی من قیمت 18,400 سے 18,600 روپے اور پھٹی کی فی 40 کلو قیمت 8,400 سے 8,800 روپے کے درمیان رہی۔ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 19,300 سے 19,500 روپے اور پھٹی کا بھاؤ 8,700 سے 9,700 روپے کے درمیان رہا۔ صوبہ بلوچستان میں روئی کی فی من قیمت 18,400 سے 18,500 روپے اور پھٹی کی فی 40 کلو قیمت 8,600 سے 8,800 روپے کے درمیان رہی۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 600 روپے کا اضافہ کرکے 18600 روپے فی من پر بند کردیا۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی کپاس کی قیمتوں میں استحکام ہے۔ نیویارک کاٹن فیوچر کی قیمت فی پاؤنڈ 71 اور 73 امریکی سینٹ کے درمیان ٹریڈ کر رہی ہے۔ USDA کی ہفتہ وار برآمدات اور فروخت کی رپورٹ کے مطابق، سال 2023-24 کے لیے تقریباً ایک لاکھ پندرہ ہزار گانٹھیں فروخت ہوئیں۔ چین 63,600 گانٹھوں کی خریداری کے بعد پہلے نمبر پر ہے۔ ویتنام 27,600 گانٹھوں کی خریداری کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور پاکستان 6,400 گانٹھوں کی خریداری کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔

سال 2024-25 کے لیے کل 56,900 گانٹھیں فروخت ہوئیں۔ چین چھتیس ہزار آٹھ سو گانٹھوں کی خریداری کے بعد پہلے، پاکستان آٹھ ہزار آٹھ سو گانٹھوں کی خریداری کے بعد دوسرے نمبر پر اور پیرو چار ہزار چھ سو بیلز کی خریداری کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔

دریں اثناء چیئرمین اپٹما نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آزاد پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے ساتھ موجودہ معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کرے اور بجلی پیدا کرنے کے دوسرے ذرائع کی طرف شفٹ کرے جو اقتصادی طور پر قابل عمل اور صلاحیت کے چارجز کے بغیر ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کی بے تحاشا قیمتوں نے صنعتی کاموں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد بندشیں اور ملازمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، اس طرح معاشی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نصب صلاحیت 40,000 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ طلب اور ترسیل کی صلاحیت صرف 25,000 میگاواٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تفاوت کا نتیجہ کم استعمال اور گنجائش سے زیادہ ہے، جس کے باوجود حکومت 40 آئی پی پی کمپنیوں کو سالانہ 500 بلین روپے ادا کرنے کی پابند ہے، یہ بوجھ معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ ہے۔ یہ ادائیگیاں اس وقت بھی کی جاتی ہیں جب بجلی پیدا یا سپلائی نہیں کی جاتی جو کہ معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ صلاحیت چارجز کل لاگت کا دو تہائی ہیں، جبکہ باقی ایک تہائی ایندھن کی لاگت سے منسوب ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئی پی پیز ڈالر میں 73 فیصد سے زیادہ منافع کما رہے ہیں جو کہ بین الاقوامی معیارات کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ 1994 کی پاور پالیسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مشکل معاہدوں نے گردشی قرضے میں اضافہ کیا، جو 2024 تک 2.64 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری واحد ارشد نے ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی اور انہیں موجودہ ٹیکسوں اور جننگ انڈسٹری کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔

اس کے بعد انہوں نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا سے بھی ملاقات کی اور انہیں جننگ انڈسٹری پر ٹیکسوں کے تباہ کن اثرات سے آگاہ کیا۔ وفد نے بجٹ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں وفد نے کاٹن کمشنر ڈاکٹر زاہد محمود سے ملاقات کی اور انہیں کپاس کی پیداوار اور جننگ انڈسٹری کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ وفد میں پی سی جی اے کے سابق چیئرمین حاجی محمد اکرم اور سہیل محمود ہرل شامل تھے۔

مزید برآں، پنجاب حکومت نے صوبے میں کپاس کی کاشت کو بڑھانے کے لیے آپشنز تلاش کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے جمعہ کو ایوان زراعت میں کاٹن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے نظام میں اصلاحات متعارف کرانے کا واضح وژن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی تحقیق کو عصری تقاضوں کے مطابق جدید بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ معیاری بیجوں کی عدم دستیابی نے بہت سے کسانوں کو کپاس کی کاشت ترک کرنے پر مجبور کیا ہے جس کے نتیجے میں کپاس کی پیداوار صرف جنوبی پنجاب تک محدود ہے۔ کپاس کی پیداوار کو بحال کرنے کے لیے، سرکاری اور نجی شعبوں کو مل کر کام کرنا چاہیے، کیونکہ سلور فائبر کی پیداوار کی بحالی سے قومی معیشت کو فروغ ملے گا۔

اس پروگرام کا بنیادی مقصد اعلیٰ معیار کے کپاس کے بیج کی تیاری کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے تجربات سے استفادہ کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ پیداوار دینے والی، موسم کے لحاظ سے سمارٹ کپاس کی اقسام کی دریافت وقت کی ضرورت ہے۔

