30/10/2023
ذہنی مرض اور خود کشی:
بنوں کے مولانا نصیب علی شاہ صاحب سالانہ ایک فقہی کانفرنس کیا کرتے تھے، بنوں میں بھی اس کانفرنس میں حاضری کا موقع ملا، ایک مرتبہ تقریباً 2003 میں یہ کانفرنس پشاور میں منعقد ہوئی. میرا مقالہ دماغی عوارض سے متعلق شرعی احکام پر تھا. اس وقت اس پر بہت سارا مواد بھی جمع کیا تھا مگر لکھ نہ سکا اور کانفرنس میں بھی زبانی گفتگو کی. اس زمانے میں سی ڈیز کی صورت میں انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا اور انسائیکلوپیڈیا انکارٹا آتے تھے جن سے بہت مستند مواد مل جایا کرتا تھا. ان میں نا معلوم کتنے عنوانات کے تحت کتنے صفحات کا مطالعہ کیا، اسلامی مواد کا مطالعہ الگ تھا. اس زمانے میں پوری پوری رات کمپیوٹر کے آگے بیٹھنا آسان لگتا تھا. مجھے افسوس ہے کہ نتائجِ مطالعہ لکھ نہیں سکا.
جس سیشن میں میں نے اپنی یہ گزارشات پیش کی تھیں اس کی صدارت مولانا حسن جان رحمہ اللہ کر رہے تھے. اس میں ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اگرچہ خود کشی بہت سنگین گناہ ہے، مگر ثواب اور گناہ کا معاملہ اس کے لیے ہوتا ہے جو مکلف ہو. بعض لوگوں میں ذہنی مرض کی وجہ سے خود کشی کی طرف شدید رجحان ہوتا ہے، بعض لوگ ان آخری لمحات میں ایسی کیفیت میں ہوتے ہیں کہ شرعاً وہ مکلف ہی نہیں ہوتے بلکہ بالکل معصوم ہوتے ہیں. اس لیے اس طرح کے لوگوں کے بارے میں خود کشی کے باوجود حسنِ ظن کا پہلو ذہن میں رکھنا چاہیے. میں ڈائس پر کھڑا اپنی بات کر رہا تھا اور مولانا حسن جان رح کرسی صدارت پر تشریف فرما تھے. میری اس بات پر انھوں نے اپنی صدارتی تقریر کا بھی انتظار نہیں کیا بلکہ نقد نقد اسی وقت نہ صرف بھرپور انداز سے میری بات کی تائید کی بلکہ اس کے حق میں مجھے یاد پڑتا ہے کہ کچھ واقعات بھی سنائے.
محمد زاہد فیصل آباد