08/07/2024

کھپت کے مقابلے سپلائی میں کمی، برائلر گوشت مزید 49 روپےفی کلو مہنگا

08/07/2024

حکومت سرکاری اداروں میں اصلاحات کرنے میں ناکام، قرضہ 17 کھرب روپے تک پہنچ گیا

07/07/2024

پاکستان فلور ملز کے سینٹرل چٸیرمین عاصم رضا نے تمام پاکستان کی فلور ملز مالکان کے مشورہ سے بروز جمعرات سے فلور ملز بند کرنے کا اعلان کر دیا ۔ اگر فلور ملز کے جاٸز مطالبات تسلیم نہ کٸے گٸے تو بروز جمعرات سے تمام پاکستان میں فلورملز آٹے کی سپلاٸ مکمل طور پر بند کر دیں گی

07/07/2024

‏فائلر بننے کے فوائد/ نقصانات /
‏ فائلر کون بن سکتا-

‏👈 فوائد NTN / فائلر
‏1-پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کی بچت۔۔۔۔
‏2-بینک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس کی بچت (زیرو ٹیکس)
‏3-گاڑیوں کی خریدوفروخت پر ٹیکس کی بچت۔۔
‏4-سرکاری ملازمین کے لیے اضافی ڈیوٹیز میں بیس کی بجائے دس فیصد ٹیکس کٹوتی مثلا
‏بورڈ کی امتحانی ڈیوٹیز، اوپن یونیورسٹی ٹیوٹرشپ، الیکشن، مردم شماری اور دیگر ڈیوٹیز
‏5-ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے انٹرنیشنل پیمنٹ پر ٹیکس کی بچت ۔۔
‏6- بجلی کے بل میں انکم ٹیکس صفر
‏7-قومی سیونگ سرٹیفیکٹ اور پرائز بانڈ پر ٹیکس کی بچت ۔۔
‏8-کاروبار کو رجسٹرڈ کرواکر قانونی دائرے کار لانے پر فوائد حاصل کیجئیے ۔۔
‏9-بینک میں کاروباری اکاونٹ کھلوانے میں آسانی ۔۔
‏10-کمرشل ptcl بجلی ،گیس ، میٹر لگوانے میں آسانی ۔۔11-گورنمنٹ ٹھیکے لینے پر فائلر ہونا شرط۔
‏12-چیمبر اف کامرس کے ممبر کے لئیے فائلر ہونا ضروری ۔۔
‏13-کرائے داری انکم پر مالک کو ٹیکس کی بچت ۔۔
‏14-رئیل اسٹیٹ ،جیولرز ،وکلاء کیلئے DNFBP سرٹیفیکٹ کا اجراء ۔۔
‏15-فری لانسرز'اور آی ٹی سے وابستہ افراد کے لئیے ٹیکس کی چھوٹ ۔۔
‏16-اوورسیز پاکستانیوں کے لئیے فائلر کی صورت میں تیکس میں بھی رعایت ۔۔
‏17-پراپرٹی کی خریداری پر نان فائلر کے لئے لمٹ کی شرط۔
‏دیگر بے شمار فوائد

‏👈 نقصانات
‏ٹیکس فائلر بننے کا نقصان کوئی نہیں۔
‏بعض لوگ سمجھتے ہیں اگر ہم ٹیکس فائلر بن جائیں تو ہمیں اضافی ٹیکس دینے پڑیں گے۔
‏ٹیکس تو وہی ہے جو آپ کی سیلری سے کٹ رہا ہے پہلے ہی۔ صرف آپ نے فائلر بن کر اپنی ریٹرن میں یہ بتانا ہے کہ میں نے سالانہ اتنا ٹیکس گورنمنٹ کو ادا کر دیا ہے۔ چونکہ آپ نے ٹیکس پہلے ہی ادا کر دیا۔ اس لیے آپ کو ڈیلی لائف میں ٹیکس کی بچت ملتی یے۔

‏👈 ٹیکس فائلر کون بن سکتا ہے؟
‏کوئی بھی پاکستانی شناختی کارڈ ہولڈر ٹیکس فائلر بن سکتا ہے۔ خواہ اس کی آمدنی صفر ہی کیوں نہ ہو۔
‏لیکن

‏جن کی ماہانہ گراس تنخواہ/آمدنی 50 ہزار سے زیادہ ہے۔ ان کے لیے فائلر بننا لازمی ہے۔ ورنہ قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

06/07/2024

*`رواں ہفتے کتنی مہنگائی رہی، رپورٹ جاری کردی گئی`*

ادارہ شماریات نےمہنگائی کے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی ہے.
رپورٹ کے مطابق نئے مالی سال کے پہلے ہفتے میں مہنگائی 1.28 فیصد بڑھ گئی. ایک ہفتے میں 29 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ 5 اشیا سستی اور 17 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں ٹماٹر 70.77 فیصد، آٹا10.57 فیصد، پاوڈر دودھ 8.90 فیصد، ڈیزل 3.58، پیٹرول 2.88 اور ایل پی جی کی قیمت 1.63 فیصد بڑھی. چکن، دالیں اور لہسن کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا جبکہ پیاز 9.05 اور آلو 1.04 فیصد سستے ہوئے۔ کیلے اور انڈوں کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹماٹر 200 روپے کلو سے بھی متجاوز کر گئے ہیں.

06/07/2024

*`06-جولاٸی-2024`*
‏بجلی فی یونٹ 3 روپے 33 پیسے مہنگی کر دی گئی، نوٹیفکیشن جاری.

قیمت میں اضافہ مئی کے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا.

اضافے کی وصولی صرف جولائی کے بلوں میں وصول کی جائے گی، نوٹیفیکیشن.

Address

0000
Bahawalpurwala

Telephone

+923017422050

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AMMAR's Markets Updates And Consulatancy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AMMAR's Markets Updates And Consulatancy:

Share